مجھے روشنی درکار ہے

193

صباء اظہر خواجہ
(جامعۃ المحصنات سنجھورو)
میں نے سال نو کی دہلیز پر کھڑے شخص سے کہا مجھے روشنی در کار ہے تاکہ آنے والے ایام کو منور کر سکوں ۔اس نے کہا اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دو،وہ تمہیںمنزل مقصود تک پہنچادے گا۔وقت کے قافلے کے ساتھ چلتا انسان زندگی کے ایک دوراہے پر کھڑا کبھی پیچھے دیکھے گا اور ایک نظر آگے کی طرف دیکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اندازہ لگائے کے ابھی اور کتنے مراحل طے کرنے ہیں۔اے صحرائے زندگی میں حیران وسرگرداںبھٹکنے والے دوست! کب تک اس تاریکی و گمراہی کا شکار ہوگے،حالانکہ تمہارے اپنے ہاتھ میں ایک چراغ موجود ہے ۔
تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق ْ نما کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالی ان لوگوں جو اس کی رضا کے طالب ہیں ۔سلامتی ان لوگوں پر جو اس کی رضا کے طالب ہیں ،سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے ازن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے۔(المائدہ ۵:۱۶)
میرے پیاروں جس نے وقت کے حقوق پہچان لئے درحقیقت زندگی کی قیمت پہچان لی کیونکہ وقت ہی تو زندگی ہے۔جب زندگی کا پہیہ ہماری زندگی کے سفر کا ایک سال طے کرلیتا ہے اور ہم دوسرے سال کے استقبال میں لگ جاتے ہیں تو ہم عملاً ایک دوراہے پر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔اس فیصلہ کن گھڑی میں ہمیں پرانے ماضی کا بھی محاسبہ کرنا ہے اور مستقبل کا بھی حساب لگانا ہوتاہے۔تاکہ کہیں حساب کی اصل گھڑی اچانک سر پر نہ آجائے وہ گھڑی جو یقینا آکر رہنی ہے ماضی کا محاسبہ اس لئے تاکہ ہم اپنی غلطیوں پر نادم ہوں اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں کا تدارک کریں اور ہمیں مستقبل کو بھی دیکھنا ہے تاکہ اس کے لئے بھر پور تیاری کریں ۔
یہ تیاری کیا ہے ؟پاک ،صاف،سچا دل،عمل صالح ،نیکی اور خیر کی طرف تیزی سے آگے بڑھنے کا عزم صادق ۔مومن ہمیشہ دونوں پہلوئوں سے فکر مند رہتا ہے ۔ایک طرف تو اسے اپنے سابقہ عمل کے بارے میں دھڑکا رہتا ہے کہ پتہ نہیں میرا یہ عمل اللہ کے ہاں کیامقام پائے گا۔دوسری طرف باقی ماندہ مہلت کے بارے میں اللہ کا فیصلہ کیا ہوگا۔لہذا ہر بندے کو خود اپنے ہی سے اپنے لئے تو شہ حاصل کرنی ہے اپنی دنیا سے اپنی آخرت تعمیر کرنا ہے ۔بڑھاپے سے بھی پہلے اور موت سے بھی پہلے ۔حبیب مصطفی ﷺکے الفاظ میں ۔
کوئی دن ایسا طلوع نہیں ہوتا جو پکارتا نہ ہو کہ اے ابن آدم !! میں لمحہ تازہ ہوں اور میں تمہارے عمل پر گواہ ہوں مجھ سے جو چاہو حاصل کرو میں چلا گیا تو پھر قیامت تک دوبارہ نہیں آئوں گا۔میں نئے سال کی مناسبت سے کبھی لکھنے بیٹھتی تھی ،میرا خیال تھا کہ میں ہجرت نبوی کی یاد میں کچھ لکھوں ۔اس کے کچھ واقعات سے دلوں کو گرمائوں لیکن میں بلکل دوسرے سمت جا نکلی ۔میں اپنے ان ساتھیوں کے ساتھ رازونیاز کرنے لگی جنہوں نے وقت کے حقوق ضائع کردئے جو زندگی کے اصل راز سے غافل رہے ۔صد افسوس کے انہوں نے اس امتحان کو فراموش کردیا جس کے لئے ہم سب کو وجود ملا ۔اے حیرانی اور تھکن سے چور لوگوں کہ جن کے سامنے گڈ مڈ ہو چکے تھے ۔اے کم راہ انسانوں !!سنو خدائے علیم و خبیر کیا کہہ رہا ہے۔ (سورہ ملک:۲)
اے نبی ﷺ کہہ دو میرے بندو،جنہوں نے اپنی جانوں پر ذیادتی کی ہے ۔اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جائو ۔یقینا اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے وہ تو غفورورحیم پلٹ آئو اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جائو اس کے۔سورہ الزمر(۵۳:۵۳)
اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ معا انہیں یاد آجاتا ہے اور وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو معاف کرسکتا ہے ؟اور وہ کبھی دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ایسے لوگوں کی جز ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کردے گا اور ایسے باغوں میںانہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لئے ۔(آل عمران ۳:۱۳۵۔۱۳۶)
دیکھو اللہ تمہارے کتنا قریب ہے ،عجب ہے کہ تمہیں اس کے قریب ہونے کا احساس ہی نہیں ۔چشم ہوش سے دیکھو ۔۔۔کہ اسے تم سے کتنی محبت ہے لیکن تمہیں اس کی محبت کی قدر ہی نہیں ۔تم پر اس کی رحمتیںکتنی زیادہ ہیں اور تم ہو کہ خواب غفلت سے جاگتے ہی نہیں ۔
دیکھو وہ کیا فرماتا ہے اے ابن آدم تو میری طرف چل کر آتا ہے تومیں تیری طرف میں دوڑ کر آئوں گا ۔بے شک وہ رات کو ۔ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کے گناہ گار توبہ کر لیں اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کے گناہ گار توبہ کرلیں ۔وہ انسان پر اس کی مہربان ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے بے شک اللہ لوگوں پر مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔(الحج:۶۵)
آئیں ہم سب اللہ کی اس پکار پر لبیک کہیں اور پھر اس کے بعد دلی اطمینان ۔ضمیر و نفس کی راحت اور اللہ تعالی سے نیک اجر کا نظارہ کرتے ہوئے استغفار اور توبہ کے ساتھ نئے سال کا آغاز کریں۔

حصہ