میرے کالج کا میدان

104

۔’’عاصم کیا بات ہے، تم بہت پریشان لگ رہے ہو! کالج میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا، کسی ٹیچر نے سختی تو نہیں کی؟‘‘
’’نہیں انکل، کالج میں تو سب ٹھیک ہے، پڑھائی وغیرہ بھی اچھی چل رہی ہے اور اساتذہ کرام تو بہت شفیق ہیں۔‘‘
’’تو پھر اتنی دیر کیوں ہوگئی؟ کیا کسی اورکالج میں داخلہ لے لیا ہے؟ تمہارے چہرے پر بارہ کیوں بج رہے ہیں؟‘‘
’’نہیں انکل، میں تو ابھی بھی گورنمنٹ ڈگری سائنس اینڈ کامرس کالج لانڈھی کورنگی میں ہی پڑھتا ہوں۔ دراصل بات یہ ہے کہ آج ہمارے کالج کے باہر کچھ ٹینشن تھی، پولیس کی بھاری نفری کو دیکھ کر میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا، اس لیے دیر ہوگئی۔‘‘
’’کس بات کی ٹینشن؟ کیا ہوگیا تھا، سب ٹھیک تو ہے؟‘‘
’’بات تو پریشان کن ہی ہے، ہمارے کالج کی دیوار کے ساتھ کچھ لوگوں نے مکانات کی تعمیر شروع کردی ہے، اسی سلسلے میں پولیس آئی ہوئی تھی۔ تعمیراتی کام ابھی تو روک دیاگیا ہے لیکن سیمنٹ، بجری اور بلاکوں سمیت دیگر تعمیراتی سامان اب تک وہیں پڑا ہے، اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ تعمیر دوبارہ شروع ہوجائے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو کالج کے طلبہ کے لیے مختص کھیل کا یہ میدان بھی ختم ہوجائے گا۔‘‘
’’تم اُس میدان پر قبضے کی بات کررہے ہو جو کالج کے مرکزی دروازے کے بائیں جانب ہے؟‘‘
’’اس پر تو پہلے ہی شادی ہال والوں نے قبضہ کررکھا ہے، حالانکہ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے اس غیر قانونی شادی ہال کی دیواریں گرا دی گئی تھیں، لیکن آج بھی وہ جگہ نہ صرف انہی قابضین کے قبضے میں ہے بلکہ قناتیں لگا کر باقاعدہ شادی ہال کے طور پر ہی استمعال کی جارہی ہے۔ میں تو کالج کے پچھلے میدان پر ہونے والے قبضے کی بات کررہا ہوں۔‘‘
’’اچھا اچھا، سمجھ گیا، وہ جگہ بھی میری دیکھی ہوئی ہے، ہم نے بھی اس میدان میں اچھی خاصی کرکٹ کھیلی ہے۔ مجھے یاد ہے میچ کے دوران جب کوئی کھلاڑی بڑا شاٹ لگاتا تھا تو گیند کالج میں جا گرتی تھی۔ وہ میدان تو ’کالج گراؤنڈ‘ کے نام سے خاصا مشہور ہے، بلکہ اگر میں غلط نہیں ہوں تو غیر نصابی سرگرمیوں و دیگر تقریبات کے سلسلے میں وہ کالج کا ہی حصہ ہے۔‘‘
’’جی جی، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ گو کہ یہ میدان کالج کی چار دیواری کے درمیان میں نہیں، لیکن ہے کالج گراؤنڈ ہی… یہ الگ بات ہے کہ محکمہ تعلیم نے اب تک اسے لاوارث چھوڑ رکھا ہے۔ اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں یہ محکمہ ہی جانے، مجھے تو بس یہی فکر کھائے جارہی ہے کہ قبضہ مافیا کہیں کامیاب نہ ہوجائے۔‘‘
’’تم فکر نہ کرو، ایسا نہیں ہوگا۔ ان باتوں پر پریشان ہونے کے بجائے اپنی تعلیم پر توجہ دو۔ ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے ادارے موجود ہیں، دیر سے ہی سہی، وہ اپنا کام ضرور کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فرائض سے انحراف کرتا ہے تو وہ بھی قانون کی گرفت سے باہر نہیں۔ تمہیں یہاں خاصی دیر ہوچکی ہے، تمہارے گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے، اب تم گھر جاؤ۔‘‘
…………
عاصم کو سمجھا بجھا کر میں نے گھربھیج دیا، اور شاید میری جھوٹی تسلیوں سے وہ مطمئن بھی ہوگیا ہو، لیکن حقائق کچھ اور ہی ہیں۔ پاکستان میں لینڈ مافیا کے کرتوت کون نہیں جانتا! دردِ دل رکھنے والا ہر پاکستانی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ یہ زمین ہی تو ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد نوزائیدہ مملکت میں کرپشن، بے ایمانی، اقربا پروری، لالچ اور ہوس کی بنیادیں رکھیں۔ ذرا سی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص جانتا ہے کہ آزادی کے وقت سے ہی یہ سلسلہ جاری ہے۔ کون نہیں جانتا کہ قیام پاکستان کے بعد ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی زمینوں، پلاٹوں اور گھروں کی الاٹمنٹ میں خاصے گھپلے ہوئے، وزرا سے لے کر کرپٹ سرکاری افسروں تک سبھی نے جسے چاہا متروکہ گھر، پلاٹ اور زمینیں دے دیں۔ اُس وقت کیا کیا ہوا، میں بھی اس سے بخوبی واقف ہوں۔ میں جانتا ہوں جب میرے والد صاحب پٹھان کوٹ سے ہجرت کرکے سیالکوٹ کے علاقے ظفر وال پہنچے تو سکھوں کے خالی کردہ ایک مکان میں بس گئے۔ مجھے خبر ہے کہ اُس وقت کی حکومت کی جانب سے ایسے کئی مکانات مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے آنے والوں کو دیے گئے تھے۔ خیر، تھوڑے ہی عرصے بعد یعنی چند سال بعد ہی ان مکانات میں بااثر اور حکومت میں موجود کرپٹ افراد کی جانب سے اپنے من پسند لوگوں کو بسایا جانے لگا۔ کچھ ایسا ہی دادا جان کو ملنے والے مکان کے ساتھ بھی ہوا۔ چونکہ ُاس وقت والد صاحب کی عمر سات، آٹھ برس تھی جبکہ دوسرے بھائی بہن عمر میں اُن سے خاصے چھوٹے تھے، ایسی صورت میں قبضہ مافیا سے الجھنے کے بجائے دادا جان نے گھر چھوڑنے میں ہی عافیت جانی، اور وہ مکان ہی نہیں بلکہ اس شہر کو ہی خیرباد کہہ کر کراچی میں آ بسے۔ دادا جان تو کراچی آگئے، لیکن قبضہ مافیا اپنے کام بڑے زور شور سے کرتا رہا، جس کی بدولت اُس زمانے کے نہ جانے کتنے کنگال راتوں رات لکھ پتی بن گئے۔ وقت گزرتا گیا اور آبادی میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ بڑھتی آبادی کے باعث جب شہر پھیلنے لگے تو شہری زمین کی قدر و قیمت میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ جو زمینیں بنجر و بے آباد ہوا کرتی تھیں، وہاں کالونیاں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بننے لگیں۔ اس نئے عجوبے نے شہری زمینوں کی قیمتیں راتوں رات آسمانوں تک پہنچا دیں۔ یوں بڑھتی ہوئی قیمت نے جرائم پیشہ گروہوں کو بھی شہری زمینوں کی طرف متوجہ کردیا۔ پھر وہ وقت شروع ہوا جب ویران پڑی زمینوں، پارکوں، رفاہی پلاٹوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں پر قبضے کے لیے مختلف طریقہ ہائے واردات دریافت کرلیے گئے، جن میں سے ایک طریقہ ’چائنا کٹنگ‘ کے نام سے خاصا مقبول ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ مروجہ طریقوں پر بھی عمل کیا جاتا رہا، مثلاً ان میں سے ایک عام طریقہ یہ تھا کہ کسی ویران زمین پر جھگیاں ڈال دی جاتیں، اور پھر آہستہ آہستہ وہاں دیواریں تعمیر کی جاتیں۔ پھر ان جھگیوں میں مقیم اپنے کارندوں کے جعلی ملکیتی کاغذات برائے زمین بنوائے جاتے۔ اس قبضے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مسجد کی بنیاد بھی ڈالی جاتی۔ ظاہر ہے جہاں مسجد قائم کردی جائے تو اس غیر قانونی آبادی کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے کی جانے کارروائی مسجد کے خلاف تصور کی جاتی ہے، ایسی صورت میں کوئی بھی حکومت غیر قانونی آبادی کو مسمار کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھتی ہے، اور یوں زمین پر قبضے کا پلان مکمل ہوجاتا۔ پھر یہ زمین عموماً ایک نہیں بلکہ چھ، سات خریداروں کو بیچی جاتی۔ یہی وہ کامیاب فارمولا ہے جس پر اب تک عمل جاری ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس گھیرا گھاری میں اگر کسی غریب و بدقسمت مکین کی زمین ہاؤسنگ سوسائٹی کے قریب آجائے، تو قبضہ مافیا پہلے اسے اونے پونے داموں خریدنے کی کوشش کرتا ہے، اگر کوئی اپنی زمین فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہو، تو اسے ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے۔ لینڈ مافیا اس کھیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا، پیسے کے لالچ میں وہ کسی کی جان تک لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے جس کا عملی مظاہرہ کراچی میں ہونے والے کئی بے گناہوں کے قتل کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ چونکہ زمینوں کی خرید و فروخت کے کاروبار کی مالیت کھربوں روپے ہے، اس لیے پچھلے بیس برس کے دوران پورے پاکستان خصوصاً کراچی میں لینڈ مافیا بڑی تیزی سے وجود میں آیا۔ زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے والے اس مافیا کے بارے میں جاننا کوئی راکٹ سائنس نہیں، ذرا سی نظر ڈالنے سے ہی آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہر علاقے میں جرائم پیشہ افراد، سیاسی رہنما، پولیس اور سرکاری افسر، ان گروہوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ اور یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قبضہ کی گئی زمینوں کے کاروبار سے جتنی آمدن ہو، وہ ہر فریق کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔ چونکہ اس کام میں بڑی تیزی کے ساتھ دولت کمائی جا سکتی ہے، اس لیے ملک بھر میں لینڈ مافیا کے سیکڑوں چھوٹے بڑے گروہوں کا وجود میں آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ یہ مافیا کتنی تیزی سے ترقی کرتا ہے اس کی مثال بحریہ ٹاؤن کراچی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کی تعمیر کے لیے 25 ہزار ایکڑ زمین پر کس طرح قبضہ کیا گیا، اور قبضہ مافیا کے ساتھ کون سی طاقتیں شامل تھیں، سروے آف پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی جانے والی رپورٹ نے ایسے تمام کرداروں کو بے نقاب کردیا ہے۔
آخر میں عاصم کی بیان کردہ باتوں کے جواب میں یہی دعا کی جاسکتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ گورنمنٹ ڈگری سائنس اینڈ کامرس کالج لانڈھی کورنگی نمبر6 سے متصل گراؤنڈ کو قبضہ مافیا سے محفوظ رکھے۔

حصہ