۔’’ جھوٹ ‘‘ ہی بولنا ہے جتنا چاہو بولو

140

پچھلے دنوں کراچی شدید سردی کی لپیٹ میں، جبکہ ہمارا محلہ سیوریج کے گندے پانی کی جھپیٹ میں رہا، جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ موسم سرد ہوتے ہی شہر کے مختلف علاقوں میں بچے آگ تاپتے، جبکہ ہماری گلیوں میں گندے پانی کی نالیاں ٹاپتے دکھائی دیے۔ ہمارے ایک دوست ہر سال چھٹیاں گزارنے شمالی علاقہ جات جایا کرتے ہیں، ہمیشہ اُن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم بھی اُن کے ساتھ چلیں۔ بہتے دریا اور آبشاروں سے گرتا پانی بچپن سے ہی ان کی کمزوری رہا ہے، جب بھی وہ واپس آتے ہیں مجھے وہاں کی کسی نہ کسی جھیل کے متعلق ضرور بتاتے ہیں۔ اِس مرتبہ تو وہ اس قدر ناراض ہوئے کہ بولے: ’’کیا کنجوس بنے ہوئے ہو! پیسے نہیں ہوتے تو مجھ سے لے لیا کرو۔ وہاں کے پہاڑوں اور چشموں سے آتے پانی کو دیکھ لو تو تمہاری طبیعت خوش ہوجائے۔‘‘
خاصی دیر لیکچر سننے کے بعد میں نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے اُن سے اپنی جان چھڑائی۔ اب یہ بات میں کیسے اپنے دوست کو بتاؤں کہ جن جھرنوں اور جھیلوں کے نظاروں کا ذکر وہ میرے ساتھ کرتے ہیں، میں ایسے مناظر ہر روز اپنے محلے میں ابلتے گٹروں سے بہتے پانی کی صورت میں دیکھتا رہتا ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میرے اندر اب جھیلیں اور جھرنے دیکھنے کی کوئی خواہش باقی نہیں۔ ظاہر ہے جب سال کے بارہ مہینے اپنے ہی علاقے میں جوہڑ دیکھنے کو مل جاتے ہوں تو اس کے لیے اتنی دور جا کر پیسوں کو آگ لگانے کی کیا ضرورت! اور پھر استعمال شدہ سیوریج کے پانی کا صاف شفاف جھرنوں سے کیا مقابلہ! گندے پانی کے اپنے ہی رنگ ہوا کرتے ہیں۔ محلے میں کسی نے واشنگ مشین لگا لی تو گٹر سے سرف ملا سفید، روزمرہ کے گھریلو استعمال پر کالا، اگر ایک دو روز بہاؤ میں کمی آجائے تو کائی جم جانے پر یہ پانی ہرا ہوجاتا ہے۔ اب مختلف رنگوں سے بھرپور گندے پانی کے پاس کھڑے ہوکر اپنے موبائل سے سیلفیاں بنائیں اور اپنی پسندیدہ جگہوں کے نام لکھ کر دوستوں کو سینڈ کرکے ڈھیروں لائیک حاصل کریں۔ اپنے علاقے کی حالت دیکھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ محلے کے چیدہ چیدہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر گلیوں میں کاشت کاری شروع کردوں۔ سنا ہے گٹروں سے ابلتے پانی میں اعلیٰ قسم کی کھاد شامل ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سیوریج کا پانی فصلوں کے لیے انتہائی مفید ہے، اس لیے اس کام میں نقصان کا کوئی خدشہ نہیں۔ ویسے تو واٹر بورڈ کی جانب سے شہریوں کو پینے کے لیے جو پانی سپلائی کیا جارہا ہے اس میں بھی انسانی فضلہ یعنی اصل کھاد سمیت انسانی زندگی کے لیے مضر صحت وہ تمام آئٹم موجود ہوتے ہیں جو فی زمانہ کاشت کاری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے زراعت کے شعبے میں ہماری کامیابی یقینی ہے۔
ہر سال موسمِ سرما آتے ہی سارے شہر میں خشک میوہ جات کی بھرمار ہوجاتی ہے۔ سردیوں کے موسم میں مونگ پھلی بیچتے ریڑھی والوں کی آوازیں ہوں اور بچے مونگ پھلی نہ کھائیں، تو تشنگی رہ جاتی ہے۔ آپ بازار سے اعلیٰ معیار کے خشک میوہ جات یا اشیائے خورونوش خرید کر لے آئیں، بچے اپنے ہاتھ سے خریدی ہوئی چیزیں کھانا ہی پسند کرتے ہیں۔ شاید یہ ہر گھر کے بچے کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔ ایسی ہی حقیقت کا سامنا ہمیں اِس موسم سرما میں اُس وقت کرنا پڑا جب محلے کو آتی سڑک پر جگہ جگہ لگے گندگی اور غلاظت کے ڈھیروں کے باعث ریڑھی والوں نے ہماری گلیوں کا بائیکاٹ کردیا، یوں اِس سال گھر کے بچے خشک میوہ جات کھانے سے محروم رہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے علاقے میں کھڑے گندے پانی کی وجہ سے لوگوں کو ایک قطار میں چلنے کا سلیقہ ضرور آگیا ہے۔ ظاہر ہے گند سے بچنے کے لیے جب دن بھر ایک پگڈنڈی پر چلا جائے گا تو یہ ہنر سیکھنا کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ خاصی اہم ہے کہ سڑکوں پر بہتے سیوریج کے پانی سے بچتے بچاتے گزرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے خاصے تجربے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ کیچڑ کے درمیان ایک ترتیب کے ساتھ اینٹیں لگاکر رستہ بنانا بچوں کا کھیل نہیں۔ میں نے جہاں جہاں بھی اس طرح سے بنی راہداریاں دیکھیں، داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔ ایسے بنائے گئے رستوں پر چلنے والوں کی صلاحیت بجا طور پر فنکارانہ ہوا کرتی ہے۔ اپنے جسم کے توازن کو برقرار رکھ کر اٹھنے والے قدم کو اگلے بلاک پر رکھتے ہوئے بارہ سے پندرہ فٹ چوڑی اوپن سیوریج لائن کامیابی سے عبور کرنا بڑے دل والوں کا کام ہے۔
پچھلے ہفتے ہمارے ایک دوست کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ تیمارداری کے لیے گئے تو معلوم ہوا موصوف نے منرل واٹر پی لیا تھا۔ ظاہر ہے جب پانی کے نام پر سارا سال سیوریج ملا گندا پانی معدے میں اتارا جائے تو معدہ صاف شفاف منرل واٹر کیسے برداشت کرسکتا ہے! خیر دو دن میں بغیر دوا دارو کیے صرف واٹر بورڈ کی جانب سے سپلائی کردہ پانی کے استعمال سے ہی افاقہ ہوگیا۔ سنا ہے آج کل وہ فلٹر شدہ پانی کو انتہائی مضر صحت پانی گردانتے ہیں۔
یہ بات بھی ماننے کی ہے کہ سندھ کے شہری و صوبائی حکمرانوں نے کراچی کے عوام کو ترقی کے نام پر کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو، لیکن ان کے اقدامات کی بدولت یہاں کے عوام نے کچرے کے ڈھیروں، ابلتے گٹروں، ٹوٹی سڑکوں اور وبائی امراض سے لڑنے کا فن خوب سیکھ لیا ہے۔
انسان جب تک زندہ رہے اُسے ساری زندگی خودساختہ ذہین اور اعلیٰ ترین کرداروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی ہی فنکارانہ صلاحیتوں کی بدولت امجد بھائی کا شمار بھی انہی اداکاروں میں ہوتا ہے، تبھی تو محلے کے سارے ہی لوگ انہیں ’’سر پکاؤ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ سنا تھا سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کی سیاسی تربیت کرتی ہیں، لیکن امجد بھائی کو دیکھ کر یہ بات افواہ لگتی ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے گلے میں اپنی جماعت کا جھنڈا ڈالے بڑبڑاتے ہوئے جارہے تھے، مجھے دیکھ کرآپے سے باہر ہوتے ہوئے بولے:
’’تمہارے محلے کی بدترین صورتِ حال دیکھ کر مجھے تو بہت خوشی ہوتی ہے، میں تو کہتا ہوں ہمیشہ انہی کو ووٹ دیتے رہو جنہوں نے ملک کا خزانہ لوٹ کر کھا لیا اور تمہیں ان گندے تالابوں کے حوالے کردیا۔ سندھ کے سوا سارے پاکستان میں تبدیلی آگئی ہے، ملک ایک ایمان دار، نڈر اور بے باک قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سال ملک و قوم کے لیے ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔ 2020ء عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل اور امیدوں پر پورا اترنے کا سال ہے۔ ہماری حکومت کی اوّلین ترجیح میرٹ کا بول بالا، گڈ گورننس اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہے۔ ہماری کامیاب پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کے سبب برآمدات اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار بلاخوف و خطر سرمایہ کاری کے لیے تیزی سے پاکستان کی طرف رخ کررہے ہیں جس سے بہت جلد معاشی انقلاب آنے والا ہے۔ میں یہ بات کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ ہماری حکومت تسلی بخش معاشی منازل حاصل کرچکی ہے۔ ہم نے معاشی اصلاحات کے ذریعے ملکی معیشت اور ٹیکس نظام کو بہتر کیا، جبکہ ماضی میں صرف کھوکھلے نعروں سے کام لیتے ہوئے عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کیا گیا، نمائشی منصوبوں پر قومی وسائل ضائع کیے گئے۔ یہ ہماری ہی حکومت ہے جس نے جھوٹے وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات کرتے ہوئے عوام کے مالی حالات میں بہتری لانے کے لیے 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے جیسے کامیاب منصوبے بنائے۔ دیکھو، اگر ترقی اور خوشحالی کے ثمرات حاصل کرنا چاہتے ہو تو کراچی سمیت پورے سندھ میں ہماری جماعت کے جھنڈے لہرانے ہوں گے۔ ہماری جماعت کی کامیابی ہی ترقی، خوشحالی اور کچرے سے پاک شہر کی ضمانت ہے۔‘‘
امجد بھائی کی باتوں کے جواب میں اُن کے اور اُن کی حکومت کے لیے بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ جھوٹ کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، مثلاً سیاہ جھوٹ، جس میں خود کو مصیبت سے مکمل طور پر بچانا مقصود ہوتا ہے چاہے اس سے دوسرا بچے یا نہ بچے۔ دوسرے نمبر پر سرخ جھوٹ آتا ہے، یہ دوسروں سے بدلہ لینے پر مبنی بیانیہ ہوتا ہے۔ اس میں جھوٹا شخص خود کو اور دوسروں کو نقصان تک پہنچا سکتا ہے۔ تیسرے نمبر پر سرمائی جھوٹ آتا ہے، اس میں جھوٹا شخص اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن اس سے کچھ دوسروں کا فائدہ خودبخود ہوجاتا ہے۔ چوتھی قسم سفید جھوٹ کی ہے، یہ ہمارے سماجی نظام کا لازمی حصہ بن چکا ہے، یہ تشدد اور جارحانہ رویّے سے بچنے کے لیے بولا جاتا ہے، مثلاً نہ چاہتے ہوئے بھی کسی شخص کی عادت یا کپڑوں وغیرہ کی تعریف کرنا پڑتی ہے۔ جھوٹ کی پانچویں قسم مفادات پر مبنی ہوتی ہے، اس میں ڈاکٹر مریض کی انتہائی پیچیدہ صورتِ حال بھی اُس کے لواحقین کو نہیں بتاتے، یعنی مریض کے لواحقین کو اس کی اصل حالت سے آگاہ نہیں کرتے۔ جھوٹ کی چھٹی قسم کینہ پرور جھوٹ ہے، یہ جھوٹ کی خطرناک ترین شکل ہے جس میں جھوٹا شخص ذاتی مفاد کے لیے معاملات کو مخفی رکھتا ہے اور جھوٹ پر جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے۔ ساتویں نمبر پر دغابازی پر مبنی جھوٹ ہے، یہ وہ قسم ہے جس میں جھوٹا شخص افواہ سازی کا کارخانہ بن جاتا ہے اور اپنے شکار کے کردار اور ساکھ کو نشانے پر لے لیتا ہے، اس جھوٹ کے نتائج انتہائی خوفناک نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ماہرین نے جھوٹ کی پہچان میں آسانی کے لیے جھوٹوں کی کئی اقسام بیان کی ہیں یعنی فطری جھوٹا، جس کو جھوٹ بولنے میں مہارت ہو اور تفصیل سے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ اور غیر فطری جھوٹا، یہ وہ جھوٹا ہوتا ہے جسے بچپن میں ہی اس کے والدین یقین دلاتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کی جب اتنی زیادہ اقسام موجود ہوں اور ان پر عمل پیرا ہونے والوں میں ہمارے ملک کے حکمرانوں سمیت امجد بھائی جیسے متاثرین بھی شامل ہوں تو ایسی صورت میں صاف دل اور سچ بولنے والے عوام کو باکردار، مخلص اور ایمان دار حکمرانوں کے لیے مزید انتظار ہی کرنا پڑتا ہے۔

حصہ