فروغ اُردو زیر اہتمام “بیادِ ہری چند اختر”۔

166

احمد امیر پاشا (بحرین )۔

مجلسِ فخرِ بحرین برائے فروغِ اُردو نے سال 2019ء کے لیے برِّصغیر کے معروف شاعر اور صحافی ہری چند اخترکی ادبی اور صحافتی خدمات کو عالمی مشاعرے اور تحقیق و تصنیف کے لیے مخصوص کیا تھا۔ اس ضمن میں ہری چند اختر کی غزلوں کے مصرعوں پر تیسری طرحی نشست 26 دسمبر 2019ء کو پاکستان سے تشریف لائے ہوئے باکمال شاعر اور صحافی جناب اجمل سراج کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس طرحی نشست کے مہمانِ خصوصی بحرین میں مقیم عربی ادب کے فاضل استاد ڈاکٹر شعیب نگرامی تھے۔حسبِ سابق اس نشست کا انعقاد مجلس کے ایوانِ اْردو میں ہوا۔اس یاد گار طرحی نشست میں مقامی شعرائے کرام نے اپنی طرحی اور غیر طرحی غزلیں حاضرین کے ادبی ذوق کی نذر کیں۔مقامی شعراء کے علاوہ برّ ِصغیر کے معروف شعرائے کرام نے اپنی طرحی غزلیں ارسال کرکے اس نشست میں علامتی شرکت کی۔
مجلسِ فخرِ بحرین کے بانی و سرپرست جناب شکیل احمد صبر حدی قابلِ تعریف شعری ذوق رکھتے ہیں۔ شعر فہمی اور تنقید کے حوالے سے عمدہ مطالعہ اس پر مستزاد ہیں۔بایں ہمہ ایوانِ اْردو سے متصل نادر کتابوں پر مشتمل لائبریری،کتاب سے ان کی محبت اور علمی ذوق کی علامت ہے۔جناب شکیل احمد صاحب ہمیشہ فروغِ اْردو کے لیے معیاری کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے خطہ برّ ِصغیر میں وقوع پذیر ہونے والے صدیوں پر محیط اردو کی نشوو نما کے عمل اور اس سے منسلک تاریخی معاشرتی یگانگت کے احیائے ثانی کے لیے مصروفِ کار ہیں۔ان کا مطمعِ نظر یہ ہے کہ اْردو کو ایک طبقاتی زبان کی بجائے اشتراک بین الاقوام کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لحاظ سے اس زبان کی اہمیت موجودہ حالات میں مزید دو چند ہو جاتی ہے۔اس فکری تناظر میں انہوں نے اْردو کے مسلمان ادباء اور شعراء کے ساتھ ساتھ غیر مسلم شعرائے کرام کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے اورانھیں اگلی نسلوں تک بہ طریقِ احسن منتقل کرنے کے لئے طرحی نشستوں، عالمی مشاعروں اور تصنیف و تالیف کا ایک مربوط نظام وضع کیا ہے۔ان کی اِن کاوشوں کے عمدہ نتائج برامد ہو رہے ہیں۔جناب شکیل احمد صاحب اپنی مؤقر ادبی تنظیم کی جانب سے معروف و نامور شعراء کو نشستوں اور عالمی مشاعروں میں مدعو کر کے نہ صرف سامعین کی ادبی تسکین کا سامان مہیا کرتے ہیں بلکہ ماضی کی شعری روایات کو با وقار انداز میں فروغ بھی دے رہے ہیں۔ہری چند اختر کے سلسلے میں اس تیسری طرحی نشست کا نمایاں وصف جناب اجمل سراج کی وہ امر شاعری ہے جو ان کودیگر شعراء سے نمایاں نہیں بلکہ ممتازو منفرد کرتی ہے۔اجمل سراج محض ایک روایتی شاعر نہیں بلکہ اپنی شعری ترکیب میں وہ ایک ترو تازہ شعری فلسفہ اور ادبی مکتبۂ فکر ہیں۔ اْ ن کے ہاں شعر محض قافیہ بند گفتگو نہیں بلکہ اْن کا شعر ان کے روحانی اجالے کے ساتھ طلوع ہو کر قارئین و سامعین کو ایسی لطافتِ خیال سے ہم کنار کرتا ہے کہ جس کی لذت سماعتی دائروں سے نکل کر ان کے قلب و نظر کوسر شار کر دیتی ہے۔میں نے اس نشست میں شریک ایک صاحبِ ذوق کو اجمل سراج کی شاعری پر تبصرہ کرتے یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ محض شاعری نہیں بلکہ فنِ شعر گوئی کا جادو ہے جس میں اجمل کی روحانی، فنّی اور علمی ریاضت نے کمال کی تاثیر پیدا کر دی ہے۔اجمل سراج اپنی طرز کے اس شعری سلسلے کے میرِکارواں ہیں جن کی شاعری محض ان کی ذات کا کرب نہیں ہے بلکہ اپنے عہد اور اس کے جلتے بجھتے پس منظر اور پیش منظر کا احاطہ کرتی ہے،اجمل اپنے عہد کے نمائندہ ہی نہیں سرخیل شاعر ہیں۔ ان کا شعر ان کے ذاتی تجربے، ریاضت اور ادبی نظریے کی سچی ترجمانی کرتا ہے اور ان کی پوری شاعری اپنے مکمل و بسیط محیط کے ساتھ زندگی اورروحانی واردات کی تلخ و شیریں حقیقتوں کو ان کے طلسماتی اظہار کے بعد ان کی ذات میں پیوست کر دیتی ہے۔ان کی شاعری میں غالب و اقبال کے مطالعے کی گہری جھلک نظر آتی ہے،یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے شعر اور شعری وجدان کی حدیں کسی افق پر علامہ اقبال کی حکیمانہ شعری بصیرت سے جا ملتی ہیں۔ اجمل سراج کی شاعری کا لطف ان کا پر تاثیر لہجہ اور بھی دوبالا کر دیتا ہے۔ مجھے یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی کہ جناب اجمل سراج کو اپنا سارا کلام یاد ہے۔ ایسا تب ہی ممکن ہے جب شاعر کی فنّی تپسیا میں ریاضت ِ نیم شب بھی شامل ہو۔ اجمل سراج کے اشعار ایک روحانی کیفیت ہیں جو ان کے سامعین پر ان سے اگلی ملاقات تک طاری رہتی ہے۔اس یادگار نشست کی نظامت اپنی تمام تر جولانیِ طبع کے ساتھ جناب خرّم عباسی نے کی۔
نشست کے آغاز میں جشن آزادی بحرین کے حوالے سے بانی و سرپرست، مجلسِ فخرِ بحرین جناب شکیل احمد صبر حدی نے مملکت کے شاہِ معظم شیخ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور حکومتِ بحرین کو مملکت کی ہمہ جہت ترقی پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان سے تشریف لائے مہمان شاعر اور صدرِ نشست جناب اجمل سراج اور دیگر شعرا اور شرکا‘ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں گزشتہ دنوں وفات پا جانے والے بحرین کے ہر دلعزیز شاعر الطاف رانا مرحوم کو ان کی خدمات اور ادبی تقریبات کو منظم کرنے کے حوالے سے مساعی پر احمد امیر پاشا اور جناب شکیل احمد صبر حدی نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔ہری چند اختر کی دو غزلوں میں سے یہ دومصرعے بہ طورطرح اس نشست کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔پہلا مصرع، ’’کشتی ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس‘‘، دوسرا مصرع، ’’کہانی ہو گئی ساری جوانی دیکھتے جائو‘‘۔ اس یادگار طرحی نشست میں شریک شعرائے کرام کے طرحی اور غیر طرحی کلام سے چند منتخب اشعار قارئین کی نذر ہے۔

صدرِمحفل جناب اجمل سراج
بس اُس نے یاد دلائی تھی ایک شام مجھے
مرا حساب ہی اس نے تو سب چکا دیا تھا
جب اس نے مجھ کو بنایا تھا خاک سے اجملؔ
مرا غرور بھی سب خاک میں ملا دیا تھا
دیدنی تھا آگ برساتے ہوئے سورج کا رنگ
ایک بادل نے جب اِس بستی پہ سایا کر دیا
احمد عادل
جب گزر ہوتا نہیں تھا آپ کی محفل کے پاس
آپ کو محسوس کر سکتا تھا اپنے دل کے پاس
رخسار ناظم آبادی
روایت توڑ کر برسوں پرانی دیکھتے جائو
دکھائے رنگ کیا یہ خوش گمانی دیکھتے جائو
احمد امیر پاشا
وہ دریائوں کے سر چشموں پہ قابض ہو گیا ہے اب
چُرا لے گا مرے حصے کا پانی دیکھتے جائو
طاہرعظیم
کہیں دیکھی ہے ایسی بے زبانی دیکھتے جائو
کہاں تک آ گیا ہے آج پانی دیکھتے جائو
ریاض شاہد
ہمارا ذکر آئے گا فسانوں میں ترانوں میں
ہماری زیست کی دل کش کہانی دیکھتے جائو
انور کمال
اسے بھی پیاس ہے اپنی بجھانی دیکھتے جائو
وہ میرا خون پیتا ہے یا پانی دیکھتے جائو
سعید سعدی
کتنی تیزی سے گزرتے جا رہے ہیں ماہ و سال
کشتیِ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس
اسد اقبال
محل زادوں سے کچی بستیاں یہ روز کہتی ہیں
کسی دن زندگی کے یہ معانی دیکھتے جائو
کپیل بترا
گھر مرا مقتل میں ہے بیٹھا ہوں مَیں قاتل کے پاس
وار اَب کے تب ہوا دِل ہے کہاں بے دِل کے پاس

ان کے علاوہ کچھ دیگر ممتاز شعرائے کرام نے بھی مجلس فخرِبحرین کو اپنی طرحی غزلیں ارسال کر کے اس نشست میں علامتی شرکت کی۔ ان کے کلام کی جھلک کچھ یوں ہے۔

عباس تابش
فراتِ چشم کی نقلِ مکانی دیکھتے جائو
کہاں جاتا ہے ان آنکھوں کا پانی دیکھتے جائو
ظفر علی بیگ
بہت کچھ تم نے دیکھا ہے مگر کچھ بھی نہیں دیکھا
مرے اشعار کی رنگیں بیانی دیکھتے جائو
ابنِ عظیم فاطمی
نا امیدی کفر ہے ہمت سے لے لو کام کچھ
کچھ نہ کچھ آسانیاں ہوتی ہیں ہر مشکل کے پاس
رحمان فارس
ابھی تو اور الجھے گی کہانی دیکھتے جائو
محبت جو دکھائے یار جانی دیکھتے جائو
شوکت جمال
درد گھٹنے سے سرک کر آ گیا ہے دل کے پاس
کشتیِ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاس
خورشید علیگ
مرے عارض پہ اشکوں کی روانی دیکھتے جائو
یہ شامِ کیف اور صبح ِسہانی دیکھتے جائو
علینا عترت
دھوپ اور چھائوں میں جہاں بیٹھے تھے ہم مل کے پاس
رقص کرتے ہیں وہی لمحات اب تک دل کے پاس
عامر قدوائی
دوستی غم سے بڑھا، اور صبر کر سمجھوتا کر
کچھ نہیں تیرے لئے اس دور کے عادل کے پاس
عبدالحق عارف
عمل سے زندگی خالی لیے پھرتا ہے بستی میں
مگر واعظ کی تم شعلہ بیانی دیکھتے جائو

حصہ