کانچ کے فرش پر چلنے والا قلم کار عروج پر

186

حمیرا راحت
۔’’ہنسی اور ظرافت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ مثلاً تمسخر، شوخی، پھکڑپن، پھبتی اور لطیفہ وغیرہ مگر شائستہ مزاح کی صرف ایک قسم ہے اور اس کا سرچشمہ ذہانت ہے‘‘۔
عروج دبیر کی کتاب ’’وہ’’ کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں جناب ادریس صدیقی کے تحریر کردہ یہ جملے بہت شدت سے یاد آئے۔ عروج ایک انتہائی ذہین، سچے اور ہمہ جہت صلاحیتوں کے مالک قلم کار ہیں۔ اُن کی ذہانت بہت عام سی چیزوں کو ہیرے کی طرح قیمتی بنادیتی ہے۔ وہ لفظوں کی قدر و قیمت جانتے ہیں اور سنجیدہ موضوعات کو مزاح کا لباس پہنانا بھی اُنہیں خوب آتا ہے۔
مزاح لکھنا سنجیدہ لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ یوں جیسے کوئی کانچ کے فرش پر چلے اور فرش بھی وہ جو جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا ہو۔ عروج دبیر کی کتاب ’’وہ‘‘ کا مطالعہ یقینا ایک بہت خوشگوار تجربے سے گزارتا ہے لیکن مطالعہ سے پہلے اس کتاب کا نام اپنی سمت کھینچتا ہے اور قاری اس حیرت سے دوچار ہوتا ہے کہ یہ ’’وہ‘‘ آخر ہے کیا؟
’’یہ‘‘ قربت کا استعارہ ہے اور ’’وہ‘‘ دوری کا۔ مگر عروج دبیر نے اپنے قلم سے تمام فاصلوں کو سمیٹ کر دوری اور قربت کو یکجان کردیا ہے۔ عروج دبیر سات سمندر پار امریکا میں کہیں بستے ہیں مگر ہمیں لگتا ہے کہ یا تو وہ ہجرت کرتے وقت اپنی آنکھیں اور اپنا دل پاکستان میں چھوڑ گئے ہیں یا پھر جاتے وقت چپکے سے پاکستان کو کسی بکسے میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے ہیں کہ اُن سے ملیں۔ اُن سے گفتگو کریں یا اُن کو پڑھیں پاکستان اُن سے اور وہ پاکستان سے جدا کبھی نظر ہی نہیں آتے۔
عروج دبیر کو اردو نثر کا نظیر اکبر آبادی قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ ہماری اپنی رائے ہے۔ کیونکہ ہمیں ’’وہ‘‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے جانے کیوں بار بار نظیر کا خیال آتا رہا۔ جنہیں اردو ادب کا عوامی شاعر کہا جاتا ہے۔ نظیر کی شاعری کی طرح عروج دبیر کی نثر بھی بے تکلفانہ فضا میں سانس لیتی اور پروان چڑھتی ہے۔ عروج کے ہاں بھی معاشرہ، تہذیب اور روایات اپنے گہرے اور ہلکے رنگوں سمیت نظیر آتی ہیں۔ وہ بھی نظیر کی طرح اپنے انداز سے دنیا کو دیکھتے، پرکھتے اور اُس پر اپنی فکر کا اُجالا پھینکتے گزرتے جاتے ہیں کبھی مسکراتے ہیں کبھی کھلکھلاتے ہیں اور کبھی گہری سوچ میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔ اور ’’وہ‘‘ پڑھتے وقت قاری کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب ’’وہ‘‘ میں خاکہ نگاری کی صنف کو زندہ کیا گیا ہے کیوں کہ عروج دبیر کو اپنے دوستوں سے وہ محبت ہے کہ جو محبت سے ذرا بلند سطح کی چیز ہے۔ وہ دوستی، اپنائیت اور احترام سے بنے رشتوں کا احترام کرنا جانتے ہیں۔ کبھی کبھی تو عروج دبیر اپنے دوستوں کی محبت میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اُن کے خاکے پڑھ کر بے اختیار سودا کا یہ شعر یاد آجاتا ہے۔
سودا جو ترا حال ہے اِتنا تو نہیں وہ
کیا جانیے تونے اُسے کس آن میں دیکھا
اپنے خاص دوستوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے عروج دبیر کے اندر محبت کی گھٹا کچھ اِس طرح اُمنڈتی ہے کہ اُن کا بس نہیں چلتا کہ وہ خود تو خود… قاری کو بھی اپنے ممدوح سے محبت کرنے پر مجبور کردیں۔ اُن کی تحریر چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ
وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی اُلفت مجھ سے
اِک نظر تم مِرا محبوبِ نظر تو دیکھو
عروج دبیر کو جملہ لکھنے کا فن آتا ہے۔ مختصر اور کاٹ دار جملے ’’وہ’’ میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن بین السطور درد مندی کا احساس بھی ہلکورے لیتا محسوس ہوتا ہے۔ منظر کشی اِس غضب کی کرتے ہیں کہ قاری کا منظر سے باہر آنے کا جی ہی نہیں چاہتا۔ وہ قاری کا ہاتھ تھام کر کبھی اُسے کوئٹہ کی چائے پلاتے ہیں اور کبھی کراچی کی بریانی سے تواضع کرتے ہیں لیکن پھر اُن کو یاد آجاتا ہے کہ لاہور لاہور ہے۔
عروج دبیر کی تحریریں پڑھ کر آزاد کشیر کا دریائے نیلم یاد آجاتا ہے۔ جو کبھی وادیوں کے دامن میں سبک سری سے مدھم مدھم بہتا ہے تو کبھی پتھروں سے ٹکراتا، اُچھلتا، پھاندتا گرجتا دھاڑتا کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لاتا۔ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
عروج دبیر ایک ایسے قلم کار ہیں جو محبت دینا اور لینا خوب جانتا ہے بلکہ شاید دینا زیادہ احسن طریقے سے ہمیں لگتا ہے کہ اُن کے ہاتھ میں جو ترازو ہے اُس کے ایک پلڑے میں محبت ہے اور… اور دوسرے پلڑے میں بھی محبت۔ وہ محبت کو محبت میں جمع کرتے ہیں، تقسیم کرکے ضرب دے دیتے ہیں لیکن نفی نہیں کرتے۔
’’وہ‘‘ کے مضامین محبت کا چہرہ دکھاتے ہیں خواہ وہ لوگوں سے ہو۔ یا رشتوں سے، شہروں سے ہو یا ملک سے دم توڑتی روایات سے ہو یا منہدم ہوتی تہذیب سے۔ خدا کرے کہ عروج دبیر یوں ہی شگفتگی کے دامن میں مزاح کے ستارے ٹانکتے رہیں اور ’’وہ‘‘ وہ پذیرائی حاصل کرے جو ہر قلم کار کا خواب ہوتی ہے۔

ہم روح سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

رضی اختر شوق

غزل

سیمان نوید

تمہیں اب کیا بتائیں کیا ہوا ہے
مگر جو بھی ہوا اچھا ہوا ہے
جو دیکھا ہی نہیں اب تک کسی نے
وہ منظر آنکھ میں ٹھیرا ہوا ہے
یہ دنیا ہے، مگر کب تک رہے گی
یہ نقطہ بھی مرا سمجھا ہوا ہے
تمہیں ہم آدمی سمجھے ہوئے تھے
ہمارے ساتھ یہ دھوکا ہوا ہے
نظر کا کیا ہے، جاتی ہے وہاں تک
جہاں تک آسماں پھیلا ہوا ہے
کتابِ دل کوئی پڑھ کر تو دیکھے
کہ اس میں کیا نہیں لکھا ہوا ہے
یہ میرا عکس ہے جس آئنے میں
مری سانسوں سے یہ دھندلا ہوا ہے
نظر آتا ہے جو صحرا کی صورت
یہ دریا ہے مگر سوکھا ہوا ہے

حصہ