سوشل میڈیا پر بوٹ کی کرامات

291

سوشل میڈیا پر اس ہفتے بھی ’بوٹ ‘ہی چھائے رہے۔ اس بار انداز ذرا الگ تھا اور نتیجہ بھی الگ ہی آیا۔ کہنے کو تو لوگ کہہ رہے تھے کہ ایک وزیر کی تو اب چھٹی ہوگی ہی ہوگی، لیکن اس بار سب الٹ پلٹ ہوگیا۔
میجر جنرل آصف غفور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کی منتقلی اوکاڑہ ہوگئی، اور میجر جنرل بابرافتخار کو نئی ذمہ داری سونپ د ی گئی۔ اب اسے اتفاق کیونکر کہا جائے کہ یہ اعلان عین سانحۂ ’فیصل بوٹ‘کے دوسرے دن ہوا۔ میں نے کہا ناں کہ ’’بوٹ چھائے رہے‘‘۔ یہ بوٹ فوجی تھے لیکن سول ہاتھوں میں اٹھائے گئے اور ملک میں گفتگو کا اہم موضوع بن گئے۔ ویسے ہمارے ملک میں کچھ ’سمجھدار‘ سیاست دانوں کو فوری مشہور ہونے کا فن بخوبی آتا ہے۔ ایک جملہ، بیان، حرکت کافی ہوتی ہے۔ اُن کی اپنی سوشل میڈیا ٹیم بھی پسِ پردہ کام کررہی ہوتی ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ حمایت میں چلے، مخالفت میں بھی مہم چل جاتی ہے۔ شیخ رشید احمد، فردوس عاشق اعوان، فواد چودھری کے علاوہ کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا بھی اپنی دلچسپ و عجیب حرکات کی وجہ سے مشہور ہیں اور سوشل میڈیا پر موضوع بنتے رہتے ہیں۔ اس ہفتے کاشف عباسی کے مشہور ٹاک شو ’آف دی ریکارڈ‘ میں اپنے ہمراہ ایک تھیلا بھی لے آئے۔ عمومی پریکٹس یہی ہے کہ وزراء اور اس طرح کے مہمانان کی کوئی تلاشی نہیں لی جاتی، چنانچہ وفاقی وزیر تھیلا لے کر سیٹ پر آگئے۔ دیگرمہمانوں میں پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید عباسی شریکِ گفتگو تھے۔ 43 منٹ 25 سیکنڈ پروگرام چلا، جس کے پہلے چار منٹ اور چالیسویں سیکنڈ پر فیصل واوڈا نے اپنے تھیلے سے ایک فوجی بوٹ نکال کر میز پر رکھ دیا۔ بتا وہ یہ رہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایکٹ پر بلا چوں و چرا دستخط کرکے ’بوٹ‘ چاٹنے کے مترادف کام کیا ہے۔ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے کہ اگلے 20سیکنڈ میں غالباً میزبان کاشف عباسی کو کان میں لگی آئی ایف بی سے کچھ نہ کچھ ہدایات یا مشورے ضرور ملتے محسوس ہوتے ہیں۔ مزید کوئی2 منٹ بعد میزبان سوال کرتا ہے کہ ’کہاں سے لائے ہیں یہ بوٹ، کافی چمک رہا ہے؟‘ اب اس سوال کا کیا مطلب لینا چاہیے؟ اور فیصل واوڈا نے جو جواب دیا وہ خود ایک الگ موضوع ہے۔ 13ویں منٹ کے قریب فیصل واوڈا نے وہ بوٹ واپس تھیلے میں رکھ دیا۔ کوئی 15 ویں منٹ کے آخر میں باقی دونوں مہمان پروگرام چھوڑ کر اُٹھ گئے۔ بس پھر کیا تھا، اسکرین شاٹ ہی اسکرین شاٹ، میمز ہی میمز، ایک سے ایک جملے بازی، ایک سے ایک تجزیہ و تبصرہ شروع ہوگیا۔ سب نے دیکھا کہ #FaisalWavda ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ صہیب جمال سال پوچھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’فیصل واوڈا نے کیا غلط کیا؟ اس ملک میں یہی ہوتا ہے، اس نے اپنے پاس حفاظت سے رکھا بوٹ نکالا اور دو مزید چاٹنے والوں کے سامنے رکھ دیا، تینوں پارٹیوں کے درمیان ملک کے مسائل سے اہم اب بوٹ کی خدمت ہی ہے۔ کیونکہ فیصل واوڈا بڑ بولا ہے، شودا ہے، جو شخص کسی پولیس مقابلے کے بعد کمانڈو ڈریس میں جائے وقوع پر جاکر بہادری کی ایکٹنگ کرکے مکّے لہرائے، جو بھارتی جہاز کے گرنے، ابھی نندن کے گرفتار ہونے کے بعد ملبے پر پاؤں رکھ کر ایکشن دے کہ جیسے وہ سرحدوں کی حفاظت کرنے آیا ہے، جو کسی ٹی وی پروگرام میں بیٹھ کر یہ کہہ دے کہ تین چار ہفتوں میں ملک میں دھن برسے گا، خوشحالی قدم چومے گی، ایسے شخص سے یہی امید کی جاسکتی ہے۔ اس آرمی توسیع کیس میں، کس نے اپوزیشن سے حمایت لی، کس نے اپوزیشن سے ڈیل کی، کس نے اپوزیشن کو ریلیف دیا اور بل کثرتِ رائے سے منظور کروایا، ٹی وی پروگرام میں بوٹ رکھ کر ظاہر کردیا۔ ایک گلی کا سب سے بیوقوف بچہ جب اپنے بڑوں کو دیکھے گا کہ بوٹ چاٹنے کی وجہ سے کرسی ملی ہے تو اُس کے دماغ میں یہی نقش رہے گا، آگے زندگی بھر اُس کے روزوشب بوٹ پالش میں ہی گزریں گے۔ ویسے جیالوں اور پٹواریوں کو بوٹ دیکھ کر اتنی ہی تکلیف ہوئی ہے تو ابھی بھی وقت ہے کھڑے ہوجائیں اور کہہ دیں ’’ہاں فوجی بوٹ نے ہم کو ڈرا کر اس بل کی حمایت لی‘‘۔ پھر لوگ پوچھیں گے کہ ’’جماعت اسلامی، جے یو آئی، محمود خان اچکزئی اور فاٹا والوں نے کیوں حمایت نہیں کی؟‘‘ تو کہہ دیجیے گا ’’جن کا دامن صاف ہو وہ کسی سے ڈرتے نہیں، اپنی زندگی جیتے ہیں‘‘۔ آزاد کشمیر سے سینئر صحافی محمد عارف لکھتے ہیں کہ ’’زندہ باد فیصل واوڈا زندہ باد! بس یوں ہی آپ ملٹری ڈیموکریسی کی تشریح کرتے رہا کریں۔ قوم کو بھی پتا چل گیا کہ خاموشی اور انسانی ہمدردی کے پسِ پردہ کیا ہے؟ آپ کے اس جرأت مندانہ انکشاف سے کشمیریوں کو بھی بہت افاقہ ہوگا۔‘‘
اسی طرح ایک اور ٹوئٹ ہے ’’سیاست میں فوجی بوٹ کو چومنے، چاٹنے والے ایک دوسرے کو اسی بات کا طعنہ دے رہے ہیں کہ ہمارا تو منشور ہی فوجی بوٹ کو چومنا، چاٹنا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ والوں نے بھی چوما، چاٹا: فیصل واوڈا کے مؤقف کا ترجمہ۔‘‘ ڈاکٹر اسامہ شفیق نے یوں تبصرہ کیا کہ ’’نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے۔ فیصل واوڈا جیسے نادان دوست رکھنے والوں کو دشمن کی کیا ضرورت؟‘‘ فیصل واوڈا کا فوجی بوٹ لانا، اورحکومت کی حرکتیں اپوزیشن کو شرمندہ کرنے کے بجائے فوج کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کو سیاسی بنادیا ہے۔ ووٹ لینے کے بعد اب اپوزیشن کو طعنے دے کر مُردہ ایشو کو زندہ کرایا جارہا ہے۔ اب مزے دار بات یہ ہوئی کہ فیصل واوڈا پر پابندی کی خبر کے بجائے پیمرا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اعلامیے میں کہا کہ اے آر وائی کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ کے مذکورہ شو میں معتبر ریاستی ادارے کو غیر ضروری طور پر گھسیٹا گیا، جبکہ میزبان اس عمل کو روک نہیں سکے۔ ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، اس لیے شو پر اور میزبان ’کاشف عباسی‘ پر 60 دنوں کے لیے پابندی لگائی جارہی ہے۔ ہارون رشید کے نام سے بنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ ٹوئٹ ہوئی کہ ’’ٹاک شو میں فوجی بوٹ سجاکر پاک فوج کی جیسی توہین فیصل واوڈا نے کی ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مغرب کی پروردہ تمام این جی اوز مل کر بھی اس قدر نقصان نہ پہنچا سکتیں۔ حیرت ہے کہ کسی بھی موضوع کو نظرانداز نہ کرنے والے جنرل آصف غفور خاموش ہیں۔‘‘ طنز و مزاح کے ضمن میں بھی کئی پوسٹیں وائرل تھیں جن میں ’’کل رات سے مال خانے سے ایک جوتا غائب ہے، جس کسی کو ملے فوراً مطلع کرے‘‘۔ اسی طرح کئی پیروڈی اشعار بھی گھومتے رہے ’’ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے … سب اسی ’بوٹ‘ کے اسیر ہوئے‘‘ ایک اور فلمی گانے کا شعر ’’بوٹوں کو چھو لو تم… میرا ووٹ امر کردو‘‘۔ اسی طرح ایک اور ٹوئٹ کہ ’’فیصل واوڈا نے اپنے ایک ایکشن سے جو تاثر پیدا کیا، تین درجن کتابیں، پندرہ سو آرٹیکل اور ایک ہزار گھنٹے کے ٹی وی پروگرام سے بھی وہ نہیں ہوسکتا تھا۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کا عظیم سپوت۔ فیصل واوڈا‘‘۔ اب لوگ کہہ رہے تھے کہ فیصل واوڈا کی تو خیر نہیں، اب اس کی چھٹی ہوگی۔ اگلے روز حامد میر کے پروگرام میں فیصل نے بتادیا کہ وزیراعظم عمران خان کو اُس کی حرکت پسند نہیں آئی، چنانچہ اس حوالے سے بڑا اعلان متوقع تھا لیکن پہلا اعلان پیمرا کی جانب سے آیا اور دوسرا تو ڈی جی آئی ایس پی آر کی تبدیلی کا نکل آیا پھر تیسرا اعلان بالآخر عمران خان کی جانب سے فیصل واوڈا پر دو ہفتوں کے لیے کسی بھی ٹاک شو میں جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ اب کوئی کچھ بھی کہے کہ یہ عمومی روایت رہی ہے، فوج ڈسپلنڈ ادارہ ہے، تقرری و تبادلے معمول کے ہیں، مقررہ مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد وغیرہ وغیرہ۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے جانے کے بعد دسمبر2016ء میں میجر جنرل آصف غفور ڈائریکٹر جنرل بنے تھے۔ اب ایسے موقع پر ان کو ہٹایا گیا جب کہ عین دو دن قبل دنیا بھر کے سامنے ’بوٹ‘ کی انتہائی عجیب انداز میں رونمائی ہوئی اور ’بوٹ‘دوبارہ زیر بحث آگئے۔ دوسری جانب سابق ٹی وی اینکر ثنا بُچہ کے ساتھ میجر جنرل آصف غفور کی ٹوئٹ جنگ بھی جاری تھی جس میں ’برنال‘ پر بھی بات ہوئی اور پھر ذرا آگے تک گئی، یہاں تک کہ آصف غفور صاحب کی منتقلی ہوگئی، اس لیے ہم نے کہا کہ ٹائمنگ ٹھیک نہیں تھی۔ کہتے ہیں کہ کسی بندے کا اصل کام اس کے جانے کے بعد ہی پتا چلتا ہے، اور ہم نے دیکھا کہ ٹوئٹر پر تین تین ٹاپ ٹرینڈ چل رہے تھے جن میں
#GoodLuckAsifGhafoor، #AsifGhafoor، #DGISPR ، #PakistanZindabad، #PakArmedForcesZindabad، #سلام آصف غفور بھی شامل تھے۔
10جنوری کو کراچی پریس کلب میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے خلاف ایک فلم مہم کی لانچ تقریب رکھی گئی۔ اس مہم کی روحِ رواں انجلین ملک تھیں جو کہ پاکستانی ڈراما اداکارہ اور ڈائریکٹر بھی ہیں۔ ان کی دعوت پر اس کانفرنس میں زیبا بختیار، ثمینہ احمد، بشریٰ انصاری بھی شریک تھیں۔ سب نے اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا، لیکن بشریٰ انصاری کا ایک کلپ جب اَپ لوڈ ہوا، تو وہ اپنے مواد کے حساب سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔ اسی پروگرام میں زیبا بختیار نے بھی گفتگو کی جو کہ بشریٰ انصاری کے تجربات اور مؤقف کے انتہائی متضاد تھی، لیکن بدقسمتی سے وہ اتنی وائرل نہیں ہوئی۔ بشریٰ انصاری نے اپنے کلپ میں کہا کہ ’’دینی مدارس میں تنہائی کا ماحول زیادہ ہوتا ہے، مسجد اور مدرسہ ہونے کے باعث تعظیم کی وجہ سے وہاں شور نہیں ہوتا، زیادہ لوگ نہیں ہوتے اورمخصوص ماحول ہوتا ہے، لہٰذا وہاں ان لوگوں کو موقع مل جاتا ہے۔ اس لیے ہر مدرسے اور ہر مولوی کے کمرے میں کیمرے لگائیں۔ اس کے علاوہ اسکول میں موجود اساتذہ جو طالب علموں پر تشدد کرتے ہیں، انہیں مختلف طرح سے اذیتیں دیتے ہیں، انہیں تھپڑوں سے، لکڑی سے مارتے ہیں، الٹا ٹانگ دیتے ہیں ان اسکولوں میں بھی کیمرے لگائے جانے چاہئیں تاکہ اس طرح کے لوگوں پرنظر رکھی جاسکے۔ آبادی میں اضافہ بھی ان واقعات میں اضافے کا ایک سبب ہے۔ زیادہ بچے لوگوں سے سنبھالے نہیں جاتے اور والدین اپنے بچوں پر پوری طرح نظر نہیں رکھ پاتے، کچھ لوگ تو صرف اس لیے اپنے بچوں کو مدرسے میں ڈال دیتے ہیں کہ وہاں انہیں کھانا بھی ملے گا، قرآنی تعلیم بھی ملے گی اور یہ بچے ہمیں جنت میں بھی لے جائیں گے۔ لیکن دراصل قرآنی تعلیم کی ضرورت ان والدین کو ہے۔آپ خود قرآن پڑھیے اور ترجمے سے سمجھیے، اور پھر اپنے بچوں کو خود قرآن پڑھائیں۔ لیکن جن کے 12، 14 بچے ہوں گے وہ کہاں پڑھائیں گے! ان کے لیے تو صبح سے شام تک اتنے بچوں کے ساتھ کام مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ ایک جانب یہ گفتگو، تو دوسری جانب زیبا بختیار جو اسی پروگرام میں شریکِ گفتگو تھیں ان کی سُن لیجیے، انہوں نے بتایا کہ جب وہ خود ملک کے مشہور، ایلیٹ کلاس کے کینئرڈ کالج، لاہور میں زیر تعلیم تھیں تو ایک مرتبہ یہ ڈسکس ہوا کہ کون اب تک جنسی درندگی کا نشانہ بنا ہے، تو انہوں نے بتایا کہ 80 فیصد طالبات اس کا شکار تھیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایلیٹ کلاس کی اس تناظر میں جو منظرکشی کی وہ انتہائی حد تک خوفناک تھی، جس میں کئی ایلیٹ گھرانوں میں روح تک کو تڑپا دینے والے واقعات سنائے جس میں سگے باپ کے ہاتھوں بیٹیوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات سے لے کر ملازمین پر چھوڑے گئے بچوں کے واقعات کی طویل فہرست تھی جو یہاں ناقابلِ بیان ہے۔ بس یہ جملہ کوٹ کروں گا کہ زیبا بختیار نے انتہائی افسردگی کے عالم میں یہ کہاکہ ’’قانون تو بہت بعد کی بات ہے، حکومت پر ہم شور مچا سکتے ہیں، نہ جانے کب عمل ہوگا، جب اُن کے گھر وں میں یہ ہوگا اور وہ خود بھی دوسری جانب منہ کر کے لگے ہوںگے۔‘‘
آپ مولوی پر تنقید کرنا شروع کردیں یا ایلیٹ کلاس پر… افسوس کی بات یہ ہے کہ مسئلہ سب کو نظر آرہا ہے، شکار بھی ہورہے ہیں، لیکن اس کے اصل حل کی جانب کوئی جانے کو تیار ہی نہیں اور وہ ہے معاشرے میں پھیلی فحاشی و عریانی کے اس سیلاب کو روکنے کی تدبیر کرنا۔ اس پر اگلے ہفتے تفصیل سے بات کریں گے ۔

حصہ