وہ ماں کون ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے

304

ابو ظفر زین
٭ وہ جو بچوں کی صحبت میں خصوصی لطف لیتی ہے اور بچے اس کی صحبت میں خصوصی لطف لیتے ہیں۔
٭ وہ جو بچوں کے ساتھ کھیلتی ہے، کھاتی ہے، سیر و تفریح کرتی ہے، انہیں لوریاں اور کہانیاں سناتی ہے، ان کی باتیں دل چسپی سے سنتی ہے، ان کی شکایات دور کرتی ہے، ان کے سوالات کے موزوں جوابات دیتی ہے۔
٭ وہ جو ان کے سامنے مثالیں قائم کرتی ہے… ایمان داری کی، انصاف کی، اخوت اورقربانی کی۔
٭ وہ جو ان کی عزت کرتی ہے اور ان کو عزت کرنا سکھاتی ہے، جو علم و عقل عطا کرتی ہے۔
٭ وہ جو انہیں اللہ اور رسولؐ کو پہچاننا اور ان کے احکامات پر چلنا سکھاتی ہے۔
٭ وہ جو بچوں سے مشورہ کرتی ہے، ان کی مشکلات دور کرتی ہے، ان کی ضرورتیں پوری کرتی ہے، ان کی خدمت اور تیمارداری کرتی ہے۔
٭ وہ جو بچوںکو گناہ، فضول خرچی اور بدتمیزی سے بچاتی ہے۔
٭ وہ جو ان کے ذہن، عقل اور ایمان و اخلاق کو جِلا دیتی ہے، ہر روز چمکاتی ہے۔

قیمتی جواہر

عارفہ کاشف
٭ عقل مند آدمی کی زبان دل میں ہوتی ہے جب کہ کم عقل کا دل منہ میں ہوتا ہے۔
٭ تلوار کا زخم جسم پہ لگتا ہے جب کہ زبان کی چوٹ دل پہ۔
٭ جو شخص غرور و تکبر کرتا ہے سمجھو کہ وہ احساسِ کمتری میں مبتلا ہے۔
٭ خوش اخلاقی پر کچھ خرچ نہیں ہوتا بلکہ وہ آپ کا وقار بڑھاتی ہے۔
٭ کامیابی اُنہی کے قدم چومتی ہے جنہیں کامیابی کا یقین ہو۔
٭ آسمان اس پرندے کا نہیں جس کے پَر بڑے ہوں، بلکہ اس کا ہے جس میں قوتِ پرواز ہو۔
٭ کئی لوگ سمندر کی طرح نظر آتے ہیں مگر ان کی سوچ گندے جوہڑوں کی طرح محدود ہوتی ہے۔
٭ جب آدمی کا ماضی اور حال لٹ چکا ہو، تب بھی اس کا مستقبل محفوظ ہوتا ہے۔
٭ سب کچھ کھونے کے بعد بھی اگر آپ کے اندر حوصلہ باقی ہے تو سمجھ لیں کہ آپ نے کچھ نہیں کھویا۔
٭ مطالعہ غم اور اداسی کا بہترین علاج ہے۔
٭ جو شخص اپنا راز پوشیدہ رکھتا ہے، وہ گویا اپنی سلامتی اپنے قبضے میں رکھتا ہے۔
٭ بد خو کی دوستی سے احتراز لازم ہے، کیوں کہ اگر وہ بھلائی بھی کرنا چاہے تو اس سے برائی سرزد ہوجاتی ہے۔
٭ جب حلال حرام جمع ہوں تو حرام غالب ہوتا ہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔
٭ کم بولنا حکمت ہے، کم کھانا محنت، کم سونا عبادت اور لوگوں سے کم لینا عافیت۔
٭ تین چیزیں محبت بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ سلام کرنا، دوسروں کے لیے مجلس میں جگہ خالی کرنا، مخاطب کو بہترین نام سے پکارنا۔

حصہ