مشاعرہ بیادِ امید فاضلی

149

سیمان کی ڈائری
تہذیب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام چارجنوری بہ روز ہفتہ ساداتِ امروہہ گلبرگ میں عظیم الشان مشاعرہ بہ امیدفاضلی کا اہتمام کیا گیا۔ اس مشاعرے کی صدارت معروف شاعر جناب انور شعور نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی سرورجاوید، ڈاکٹر ریحان اعظمی، مہمان ِ اعزازی پرویز محب فاضلی اور مہمان شاعر سید اقبال حیدرشریک تھے۔پیپلز پارٹی کے سینئیر سیاسی رہنما جناب تاج حیدر نے بھی اس مشاعرے میں خصوصی شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض شجاع عباس ایڈووکیٹ نے ادا کیے۔ دیگر شعرا میں عروج زہرہ زیدی، نور سہارن پوری، ڈاکٹرسلمان ثروت، نعیم سمیر، کامران نفیس، ڈاکٹر ندیم نقوی، سیمان نوید(راقم الحروف)،عزیز مرزا،سحرتاب رومانی، اے ایچ خانزادہ، اختر عبدالرزاق، اجمل سراج، نسیم نازش اور کوثر نقوی شریک تھے ۔ کچھ اور شعرا بھی اس مشاعرے میں مدعو تھے جو ذاتی مصروفیات کے باعث شریک نہ ہو سکے۔ منتظمین کی جانب سے مشاعرے کا وقت شام چھ بجے رکھا گیا تھالیکن مشاعرہ رات نو بجے شروع ہوا ۔ اسی سبب سامعین کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہی۔ تاہم اس مشاعرے میں دو اچھی روایات قائم ہوئیں ایک تو منتظمین میں تنظیم کے روحِ رواں محسن رضا دعا، توقیر تقی اور م م مغل نے مشاعرے میں اپنا کلام نہیں سنایا۔دوسرا یہ کہ ہر شاعر کو امید فاضلی کی دو عدد شاعری کی کتابیں بہ طور تحفہ پیش کی گئیں۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ریحان اعظمی وہیل چئیر پر آئے۔ ناسازیٔ طبع کے باعث ریحان اعظمی نے مشاعرے کے ابتدا ہی میں اپنا کلام پیش کیااور رخصت ہوئے ۔ مشاعرے کے اختتام پر مہمانوں کے لیے رات کے کھانے کا اہتمام بھی کیاگیا جبکہ دورانِ مشاعرہ سوپ اور چائے بھی پیش کی گئی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کا سالانہ مشاعرہ

۔14جنوری دوپہر دو بجے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت کی جانب سے ایک خوب صورت مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت اردوکے ممتاز شاعر جناب انور شعور نے کی۔ مشاعرے کے دیگر مدعو شعرا میں جناب اجمل سراج، عبدالحکیم ناصف، سیمان نوید، کامران نفیس ، نجیب ایوبی، زاہد عباس، سانی سید، اسامہ امیر شیخ اور عبدالرحمان مومن شریک تھے۔ مشاعرے کی نظامت با صلاحیت نوجوان شاعر عبدالرحمان مومن نے کی۔ مشاعرے میںاسلامی جمعیت طلبہ کے دو ساتھیوں نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرے میں مختلف شعبوں میں پڑھنے والے طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور تمام شعرا کے کلام کو سراہتے ہوئے دل کھول کر داد دی۔ مشاعرے سے قبل مشاعرے کے منتظمین نے شعرائے کرام کے لیے ظہرانے کا اہتمام کیا۔دورانِ ظہرانہ معروف شاعر اجمل سراج اورصدرِ مشاعرہ جناب انور شعور کے درمیان اردوادب، خصوصاً شاعری کے حوالے سے علمی گفتگو ہوئی ۔گفتگو کے دوران اردو شاعری میںخود ساختہ طور پررائج کیے گئے غلط العام لفظوں کے استعمال پر بھی بات ہوئی۔جی سی ٹی سائٹ میں سالانہ مشاعروں کا انعقاد ایک اچھی کوشش ہے جہاں طلبہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدید تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اردو ادب سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ مشاعرے سے قبل اس وقت کے مناظر دیدنی تھے جب شعرا کی آمد ہوئی تو طلبہ نے دونوں اطراف قطار میں کھڑے ہوکر استقبال کیا ۔ اس کامیاب مشاعرے کے انعقاد پرتمام کالج اسٹاف اور اساتذہ کرام کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔

گھر تو ایسا کہاں کا تھا لیکن
در بدر ہیں تو یاد آتا ہے

امید فاضلی

حصہ