سال بدلا، حالات نہ بدلے

115

’’احمد بھائی، کیا ہورہا ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں، تھوڑا کام تھا، اسی میں لگا ہوا ہوں۔‘‘
’’میز پر بکھرے ہوئے کاغذات دیکھ کر تھوڑا سا کام تو نہیں لگتا، بلکہ کمرے کی حالت دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی دفتر کا ریکارڈ روم ہو۔‘‘
’’ارے نہیں بھائی، ایسی بات نہیں ہے۔‘‘
’’ایسی بات نہیں ہے تو پھر ان کاغذات کو لیے کیا کررہے ہیں؟‘‘
’’کوئی خاص نہیں، سال ختم ہوا ہے اس لیے آنے والے سال کا بجٹ بنا رہا ہوں۔ ان کاغذات میں کچھ بینک اسٹیٹمنٹ ہیں اور کچھ کاروباری دستاویزات، اور مختلف اوقات میں کی گئی خریداری کی رسیدیں۔ ہر سال جنوری کے مہینے میں بس اسی طرح سر کھپانا پڑتا ہے، مگر اس سے یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک تو گزرے ہوئے سال میں ہونے والے اخراجات سامنے آجاتے ہیں، جبکہ آنے والے سال کے لیے بنائے گئے بجٹ کی رقم مختص کرنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔‘‘
’’یہ تو مشکل کام لگتا ہے۔ کب کتنے پیسوں کی ضرورت پڑ جائے، کوئی نہیں جانتا… تو پھرآپ کس طرح سال بھر کے لیے رقم رکھ لیتے ہیں؟‘‘
’’ارے اس میں کیا مشکل ہے!‘‘
’’مشکل تو ہے، مثلاً ہمارے یہاں آئے دن اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ لگا رہتا ہے، بلکہ چیزیں مہنگی ہوتی رہتی ہیں، ایسی صورت میں تو مالی مسائل کا جنم لینا لازمی ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں ایسا نہیں ہے، سال بھرکا بجٹ بنانے کے بعد مجھے کسی قسم کا کوئی مالی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا۔ دیکھو، جب پورے سال کا بجٹ بنایا جاتا ہے تو جنوری سے دسمبر تک کھانے پینے، سیروتفریح، شادی بیاہ، یہاں تک کہ دوا دارو کے لیے بھی رقم رکھ لی جاتی ہے۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی انسان پورے سال کا شیڈول بنائے اور اس کا بجٹ آؤٹ نہ ہو! میرا مطلب ہے کہ کب کتنے پیسوں کی ضرورت آن پڑے کوئی نہیں جانتا۔ کوئی کب کسی بیماری میں مبتلا ہوجائے، خدا جانے۔ بڑے بوڑھوں کو کہتے سنا ہے کہ شادی بیاہ، مقدمے بازی اور بیماری پر آنے والے اخراجات کا تعین نہیں کیا جاسکتا، اور آپ سال بھر ہونے والے اخراجات کا شیڈول بنانے کی باتیں کررہے ہیں!‘‘
’’یہ چھوٹے لوگوں کی چھوٹی سوچ ہے۔ جب سے پیسہ آیا میرا یہی طریقہ کار ہے۔ مجھے تو کبھی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوئی۔ ہاں جس کے پاس مال و دولت ہوتی ہے وہی اس فارمولے پر عمل کرسکتا ہے۔ دیکھو، پچھلے سال ماہ جنوری کے لیے میں نے صرف کچن اخراجات کی مد میں پچاس ہزار روپے مختص کیے تھے، اِس مرتبہ ستّر ہزار رکھے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ساری کی ساری رقم ختم نہیں ہوسکتی، اس میں سے کچھ نہ کچھ تو بچے گا ہی، اسی لیے یہ روز روز کے دال دلیے کی مجھے کوئی فکر نہیں۔‘‘
’’احمد بھائی، لگتا ہے دروازے پر کوئی دستک دے رہا ہے۔‘‘
’’کون ہے بھئی؟‘‘
’’احمد بھائی، میں ہوں ارشد پلمبر۔‘‘
’’ڈرائنگ روم میں آجاؤ۔‘‘
’’ریاض، میں تمہیں دو گھنٹے سے تلاش کررہا ہوں اور تم یہاں بیٹھے ہوئے ہو۔‘‘
’’دو گھنٹے! ارے مجھے یہاں بیٹھے اتنی دیر ہوگئی، باتوں باتوں میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔‘‘
’’ایسی کون سی باتیں ہورہی تھیں جنہوں نے تمہیں یہاں باندھ رکھا تھا؟‘‘
’’بھائی کا موڈ خراب لگتا ہے، خیریت تو ہے!‘‘
’’ہاں خیریت ہی ہے، ایک ضروری بات کرنی ہے اس لیے ڈھونڈ رہا تھا۔ اٹھو، چلو میرے ساتھ۔‘‘
’’دو منٹ ٹھیرو، احمد بھائی اپنی بات مکمل کرلیں تو پھر چلتے ہیں۔‘‘
’’اتنی دیر سے بیٹھے ہو، کیا اب تک بات مکمل نہیں ہوئی؟‘‘
’’ارے وہ مہینے کے بجٹ سے متعلق بات کررہے تھے، بس تھوڑی سی دیر میں چلتے ہیں۔‘‘
’’ان فضول باتوں سے تمہارا کیا تعلق! ریاض میاں، ہم لوگ روز کمانے روز کھانے والے ہیں، یہ ماہانہ اور سالانہ بجٹ وجٹ سے ہمارا کیا لینا دینا!‘‘
’’اگر کوئی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس سے تمہیں کیا مسئلہ ہے! خود تو کچھ کرنا نہیں چاہتے، کوئی دوسرا اگر اپنے گھریلو حالات درست کرنے کے لیے کچھ سمجھنا چاہتا ہے تو اس کی مخالفت کررہے ہو۔‘‘
’’میں تم سے تو کوئی بات نہیں کررہا، میں تو ریاض سے مخاطب ہوں۔‘‘
’’میرے گھر میں بیٹھ کر مجھ سے ہی بات نہ کرنے کا مطلب؟‘‘
’’احمد بھائی، اگر ریاض یہاں نہ آیا ہوتا تو شاید میں کبھی بھی اس گھر میں داخل نہ ہوتا، مجبوراً آنا پڑ گیا ہے۔‘‘
’’بڑے مزاج ہیں، میں نے تمہارا کون سا مال دبا رکھا ہے جس کی بناء پر تم اتنے جل بھن رہے ہو۔‘‘
’’تمہیں پیسے کا کچھ زیادہ غرور ہے اور خود نمائی کا شوق بھی، اس لیے تم ریاض جیسے سیدھے سادے لوگوں کو اپنے بینک بیلنس اور عیاشیوں کے قصے فخریہ انداز میں سنایا کرتے ہو۔‘‘
’’ہاں ہاں تو اس میں غلط کیا ہے! اس دنیا میں جس کے پاس مال ودولت ہے وہی عزت دار ہے۔ میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہر شے میرے اختیار میں ہے، جو چاہتا ہوں خرید لیتا ہوں، جہاں چاہتا ہوں گھوم پھر آتا ہوں، دنیا کی ایسی کوئی چیز نہیں جو میرے گھر نہ ہو، تو پھر اس کا پرچار کیوں نہ کروں؟ تم جیسے لوگ مجھ سے جلتے ہیں اور جلتے ہی رہیں گے۔‘‘
’’جانتا ہوں، اور خاص طور پر تم جیسے لوگوں کو تو خوب جانتا ہوں۔ احمد بھائی، میرا اختلاف تم سے تمہارے مال و زر کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ تمہاری خودنمائی ہے۔ مجھے تمہاری دولت سے کیا لینا دینا! میں جانتا ہوں کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں تو اپنا رونا رویا کرتا ہوں، ظاہر ہے جب بے روزگاری کی وجہ سے مجھ جیسے غریب فاقہ کشی پر مجبور ہوں تو ایسی صورت میں تمہاری باتیں زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔ ارے سرمایہ دار طبقہ تو ایک طرف، یہاں تو حکومت بھی غریبوں کا خون چوس رہی ہے۔ حکومت نے ایک غیر ہنرمند مزدور کی تنخواہ ساڑھے 17 ہزار روپے مقرر کی ہوئی ہے، لیکن 80 فیصد مزدوروں کو یہ بھی میسر نہیں۔ ایک طرف پاکستان میں اربوں روپے کے سامانِ حرب بنائے اور خریدے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک کسان کا بیٹا دوائی کے پیسے نہ ہونے کے باعث اپنی ماں کی گود میں تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے، اور تم جیسے لوگ ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں ٹی وی پر پیش کی جانے والی خبروں کو دیکھ کر محض افسوس ہی کیا کرتے ہیں… صرف افسوس، اور وہ بھی بناوٹی۔ دوزخ کا نظارہ بہت خطرناک ہوتا ہے، شاید اس لیے اسے دور سے ہی دیکھنا امیروں کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ ارے بھوک کس چڑیا کا نام ہے، تم کیا جانو! تمہیں کیا خبر دو وقت کی روٹی کمانے والے اگر سب کچھ چھوڑ کر صرف سبزی، دال یا صرف آٹا ہی پھانک کر جینا چاہیں تو بھی انہیں نیم فاقہ کشی کی زندگی گزارنا پڑتی ہے، کیونکہ جہاں سبزی100 روپے سے 150 روپے کلو، چاول160 روپے سے200 روپے کلو، آٹا 55روپے، مسالہ جات 400 روپے، لہسن 240 روپے، ادرک 320 روپے، پیاز 90 روپے اور تیل 235 روپے کلو فروخت ہورہا ہو، اور تو اور ایک کمرے کے مکان کا کرایہ 6000 روپے، پانی کا چھوٹا کین 15 روپے، گیس، بجلی کا خرچہ ایک روز کا کم ازکم 150 روپے آتا ہو، وہاں تم جیسے یعنی سال بھر کا بجٹ بنانے والوں کو آٹھ سو سے بارہ سو روپے روز پر کام کرنے والے مزدوروں کے گھر ہونے والے فاقوں سے کیا غرض! ارے غریب صبح کھا لیں تو شام کی فکر لاحق ہوا کرتی ہے۔ کل ملے نہ ملے، بس یہی سوچ انہیں رات بھر سونے نہیں دیتی۔ وہ ہر صبح نئی امید لیے مزدوری کی تلاش میں سڑک کے ساتھ بنی فٹ پاتھ پر بے روزگاروں کی صف میں جا بیٹھتے ہیں۔ سال بدل گیا بلکہ زمانہ بدل گیا، اب تو حکمران بھی بدل گیا… سب کچھ بدل گیا، اگر نہ بدلے تو ہم جیسے غریبوں کے حالات نہ بدلے۔ میں پڑھ لکھ کر بھی پلمبری کرنے پر مجبور ہوں۔ غریب کل بھی مسائل کی یلغار میں آہ و فغاں کرتے نظر آتے تھے، آج بھی مہنگائی اور بے روزگاری کا ہی رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مصائب کا سفر کل رکا اور نہ آج تھما۔ ایک عام آدمی پہلے ہی غربت اور تنگ دستی کے ہاتھوں مجبور ہوکر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور تھا، اب تو نوبت خودکشی تک آن پہنچی ہے۔ سابق حکمرانوں کے دور میں 45 سے 50 فیصد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کررہے تھے، اب 70 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے پاکستان میں لوگ خوشحالی کی راہ تکتے تکتے مایوس ہوچکے ہیں۔ شاید ان غریب محنت کشوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہی اشرف طالب نے یہ شعر کہا ہو:

گھر میں خوشیوں کا راج کیا ہوتا
مول ملتا نہیں پسینے کا‘‘
………٭٭٭………

ارشد اور احمد کے درمیان ہونے والی معاشی بحث کا کیا نتیجہ نکلا، میں نہیں جانتا… ہاں یہ بات ضرورجان چکا ہوں کہ ہمارے حکمران نئے پاکستان کے نعرے لگا رہے ہیں، معاشی ترقی کے ایسے ایسے دعوے کیے جارہے ہیں جنہیں سن کر ایک عام پاکستانی کی عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے۔ معاشی اشاریے، شرح نمو، زرِمبادلہ کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ، جی ڈی پی گروتھ اور نہ جانے کیا کیا… روز نئی سے نئی نہ ختم ہونے والی داستانیں سناکر سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ بات سیدھی سی ہے، عوام اس گورکھ دھندے کو نہیں جانتے، وہ تو بس اتنا ہی جانتے ہیں کہ بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح ہمارے مسائل کو مزید گمبھیر کررہی ہے، ہمارے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ حکمرانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے، عوام کو زیادہ مالی وسائل دستیاب کرنے سے ہی افراطِ زر کی شرح قابو میں رہے گی، یعنی عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرکے ہی معاشی مسائل میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت اگر اپنے اللے تللوں میں کمی لے آئے تب بھی خاصی حد تک معاشی مسائل کم کیے جاسکتے ہیں۔ جبکہ جاگیردارانہ نظام نے بھی ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹا دیا ہے، اور مسلسل ہماری معیشت کو کمزور بنا رہا ہے۔ نام نہاد جاگیردار زمینوں، فیکٹریوں اور کارخانوں پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں اور غریب عوام کا استحصال کررہے ہیں۔ یہی وہ معاشی مسائل ہیں جن کے اثرات سے پاکستانی عوام کشمکش اور تناؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث عوام میں نفسیاتی کھنچاؤ بڑھ رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں حکمرانوں کی جانب سے معاشی ترقی کے اشاریوں کا پہاڑا سنانے کے بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

حصہ