نیا سال مہنگائی بم کے ساتھ

203

سال 2019چلا گیا، اسی طرح اگلے بارہ مہینے بعد 2020بھی چلا جائے گا۔لوگ تسلی ، تشفی کے لیے پر امید ہو کر Welcome2020، Happy2020، NewYear2020 کے ہیش ٹیگ کے ساتھ نئے عزم، ارادے، وعدے، اشعار، امیدیں، معافی تلافی کے ساتھ اپنے مزاج کے مطابق شغل کرتے نظر آئے ۔کہیں پرانے سورج کے ساتھ سیلفی، کہیں نئے سورج کے ساتھ سیلفیاں۔دنیا بھر میں جشن، آتش بازی، رنگارنگ تقریبات، اجتماعی ان ڈور و آؤٹ ڈور محافل، کیا لندن کیا پیرس کیا ماسکو کیا ترکی، کیا پاکستان کیا چین سب نئے سال کی دھن میں اپنے اپنے انداز سے مست نظرآئے۔
جہاں ایک جانب خوشیاں منائی جارہی تھیں وہاں دنیا کے کئی خطہ جن میں فلسطین، کشمیر،برما،شام، افغانستان، بنگلہ دیش، عراق سمیت کئی ممالک میں مسلمانوں کے لیے گزرنے والا ایک اور سال آزمائشوں، سخت ترین تکلیفوں مصائب، اپنوں سے بچھڑنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اُن کے پاس ایسی کسی چیزکی خوشی کے لیے جشن کی وجہ یا موقع ہی نہ تھا۔کشمیر میں آج بھی لاک ڈاؤن ہماری ہیڈ لائن کا حصہ بنا ہوا ہے لیکن وہاں جو کچھ حال ہے وہ ناقابل بیان ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اُن کشمیری مسلمانوں کی آہ ہی ہے جو آج پورا بھارت ’دو قومی نظریہ‘ کی زندہ مثال بنا ہوا ہے ۔ بے شمار ویڈیوا میں سے ایک حالیہ دنوں ایک بھارتی ہندو طالبہ کی ویڈیو بہت وائرل ہوئی جس میں اُس نے واضح طور پر کہا کہ ’’ اگر کسی ایک مسلمان کو بھی گرفتار کیا تو ہم سب بھی مسلمان ہو جائیں گے ۔‘‘یہ ایک ایسی کھلی دھمکی تھی کہ میری دعا ہے کہ کاش وہاں کے مسلمانوں کو بھی اصل بات سمجھ آجائے کہ یہ سوچ صرف مودی ، کانگریس کی نہیں بلکہ حکمران طبقہ میں سرایت کرتے ایک خاص قسم کے زہر کی ہے جو سب کے اندر پوری پلاننگ سے انڈیلا گیا ہے ۔ویسے کشمیر کی بات ہو رہی تھی تو ایک اور دلچسپ خبر مجھے مختلف گروپس میں شیر ہوتی ملی جس کی سرخی یہ تھی کہ
Kashmiris are dodging internet shutdown to watch Turkish ‘Game of Thrones’ to beat the blues
Dirilis Ertugrul is a historical fiction series based on the life of Ertugrul, father of Ottoman Empire founder Osman I
اب جنہوں نے یہ سیریز دیکھ لی ہے وہ اندازہ کرلیں کہ کشمیریوں کو استقامت کی مزید ڈوز کہاں سے مل رہی ہوگی ۔ یہ سیریز تو ویسے ہی اتنا اثر رکھتی ہے کہ اس کی وضاحت الفاظ میں تو ناقابل بیان ہی ہے اور اب جب سے چھٹا سیزن شروع ہوا ہے اُس نے بھی ریکارڈ ویور شپ حاصل کر لی ہے ۔
سال 2019بظاہر تو 365دن کا ایک جائزہ سا تھا اور نئے 365دنوں کے لیے اپنے اہداف کی جانب ایک سفر کی بات تھی لیکن المیہ یہ ہے کہ اس وقت انسانیت کو جس عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے گھیرا ہواہے اُس نے یا تو سب کی زندگی کا ایک ہی مقصد بنا ڈالا ہے۔وہ ہے مال کمانا، ہر ممکن طریقہ سے جلد از جلد امیر ہوجانا، امیر ہو کر بہتر سے بہتر خرچ کرنا۔ اس کے بعد دوسرا سب سے بڑا زندگی کا ہدف ہے بے راہ روی یعنی اپنے مقصد سے نا آشنائی اور کسی بھی قسم کے مقصد یا مشن سے دور ہونا۔ اتفاق سے دونوں مقاصد ہی خطرناک ہیں۔کسی سے بات کرو کہ تم نے نئے سال کے لیے کیا سوچا ہے تو یہی جواب ملتا ہے کہ کچھ نہیں، یا نوکری، گھر، گاڑی، شادی جیسے مقاصد سننے کو ملتے ہیں۔
2019 سے 2020کے سفر میں میں نے تو پاکستانی معاشرے میں تیز ترین بدلتے رحجانات دیکھے۔ یہ رحجانات سیاسی، سماجی، ثقافتی، معاشی، مذہبی ہر دائرے میں نظر آئے۔ پاکستان میں گذشتہ سال کے تناظر میں مختلف انتہائیں نظر آئیں ۔ عسکری محاذ پر جہاں ایک جانب ’ابھی نندن‘ کی گرفتاری تھی وہیں ایک محض ایک دن بعد ’باعزت واپسی ‘پھر یہی نہیں چند ہی ماہ بعد ’کشمیر ‘ہاتھ سے نکل گیا لیکن ہماری ’آخری گولی‘ نہیں چلی ، البتہ فلمیں و ڈرامے ضرور ریلیز ہوتے رہے ۔آخری مہینے میں آرمی چیف کی تقرری کا مسئلہ جہاں عدلیہ کا وقار بلند کرتا محسوس ہوا وہیں کئی سیاسی رہنماؤں کی ضمانتیں یا کراچی کے سینئر صحافی نصر اللہ چوہدری کے خلاف نام نہاد ’ممنوعہ لٹریچر‘کی صرف جے آئی ٹی رپورٹ پر سزا کا فیصلہ۔ٹرینوں کے حادثات ہوں یا قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھ سے انسانیت کی بدترین تذلیل ۔ سانحہ ساہیوال کی بات کریں یا راؤ انوار کی رہائی کی ۔ سوشل میڈیا پور اسال جوش ابھارتا رہا۔سوشل میڈیا مارکیٹنگ باقاعدہ کاروبار بن کر ابھری اور بڑھتا ہوا بھر پور استعمال نظر آیا۔
ہمارے ایک دوست جو تین دہائیوں سے شادی بیاہ کی فلمیں ( المعروف مووی)بناتے ہیں ، ان کے ساتھ بات ہو رہی تھی تو انہوں نے دوران گفتگو بتایا کہ ایسے کئی کیسزانہیں امسال درپیش ہوئے جب شادی کی مووی کے آرڈر کے پیسے ڈوب گئے ۔ میں نے پوچھا کہ کیسے ؟ کیونکہ شادی کی مووی تو اب کھانے کی مانند ناگزیر محسوس ہوتی ہے ۔تو انہوں نے بتایا کہ ایسا ہوا کہ مہندی کی مووی بنی پھر شادی ہی نہیں ہوئی۔ یعنی شادی کینسل ہو ئی ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ شادی ہوئی ولیمہ نہیں ہوا پتہ چلا شادی کینسل، کچھ دن قبل تو یہ ہوا کہ شادی ولیمہ ہو گیا پھر ہم نے جب فلم تیار کی اور پیسے کی وصولی کی جانب سفر شروع کیا تو پتہ چلا کہ شادی ختم ہو گئی ۔ یہ اور اس جیسے کئی کیسز انہوں نے گنوا دیئے جس میں اکثر گھرانے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر و انجینئر تھے ۔یہ تو ایک ہی پہلو تھا دوسرا پہلو یہ سامنے آیا کہ پاکستان اس وقت دنیا میں انٹرنیٹ پر ’پورنو گرافی‘ یعنی ’ جنسی مواد‘ کی تلاش میں پہلے نمبر پر رہا ۔ اس کے نتائج پاکستان میں زینب کیس و دیگر بچوں ، بچیوں سے زیادتی کی صورت اور یہی نہیں ان کی ویڈیوز بنا کر فروخت کرنے کی صورت سامنے آئے۔
ویسے کچھ بھی کہیں سب سے زیادہ تنقید تو حکومت پر رہی اور انہوں نے کام ہی ایسے انجام دیئے کہ کیا کہنے۔ یو ٹرن سے سلسلہ شروع ہوا اور تا حال جاری ہے ۔ نئے سال کے آغاز پر پیٹرولیم مصنوعات پھر سوئی گیس کی قیمتیں بڑھا کر جو زبردست کام ہوا ، بلکہ یہی نہیں ساتھ ہی اہل کراچی پر کے الیکٹرک کی جانب سے فی یونٹ قیمت بڑھانے کا بم بھی سوشل میڈیا پر جان لیوا ثابت ہوا۔لوٹی رقم واپسی تودرکنار مزید لوٹنے کا عمل شروع ہو گیا۔ عوام بد حال سے بدحال ہو رہے ہیں اور یوتھیوں کی جانب سے بودی دلیلیں و باتیں مذاق بنتی رہیں۔زبیر منصوری احتجاجاً لکھتے ہیںکہ
سوئی نادرن گیس اور لیسکو نے عوام کو لوٹنے کا نیا طریقہ 6سلیب ریٹ کی صورت متعارف کروا دیا*
سلیب ( 1) 272 روپے سلیب (2) 1257 روپے سلیب (3)4570 روپے
پہلے سلیب ریٹ اور دوسرے کے ریٹ میں فرق 1000روپے کا ہے دوسرے سے تیسرے کے ریٹ میں فرق 3300 روپے کا ہے تیسرے سلیب ریٹ اور چوتھے کا فرق 9000 روپے کا ہے
سلیب ریٹ متعارف کروایا تاکہ ڈاکہ بھی ڈالیں اور کوئی بات بھی نہ کر سکے۔
آپ گاڑی میں پٹرول ڈلواتے ہیں تو کبھی ایسے ہوا۔ایک لیٹر تو 114۔اگر دو لیٹر لینا ہے تو 1100 روپے فی لیٹر۔تین لیٹر لینا ہے تو 3300 روپے فی لیٹر۔
صرف ایک دن ریڈنگ لیٹ لینے سے بل 272 سے 1257 ہوسکتا ہے۔1257 سے 4570 اور 4570 سے 9125۔ خدا کے لئے پاکستان کی عوام سے جینے کا حق مت چھینو۔ریٹ بڑھاؤ ،ڈاکہ نہ ڈالو۔سردیوں کی آمد ہے اور گیزر لوگوں کے چلیں گے درمیانہ طبقہ تو پس کے رہ جائے گا۔ اسی طرح واپڈا والے بھی 300 یونٹ کا بل 3300* بمعہ ٹیکس اور *301 یونٹ کا 4400* بمعہ ٹیکس
کیا 1 یونٹ زیادہ سے 1100 روپے کا فرق…کیا آپ نے کبھی 5 لیٹر کوکنگ آئل لیا تو *1000 کا اور 6 لیٹر 2000 کا* کبھی ایسا نہیں ہوا کوکنگ آئل پرائیویٹ کمپنیوں کے ہیں…ایسا نہیں ہوا کبھی
*پھر گورنمنٹ کی لیسکو پیپکو وغیرہ وغیرہ کیوں ایسا کرتے ہیں…*
سال بھر کی حکومتی حرکتوں کے تناظر میں صہیب جمال لکھتے ہیں کہ ،’’2019 میں حکومتِ شغلیہ نے کئی فلموں کے ٹریلر جاری کیے اور عوام میں بے انتہا پذیرائی ملی ، مگر فلم بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے تکمیل تک نہیں پہنچیں۔جو ٹریلر سرفہرست رہے ان کا مختصراً عوام کی تفریحِ طبع کے لیے ذکر کیا جا رہا ہے۔’’بس گیس نکلنے ہی والی ہے‘‘شوٹنگ کا مقام کراچی کا ساحل ، ہیرو تھے خود نیازی صاحب اور ساتھی اداکار عمر ایوب تھے ، پروڈکشن یوتھیا فلمز نے انجام دینی تھی مگر یہ فلم ادھوری ہی فلاپ ہوگئی۔
دوسری فلم تھی ’’نوکریاں جوتوں میں بٹیں گی‘‘ اس کے ہیرو فیصل واڈا تھے اس کا پرومو بھی خوب ہٹ ہوا ، ان کے ساتھ ولن اس وقت حامد میر تھے ، اس کی پروڈکشن تھکے انصافی پکچرز نے کی۔’
’بی آر ٹی اگلے مہینے بنے گی‘‘اس فلم کا پرومو بھی زبردست شہر پشاور میں شوٹ ہوا ، شوکت یوسفزئی نے مرکزی کردار ادا کیا ، یہ فلم اب بھی زیرِ تکمیل ہے ، جس دن یہ فلم بن گئی اس دن فیس بک پر اس فلم کا ایسا ذکر ہوگا جیسے کھسروں کے گھر اولاد پیدا ہوگئی ہو۔’
’این آر او نہیں دوں گا‘‘اس فلم کے ہیرو بھی نیازی صاحب تھے اس فلم کی خاصیت یہ تھی کہ ہر پندرہ دن میں اس فلم کا ذکر ہوتا ، اس فلم کے سارے ولن کریکٹر آہستہ آہستہ فلم سے نکل گئے اور اس فلم کی ریلز پر آخری جو کیل ٹھونکی گئی وہ نیب قوانین میں ترمیم کرکے ٹھونکی گئی ، جس میں دوستوں رشتے داروں کو فلم نہیں ملی این آر او مل گیا۔
“بوٹ ہم چاٹیں گے‘‘ اس فلم میں نیازی صاحب ہیرو تھے اور فروغ نسیم ، اٹارنی جنرل بھی مرکزی کردار ادا کر رہے تھے اور پشت پر عسکری پروڈکشن تھی ، اس فلم میں ہیرو اپنے ابو اور دادا ابو کے لیے جان کی بازی لگاتا ہے ، مگر یہ فلم بھی صرف ٹریلر کے حد تک رہی۔
“میں نے جان اللّٰہ کو دینی ہے‘‘یہ فلم تمام فلموں کے پرومو میں بازی لے گئی اس فلم میں ہیرو شہریار آفریدی ایک ایڈونچر کرکے ولن مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کو پکڑتا ہے ، مگر پھر جان اللہ کو دینی ہے جان اللہ کو دینی ہے کہ مسلسل جملے نے تباہی مچادی اور ولن جو پندرہ کلو ہیروئن لے جاتے ہوئے پکڑا جاتا ہے وہ پْھر سے اڑ جاتا ہے اور جان ہیرو کے پاس ہی رہتی ہے۔
دوستو ! ایک فلم جو کہ 2019 کے دسمبر میں شروع ہوئی جس کی شوٹنگ بھی ہوچکی ہے اور ہیروئین حریم شاہ خود رائٹر ہے خود ڈائیریکٹر خود ہی ہیروئین خود ہی کیمرہ وومن ہے اس فلم کا نام ہوگا ’’حریم نچائے وزیر ‘‘ ایک نام اور بھی تجویز کیا گیا ہے ’’حریم زادے‘‘دیکھیں کس کے نام قرعہ نکلتی ہے ، اس کی پروڈکشن حریم اینڈ صندل فلمز نے کی ہے۔امید ہے دوہزار بیس میں بھی ہم ناکام فلموں کے کامیاب ٹریلر دیکھیں گے۔پچھلے سال کے ایک کامیاب ہیرو مراد سعید اور ۵۵کلومیٹر المعروف چوہدری فواد امسال دیگر اداکاروں کی مقبولیت اور ٹف کمپٹیشن کی وجہ سے فلم کے لیے وقت نہیں نکال سکے ، البتہ پچھلے سال وہی چھائے رہے تھے۔ نئے اداکاروں میں 17روپے کلو ٹماٹر والے مشیر کی انٹری اور فردوس عاشق اعوان کی بے شمار شارٹ فلمیں خاصی مقبول رہیں۔

حصہ