سوئیں گے حشر تک

91

حمیرا مودودی
مرتب: اعظم طارق کوہستانی
بعض لوگ اپنی ذات میں ایک انجمن ہوتے ہیں اور بعض لوگ ایک شجر ثمر دار کی مانند کہ جن کے سائے میں اپنے پرائے، امیر غریب، بچے بوڑھے سب پناہ لیتے ہیں اور ان کا پھل کھاتے ہیں۔ ان کی چھائوں سب کے لیے ہوتی ہے ۔ وہ اپنی چھائوں اور اپنے پھل سے کسی کو بھی محروم نہیں کرتے ۔ ہماری اماں جان (بیگم مودودی) بالکل ایسی ہی تھیں ۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں۔ ہمارے والد محترم کے حوالے سے ہمارا ہر وقت لوگوں سے بھرا رہتا تھا، باہر مرد حضرات اور اندر خواتین۔
ہم نے بچپن سے اپنے گھر’ جمعہ‘ ہوتا دیکھا تھا۔ ۱۱ بجے سے گھر کے سب سے بڑے کمرے میں دری ،چاندنی کا فرش بچھ جاتا تھا اور ہماری اماں جان نہا دھو کر صلوۃ التسبیح پڑھنے میں مشغول ہو جاتی ہیں۔ اسی اثنا میں دور و نزدیک سے خواتین کی آمد شروع ہو جاتی تھی ۔ چونکہ یہ انفرادی عبادت ہے اس لیے ہمارے گھر میں صلوۃ التسبیح کبھی باجماعت نہیں ہوئی ۔جب جمعہ کی نماز کا وقت ہو جاتا تو کمرہ تقریبا خواتین سے بھر جاتا تھا اور ہماری اماں جان نماز باجماعت پڑھاتی تھیں۔ نماز کے بعد بہت لمبی اجتماعی دعا ہوتی تھی اور اس کے بعد درس قرآن وحدیث ہوتا تھا۔ درس کے بعد دوبارہ دعا ہوتی تھی جس کے بعد یہ اجتماع ختم ہو جاتا تھا۔
اسی طرح عیدین کی نمازیں ہمارے گھر میں اداہوتی تھیں۔ ہماری والدہ فجر کی نماز کے بعد تلبیہ پڑھتی جاتی تھیں اور عید کی نماز کے لیے تیاری کرواتی تھیں ۔ ابھی ہم دری ،چاندنی کا فرش بچھا کر فارغ بھی نہیں ہوتے تھے کہ نماز عید کے لیے خواتین کی آمد شروع ہو جاتی تھی جو آ کر خاموشی کے ساتھ صفیں باندھ کر بیٹھتی جاتی تھیں ۔ پھر سب مل کر تلبیہ پڑھتے تھے ۔سورج نکلتے ہی خواتین کو تکبیروں کے بارے میںہدایات دی جاتی تھیں اور پھر اماں جان بڑی خوش الحانی سے سب کو نماز پڑھاتی تھیں ۔نماز کے بعد خطبہ ہوتا تھا ۔ دعا کے بعد سب کو سویاں کھلائی جاتی تھیں اور خود سب سے گلے ملتی تھیں اور عید کی مبارک باد دیتی تھیں۔
جیسے ہی ذہن پیچھے کی طرف لوٹتا ہے چشم تصور میں ایک منظر گھوم جاتا ہے۔
رات کا وقت ہے اور اماں جان اپنے بچوں کو اپنے سے لگائے کھڑی ہیں ۔دولیڈی کانسٹیبل آگے بڑھتی ہیں ۔وہ اماں جان ،ہماری اور پورے گھر کی تلاشی لیتی ہیں ۔ اباجان کے کپڑے ایک سوٹ کیس میں رکھے ہیں اور وہ تیار ہو کر کہیں جانے کو کھڑے ہیں ۔پھر یکدم اباجان نے پیچھے مڑ کر ہماری طرف دیکھے بغیر قدرے بلند آواز میں کہا : ’’السلام علیکم ،خدا حافظ فی امان اللہ۔ ‘‘ اور پولیس والوں کے ساتھ روانہ ہو گئے ۔ یہ پہلی گرفتاری تھی جو ۴ ؍اکتوبر ۱۹۴۸ کو ہوئی۔ اس وقت میری عمر آٹھ سال تھی ۔
بعد میں ،میں نے اماں جان سے پوچھا : ’’اباجان نے ہماری طرف مڑ کر دیکھا کیوں نہیں تھا؟‘‘
تواُنھوں نے بڑے اطمینان سے کہا : ’’حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی تو مکے سے جاتے وقت حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا تھا ۔ پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ارادے اور عزم میں کمزوری آ جاتی ہے۔ ‘‘
وہ چونکہ ہمیں انبیاء علیہم السلام کے قصے سناتی رہتی تھیں اس لیے اتنا اشارہ ہی کافی تھا۔
جب اباجان گرفتار ہوئے تو اس وقت گھر میں بہت تھوڑے سے پیسے تھے ۔ہماری اماں جان نے زندگی کے معمولات بدل دیے تھے ۔دھوبی کو کپڑے دینے بند کر کے اُنھوں نے کپڑے خود دھونے شروع کر دیے تھے جب کہ ان کا تعلق دہلی کے ایسے متمول گھرانے سے تھا جہاں بلا مبالغہ ایک رومال بھی خود نہیں دھویا جاتا تھا ۔۔۔۔ ملازم کو فارغ کر کے کھانا خود پکانا شروع کر دیا ۔ اس وقت ایک مائی جو اچھرہ سے جمعہ پڑھنے ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اور ایک ٹانگے والے کی بیوہ بہن تھی، ضد کر کے ہمارے ہاں آگئی اور سارے کام سنبھال لیے اور اماں جان سے کہا آپ اللہ تعالیٰ کے کام کریں گھر کے کام میں کروں گی۔ اس کانام ’’بھاگ بھری‘‘ (قسمت والی) تھا۔ یہ ہماری سمجھ میں نام نہیں آتا تھا ۔ اس لیے ہم اسے رس بھری کہتے تھے جس کا اس نے کبھی بُرا نہیں مانا تھا۔
اس زمانے میں ہماری اماں جان ہر وقت یا حیی یا قیوم برحمتک استغیث کا ورد کرتی رہتی تھیں ۔ ایک مرتبہ بہت شدید دمے کا دورہ پڑ گیا تو بس اتنا کہا: ’’میرے میاں جیل میں ہیں مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچے روئیں گے اور انھیں کوئی چپ کرانے والا بھی نہیں ہو گا ۔‘‘ اس پر ہماری دادی اماں جو ہمارے ساتھ ہی رہتی تھیں سخت ناراض ہوئیں کہ کیوں مایوسی کی باتیں کرتی ہو حوصلہ کرو کیا ہوا جو ذرا سا سانس اوپر نیچے ہوگیا۔
ہماری دادی اماں بڑی حوصلے والی تھیں ۔وہ ہماری اماں جان کو نصیحت کیا کرتی تھیں: ’’بچوں کو ایسی عادت ڈالو کہ سرد و گرم ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرسکیں۔ ایک وقت سونے کا نوالہ کھلائو، موتی کوٹ کر کھلائو لیکن دوسرے وقت دال سے روٹی کھلائو ،چٹنی سے روٹی کھلائو۔بچوں کو کبھی بھی ایک طرح کی عادت نہ ڈالو اور نہ ہر وقت ان کی منھ مانگی مراد پوری کرو ۔ ماں باپ تو آسانی سے اولاد کی عادتیں خراب کر دیتے ہیں لیکن دنیا لحاظ نہیں کرتی۔ یہ تو بڑے بڑوں کو سیدھا کر دیتی ہے ۔‘‘اور پھر کہتی تھیں: ’’ میں نے اپنے بچوں کو اسی طرح پالا ہے ۔ ایک وقت اچھے سے اچھا کھلایا تو دوسرے وقت دال چٹنی سے روٹی کھلایا‘‘۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے اباجان ہر طرح کے سرد و گرم حالات سے بڑی ثابت قدمی کے ساتھ گزر گئے اور ہر سختی اپنی جان پر جھیل گئے ۔ ان کے اعصاب فولاد کے بنے ہوئے تھے ۔ وہ اپنا ٹوٹا ہوا بٹن خود ٹانک لیتے تھے ۔اپنا پھٹا ہوا کرتہ خود رفو کر لیتے تھے۔ ان کی ’جیل کٹ‘(jail kit) جو بعد میں ہر وقت تیار رہتی تھی ،اس میں سوئی دھاگا اور ہر سائز کے بٹن بھی ہوتے تھے ۔
ہماری دادی اماں ولی اللہ تھیں ۔وہ جب بیمار ہوتی تھیں تو آسمان کی طرف نظریں اٹھا کر بڑے جذبے کے ساتھ کہتی تھیں : من مریضم توطبیبم ۔۔۔۔ اور پھر وہ ٹھیک ہو جاتی تھیں ۔کبھی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا اور نہ کبھی دوا پی ۔اگر کبھی پھوڑا پھنسی نکل آتا تو اس جگہ ہاتھ رکھ کر کہتی تھیں : اے دنبل بزرگ مشو خدائے مابزرگ تر است[اے پھوڑے زیادہ نہ بڑھ ہمارا خدا سب سے بڑا ہے]۔ یہ کہنے سے وہ پھوڑا ٹھیک ہو جاتا تھا۔ وہ فارسی زبان وادب کی بہت زبردست اسکالر تھیں اور اکثر ایسا بھی ہوتا کہ فارسی اشعار میں بات کا جواب دیتیں۔
ہماری اماں جان کہتی تھیں: ’’میں نے اپنی پوری زندگی میں تمھاری دادی اماں جیسی کوئی دوسری عورت نہیں دیکھی کہ جس میں سرے سے نفس ہی نہ ہو۔ انھیں کسی چیز کی طلب نہیں تھی۔‘‘
دادی اماں کہا کرتی تھیں : ’’صوفیا کی یہ صفت ہے کہ وہ کسی کو منع نہیں کرتے تھے ،طمع نہیں کرتے اور جمع نہیں کرتے۔‘‘ اتفاق سے یہ تینوں صفات ہماری دادی اماں، ابا جان اور اماں جان میں تھیں ۔رضا بقضا اور صبر جیسی صفات کی ان تینوں ہستیوں نے اپنے اندر اس طرح سے پرورش کی تھی کہ وہ نفس مطمئنہ کا بہترین نمونہ بن گئے تھے۔
اماں جان کہا کرتی تھیں :’’ میں نے جینے کا سلیقہ تمھاری دادی اماں سے سیکھا ہے۔‘‘
حیرت کی بات تھی کہ ساس بہو دونوں ہمیشہ ایک راے رکھتی تھیں اور کبھی آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا تھا۔
جب اباجان پہلی مرتبہ جیل میں گئے اور ہاتھ بالکل تنگ ہو گیا تو اماں جان نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے بچوں کی تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔ ہماری اماں جان کی ایک نہایت مخلص دوست خورشید خالہ جب ان سے ملنے آئیں تو اماں جان نے اپنا کچھ زیور انھیں دیا کہ اسے فروخت کر لائو ۔ اسی طرح وہ بچوں کی تعلیم اور گھر کے اخراجات پورے کرتی رہیں۔ بڑی جز رسی کے ساتھ بہت سنبھل کر خرچ کرتی تھیں۔
اماں جان کہا کرتی تھیں: ’’ دنیا میں ہر چیز کے بغیر گزارا ہو سکتا ہے ۔گزارا ہوتا نہیں بلکہ کیا جاتا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ مشکل وقت بھی گزر ہی گیا اور ۲۸ مئی ۱۹۵۰ء کو ۱۹ ماہ اور ۲۵ دن کی نظر بندی کے بعد اباجان پھولوں کے ہاروں سے لدے رہا ہو کر گھر آگئے اور سارا گھر مبارک باد دینے والوں سے بھرگیا۔
۲۸مارچ ۱۹۵۳ء کو اباجان دوبارہ مارشل لا کے تحت گرفتار کر لیے گئے ۔ پھر وہی گنے چنے پیسے تھے اور چھوٹے چھوٹے آٹھ بچوں کے ساتھ دمے کی مریضہ ،انتہائی کمزور صحت والی ہماری اماں جان تھیں جنھوں نے بڑے حوصلے سے ان حالات کا مقابلہ کیا ۔کبھی چوڑی اور کبھی انگوٹھی بیچنے کا سلسلہ جاری رہا ( یہ کام خورشید خالہ مرحومہ انجام دیتی تھیں)۔ حسب سابق پھر خود کھانا پکانا اور گھر کے سارے کام کرنے شروع کر دیے۔
اس مرتبہ مارشل لا کے تحت فوجی عدالت میں اباجان پر مقدمہ چل رہا ہے۔ ۹ مئی کو مقدمے کی کارروائی مکمل ہوگئی۔ یہ مقدمہ ایک پمفلٹ قادیانی مسئلہ لکھنے کے سلسلہ میں چل رہا تھا۔ ۱۱ مئی کی صبح اماں جان ناشتہ بنا رہی تھیں اور ہم سب بچے اسکول جانے کے لیے تیار ہو کر ناشتے کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ یکدم ہمارے سب سے بڑے بھائی عمر فاروق ہاتھ میں ایک اخبار لیے بڑے گھبرائے ہوئے اندر آئے اور اماں جان کو ایک طرف لے جا کر اخبار دکھایا۔ اس اخبار میں نہ جانے کیا تھا کہ اسے دیکھتے ہی اماں جان کا چہرہ زرد ہو گیا اور دوسرے لمحے ہی اُنھوں نے وہ اخبار چھپا دیا اور ایک لفظ کہے بغیر ہمارے لیے اسی دلجمعی اور اسی رفتار سے پراٹھے پکانے شروع کر دیے ۔ ہم سب کو ناشتہ کروا کر اسکول روانہ کر دیا اور اندر جا کر آکا بھائی (سید عمر فاروق ) کو بھی اسکول جانے کو کہا ۔ ان کی اندر سے آواز آئی : ’’ نہیں اماں مجھ سے اسکول نہیں جایا جائے گا‘‘۔
(جاری ہے)

مولانا مودودی کے بارے میںعلی میر شاہ کی راے

معروف دانشور

پچاس کی دہائی میں کمیونزم کا عروج تھا اور میں بھی اس طرف مائل ہو جاتا لیکن مولانا کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے اس گڑھے میں گرنے سے بچ گیا۔ ان کتابوں میں پردہ، سود اور اس طرح کی دیگر کتابیں شامل ہیں۔ مولانا ایک مفسر قرآن اور معیشت کے پہلوئوں سے بہت زیادہ علم رکھتے تھے۔

حصہ