گلابی کمبل

198

بینا فاروق
’’زارا بیٹا اُٹھ جائو پونے سات ہوگئے ہیں! تیار ہو کر ناشتہ کرنے آجائو۔ عمار تم بھی اُٹھ جائو بیٹا! امی نے کھڑکیوں کے پردے سمیٹتے ہوئے دونوں کو آواز دی۔ ’’م م م… امی بھئی ابھی تو سورج بھی نہیں نکلا! عمار نے کمبل سے منہ نکال کر ایک نظر امی کے عقب میں کھڑکیوں پر ڈال کر احتجاج کیا پھر سر پر تکیہ رکھا اور کروٹ بدل کر پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا۔ نہیں بیٹا سورج تو نکل رہا ہے اب سردیاں آنے والی ہیں نا اسی لیے یہ وقت ایسا ہی دکھتا ہے۔ دونوں کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ کر امی نے پھر آواز لگائی۔ چلو چلو اُٹھ بھی جائو، تم دونوں ورنہ میں پراٹھے نہیں بنائوں گا۔ پراٹھے!! دونوں نے ایک ساتھ خوشی سے نعرہ لگایا۔ یہ سننا ہی تھا کہ عمار نے لمبی چھلانگ لگا اور باتھ روم کی جانب دوڑا اور زارا نے بھی کپڑے نکالنے کے لیے الماری کھول لی تھی۔
’’ہم م م… امی آپ کتنے اچھے پراٹھے بناتی ہیں‘‘۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن آج آپ دونوں نے اسکول سوئٹر پہن کر جانا ہے۔ موسم بدل رہا ہے اب ٹھنڈ بڑھ رہی ہے۔
واہ کتنا مزہ آئے گا نا! مجھے تو سردیاں بہت پسند ہیں۔
زارا نے تصوّر میں ہی موسمِ سرما کے مزے لیے۔
ہاں اور آج شام میں مَیں کمبل بھی لینے جائوں گی!
واقعی امی آپ سچ کہہ رہی ہیں۔ امی میں گلابی رنگ کا کمبل لوں گی، آپ میرے لیے گلابی رنگ کا کمبل لے کر آئیے گا۔ زارا نے پُرجوش ہوتے ہوئے کہا۔ اچھا بیٹا دیکھوں گی۔
عمار ان سب باتوں سے لاتعلق پراٹھے اور انڈے کے مزے لینے میں مصروف تھا وہ ویسے بھی کم ہی فرمائشیں کرتا تھا اور کرتا بھی تو بس کرکٹ کٹ کی لیکن زارا اپنی چیزوں کے بارے میں بہت حساس رہتی تھی۔ ان کے خراب یا پرانے ہونے پر ہمیشہ نئی چیزوں کی فرمائش کرتی رہتی تھی۔
سامعہ زارا کی بیسٹ فرینڈ تھی۔ اسکول کے پہلے دن سے ہی پڑھائی میں ایک جیسی قابلیت رکھنے کی وجہ سے دونوں میں جلد دوستی ہوگئی تھی جو اب چوتھے سال بھی زور و شور سے برقرار تھی۔
سامعہ کے والدین زارا کے والدین کی طرح کسی امیر گھرانے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ان کے ہاں ہر سردی میں نئے کمبل یا کپڑے، سوئٹر وغیرہ لینے کا تصور نہیں تھا۔ جو بھی پرانے سوئٹر یا کمبل قابل استعمال ہوتے وہی ہر سردیوں کے موسم میں نکال لیے جاتے تھے۔ سامعہ اپنے والدین اور دو بہن بھائیوں کے ساتھ چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی جہاں نت نئی فرمائشیں کبھی کبھار ہی پوری ہوسکتی تھیں لیکن پیار، محبت اور سکون کی بے حد فراوانی تھی۔
زارا اور سامعہ کے درمیان اتفاق سے کبھی اس فرق کی وجہ سے کوئی تلخی یا دوری نہیں ہوئی تھی لیکن آج جب زارا نے سامعہ کو یہ بتایا کہ اس کی امی شام کو اس کے لیے پنک کلر کا نیا کمبل لے کر آئیں گی تو سامعہ یکدم ہی اُداس ہوگئی اور زارا کے پوچھنے کے باوجود بھی ٹال گئی کہ اس کی بھی خواہش ہے کہ وہ پنک کلر کا کمبل لے سکے۔
امی کی ہدایت کے مطابق گھر آکر زارا اور عمار کھانا کھا کر سو گئے۔ امی دادی کو اطلاع دے کر بازار چلی آئیں۔ کئی دکانوں پر دیکھنے کے باوجود امی کو زارا کی پسند کا کمبل نہیں مل سکا تو وہ اپنی پسند سے جامنی رنگ کا کمبل لے آئیں۔
واپسی پر زارا اور عمار بے چینی سے ان کے منتظر تھے۔ عمار کو اپنا نیلا کمبل بے حد پسند آیا اور وہ اسے اپنے بستر پر رکھنے چلا گیا۔ لیکن امی نے جب زارا کو اس کا کمبل دکھایا تو زارا کا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
یہ کیا ہے امی جی؟ میں نے آپ سے گلابی کمبل کی فرمائش کی تھی۔ مجھے صرف گلابی رنگ کا ہی کمبل چاہیے، میں یہ کمبل ہر گز نہیں لوں گی۔ زارا غصے میں پائوں پٹختے اپنے کمرے کی طرف چلی آئی اور خوب رونے لگی۔
دادی جان جو اتنی دیر سے خاموشی کے ساتھ یہ پورا منظر دیکھ رہی تھیں وہ زارا کے کمرے میں چلی آئیں۔
زارا گڑیا کیوں رو رہی ہو؟
دادی جان دیکھیں نا میں نے امی سے کہا تھا مجھے گلابی رنگ کا کمبل چاہیے پھر بھی وہ جامنی رنگ کا کمبل لے آئیں۔ مجھے نہیں پسند ہے یہ رنگ۔
زارا بیٹا اچھا پہلے تم پانی پی لو پھر میری بات سنو۔ زارا نے دادی کے ہاتھ سے گلاس لے لیا۔
میری بیٹی کیا تم جانتی ہو کبھی کبھی ہم جسے معمولی سی چیز سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ کسی اور کے لیے کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے؟ ہمارے شہر میں بہت سے لوگ سالوں ایک ہی کمبل میں گزرا کرتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو نہ تو کمبل خرید سکتے ہیں اور نہ سوئٹر۔
کیا دادی جان؟ اتنی سردی میں پھر وہ کیا کرتے ہیں؟
جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں نوازا ہوتا ہے اس پر صبر و شکر کرتے ہیں اور اسی میں گزارا کرتے ہیں۔
واقعی؟
ہاں گڑیا! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی نعمتیں لے کر تو کبھی دے کر آزماتے ہیں کہ کون صبر و شکر کرتا ہے اور کون شکایت کرتا ہے۔ اور اسے صبر و شکر کرنے والے لوگ پسند ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبیؐ کبھی بھی کسی چیز کی کمی ہونے پر شکایت نہیں کرتے تھے بلکہ ان میں سب سے زیادہ شکر اور صبر تھا۔ کیا تم ان جیسا نہیں بننا چاہو گی؟۔
دادی جان میں ان جیسی بننا چاہتی ہوں لیکن اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟ شاباش زارا! مجھے تم سے یہی اُمید تھی، تو پھر ابتداء امی سے سوری کہہ کر کرتے ہیں۔
زارا نے امی سے سوری کرلی، یہی نہیں جب اسے یہ پتا چلا کہ ہمارے شہر میں کچھ لوگ غریبوں کو گرم کپڑے اور کمبل پہنچانے کا چیریٹی ورک کرتے ہیں تو اس نے ارادہ کرلیا کہ وہ اپنا نیا کمبل بھی امی سے کہہ کر انہیں شہر بھجوادے گی۔
اگلی صبح اسکول میں اسمبلی کے بعد زارا اور سامعہ کلاس میں آکر بیٹھیں تو سامعہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔ زارا کیا تمہارا کمبل آگیا؟
کونسا کمبل؟ زارا نے لاپرواہی سے جواب دیا۔
ارے! وہی گلابی رنگ والا؟
نہیں۔ زارا نے اسی دھن میں جواب دیا۔
وہ کیوں؟ اب زارا نے پوری طرح متوجہ ہو کر جواب دیا۔
کیونکہ ضروری تو نہیں کہ ہر سال ہی نیا کمبل خریدا جائے، میں ان سردیوں میں پرانا کمبل ہی استعمال کروں گی کیونکہ وہ بہت اچھا بھی ہے اور خراب بھی نہیں ہوا۔ یہ سن کر سامعہ کی آنکھوں میں چمک لوٹ آئی اور اس نے گہری سانس لی اور بولی ’’ہاں اور کیا ہم بھی اپنا کمبل ہر سال نہیں بدلتے۔

حصہ