آئیے۔۔۔۔ شکریہ ادا کریں

1120

عابد علی جوکھیو
انسان کو اللہ تعالیٰ نے کئی نعمتوں سے نوازا ہے، ان نعمتوں کا بدلہ اُس کا احسان مند ہونا اور شکریہ ادا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بن مانگے بہت کچھ عطا کیا ہے، اِس دنیا میں آنے سے لے کر موت تک انسان کو ہر چیز اللہ کے فضل سے ہی ملتی ہے، وگرنہ انسان کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ کسی بھی چیز کو اپنی مرضی سے حاصل کرسکتا۔ اسی لیے انسان کو اپنی ہر کامیابی کو اللہ کی طرف لوٹانے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب بھی انسان کو کوئی خوشی یا کامیابی حاصل ہو، وہ فوراً اس کے جواب میں خالق کا شکریہ ادا کرے۔ حتیٰ کہ کسی چیز کے چھن جانے کے موقع پر بھی اپنے رب کا شکر ادا اور صبر کرنے حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبوب ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے صاحبزادے کی وفات پر اپنے غم کا اظہار جن الفاظ میں کیا وہ ہم سب کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل الفاظ میں امت کو جہاں صبر کا درس دیا وہیں شکر کے پہلو کو بھی مدنظر رکھنے کی تعلیم دی:۔
۔’’درحقیقت جو اللہ نے لے لیا وہ بھی اس کا تھا، اور جو اس نے عطا کیا وہ بھی اسی کا ہے‘‘۔
یہ وہ کلمات ہیں جن پرغور کرکے عمل کرنے سے انسان کی اکثر پریشانیاں اور مسائل خودبخود حل ہوجاتے ہیں۔ اس بات کو ہر ذی شعور سمجھتا ہے کہ اُس کی کوئی چیز بھی اُس کی اپنی نہیں۔ انسان کا اپنا تو صرف وہی ہے جو اس نے کھاپی لیا، پہن کر بوسیدہ کردیا، یا خیر کے کاموں میں خرچ کرکے اپنی آخرت کے لیے جمع کرادیا، اس کے سوا اس کا کچھ بھی نہیں۔ دنیا کا ہر انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو اس بات سے انکاری نہیں ہوسکتا۔ جب کچھ بھی ہمارا نہیں تو پھر کس بات پر اِترانا اور کس عمل پر فخر کرنا…! یہ تو اللہ کی عطا ہے، جیسے بن مانگے یا مانگے دے دیا اسی طرح بن جتائے واپس بھی لے سکتا ہے۔ ہم نے اپنی زندگیوں میں داتا کو منگتا اور منگتا کو داتا بنتے دیکھا ہے اور یہ عمل رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیگر عبادات کے ساتھ ساتھ انفاق کا کثرت سے حکم دیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، اور اس کے ساتھ بخل کی مذمت بیان کی ہے۔ خالق چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کی صفات سے متصف ہوکر انسانوں کے لیے بھلائی کا سامان مہیا کرنے والے بن جائیں۔ یہ بھی خالق کا انسان پر فضل ہے کہ اس نے بندوں کو اپنی صفاتِ عالیہ سے متصف ہونے کا نہ صرف موقع دیا بلکہ اس کے ذریعے ان کے درجات کی بلندی کا بھی وعدہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندوں کی صفات میں سے ایک صفت شکر گزاری بھی بتائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شکر کے مقابلے میں کفر کا لفظ استعمال کرکے انسان پر شکر کی اہمیت اور ناشکری کی سنگینی کو واضح کیا ہے۔ ہم اکثر ایمان کے مقابلے میں کفر کا لفظ استعمال کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایمان بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، اسی لیے ایمان پر بھی انسان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ کفر کا اطلاق ایمان سے لے کر معاملات تک ہوتا ہے۔ ایک انسان ایمان کا انکاری ہے، لیکن دوسرا احسان فراموش ہے، ناشکرا ہے، ناقدری کرتا ہے، جس طرح بنی اسرائیل کا معاملہ تھا… یہ بھی کفرہے۔ اللہ کی نعمتوں کا کفر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا کہ وہ ناشکروں کو پسند نہیں کرتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شکر کی اہمیت کو بیان کیا۔ سیدنا ابوہریرہؓ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو اپنے کرم سے نوازنے کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمریں دراز کردیتا ہے اورانھیں شکر گزاری سکھا دیتا ہے(کنزالعمال)۔ اس شکر گزاری کا نتیجہ ہے کہ بروزِ قیامت اللہ کے پسندیدہ اور افضل بندوں میں اُن لوگوںکا بھی شمار ہوگا جو اس کا بکثرت شکر ادا کرنے والے ہیں۔ سیدنا عمران بن حصین ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سب سے افضل بندے وہ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی کثرت سے حمد اور شکر ادا کرتے ہیں (طبرانی)۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے حالات کا شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، ایسے لوگ درحقیقت اللہ کی ناشکری کرنے والے ہیں، انہیں اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ حرص و ہوس میں مزید، مزید کے چکروں میں پوری زندگی شکایت میں گزار دیتے ہیں۔
انسان کے سخی ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ لوگوں میں مال خرچ کرتا پھرے، بلکہ سخاوت کا دائرہ اس سے کئی گنا وسیع ہے۔ انسان کی سخاوت کا تعلق اُس کے معاملات سے بھی ہے۔ انسانوں کے ساتھ ملنے جلنے میں بھی سخاوت کا پہلو ہے، مجلس میں کسی کو جگہ دینا بھی سخاوت ہے، کسی کے ساتھ مسکرا کر بات کرنا بھی سخاوت ہے، کسی پریشان کی پریشانی کو دور کرنا یا صرف دلاسہ دینا بھی سخاوت ہے، کسی غم زدہ انسان کی بات اطمینان کے ساتھ سننا بھی سخاوت ہے، کسی کو وقت دینا بھی سخاوت ہے، اور سب سے بڑھ کر کسی کا شکریہ ادا کرنا بھی سخاوت ہے۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ہم اس معاملے میں بہت بخیل واقع ہوئے ہیں، کسی کا شکریہ ادا کرنا ہمارے لیے انتہائی مشکل کام ہوگیا ہے۔ کوئی بھی انسان ہمارے لیے کوئی آسانی فراہم کرنے کا سبب بن رہا ہے تو ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اُس کا شکریہ ادا کریں، چاہے وہ ہمارا ملازم ہی کیوں نہ ہو، یا اُس کی ذمے داری ہی کیوں نہ ہو۔ اگر ڈاکٹر ہمارا ٹھیک سے علاج کرے تو ہمیں اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے،کوئی دکاندار ہمیں سودا دے رہا ہے، تب بھی اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، کوئی ہمیں راستہ دے رہا ہو تب بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ اگرچہ یہ کام کرنے والے کی ذمے داری ہی ہو یا وہ اس کی فیس لے رہا ہو، لیکن یہ اخلاقی معیار ہے کہ ہم اُس کا شکریہ ادا کریں۔ اعلیٰ اخلاق کا اظہار انہی اوصاف و عادات سے ہوتا ہے۔ مہذب معاشرے کا یہی شعار ہوتا ہے۔ ان معاشروں کا ہر فرد ایک دوسرے کے لیے آسانی فراہم کرنے والا ہوتا ہے، اور ہر ایک بہتر معاشرہ تشکیل دینے میں ایک دوسرے کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ یہی انسانی فطرت بھی ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے شکریہ کے الفاظ اچھے نہ لگتے ہوں، لیکن یہ ہمارا ظرف ہوتا ہے کہ ہم شکریہ ادا کرتے ہیں یا نہیں۔
بعض افراد یہ بھی سوچتے ہیں کہ کسی چھوٹے یا بڑے کا شکریہ ادا کرنے سے ہماری عزت میں کمی ہوجائے گی، یا ہمارا اسٹیٹس اس کا شکریہ ادا کرنے سے روکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے… بلکہ شکریہ کے الفاظ ادا کرنے سے سامنے والے کے دل میں ہمارے لیے عزت مزید بڑھتی ہے، وہ ہم سے زیادہ محبت کرنے لگتا ہے، اورہماری مزید خدمت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حوالے سے بھی نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی شکر گزاری کا کیا خوب معیار بتا دیا کہ اللہ کا شکر گزار وہی ہوسکتا ہے جو اُس کے بندوںکا شکر گزار ہو (طبرانی، احمد)۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جو انسان سامنے احسان کرنے والے کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ خالق کی بے شمار اور بن مانگے ملی ہوئی نعمتوں کا شکریہ کیسے ادا کرسکتا ہے…؟ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر آپ کو پانی کی طلب ہو، پیاس لگی ہو، اور پانی آپ کے سامنے ہی رکھا ہوا ہو، آپ آسانی سے وہ پانی پی کر اپنی پیاس بجھا لیں تو شاید آپ کو اس پانی کی اہمیت کا اتنا اندازہ نہیں ہوگا جتنا کہ پیاس کی حالت میں پانی آپ کے پاس نہ ہو اور آپ کسی سے پانی طلب کرکے پئیں۔ اس موقع پر یقینا آپ اُس شخص کا شکریہ ادا کریں گے جس نے آپ کو پانی دیا۔ یہی حال انسان کا ہے کہ اسے اللہ نے جتنی بھی نعمتیں دی ہیں، بن مانگے دی ہیں، یا تھوڑی بہت محنت و مشقت کے بعد دی ہیں… اس لیے اسے ان نعمتوں کا اتنا احساس نہیں ہوتا… اگر انسان شکریہ کو اپنی عادت بنالے، اور ہر اُس شخص کا شکریہ ادا کرے جو اس کے لیے آسانی فراہم کرنے والا بن رہا ہے، تو یقینا اس میں شکر کا احساس پیدا ہوگا۔ یہی احساس جہاں اسے اپنے رب کے قریب کرے گا وہیں انسانوں کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔

حصہ