فرات کے کنارے آخری جنگ

119

کوہ ارارات کی برف پوش چوٹیوں سے یہ دریا نکلتا ہے۔ یہ وہی ارارات پہاڑ ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سیدنا نوحؑ کی کشتی طوفانِ نوح کے اختتام کے بعد آکر ٹھیری تھی۔ یہ پہاڑ اُس سلسلہ ہائے کوہ میں واقع ہے جسے آرمینیائی پہاڑی سلسلہ کہتے ہیں۔ اس سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ارارات 16854 فٹ بلند ہے۔ یہاں سے نکلنے والے دریا کا نام فرات ہے۔ اس دریا کے کناروں پر ایک بہت بڑی تہذیب آباد تھی جسے بابل کی تہذیب کہتے ہیں۔ اس کے ایک طاقتور بادشاہ بخت نصر نے یروشلم شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ یہودیوں کا قتلِ عام کیا اور جو کوئی ہنرمند تھا اُسے غلام بناکر اسی فرات کے کنارے لاکر آباد کردیا۔ یہودی اپنی عبرانی زبان میں اسے ’’پرات‘‘ اور عربی ’’الفرات‘‘ کہتے ہیں۔ یہ دریا ترکی سے گزرتا ہوا عرفہ کے شہر کے پاس شام کے علاقے میں داخل ہوتا ہے۔ عرفہ وہی شہر ہے جہاں سیدنا ابراہیم ؑ کو نمرود نے آگ میں پھینکا تھا اورآگ اللہ کے حکم سے سرد ہوگئی تھی۔ آج بھی بلند پہاڑی پر وہ دو ستون ایستادہ ہیں جن سے باندھ کر حضرت ابراہیم ؑ کو منجنیق نما بڑی غلیل سے نیچے جلائی گئی بلندیوں کو چھوتی ہوئی آگ میں اچھالا گیا تھا۔ آج اس آگ والی جگہ ایک خوب صورت تالاب ہے، جس میں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی ہوتی ہیں۔ جرابلس کے شہر کے پاس سے گزرتا ہوا یہ دریا اس بڑے صحرا نما میدان میں داخل ہوجاتا ہے جہاں اعماق اور دابق کے مقامات ہیں۔ یہ وہی مقامات اور صحرا ہے جہاں رسول اکرم ؐ نے اس بڑی جنگ کی پیش گوئی کی ہے جس میں اہلِ روم یعنی یورپ 80 جھنڈوں تلے اکٹھا ہوکر لڑنے آئیں گے اور ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔ یعنی نو لاکھ اسّی ہزار انفنٹری۔ اتنی بڑی تعداد بیک وقت ایک محاذ پر کسی جنگ میں آج تک استعمال نہیں ہوئی۔ عراق میں یہ دریائے الانبار کے علاقے سے داخل ہوتا ہے۔ اس علاقے کے بارے میں شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ یہاں وہ غار ’’سرمن رائے‘‘ واقع ہے، جہاں امام حسن عسکری کے بیٹے روپوش ہوگئے، یعنی ’’غیبت‘‘ میں چلے گئے تھے، یعنی چھپ گئے تھے۔ انہیں عمرِخضر عطا کی گئی ہے اور وہ آخری زمانے میں ظہور کریں گے۔ اسی دریا کے کنارے کربلا کا میدان ہے، جہاں نواسۂ رسول سیدنا امام حسینؓ کی المناک شہادت ہوئی تھی۔ قرب و جوار میں حضرت علیؓ کا نجف ہے۔ یہ دریا اپنے ہمرکاب ذرا فاصلے پر بہنے والے دریائے دجلہ کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا آپس میں مل کر شط العرب کے مقام پر خلیج فارس میں ڈوب جاتا ہے۔
سیدنا ابراہیم ؑ سے لے کر آج تک یہ دریا لاتعداد اہم واقعات کا شاہد ہے۔ انہی دونوں دریاؤں کے درمیان دنیا کی قدیم ترین تہذیب میسو پوٹیمیا (Mesopotamia) آباد تھی جو تین ہزار سال قبل مسیح سے بھی پرانی ہے۔ اسی دریا کے کنارے کنارے حضرت ابراہیم ؑ نے اپنا سفر شروع کیا، مکہ کی وادی میں خانہ کعبہ کو اس کی بنیادوں پر استوار کیا، سیدہ ہاجرہ اور حضرت اسماعیل ؑ کے حوالے یہ مقدس سرزمین کی اور خود یروشلم میں چلے گئے، جہاں آج بھی الخلیل میں ان کا مزار ہے۔ اس پورے سفر کے ہر شہر اور علاقے کو یہودی مقدس مانتے ہیں اور اسے واپس حاصل کرکے آخری زمانے میں قائم ہونے والی عالمی یہودی سلطنت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی فرات اور دجلہ کے درمیان واقع ڈیلٹا میں قادسیہ کی جنگ ہوئی تھی جہاں اپنے زمانے کی عالمی قوت ایران، سیدنا عمر فاروقؓ کے زمانے میں عرب کے بادیہ نشین مفلوک الحال مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا شکار ہوئی تھی۔ یہ دریا جو شاید ابتدائے آفرینش سے بہتا چلا آرہا ہے، گزشتہ ایک صدی سے ایک مسلسل کشمکش اور قوت و طاقت کی مڈبھیڑ دیکھ رہا ہے۔ یہ کشمکش اُس وقت سے شروع ہوئی جب اس کے کناروں پر موجود میدانوں اور صحراؤں میں تیل دریافت ہوا۔ شام میں دیرالزور کے تیل کے چشمے دریائے فرات کے دونوں کناروں پر واقع ہیں۔ یہاں سے روزانہ تین لاکھ پچاسی ہزار بیرل تیل نکالا جاتا ہے، جبکہ عراق کے تیل کے کنویں دجلہ و فرات، دونوں دریاؤں کے آس پاس پھیلے ہوئے ہیں اور اس کے پاس 140 ارب بیرل کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ تیل گزشتہ ایک سو برس سے اب صرف تیل نہیں رہ گیا بلکہ کاغذی کرنسی کی مالیت متعین کرنے کے لیے سونے کا سب سے بڑا متبادل ہے۔ گویا یہ آج کے دور میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو رسول اکرم ؐ کے زمانے میں سونے کی تھی۔ اسی سونے کی تشبیہ دیتے ہوئے رسول اکرمؐ نے فرات کے کناروں کا ذکر کیا ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا ’’عنقریب دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ نمودار ہوگا۔ جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف چل پڑیں گے، اور جو پہاڑ کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے کہ اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو دوسرے لوگ اسے لے جائیں گے۔‘‘ آپ ؐ نے فرمایا ’’پھر اس خزانے کو حاصل کرنے کے لیے لوگ لڑیں گے اور سو میں سے ننانوے قتل ہوجائیں گے (صحیح مسلم، کتاب الفتن، نعیم بن حماد)۔ یہ ہے اس جنگ کا آغاز۔ اور اختتام کے بارے میں بھی حدیث صحیح مسلم اور نعیم بن حماد کی کتاب الفتن میں ہی ملتی ہے۔ جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’وہ وقت قریب ہے جب عراق والوں کے پاس نفیر (غلہ) اور درہم (پیسے) نہ آئیں۔ ہم نے عرض کیا کس سبب سے؟ تو آپؐ نے فرمایا: عجم (غیر عرب، ایرانی) روک لیں گے۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا کہ وہ وقت بھی قریب ہے جب اہلِ شام پر بھی یہ پابندی لگا دی جائے۔ پوچھا گیا: یہ پابندی کس طرف سے ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا: اہلِ روم (مغرب) والوں سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموشی کے بعد ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا جو لوگوں کو مال لپ لپ بھر کردے گا اور شمار نہیں کرے گا۔ اس کے بعد آپؐ نے قسم کھائی اور فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام یقینا اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا جس طرح کہ اس کی ابتدا مدینے سے ہوئی تھی۔ (صحیح مسلم) یعنی فرات پر سونے کے پہاڑ کے لیے ہونے والی جنگ ایک سو میں سے ننانوے افراد کی جان لے لے گی، اور اس کے بعد امام مہدی یا خلیفہ مہدی مسلمانوں کی قیادت کریں گے۔
اس جنگ کا آغاز اُس وقت سے ہوگیا تھا جب 1912ء میں تیل دریافت ہوا، تو خلافتِ عثمانیہ نے ترکش آئل کمپنی بنائی۔ اس کے ٹھیک چار سال بعد 6 نومبر 1916ء کو برطانیہ نے عراق سے جنگ کا آغاز کیا اور 1917ء میں بغداد پر قبضہ کرلیا۔ حجاز میں انگریزوں کا ساتھ دینے والے شریف مکہ، حسین بن علی کے بیٹے فیصل کو فرات و دجلہ کی سرزمین کا سربراہ بنادیا گیا۔ 1932ء میں عراق کو آزاد کیا گیا تو تین سال بعد 1935ء میں فرات کے کنارے ایک بہت بڑی شیعہ سنی لڑائی شروع ہوگئی جو ایک سال چلتی رہی اور ہزاروں انسانوں کی جانیں لے گئی۔ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو ایک عرب قوم پرست رشید عالی اکیلانی نے جرمنی کی مدد سے بغاوت کردی اور عراق پر قبضہ کرلیا۔ اسی وجہ سے برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا۔ اس خونریز معرکے میں برطانیہ نے فتح حاصل کی، لیکن پھر تقریباً سات سال یعنی 26 اکتوبر 1947ء تک برطانوی فوجیں عراق میں رہیں۔ اُس وقت سے لے کر آج تک یہ خطہ مسلسل حالتِ جنگ میں رہا ہے۔ بیرونی حملہ آور نہ بھی تھے تو آپس میں کبھی شیعہ سنی معرکے، اور کبھی قوم پرست عرب یا دیگر کرد قوم پرست حکومت سے الجھتے رہے اور فرات کے کنارے انسانوں کا خون بہتا رہا۔ اسرائیل کے ساتھ بھی دو جنگیں ہوئیں، 1948ء میں اور دوسری 1967ء میں۔ دونوں جنگوں میں دریائے فرات پر آباد لوگوں نے ذلت آمیز شکست کھائی۔ 1980ء سے 1988ء تک چلنے والی ایران عراق جنگ دس لاکھ انسانوں کا نذرانہ لے گئی۔
صدام حسین کا عراق پہلے سوویت یونین کی سیاست کا اکھاڑا تھا اور اس کے پڑوسی ایران پر خطے کا امریکی تھانیدار رضا شاہ پہلوی برسرِاقتدار تھا۔ لیکن آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب نے پورے خطے میں وفاداریوں کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ فرات کے کنارے آباد صدام حسین کے عراق نے ایران کو کمزور جانا اور اس پر جنگ مسلط کردی۔ اس آٹھ سالہ جنگ میں دس لاکھ لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ جنگ ختم ہوگئی۔ صرف تین سال امن کے گزرے تھے کہ امریکا نے عراق پر حملہ کردیا۔ اس سے پہلے صدام حسین کو اکسایا گیا کہ کویت پر قبضہ کرو، اور پھر فروری 1991ء میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ جنگ میں شکست کے بعد وہاں کی شیعہ اور کرد آبادی کو صدام کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا۔ بدترین لڑائی ہوئی جس میں کیمیائی ہتھیار تک استعمال کیے گئے۔
اقوام متحدہ نے وہاں کے کردوں کے لیے ایک محفوظ علاقہ مخصوص کیا جس پر عراق کے طیاروں کی پرواز منع کردی گئی۔ اس حد تک پابندیاں لگائی گئیں کہ دوائیاں تک روک لی گئیں۔ ایک اندازے کے مطابق بیس لاکھ بچے صرف دوا نہ ملنے سے موت کی آغوش میں چلے گئے۔ بدنام زمانہ تیل کے بدلے خوراک پروگرام شروع ہوا اور دنیا بھر کا کرپٹ مافیا عراقیوں کا تیل اونے پونے داموں خرید کر انہیں خوراک بہم پہنچاتا رہا۔ اس ساری صورتِ حال اور معاشی پابندی کے درمیان دسمبر 1998ء میں امریکا اور برطانیہ کے جنگی جہازوں نے عراق کے ٹھکانوں پر اس لیے حملہ کردیا کہ انہیں شک تھا کہ وہاں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد دنیا بدلی تو فرات کا یہ کنارہ ایک دفعہ پھر لہو رنگ ہوگیا۔ مارچ 2003ء میں امریکا نے عراق پر حملہ کردیا اور پھر صدام کی سات لاکھ فوج چشم زدن میں غائب ہوگئی۔ بیچ چوراہے میں لگا صدام کا مجسمہ امریکی فوجیوں نے گرایا اور بغداد کے تخت پر حکومت کے لیے ایک گورننگ کونسل بنادی۔ اُس دن سے دسمبر 2005ء تک امریکی افواج القاعدہ اور دہشت گردی کے نام پر بغداد میں قتلِ عام کرتی رہیں۔
کیسی کیسی کہانیاں ہیں جو اس دور میں منظرعام پر آئیں۔ ابوغریب جیل میں انسانوں پر کتے چھوڑنے سے لے کر جنسی زیادتی تک سب کچھ ہوا۔ فلوجہ، موصل اور کرکوک کے شہروں کو بار بار محاصرے میں لے کر دہشت گردوں کی تلاش کے نام پر عام شہری تشدد اور قتل و غارت کا نشانہ بنائے گئے۔ جون 2006ء میں امریکیوں کے ہاتھوں ابومصعب زرقاوی کی شہادت کے بعد معاملات تھوڑے ٹھنڈے ہوئے، لیکن پھر شدید قسم کی شیعہ سنی جنگ کا آغاز ہوگیا۔ سمارا کے علاقے میں خودکش بمبار کے ہاتھوں لاتعداد شیعہ زائرین جاں بحق ہوئے تو معاملہ مزید گمبھیر ہوگیا۔ اگست 2007ء میں کرد اور شیعہ لیڈران وزیراعظم نورالمالکی کے حق میں اکٹھے ہوگئے، لیکن یہ کسی سنی لیڈر کو ساتھ نہ ملا سکے۔ خلیج بڑھتی گئی۔ یہی وہ دور تھا جب عراق میں بلیک واٹر کی موجودگی کا پتا چلا جس نے ازراہِ تفنن عام لوگوں پر فائر کھول کر 17 لوگوں کو لقمۂ اجل بنادیا تھا۔ نومبر2008ء میں امریکی افواج نے حکومت سے معاہدہ کیا کہ امریکی فوج 2011ء میں عراق سے نکل جائے گی۔
دسمبر 2011ء میں امریکی افواج وہاں سے نکلیں تو ستمبر 2013ء میں سنی علاقوں میں بغاوت شروع ہوگی۔ اس ایک سال میں 7,157 شہری دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔ فلوجہ اور رمادی کے علاقے میدانِ جنگ بن گئے۔ الانبار صوبے اور موصل کے علاقوں سے امارات اسلامی کے نام پر داعش کا آغاز ہوا اور اسی دریائے فرات کے کنارے کنارے انہوں نے عراق اور شام کے علاقوں میں اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ داعش کے خطرے کے بعد ستمبر 2014ء میں شیعہ رہنما حیدرالعباد نے سنیوں اور کردوں کو ساتھ ملا کر حکومت قائم کی۔ اگلے تین سال اسلامی امارات یعنی داعش کے خلاف جنگ کے سال تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور طوفان نے پورے مشرق وسطیٰ کو گھیر لیا جسے ’عرب بہار‘ کہتے ہیں۔ یہ آزادی، جمہوریت اور حقوق کی جدوجہد کے نام پر عرب ممالک پر قائم کئی دہائیوں کی آمریتوں کے خلاف ایک تحریک تھی جو تقریباً ہر ملک میں اچانک اٹھ کھڑی ہوئی۔ تیونس کے زین العابدین علی کے 24 سالہ اقتدار کے خاتمے سے لے کر مصر میں حسنی مبارک کی رخصتی اور مرسی کی حکومت اور پھر معزولی تک اس تحریک نے بہت رنگ بدلے۔ لیکن اس کا اصل معرکہ شام کی سرزمین اور خصوصاً اسی فرات کے کنارے آج بھی برپا ہے۔
گزشتہ آٹھ برسوں سے یہ سرزمین مسلمانوں کے خون سے رنگین ہورہی ہے۔ دمشق سے حلب، ادلب، رقہ، موصل، بغداد، فلوجہ ہر جگہ بشارالاسد کے مقابل عرب جہادی گروہوں اور ایرانی سرپرستی والی ملیشیائوں کے درمیان ایک جنگ برپا ہے۔ دریائے فرات آٹھ لاکھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہوچکا ہے۔ دس لاکھ یتیم اردن اور سعودی عرب کے علاوہ شام اور ترکی کے بارڈر پر موجود کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ساٹھ لاکھ لوگ ہجرت کرکے دنیا بھر کے ممالک میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ فرانس کی مشہور سڑک شانزے لیزے پر اگر آپ کو کسی کونے میں کوئی حجاب والی عورت اپنے پیارے پیارے بچوں کے ساتھ بھیک مانگتی ملے تو جان لیں کہ وہ شام سے دربدر ہوکر یہاں پہنچی ہے۔ جرمنی، ناروے، فرانس، اسپین اور اٹلی کے شہروں میں سخت سردی کے عالم میں پلوں کے نیچے یہی شامی مسلمان ہیں جو قتل ہونے کے خوف سے یہاں آنکلے ہیں۔ صرف ترکی میں چالیس لاکھ مہاجرین ہیں۔ ان سب ہجرت زدوں کا علاقہ فرات کا کنارہ ہے۔ دیرالزور ہو یا حلب، فلوجہ ہو یا موصل… ہر جگہ صرف اور صرف قتل و غارت نظر آتی ہے۔
لبنان کے بیروت سے لے کر ایران کے سرحدی علاقے اردبیل تک کا یہ خطہ آج ایک بہت بڑی جنگ کی آگ میں جھونکا جاچکا ہے جس کا اشارہ رسول اکرمؐ نے فرمایا تھا۔ قاسم سلیمانی کی امریکیوں کے ہاتھوں شہادت بہت بڑا واقعہ ہے۔ میں نے شہید اس لیے لکھا کہ میں ہر اُس فرد کو شہید تصور کرتا ہوں جو اس وقت کفر کی سب سے بڑی قوت امریکا کے ہاتھوں مارا جائے خواہ وہ اسامہ بن لادن ہو، مصعب زرقاوی ہو یا قاسم سلیمانی۔ یہ واقعہ اس پورے خطے کو اس جنگ کی طرف لے جا چکا ہے جس کا اشارہ رسول اکرمؐ نے فرمایا تھا۔ حضرت کعبؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’مشرقی سمندر دور ہوجائے گا اور اس میں کوئی کشتی بھی نہ چل سکے گی۔ چنانچہ ایک بستی والے دوسری بستی میں نہ جا پائیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ) یہ اشارہ آبنائے ہرمز کی طرف ہے جو تقریباً 21 میل چوڑی ہے لیکن اس میں سے صرف دو میل چوڑائی ایسی ہے جہاں سے جہاز گزر سکتے ہیں۔ اگر ایران ان دو میلوں کو اپنے میزائلوں کے نشانے پر رکھتا ہے تو کیا ہوگا؟ عرب سے جانے والا تیل رک جائے گا۔ لیکن امریکا نے یہ چال سوچ سمجھ کر چلی ہے۔ امریکا اور یورپ اب یہاں سے تیل نہیں خرید رہے ہیں۔ امریکا تو ایک قطرہ بھی یہاں سے نہیں لیتا۔ یورپ کا تیل روس اور ناروے سے آتا ہے۔ اس بندرگاہ کو بند کرنے سے چین اور جاپان کا تیل رک جائے گا۔چین اور جاپان ایک دوسرا راستہ بھی اختیار کرسکتے ہیں جو یمن کی بندرگاہ عدن کے ساتھ بحیرہ احمر میں ہے اور جاپان نے اپنی فوج وہاں اتار دی ہے۔ لیکن وہاں بھی حوثی باغیوں کی وجہ سے خطرناک صورتِ حال ہے۔ ایران اس کے جواب میں لبنان، شام، یمن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عراق میں امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایسا کرنے سے امریکا کا کچھ نقصان نہ ہوگا لیکن ان تمام ملکوں اور ایران کے درمیان ایک نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ یہ جنگ مسلمانوں کے گروہوں کے درمیان ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرمؐ نے خاص طور پر فرات کے کنارے سونے کے پہاڑ پر جنگ کے سلسلے میں امت کو خبردار کیا تھا، اور آپؐ نے فرمایا: ’’جلد ہی وہ وقت آئے گا جب دریائے فرات میں سونے کا پہاڑ نمودار ہوگا، پس جو شخص اُس وقت موجود ہو اس خزانے میں سے کچھ نہ لے‘‘ (صحیح مسلم)۔ لیکن شاید ہم مسلمانوں میں سے دونوں گروہ باز نہ آئیں۔ اسی لیے آپؐ نے فرمایا: ’’سب سے پہلے فارس والے ہلاک ہوں گے اور پھر ان کے پیچھے عرب والے‘‘ (کتاب الفتن، نعیم بن حماد)۔ اس آگ سے دور رہو، اس جنگ سے علیحدہ ہوجاؤ کہ یہ صرف مسلمانوں کا ہی آپس میں خون بہائے گی۔

حصہ