اللہ کی نافرمانی اور عذابِ الٰہی کی وعید

67

ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی
قرآن کا موضوع انسان کی فلاح اور خسران ہے۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی اور نقصان کا بار بار ذکر کرکے اللہ تعالیٰ اپنے بندوںکو سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کرتا ہے۔ سورہ ہود کی پندرہویں اور سولہویں آیات میں ارشاد ہوا: ’’جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہونا چاہتا ہے ہم ایسوں کو ان کے کُل اعمال کا بدلہ یہیں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی، ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں، اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب اکارت ہے، اور جو کچھ ان کے اعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں۔‘‘
اسی موضوع پر سورہ ابراہیم کی تیسری آیت میں ارشاد ہوا: ’’جو آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں۔‘‘
معصیتِ الٰہی کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھنا اور پھر اسے روکنے کی کوشش نہ کرنا بھی جرم ہے، جس پر اللہ کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اس لیے ہر عہد میں نیک اور صالح افراد کی جماعت حیلہ گروں کو سمجھاتی رہتی ہے، انہیں وعظ و نصیحت کرتی ہے، حالانکہ ان حیلہ گروں پر اس کا اثر کم ہوتا ہے، اور ان کا جواب اس نصیحت کے جواب میں یہ ہوتا ہے کہ جب ہلاکت اور عذابِ الٰہی ہمارا مقدر ہے تو پھر ہمیں وعظ و تبلیغ کیوں کرتے ہو؟ وہ جماعت ان حیلہ گروں کو جواب دیتی ہے کہ ایک تو اپنے رب کے سامنے معذرت پیش کرنے کے لیے ہم تمہیں برائی سے روکتے ہیں تاکہ ہم اللہ کی گرفت سے محفوظ رہیں، دوسرا سبب یہ ہے کہ شاید یہ لوگ حکم الٰہی سے تجاوز کرنے سے باز آجائیں۔
حدیثِ مبارکہ ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیے جاتا ہے، حتیٰ کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔‘‘ قرآن میں سورہ ہود میں ارشاد ہوا: ’’اس طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے، یقینا اس کی پکڑ بہت ہی المناک اور سخت ہے۔‘‘ (آیت 102)۔
سورہ رعد آیت 34 میں فرمایا گیا: ’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی زیادہ سخت ہے۔ انہیں اللہ کے غضب سے بچانے والا کوئی بھی نہیں۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دنیا کا عذاب آخرت میں ہلکا ہے، دنیا کا عذاب عارضی اور فانی ہے اور آخرت کا عذاب دائمی ہے۔ اس کو زوال اور فنا نہیں۔ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے نسبتاً 69 گنا زیادہ ہے۔‘‘
ہر بستی اور آبادی میں تین قسم کے لوگ آباد ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو کھلم کھلا اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں، دوسرے وہ جو خلاف ورزی تو نہیں کرتے مگر اللہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو نصیحت نہیں کرتے اور خاموشی سے تماشا دیکھتے ہیں اور ناصح کو بھی نصیحت کرنے سے منع کرتے ہیں کہ ’’ان کمبختوں کو نصیحت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں‘‘۔ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں جن کی غیرتِ ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بے حرمتی کو برداشت نہیں کرسکتی، اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے میں سرگرم عمل ہوجاتے ہیں کہ شاید ان کی نصیحت کارگر ہو اور یہ مجرمِ راہِ راست پر آجائیں، اور اگر وہ راہِ راست پر نہ بھی آئے تو وہ اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے اور اللہ کے سامنے اپنے عمل کے لیے سرخرو ہوجائیں گے۔ حقیقتاً ایسا ہی ہوتا ہے۔ قانونِ قدرت یہی ہے کہ اللہ کے عذاب سے صرف وہی لوگ بچا لیے جاتے ہیں جن کو اللہ کے سامنے اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر ہوتی ہے، باقی دونوں گروہ ظالموں میں شمار ہوتے ہیں اور اپنے جرم کی حد تک اللہ کے عذاب میں مبتلا کیے جاتے ہیں۔
سورہ اعراف کی آیات 164 اور 165 میں اسرائیل کی اُس بستی کا ذکر کیا گیا ہے جہاں کے باشندے سبت (ہفتہ) کے دن احکامِِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے، کیوں کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں، اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ خدا ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہا تھا، اور آخرکار وہ اپنی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے بندر بنا دیے گئے، ذلیل اور خوار۔‘‘ اسی سورہ (آیت 171) میں ارشاد ہوا: ’’کچھ یاد ہے جب ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا گویا وہ چھتری ہے، اور یہ گمان کررہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا، اور اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو۔ توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے۔‘‘
سورہ اعراف کی (95 سے 100) آیات میں عذابِ الٰہی کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے: ’’آخرکار ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر انہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔ پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خبر ہوگئے ہیںٍ کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت آجائے گی جب کہ وہ سوئے پڑے ہوں، یا انہیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں، حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہے۔‘‘
اسی سورہ کی آیت 175 میں ارشاد ہوا: ’’اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا، مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا، آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوکر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہشِ نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے، اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی، جو ہماری آیت کو جھٹلاتے ہیں۔‘‘
سورہ انفال آیت 22 میں ارشاد ہوا: ’’یقینا اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے، گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے، اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تمہیں گناہ میں مبتلا کیا ہو۔‘‘ (اس سے مراد وہ اجتماعی فتنے ہیں جو وبائے عام کی طرح معاشرے میں پھیل کر ایسی شامت لاتے ہیں جس میں صرف گناہ کرنے والے ہی گرفتار نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ بھی عتاب کا نشانہ بنتے ہیں جو اس گناہ گار معاشرے میں رہنا پسند کرتے ہیں۔)
آیت نمبر 31 میں ارشاد ہوا: ’’جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ہاں سن لیا ہم نے، چاہیں تو ایسی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آئے ہیں۔ اور وہ بات بھی یاد ہے جو انہوں نے کہی تھی کہ خدایا اگر یہ واقعی حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔‘‘
سورہ توبہ کی (34 اور 35) آیات میں تنبیہ کی گئی کہ ’’دردناک سزا کی خوش خبری دو اُن کو جو سونے اور چاندی کو جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اس سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوئوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا، یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزا چکھو۔‘‘ سورۃ یونس (آیات 22،23،24) میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے: ’’دنیا کی زندگی کے چند روزہ مزے ہیں (لوٹ لو)، پھر ہماری ہی طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ دنیا کی یہ زندگی جس کے نشے میں مست ہوکر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو، اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہوگئی۔ پھر عین اُس وقت جب کہ زمین اپنی بہار اور جوبن پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسے غارت کرکے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں۔‘‘
اسی سورہ (آیات 48 تا 50) میں ارشاد ہوا: ’’کہتے ہیں کہ اگر تمہاری یہ دھمکی سچی ہے تو آخر یہ کب پوری ہوگی؟ کہو، میرے اختیار میں خود اپنا نفع نقصان بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔ ہر امت کے لیے مہلت کی مدت مقرر ہے، جب یہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی۔ ان سے کہو کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آجائے (تو تم کیا کرسکتے ہو؟) آخر یہ کون سی ایسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟ پھر جب وہ تم پر آپڑے اُس وقت تم اس کو مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کررہے تھے؟ پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزا چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جاسکتا ہے۔‘‘
سورہ ہود کی آیات 102 تا 106 میں اللہ کی پکڑ سے ڈرایا گیا ہے:۔ ۔’’اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذابِ آخرت کا خوف کرے، وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے۔ پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کررہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے، جب وہ آئے گا تو کسی کی بات کرنے کی مجال نہ ہوگی اِلّا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کردے۔ پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے جہاں (گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے، اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، اِلّا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں اِلّا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔‘‘
سورہ یوسف (108-107) میں ارشاد ہوا: ’’کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی، یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟‘‘ سورہ رعد (آیت 18) میں ارشاد ہوا: ’’جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کرلی اُن کے لیے بھلائی ہے، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کرلیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے ان سب کو فدیے میں دے دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ بہت ہی برا ٹھکانہ۔‘‘ (32-31) ’’جن لوگوں نے خدا کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کررکھا ہے ان پر ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے، یا ان کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقینا اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔‘‘ سورۃ النمل کی آیت 45 میں ارشاد ہوا ’’پھر کیا وہ لوگ جو (دعوتِ پیغمبر کی مخالفت میں) بد سے بدتر چالیں چل رہے ہیں، اس بات سے بالکل ہی بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم وگمان تک نہ ہو، یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑ لے، یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جب کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہو، اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنے ہوں۔‘‘ آیت نمبر 76 میں ارشاد ہوا: ’’اور زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم اللہ ہی کو ہے، اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا، مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے، بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔‘‘ سورہ بنی اسرائیل (آیت 68) میں ارشاد ہوا: ’’اچھا تو کیا تم اس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھرائو کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پائو، اور تمہیں اس کا اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے، اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اس سے تمہارے اس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے۔‘‘ سورۃ کہف (آیت 58) میں اپنی مہربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا: ’’اور تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے، وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلد ہی عذاب بھیج دیتا، مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔ یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔‘‘
ایک اسلامی معاشرے میں مسلسل نافرمانیاں، قرآن و سنت سے روگردانیاں عذابِ الٰہی کا موجب بنتی ہیں۔ قتل و غارت گری، آئے دن زلزلے، ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی، چوریاں، ڈکیتیاں، زنا معاشرے کی بڑی خرابیاں ہیں جن کا ازالہ کیے بغیر سکون ناممکن ہے، اور ان سب معاشرتی برائیوں کا ارتکاب عذابِ الٰہی کو دعوت دیتا ہے، جس کی وعید قرآن میں بار بار آئی ہے۔ پاکستان میں ان تمام برائیوں نے مکمل طور پر قبضہ جما لیا ہے۔ اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے، جب تک پاکستان ان تمام برائیوں سے نجات نہیں پائے گا یہ تمام آفاتِ زمینی و آسمانی آتی رہیں گی۔ اب ٹڈی دَل نے حملہ کرکے پاکستان کی رہی سہی زراعت کو نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے۔ قحط کی شکل میں یہ عذابِ الٰہی آنے والا ہے۔ اس سے بچائو کے لیے ہمہ وقت استغفار کی ضرورت ہے۔ اپنے اعمال کا ہر لمحہ احتساب اور اس پر توجہ ضروری ہے۔

حصہ