مسکرائیے

141

٭ دو احمق رات کو کہیں جا رہے تھے۔ ایک کے ہاتھ میں بیٹری تھی۔ بیٹری والا احمق بولا:’’یار! میں بیٹری روشن کرتا ہوں تم روشنی کو پکڑ کر آسمان پر چلے جاؤ‘‘۔ دوسرا احمق بولا:’’واہ! واہ! مجھے پاگل بناتے ہو‘ میں ابھی آدھے راستے میں ہی ہوں گا اور تم روشنی بند کر دو گے اور میں نیچے گر جاؤں گا‘‘۔
٭٭٭
٭باپ (بیٹے سے) :’’تم نے تاریخ میں کم نمبر کیوں لیے ہیں‘‘۔ بیٹا:’’ابو! تاریخ کے پرچے میں زیادہ تر سوالات ایسے پوچھے گئے تھے جو میری پیدائش سے بھی پہلے کے تھے‘‘۔
٭٭٭
٭وکیل (ملزم سے ) :’’تمھیں کس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔ ملزم:’’سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں‘‘۔ وکیل:’’تم نے کیا کیا تھا؟‘‘۔ ملزم:’’پولیس والا پانچ سو روپے مانگ رہا تھا اور میں صرف اسے دو سو روپے دینا چاہتا تھا‘‘۔
٭٭٭
٭ ایک صاحب نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ ایک دن وہ صاحب گھر پر نہ تھے کہ دودھ والا آگیا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اند رسے پھر آواز آئی’’کون؟‘‘ باہر سے اس نے پھر جواب دیا ’’دودھ والا‘‘ اور انتظار کرنے لگا کہ ابھی کوئی دروازہ کھول دے گا۔ آخر ا س نے تنگ آکر کہاں بھائی صاحب میں تو باہر دودھ والا ہوں اندر آپ کون ہیں؟ اندر سے فوراً آوازآئی’’دودھ والا۔‘‘
٭٭٭
٭راہگیر (رکشے والے سے )ریلوے سٹیشن جانے کے کتنے پیسے لو گے؟ رکشے والا بولاجی سو روپے لوں گا۔ راہگیر، پچاس روپے لے لو۔ بھلا پچاس روپے میں کوئی جاتا ہے رکشے والے نے کہا۔ تم پیچھے بیٹھو میں تمہیں لے کر جاتا ہوں راہگیر بولا۔
٭٭٭

حصہ