کیسی برابری۔۔۔۔؟۔

79

فرحی نعیم
وہ دفتر سے تھکا ہارا آیا تھا، آتے ہی لائونج کے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا، اپنا بیگ بے زاری سے وہیں صوفے پر ڈالا اور آنکھیں موند کر پشت سے ٹیک لگا لی۔ کتنے ہی لمحے سرک گئے تھے لیکن سحرش کی آواز اسے سنائی نہ دی، ہاں ٹی وی کی آواز برابر آرہی تھی جس پر اس نے اب تک دھیان نہ دیا تھا۔ تب اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور سامنے کرسی پر بیٹھی سحرش کو دیکھا جو پوری توجہ سے ٹی وی پر نظریں جمائی بیٹھی تھی۔
’’سحرش…!‘‘ امجد نے آواز دی، لیکن دوسری طرف توجہ کا مرکز ہنوز ٹی وی تھا۔ ’’سحرش! پانی دو بھئی… ٹھنڈا۔‘‘ اس نے اکتا کر کہا اور پھر پشت صوفے سے لگائی، لیکن اب اس نے آنکھیں بند نہ کی تھیں۔
’’اچھا…!‘‘ سحرش نے جواب دیا۔ لیکن شاید ٹی وی پر بہت دل چسپ پروگرام تھا جب ہی تو خلافِ معمول وہ اب بھی اپنی جگہ سے نہ ہلی تھی۔ چند لمحوں کے انتظار کے بعد امجد نے گردن سیدھی کی، ایک نظر پروگرام میں محو بیوی کو دیکھا اور پھر ٹی وی کو… وہ خاموشی سے اٹھا اور ڈسپنسر سے گلاس بھر کر دوبارہ اپنی جگہ پر آکر بیٹھا۔ پیروں سے جوتے موزے وہ اتار چکا تھا۔ زمین کی ٹھنڈک پیروں سے ہوتی ہوئی جسم کو سکون دے رہی تھی، تو دوسری طرف حلق سے اترتا ٹھنڈا پانی جسم کو راحت بخش رہا تھا۔ وہ گھونٹ گھونٹ پانی پینے لگا تھا۔ اب اس کی توجہ بھی ٹی وی کی طرف تھی جہاں خواتین کا کوئی مذاکرہ چل رہا تھا۔
’’ہم کسی طرح بھی مردوں سے کم نہیں، نہ جسمانی صلاحیتوں میں اور نہ ہی ذہنی صلاحیتوں میں، بلکہ ہم نے تو تعلیمی میدان میں بھی وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں کہ مرد سوچ بھی نہیں سکتے۔ میڈیکل، انجینئرنگ، لا، آرٹ، کون سی ایسی فیلڈ ہے جس میں خواتین پیچھے ہیں!‘‘ مذاکرے میں بیٹھی ایک ماڈرن خاتون ہاتھ نچا نچا کر کہہ رہی تھی۔
’’بلکہ میڈیکل کی فیلڈ تو بس ہمارے ہی نام ہوگئی ہے۔ آج ہمارے میڈیکل کالجوں میں آپ کو ہر طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں نظر آئیں گی۔‘‘ دوسری نے پہلی کی تائید کی۔
’’آخر آپ لوگ کب تک عورت کو فالتو اور بے کار شے سمجھ کر اسے سائیڈ میں کرتے رہیں گے؟ کب تک اس کی صلاحیتوں کو دباتے اور زنگ لگاتے رہیں گے؟ ہماری اپنی ایک شخصیت ہے، حیثیت ہے، ہمارا کام صرف چولہا چکی نہیں، ہم مرد کے کندھے سے کندھا ملا کر زندگی کے میدان میں سرگرم رہنا چاہتی ہیں۔‘‘ یہ تیسری خاتون تھیں جن کا لباس بھی غیر مناسب تھا۔
’’بالکل… ہم برابری چاہتے ہیں، یکساں حیثیت ہو تو کمتر نہ سمجھنا چاہیے۔‘‘ یہ اینکر تھی جو ان خواتین کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بول رہی تھی۔
’’ہم زندگی کے ہر شعبے میں مساوات چاہتے ہیں، ہمیں پیچھے نہ دھکیلا جائے، ہمیں گھر میں قید نہ کیا جائے، ہم بھی انسان ہیں۔ کھلی آزاد فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ ابھی نہ جانے اور بھی کیا کچھ کہتی کہ امجد نے پاس پڑا ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی آف کردیا۔
یکدم ٹی وی اسکرین تاریک ہوگئی تھی۔ سحرش بری طرح چونکی۔ ’’ارے…‘‘ اس نے امجد کو دیکھا ’’آپ نے ٹی وی کیوں بند کردیا، اتنا اچھا پروگرام آرہا تھا، اتنی اچھی گفتگو چل رہی تھی۔‘‘ وہ میاں کو دیکھ کر جلدی سے بولی۔
’’ہاں وہ تو میں نے بھی سن لیا کہ کتنی سمجھ داری کی باتیں خواتین کے دماغوں میں بٹھائی جارہی تھیں۔‘‘ امجد نے کچھ چبا چبا کر کہا۔
’’کیا مطلب؟ آپ کو پسند نہیں آئیں؟‘‘ وہ ناسمجھی سے پوچھ رہی تھی۔
’’تم کو معلوم بھی ہے کہ میں کتنی دیر سے یہاں آیا بیٹھا ہوں، لیکن آج نہ پانی کو پوچھا تم نے اور نہ ہی اب تک چائے…‘‘ امجد نے بات پلٹی۔
’’اوہ …‘‘ وہ ایک دم گھبرا کر کھڑی ہوئی ’’وہ میں آج ٹی وی پروگرام میں … میں ابھی چائے لائی، آپ چینج تو کریں۔‘‘ وہ تیزی سے باورچی خانے کی طرف بڑھی۔
…٭…
اور یہ دو دن بعد کی بات تھی، رات کے کھانے کے دوران امجد نے محسوس کیا کہ سحرش اس سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔ کھانا بھی وہ بہت سست روی سے کھا رہی تھی۔
’’کیا بات ہے سحرش؟ کھانا ٹھیک سے کھائو ناں…‘‘
’’جی کھا رہی ہوں۔‘‘ اس نے سر ہلایا۔ ’’وہ میں آپ سے ایک بات کرنا چاہ رہی تھی۔‘‘
’’ہاں بولو، یہ تم کو پوچھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی!‘‘
’’وہ… دیکھیں ناں، میں سارا دن فارغ ہی ہوتی ہوں، گھر کے کام بھی گیارہ بجے تک نمٹ جاتے ہیں… پھر… پھر میں بور ہوتی ہوں، تو میں سوچ رہی تھی کہ اچھے اسکول میں جاب ہی کرلوں، پیسے بھی ملیں گے اور وقت بھی اچھا کٹ جائے گا۔ پھر علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔‘‘ وہ جھجکتے ہوئے دھیمی آواز میں بول رہی تھی۔
’’آج سے پہلے تو تم بور نہیں ہوئیں۔‘‘ امجد نے بغور اسے دیکھا۔ ’’اور شام کو تمہارے پاس چند بچے آتے ہیں ٹیوشن اور قرآن مجید پڑھنے، تمہارے دو ڈھائی گھنٹے تو نکل ہی جاتے ہیں اور چند ہزار بھی ہاتھ آجاتے ہیں جنہیں تم اپنی مرضی سے ہی خرچ کرتی ہو۔‘‘ وہ اس سے کہہ رہا تھا۔
’’اب دیکھیں ناں میں نے بی اے، بی ایڈ کیا ہے، کیا اسے یونہی جھونک دوں! کچھ فائدہ تو اٹھانا چاہیے ناں… آخر حرج بھی کیا ہے! ڈیڑھ، دو بجے تک گھر بھی آجایا کروں گی۔‘‘ سحرش تو ساری منصوبہ بندی کیے بیٹھی تھی اور امجد سب سمجھ رہا تھا۔ یہ سب اسی پروگرام کے اثرات تھے جس میں چیخ چیخ کر خواتین کو گھر سے نکلنے اور آزادی کی ترغیب دی جارہی تھی۔ انہیں شوہر، باپ، بھائی، بچوں کی نوکری کرنے سے تو روکا جارہا تھا لیکن غیر مردوں کی چاکری کرنے پر اکسایا جارہا تھا۔ امجد نے بمشکل دس منٹ ہی ان خواتین کی گفتگو سنی تھی جس نے پروگرام کا مقصد واضح کردیا تھا۔ سحرش نے تو نہ جانے کتنی دیر تک وہ ’’پُر مغز‘‘ تقریریں اپنی سماعت کی نذر کی تھیں۔
’’تم کوئی اور مصروفیت بھی تو ڈھونڈ سکتی ہو، یا اسکول میں جاب ضروری ہے؟‘‘
’’تو حرج بھی کوئی نہیں۔‘‘ وہ فوراً بولی۔
امجد نے اس وقت تو کچھ نہ کہا کہ اگر اس وقت بحث شروع ہوتی تو طویل ہوجاتی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ سحرش کو حکمت سے ہی وہ سمجھائے گا۔ سحرش کا جاب کے لیے اصرار بڑھتا جارہا تھا۔
’’آپ تو خوامخواہ مجھ پر پابندی لگا رہے ہیں۔‘‘ وہ بولی۔
سحرش کی شادی کو چار سال ہوگئے تھے، قسمت سے ابھی اولاد بھی نہ تھی۔ گھر کے کام کاج کے لیے اس نے جزوقتی ملازمہ رکھی ہوئی تھی۔ باقی کام وہی نمٹاتی۔ دوپہر تک وہ فارغ ہوجاتی۔ نماز اور کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کرتی، اور اب پچھلے دو سال سے تو اس نے محلے کے بچوں کو قرآن پاک اور ٹیوشن بھی پڑھانا شروع کردیا تھا۔ امجد اس کی تنہائی کو سمجھتا تھا، لہٰذا اس نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا تھا۔ زندگی اسی طرح رواں دواں تھی کہ سحرش کو اچانک جاب کرنے کا جنون سوار ہوا تھا جس نے امجد کو پریشان کردیا تھا۔ بقول اُس کے جب میں تمہاری ضروریات و خواہشات بہ حسن و خوبی پوری کررہا ہوں تو پھر تم کو جاب کی ضرورت نہیں۔
’’آخر جتنی صلاحیتیں آپ مردوں میں ہیں اتنی عورتوں میں بھی ہیں۔ عورتیں اب جہاز تک اُڑا لیتی ہیں۔‘‘
’’جہاز تو اُڑا لیتی ہیں لیکن چوہے، چھپکلی مارنے کے لیے باپ، بھائی، شوہر کی طرف ہی دیکھتی ہیں۔‘‘ امجد نے بیوی کی بات ہنسی میں اڑائی۔
’’یہ مساوات اور برابری کا دور ہے، میں وہ سب کرسکتی ہوں جو آپ کرسکتے ہیں۔‘‘ سحرش نے اب امجد سے دوٹوک گفتگو کرنی شروع کردی تھی۔ وہ میاں کو قائل کرکے اب ہر قیمت پر جاب کرنا چاہ رہی تھی۔
’’اچھا تو تم سب کچھ کرسکتی ہو؟‘‘ امجد نے اسے چبھتی نظروں سے دیکھا۔
’’جی ہاں…!‘‘ وہ بھنویں چڑھا کر بولی۔
’’او کے۔‘‘ اس نے جواباً سر ہلایا اور کچھ سوچنے لگا۔
…٭…
’’سحرش…!‘‘ امجد نے گہری نیند سوتی سحرش کا بازو ہلایا۔
’’ہوں…‘‘ اس نے سوئی سوئی کیفیت میں کہا۔
’’میں مغرب کے بعد چھت پر گیا تھا، میرا خیال ہے میں چھت کا دروازہ کھلا چھوڑ آیا تھا، ذرا اوپر جا کر چیک تو کرو، اگر کھلا ہے تو بند کردو۔‘‘ امجد نے نارمل انداز میں کہا۔ اور سحرش نے تو یہ سنتے ہی پٹ سے آنکھیں کھولی تھیں۔ اس نے پہلے پاس پڑے موبائل پر وقت دیکھا، رات کے دو بج رہے تھے… چند لمحوں تک تو اسے یقین نہ آیا کہ ابھی جو کچھ امجد نے کہا وہ واقعی وہی کہا ہے جو اس نے سنا ہے۔
’’آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’چھت کا دروازہ جاکر چیک کرلو۔‘‘ امجد نے بند آنکھوں سے کہا۔
’’میں جائوں…؟ وہ بھی اس وقت…؟‘‘ وہ متحیر تھی۔
’’تو…؟ یہ کون سی انہونی بات ہے، چلی جائو ناں…‘‘ امجد نے مندی آنکھوں سے دیکھا اور کروٹ بدل لی۔ دوسری طرف سحرش کتنی ہی دیر کھلی آنکھوں سے اس کی پشت دیکھتی رہی۔
…٭…
اگلی صبح ناشتے کے بعد وہ آفس جانے کے لیے نکلا… بائیک اسٹارٹ کرنے لگا تو اس کی نظر پنکچر ہوئے ٹائر پر پڑی۔
’’اوہ یہ صبح صبح… سحرش…‘‘ امجد کا موڈ خراب ہوگیا تھا۔
سحرش جو اندر ناشتے کے برتن سمیٹ رہی تھی، امجد کی آواز سن کر باہر آئی۔ ’’جی…‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’یہ دیکھو ٹائر پنکچر ہوگیا ہے، میں تو اب ہارون کے ساتھ جارہا ہوں، میں نے اسے فون کردیا ہے، وہ مجھے لینے آتا ہوگا، آفس سے دیر ہورہی ہے، تم ایسا کرنا اس ٹائر کو ٹھیک کروا لانا… خدا حافظ۔‘‘ امجد اتنا کہہ کر باہر نکل گیا تھا، اور وہ حیران پریشان کھڑی تھی۔ وہ اور بائیک کا ٹائر یعنی پنکچر بنوا کر لائے! یہ امجد کو کیا ہوگیا تھا۔ کیسی بہکی بہکی باتیں کررہے ہیں۔ اسے تو یہ سوچ کر جھرجھری آگئی تھی کہ وہ پنکچر والے کی دکان پر جاکر کھڑی ہو۔
…٭…
’’میں آپ سے کب سے کہہ رہی ہوں کہ پانی کی موٹر گڑبڑ کررہی ہے، بار بار رک رہی ہے، اسے دکھائیں۔‘‘ وہ میاں کو ناشتا دیتے ہوئے بولی۔
’’ہاں بھول جاتا ہوں، آفس میں آج کل کام ہی اتنا ہے۔ تم ایسا کرو پلمبر کی دکان پر چلی جانا، فون تو وہ اٹھاتا نہیں، مکان سے ہی پکڑ کر لانا پڑے گا۔ اور ہاں وہ واش روم کا بیسن کا پائپ بھی تو کب سے ٹپک رہا ہے۔‘‘
’’جی، اس کو تو مہینہ ہونے والا ہے۔‘‘ سحرش نے تائید کی۔
’’ہاں تو ایسا کرو کہ یہ دونوں کام آج تم کروا لینا، یہ پانچ سو روپے رکھ لو، دے دینا اُسے‘‘۔ وہ اتنا کہہ کر اطمینان سے آملیٹ کھانے لگا۔
’’میں اور پلمبر کو…؟‘‘ سحرش کی آنکھیں ابلیں۔
’’ہاں تو… کیا ہوا، تم میں اور مجھ میں فرق ہی کیا ہے! ہم دونوں برابر ہیں، جو کام میں کرسکتا ہوں تم کیوں نہیں کرسکتیں؟ میں تم کو گھر میں قید نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ امجد نے اب چائے کا کپ اٹھایا۔
’’مگر میں یہ سب نہیں کرسکتی۔ ٹائر کا پنکچر لگوانا، آدھی رات کو چھت پر جانا، پلمبر کو بلا کر لانا۔ آج سے پہلے تو کبھی آپ نے مجھ سے ایسے کام نہیں کہے۔ بھلا عورتیں بھی یہ سب کام کرسکتی ہیں؟‘‘ وہ منہ بسورے کہہ رہی تھی۔
’’تو تم مانتی ہو ناں کہ بہت سے کام ایسے ہیں جو صرف مرد ہی کرسکتے ہیں، وہاں عورتیں بالکل مس فٹ ہیں…!‘‘ جواب میں سحرش نے تیزی سے گردن ہلائی۔
’’تو بس بیگم صاحبہ! میں بھی آپ کو یہی بتانا اور سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ غیروں کی سازش ہے کہ گھر میں محفوظ عورت کو بلا ضرورت گھر سے نکالو۔ معاش کی ذمہ داری جب اللہ نے مرد پر ڈالی ہے تو یہی اس کا فرض ہے، عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تاکہ وہ زمانے کے سرد و گرم سے محفوظ رہے۔ سکون سے گھر میں رہ کر اپنے بچوںکی تربیت کرو۔ میں نہیں چاہتا کہ تم باہر جائو اور غیر مردوں کی نظروں کا سامنا کرو۔ اللہ نے مرد و عورت کے درمیان فرائض کی تقسیم کردی، اب جس نے اس میں ردوبدل کیا وہ معاشرہ ابتری کا شکار ہوا۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا اور سحرش اسے کھلی آنکھوں اور کان سے سن رہی تھی، اور دل ہی دل میں شرمندہ بھی ہورہی تھی۔
’’تم نے باہر کے ملکوں میں دیکھا ہے ناں مرد و عورت کی الگ قطار نہیں ہوتی، وہ ایک ہی لائن میں لگے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم عورت کو عزت دیتے ہیں، انہیں پہلے آگے بڑھنے کا کہتے ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ آج عورت ہی اپنی قدر و قیمت کھو رہی ہے‘‘۔ اس نے خالی پیالی پرچ میں رکھی۔
’’میرے خیال سے تم میری بات سمجھ رہی ہوگی؟‘‘ تب سحرش نے آہستہ سے سر ہلایا۔
’’مجھے یقین تھا۔ کیوں کہ تم ایک عقل مند خاتون ہو۔‘‘ وہ مسکرا دیا، جواب میں سحرش بھی مسکرا دی۔
’’او کے میں چلتا ہوں، ہاں وہ چھت پر تین بڑے بکسے رکھے ہیں ناں، وہ نیچے لے آنا…‘‘ وہ بائیک پر بیٹھتے ہوئے لاپروائی سے بولا۔
’’کیا…؟‘‘ سحرش کے حلق سے چیخ نکلی۔ ’’وہ بھاری بھاری بکس… میں اٹھائوں…؟‘‘
’’نہیں اٹھا سکتیں…؟‘‘ وہ معصومیت سے پوچھ رہا تھا۔ سحرش نے تیزی سے نفی میں گردن ہلائی۔
’’اچھا کوئی بات نہیں شام میں مَیں خود ہی لے آئوں گا۔‘‘ وہ بولا تو سحرش اس کی شرارت سمجھ کر کھل کر ہنس دی۔

حصہ