انگریز ادیبوں کے کتبوں پر لکھی تحریریں

520

وقار احمد ملک
پتھر، لکڑی یا مرمر کی تختی جو قبر کے سرہانے لگائی جاتی ہے کو اردو میں کتبہ اور انگریزی میں Tomb Stone کہتے ہیں۔ پاکستان میں کتبے پر مرحوم کا نام، ولدیت، سنِ پیدائش، وفات اور فناومغفرت کے مفہوم والا کوئی شعر یا کوئی آیتِ قرانی وغیرہ تحریر کی جاتی ہے۔ کتبے لکھنے اور لگانے کی روایت بہت پرانی ہے۔پوری دنیا میں ہر قوم، مذہب، نسل اور علاقے کی روایات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کتبوں کی تحریریں لکھی جاتی ہیں۔ انگریزی ادب کے نامور ادیبوں میں سے کئی کے کتبے انگریزی ادب کی تاریخ میں بہت اہمیت کے حامل ہیں اور ان کو حوالوں کے طور پر لیا جاتا ہے۔ان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ان لوگوں نے خود ہی اپنی زندگی میں تحریر کیے تھے۔ قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے پیشِ نظر مختصر الفاظ میں ایسے کتبوں کی ایک دلچسپ روداد درج ذیل ہے۔ دنیائے ادب کے سب سے معروف ادیب انگریز شاعر ڈرامہ نگارولیم شیکسپیئر کی قبر انگلستان کے مشہور ہولی ٹرینٹی چرچ میں واقع ہے۔ شیکسپیئر کی تحریروں کی طرح اس کی قبر پر لگے کتبے کی تحریر بھی بہت دلچسپ ہے۔ کتبے کی عمارت پریہ تحریر نقش ہے۔ ” اچھے دوستو:یسوع کے نام پر اس گور کی مٹی کو مت کھودنا۔ وہ انسان بڑا مقدس ہوگا جو اس قبر کے پتھروں کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ لیکن لعنت ہے اس پر جو اس قبر میں پڑی ہڈیوں کو اٹھا لے گا”۔ ولیم شیکسپیئر سنہ1616 میں فوت ہوا۔ اس زمانے میں لاشوں کو نامعلوم لوگ قبروں سے نکال لیتے تھے۔ کچھ تو تحقیقی مقاصد کے لیے تو کچھ قبرستان میں مزید قبروں کی جگہ بنانے کے لیے۔ شیکسپیئر کو شاید اسی بات کا خوف تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں ہی اپنی قبر کے کتبے کی تحریر کو لکھ دیا تھا۔ جب اس کی قبر کو 2008 میں مرمت کے لیے کھولا گیا تو اس کے پتھر اور ہڈیاں محفوظ پڑی تھیں۔ لگتا ہے کی شاعر کی تحریر کی Curse نے قبر کو محفوظ رکھا۔عظیم رومانوی انگریز شاعر جان کِیٹس کی وفات 1821 میں ہوئی۔ رومانوی شاعروں میں Keats سب سے بعد میں پیدا ہوا اور سب سے پہلے فوت ہوا۔ بوقتِ مرگ اس کی عمر پچیس سال اور چند مہینے تھے۔ کِیٹس کا انتقال 23 فروری کو روم اٹلی میں ہوا۔ انگریز شاعر کو روم میں ایک پروٹیسٹنٹ چرچ میں دفن کیا گیا۔ اس کی قبر کے کتبے کی تحریر یہ ہے ” یہاں وہ آدمی دفن ہے جس کا نام پانی پر لکھ دیا گیا تھا”یہ الفاظ بھی کِیٹس کے اپنے چنے ہوئے ہیں جو کسی پرانے شاعر کی نظم سے لیے گئے تھے۔ کِیٹس کے یہ الفاظ اس چیز کے غماز ہیں کہ وہ شہرت کو عارضی سمجھتا تھا۔ اس کے مطابق پانی پر لکھی تحریر کی طرح میری شہرت بھی چند روزہ ہو گی اور میری موت کے کچھ دنوں کے بعد لوگ مجھے فراموش کر دیں گے۔ سلویا پلاتھ معروف امریکی شاعرہ تھی۔ اپنے انگریز شوہر ٹیڈ ہیوز جو خود بھی ایک نامور شاعر تھا کی بیوفائی کی بنا پر گیس اوون میں اپنے آپ کو جلا کر راکھ کر دیا تھا۔ گیارہ فروری 1963کو یہ خوبصورت شاعرہ صرف اکتیس سال کی عمر میں قبر میں جالیٹی۔اس کے کتبے کی تحریر یہ ہے۔” شعلوں کے درمیان بھی سنہری رنگ کے کنول کے پھول کھلائے جا سکتے ہیں “. رابرٹ فراسٹ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے نامور شاعروں میں مخصوص مقام کا حامل ہے۔ فراسٹ کی شاعری اپنے علاقے کی مٹی کی خوشبو سے معطر ہے۔ اس لیے ہارڈی کی طرح فراسٹ کو بھی ریجنل شاعر کہا جاتا ہے۔ رابرٹ فراسٹ کے قبر کے کتبے پر یہ یادگار الفاظ اس کی منفرد سوچ اور طبیعت کے عکاس ہیں۔ ” میں نے دنیا کے ساتھ ایک عاشق کی سی لڑائی لڑی ہے”۔
قم يا صلاح الدين “مسلمان صلاح الدین کی قبر کے پاس کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ” قم” (کھڑے ہو جاؤ) یا صلاح الدین! قم ! ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔”کیا آپ نہیں دیکھ سکتے کہ عراق میں کیا ہو رہا ہے؟”کیا آپ نہیں دیکھ سکتے کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟”کیا آپ ہمارے پاس موجود خوفزدہ قائدین کو نہیں دیکھ سکتے ہیں؟”اے صلاح الدین ، ​​ہمیں مقدس سرزمین آزاد کروانےکے لیے آپ کی ضرورت ہے”۔”سال میں کتنی بار تم اسے یاد کرنے والے ہو؟ کتنی بار صلاح الدین کو اپنی بزدلی پر کوڑے مارنے جا رہے ہو؟ کیا زندہ مردے سے مدد مانگتا ہے؟”صلاح الدین نے یروشلم کو صلیبیوں سے دوبارہ فتح کیا اور میسوپوٹیمیا ، شام ، مصر ، لیبیا ، تیونس ، جزیرہ نما عرب اور یمن کے مغربی حصوں کو متحد کیا۔آج ہمیں ایک صلاح الدین کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے لڑے گا۔ لیکن ہم نے اپنا فرض فراموش کیا اور اپنے دین ، اپنے عقیدے اور جہاد کو ترک کرکے مادیت پسند دنیا کو منتخب کیا ہے۔”کوئی بھی صلاح الدین بننے کی خواہش نہیں کرتا ، کوئی عمر بن خطاب ، ابوذر یا ابوبکر رضی اللہ عنہ بننے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔یا ایک خدیجہ یا فاطمہ رضی اللہ عنہ۔ہمیں ان لوگوں کو بس یاد کرتے ہیں ۔جب ہم آخرت پر یقین رکھتے ہیں تو ہم بزدل نہیں ہو سکتے۔ ہم صلاح الدین کی زندگی کو منا نہیں سکتے اور خود بزدل نہیں ہو سکتے۔ “بجائے اس کے کہ ‘کھڑے ہو اے صلاح الدین!اے مسلمانو جاگو! جاگو! ‘ ہم کافی دیر سو چکے ہیں اور اپنی قوم کی حالت ، اپنے بھائیوں اور بہنوں کی فریاد کو دیکھو ! “عربی نظم سے

ہوا چلے گی تو خوشبو مری بھی پھیلے گی
میں چھوڑ آئی ہوں پیڑوں پہ اپنے ہاتھ کے رنگ

فاطمہ حسن

غزل

باقر رضا

اپنے پتے سے اپنے گھروں اپنے نام سے
گم ہورہے ہیں لوگ بڑے اہتمام سے
اس گھر کے کامیاب مکینوں میں کون تھا
دیمک تھی جس نے کام رکھا اپنے کام سے
آزادی کیا ہے جلد سمجھ میں یہ آگیا
اس دام میں پھنسے ہیں رہا ہوکے دام سے
مدہوشی ءحیات کا غلبہ ہے اس لیے
دو گھونٹ پی لیے تھے تمنا کے جام سے
ہم سر بکف وہ دست بہ شمشیر ہیں چلے
نکلے ہیں ہم بھی کام سے اور وہ بھی کام سے
یوں دست جبر سے یہاں محفوظ کون ہے
ہم وہ ہیں جو نشانہ بنے التزام سے
ان سے کبھی کبھار کا ملنا ہی ٹھیک تھا
پہچان پر گئے ہیں دعا و سلام سے
اس کے سوا ہم اپنے تعارف میں کیا کہیں
ظالم پرست چڑتے ہیں ایسے ہی نام سے
تنہا ہو خیمہ گاہ میں بیٹھے ہوئے رضا
کیا ہوگا گر چراغ بجھایا بھی شام سے

حصہ