حقیقی رشتے، حقیقی خوشی

234

افروز عنایت
۔’’آپا! یہ زرین نظر نہیں آرہی، کہیں گئی ہے کیا؟‘‘
’’وہ… وہ پڑوسیوں کے یہاں، میرا مطلب ہے ریحانہ کے گھر…‘‘
’’لیکن ریحانہ کی تو اب شادی ہوگئی ہے، وہاں کیا کرنے گئی ہے؟ ان کے گھر جوان لڑکے ہیں۔ پرائے گھر میں اس طرح اُس کا جانا صحیح نہیں… آپا آپ نے اسے منع نہیں کیا؟‘‘
’’ساجدہ اصل میں مَیں اسے منع کرنے سے ڈرتی ہوں، کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ میں سوتیلی ماں ہوں‘‘۔
’’ارے آپا ہم نے آپ کو کبھی سوتیلی ماں نہیں سمجھا۔ خیر آج میں اسے سمجھا دوں گی۔ لو وہ آگئی۔‘‘
’’آپا آپ کب آئیں؟‘‘
’’میں تو ایک گھنٹے سے آئی ہوئی ہوں، تم سنائو کہاں کے چکر لگا رہی ہو؟‘‘
’’وہ آپا… ریحانہ کے گھر گئی تھی تھوڑی دیر کے لیے‘‘۔
’’کیا ریحانہ آئی ہوئی ہے، اس سے ملنے گئی تھیں تم؟‘‘
’’نہیں… نہیں، میں تو آنٹی کا حال احوال لینے گئی تھی۔‘‘
’’دیکھو زرین! یہ پرائے گھر میں تمہارا اس طرح بار بار جانا صحیح نہیں۔ آپا بیچاری تو اس ڈر کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتیں کہ… خیر چھوڑو… ایک دو اچھے رشتے ہیں میری نظر میں۔ خیرالنساء خالہ نے بھی اپنے بیٹے کے لیے کہا ہے۔ پڑھا لکھا لڑکا ہے، کوئی بہن بھائی نہیں، اچھی ملازمت ہے، میرے خیال میں تم خوش رہوگی (ساجدہ نے غور سے بہن کو دیکھا) کیا خیال ہے تمہارا اس بارے میں؟‘‘
’’نہیں نہیں باجی میں… میں، میرا مطلب ہے کہ…‘‘
’’ہاں ہاں بولو کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘
’’باجی ریحانہ کا بھائی… میرا مطلب ہے سہیل… مجھے پسند کرتا ہے…‘‘
’’سہیل تم سے شادی کرنا چاہتا ہے؟ اس نے تم سے کچھ کہا ہے؟‘‘
’’(شرماتے ہوئے) جی باجی، اس نے مجھے خود کئی مرتبہ کہا ہے… وہ…‘‘
٭…٭
’’ارے آئو آئو… آج تو ہماری بیٹی ساجدہ آئی ہے، کیا راستہ بھول گئی ہو…‘‘
’’نہیں خالہ، بس مصروفیت ہی ایسی ہوتی ہے، نکلنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ (اس نے چاروں طرف دیکھا، دوسرے کمرے میں سہیل بیٹھا ہوا تھا، اسے نظر آیا، اس نے ذرا اونچی آواز میں کہا تاکہ سہیل تک اس کی آواز جا سکے) خالہ آج میں زرین کے رشتے کے لیے آئی تھی۔ میری خالہ ساس نے اپنے بیٹے کے لیے زرین کا رشتہ مانگا ہے۔ میں ابا اور آپا سے اسی سلسلے میں ملنے آئی تھی۔ گھر جارہی تھی، آپ کا دروازہ کھلا ہوا تھا، میں نے سوچا سلام کرتی جائوں…‘‘
’’واہ بھئی واہ (دوسرے کمرے سے سہیل نکل آیا) باجی گڈ نیوز ہے۔ کب ہورہی ہے شادی…؟ بہت دن ہوگئے ہیں پڑوس میں کوئی شادی نہیں ہوئی۔‘‘
سہیل کی بات سے ساجدہ کو بڑا دھچکا لگا، وہ دھیمے لہجے میں بولی ’’کل وہ لوگ ابا کے پاس آئیں گے، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔‘‘
’’اللہ مبارک کرے بیٹا، ہماری زرین خوش رہے۔ میرے لیے تو وہ بیٹیوں کی طرح ہے، ریحانہ اور وہ دونوں ساتھ کھیل کر بڑی ہوئی ہیں۔ اچھا ہے اب وہ بھی اپنے گھر کی ہوجائے۔‘‘
٭…٭
ساجدہ نے تمام بات زرین کو بتائی اور بڑی مشکل سے اسے اسلم کے ساتھ شادی پر راضی کیا۔
٭…٭
زرین کے دل و دماغ پر تو سہیل بیٹھا ہوا تھا، اس معمولی شکل و صورت کے مالک اسلم کو دیکھ کر اسے سخت مایوسی ہوئی۔ ’’اُف باجی اور ابا کو میرے لیے یہی لنگور نظر آیا!‘‘ پھر وہ سہیل کے خیالوں میں کھو گئی۔ اسے ہوش ہی نہیں رہا کہ اسے اسلم کے لیے ناشتا بنانا ہے۔ وہ باتھ روم سے باہر آیا تو وہ کسی اور دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔
٭…٭
اسلم بہت ٹھنڈے مزاج کا بندہ تھا، اکثر زرین کی بدمزاجی اور تلخی کو نظرانداز کردیتا… بلکہ اسے خوش کرنے کے لیے لاکھ جتن کرتا۔ آج بھی آفس سے واپس آیا تو زرین بخار میں پھنک رہی تھی۔
’’زرین تم نے مجھے فون کردیا ہوتا، میں آفس سے جلدی آجاتا۔ اب چلو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں‘‘۔
اسپتال سے واپسی پر وہ اسے ابا اور آپا کے پاس بھی لے آیا تاکہ اس کا دل بہل جائے۔ سیڑھیوں میں ہی اس کی ملاقات سہیل اور اس کی والدہ سے ہوئی۔ سہیل تو سلام کرکے سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا یہ کہتے ہوئے کہ امی جلدی آئیں دیر ہورہی ہے۔ اُس کے چہرے سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔ لگا اسے بہت جلدی ہے۔
’’کہیں جارہے ہیں خالہ آپ لوگ؟‘‘ اسے سہیل کی بے مروتی بڑی کھل رہی تھی، وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔
’’ہاں بیٹا زرین… بڑی مشکل سے اسے شادی کے لیے ایک لڑکی پسند آئی ہے، وہیں جا رہی ہوں۔ راستے سے ریحانہ کو بھی لیتی جائوں گی، اصل میں تاریخ طے کرنی ہے۔ اور تم سنائو…‘‘
زرین خالہ کی بات کا کیا جواب دیتی! اس کے تو سارے محل ڈھے گئے تھے… سارے خواب چکنا چور ہوگئے تھے۔
ساری رات وہ کروٹیں بدلتی رہی۔ اسے سہیل کے وعدے، محبت بھرے جملے ڈس رہے تھے جس کی بنا پر وہ گزشتہ چار ماہ سے اسلم کے ساتھ بھی ناروا سلوک برت رہی تھی۔ ’’اُف خدایا، اس نے مجھے وقت گزارنے کا سامان سمجھا تھا، اور میں بیوقوف گزشتہ دو سال سے آس لگائے بیٹھی تھی کہ وہ ابھی میری ڈولی لینے آیا۔ اُف… آپا نے بھی تو بہانوں اور طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ خدایا مجھے معاف کردے، میں نے بہت سے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کا برتائو کیا، باجی ساجدہ کی باتوں کو بھی جھوٹ سمجھا، ان سے بھی بے اعتنائی اور بے رخی کا برتائو کیا… اچھا ہوا جلد ہی مجھے سہیل کی حقیقت معلوم ہوگئی، ورنہ میں تو اپنی ساری زندگی برباد کردیتی…‘‘
صبح اٹھی تو وہ ایک نئی زرین تھی۔ اسلم کے لیے ناشتا اس کا انتظار کررہا تھا۔ اس کے لبوں پر وہ مسکراہٹ تھی جس کا اسلم متلاشی تھا۔

حصہ