سید مودودیؒ سے میری ملاقاتیں

281

تصنیف: منظور الحق صدیقی/ تعارف، تدوین و تلخیص : محمود عالم صدیقی
مرتب: اعظم طارق کوہستانی

پروفیسر منظور الحق صدیقی۔

حیات و خدمات(۱۲؍اپریل ۱۹۱۷۔ ۲۷ جولائی ۲۰۰۴ء)۔

آپ کے جدِ اعلیٰ زبدۃ الاولیا حضرت قاضی قوام الدینؒ ۱۳۰۰ء کے لگ بھگ بغرض سیاحت وارد ہند ہوئے۔ سلطان دہلی نے آپ کو علاقہ رہتک کے منصب قضا پر فائز کیا۔ آپ کی اولاد رہتک اور قصبہ مہم میں اپنے بنائے ہوئے قلعوں میں رہتی رہی اور ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئی۔ مسلم عہد حکومت میں اس خانوادے کے افراد انتظامیہ اور عدلیہ کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔ اس جلیل القدر خانوادے کے علما و مشائخ نے برصغیر میں موثر تبلیغ و اشاعتِ دین کی۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں دینی پیشوائوں کے اس خانوادے نے بھرپور حصہ لیا جس کی پاداش میں اس کے اکثر کنبوں کے سربراہوں کو پھانسی دی گئی اور باقی کو سخت ترین سزائیں دیں۔ تحریک پاکستان میں اس خاندان کے مرد و زن نے تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
پروفیسر منظور الحق صدیقی تحریک پاکستان کے ان اولین کارکنوں میں سے ہیں جنھوں نے قرارداد پاکستان والے اجلاس لاہور میں شرکت کی اور پھر قرارداد لاہور کو عوام میں مقبول بناکر اسے تحریک پاکستان بنانے میں بھرپور حصہ لیا۔ آپ کو قائداعظم اور سید مودودیؒ سے طویل ملاقاتوں اور خط و کتابت کا شرف حاصل ہے۔ تحریک پاکستان گولڈ میڈلسٹ ہیں۔
صدیقی صاحب ۱۹۴۰ء سے مسند تدریس پر فائز تھے۔ آپ کے مخصوص طریق تعلیم و تربیت اور فیض نظر کے طفیل تین نسلوں کے ہزاروں شاگردوں میں سے اکثر کی شناخت دیانت اور حسن کارکردگی ہے۔ آپ پاکستان کی مایہ ناز درسگاہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے بانی اساتذہ میں سے ہیں۔ آپ ایک بلند پایہ محقق، مصنف اور مورخ بھی ہیں۔ ریاضیات، معماگوئی، تاریخ اور سوانح نگاری پر آپ کی بیس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ جن میں مآثر الاجداد، ہادی ہریانہ، تاریخ حسن ابدال اور قائداعظم اور راولپنڈی کتب حوالہ کا درجہ رکھتی ہیں۔
آپ کے علمی و ادبی خزانے میں بکثرت شاہی فرامین، مخطوطات، دستاویزات، مشاہیر کے خطوط، تاریخ پاکستان اور تحریک پاکستان کے نادر و نایاب مآخذ ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان نوادرات پر کنزلآثار صدیقی کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا ہے۔

پہلی ملاقات

مجھے مولانا مودودیؒ سے سے شرف ملاقات پہلی مرتبہ یکم دسمبر ۱۹۴۰ء کو حاصل ہوا۔ اس وقت میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھا۔ میرے ہمراہ حبیب گرامی چودھری محمد صادق ایم اے جغرافیہ (علی گڑھ) ایم اے تاریخ (پنجاب) متعلم بی ٹی کلاس بھی تھے۔ ہمارے نزدیک برصغیر کی سیاسی گتھی کا واحد حل پاکستان کا قیام تھا بلکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا جو نقشہ ہمارے ذہنوں میں تھا ہم پاکستان کو اس کا نقطہ آغاز سمجھتے تھے۔ مگر اپنے صوبے کے مسلمانوں اور پنجاب مسلم لیگ کا سیاسی جمود ہمارے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ آٹھ ماہ پہلے قرارداد لاہور منظور کی جاچکی تھی، مگر اس کی تائید میں صوبائی مسلم لیگ نے ایک بھی جلسہ منعقد نہیں کیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی یونینسٹ پارٹی پاکستان کی مخالفت کررہے تھے۔ سرحد، سندھ اور پنجاب کے ہندوئوں نے نومبر ۱۹۴۰ء میں ’’اینٹی پاکستان کانفرنس‘‘ منعقد کی جس میں یہ بھی قرارداد منظور کی کہ سندھ کو بمبئی میں شامل کردیا جائے۔ ہندو اخبار طعنہ دے رہے تھے کہ جن علاقوں کو پاکستان میں شامل کرنے کی تجویز ہے، وہاں قرارداد لاہور کی کوئی تائید نہیں کررہا۔
ایک دن ذہن میں اس آرزو نے کروٹ لی کہ مودودی صاحب کے قلم میں زور ہے، اگر انھیں اپنا ہم نوا بنالیا جائے تو منزل پاکستان قریب آجائے گی چنانچہ ہم دونوں پونچھ روڈ کے اسلامیہ پارک میں ان کے دولت کدے پر حاضر ہوگئے۔ باریابی میں دقت نہیں ہوئی۔ دروازہ کھٹکھٹایا اور مودودی صاحب اندر بیٹھک میں لے گئے اور صوفے پر بٹھادیا۔ کرسیاں اور صوفہ دیکھ کر میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ کسی باسلیقہ اچھے ذوق کے حامل بزرگ کے ہاں آئے ہیں۔
میں رسالہ ترجمان القرآن کوئی تین سال باقاعدگی سے پڑھتا رہا تھا۔ ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ کے دونوں حصے اور ’’مسئلہ قومیت‘‘ کا ایک ایک نکتہ میرے ذہن نشین تھا۔ ہمارے باتیں نظریہ پاکستان کے گرد گھومتی رہیں اس طویل نشست میں مولانا نے ہمیں بولنے کا اتنا موقع دیا جتنا ہم چاہتے تھے۔ وہ ہماری ہر دلیل کا نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیتے رہے۔ اُنھوں نے مسلمانوں میں قومی عصبیت کے خلاف بڑی تفصیل سے گفتگو فرمائی۔ ہم انہیں اپنا ہم خیال نہ بناسکے اور نہ وہ ہمیں اپنا ہم خیال بناسکے۔ مگر ہم جب اٹھے تو ان کے خلاف ہم میں کوئی جذبہ نفرت نہیں تھا بلکہ ہم سمجھتے تھے کہ ہماری قومی زندگی میں ایک ایسے شخص کا دم غنیمت ہے جو ہمیں غلطیوں پر ٹوکتا رہے اور جس کی اپنی اغراض نہ ہوں۔ اس وقت تک جماعت اسلامی کی تشکیل ہوئی تھی نہ کوئی الیکشن درپیش تھا کہ مولانا مودودیؒ کو مسلم لیگ کے مخالفوں میں شمار کیا جاتا۔
اس ملاقات سے اگلے مہینے اور اس سے اگلے مہینے کے رسالہ ترجمان القرآن (جنوری، فروری ۱۹۴۱ء) میں مولانا مودودی نے ایک سلسلہ مضامین لکھا جس میں ان باتوں کو زیادہ تفصیل اور ترتیب سے لکھا جو دوران ملاقات اُنھوں نے کی تھیں۔ اس سلسلہ مضامین کو بعد میں ایک رسالے کی شکل میں ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ حصہ سوم کے نام سے شائع کیا گیا۔ یہ مکمل کتاب ’’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘‘ حصہ دوم میں دستیاب ہے۔

دوسری ملاقات

یہ سلسلہ مضامین پڑھ کر مولانا مودودی سے ملنا ضروری ہوگیا تھا۔ ان دنوں میں اور میرے ساتھی اپنا تمام وقت پاکستان کانفرنس کی تیاریوں پر صرف کررہے تھے تاہم میں ۸ فروری ۱۹۴۱ء کو ۳ بجے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک گھنٹے کی ملاقات میں باتیں تو بہت ہوئیں مگر اپنی مصروفیات کے باعث میں اپنی ڈائری میں صرف اتنا لکھ سکا کہ بیشتر گفتگو اس موضوع پر تھی کہ ’’پاکستان میں جمہوری نظام ہوگا، جس میں ہر قسم کے خیالت نشوونما پاسکتے ہیں‘‘ مولانا کا ارشاد تھا ’’حاکمیت جمہوری کا اصول خلاف اسلام ہے‘‘ میری گزارش تھی کہ اس امر کا کہیں زیادہ امکان ہے کہ جمہوری مسلمانوں کے نمائندے کوئی قانون خلاف اسلام نہ بنائیں۔

تیسری ملاقات

پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی تاریخ ساز ’’پاکستان کانفرنس‘‘ یکم اور دو مارچ ۱۹۴۱ء کو قائداعظم کی صدارت میں ہوئی۔ اس کانفرنس میں ’’پاکستان رورل پروپیگنڈا کمیٹی‘‘ تشکیل دی گئی جس کے آٹھ ارکان میں سے ایک راقم الحروف بھی تھا۔ متذکرہ کانفرنس کے بعد ۱۱ مارچ کو مسلم طلبہ کی اس صوبائی تنظیم کے میاں بشیر احمد بی اے (آکسن) مدیر رسالہ ’’ہمایوں‘‘ نئے صدر چنے گئے۔ مجلس عاملہ کے پہلے اجلاس میں پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا شعبہ اصلاح و تبلیغ قائم کرکے اس شعبہ کا دائرہ کار اور طریق کار متعین کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی، مقرر کی گئی اور اس کا کنوینر مجھے نامزد کیا گیا۔ اس سلسلے میں میں نے دیگر ارکان کے مشورے سے ایک رپورٹ تیار کی اور اسے آخری شکل دینے سے پہلے یہ مناسب سمجھا کہ مولانا مودودیؒ سے مشورہ کرلیا جائے۔ چنانچہ میں ۲؍ اپریل کو اسلامیہ پارک لاہور میں ان کے دولت کدے پر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اپنی رپورٹ کی ایک ایک شق پڑھ کر ان کی راے کا طالب ہوا۔ مولانا نے ابتدا ہی میں واضح کردیا کہ ’’وہ ادھوری تدبیروں کے قائل نہیں‘‘ مگر میری یہ بات مان کر کہ اصلاح احوال کی ادنیٰ کوشش کچھ نہ کرنے سے بہتر ہے، اُنھوں نے ہر شق پر مفید مشورہ دے کر رپورٹ کو جامع، جاندار اور قابل عمل بنوادیا۔ امتحان سے فارغ ہوکر میں نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں ۶ مئی کو یہ رپورٹ پیش کردی۔
اس ملاقات میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی ایک تقریر بھی زیربحث آئی۔ ’’دی پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے توڑ اور مقابلہ میں چند احراری و کانگریسی مسلمان طالب علموں نے ’’آل پنجاب اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ قائم کی۔ اس جماعت نے ۱۶ مارچ ۱۹۴۱ء کو ’’اسماعیلؒ شہید ڈے‘‘ منایا اور اس سلسلہ میں اسلامیہ کالج (ریلوے روڈ) لاہور کے حبیبیہ ہال میں مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی صدارت میں ایک جلسہ منعقد کیا۔ ایک طویل جلاوطنی کے بعد مولانا سندھیؒ ہندوستان واپس آئے تو اُنھوں نے مغربی نیشنل ازم کا پروپیگنڈا شروع کردیا۔ میں بھی جلسے میں یہ دیکھنے گیا تھا کہ مسلمان قوم پرست مولانا اسماعیل شہید کا نام تحریک پاکستان کے خلاف کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے استفسار پر میں نے مولانا سندھیؒ کی تقریر کا لب لباب بتادیا۔
دورانِ ملاقات میں، میں نے قرآن فہمی کے بارے میں اپنی مشکلات پیش کیں اور بڑی تفصیل سے بتایا کہ کیا ذہنی الجھن ہوتی ہے۔ اُنھوں نے میری ہر الجھن کا مختصر الفاظ میں تجزیہ کیا۔ آخر میں فرمانے لگے ترجمے سے قرآن کا مطالعہ گمراہی کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ قرآن کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اسے عربی میں پڑھا اور سمجھا جائے۔ آج کل ایسے آسان طریقے معلوم کرلیے گئے ہیں کہ چھہ مہینے کے عرصہ میں اتنی عربی سیکھی جاسکتی ہے کہ قرآن کے معانی سمجھ میں آنے لگتے ہیں اور مشق و مداولت سے قرآن کے رموز آشکارا ہونے لگتے ہیں۔ آپ جب تک عربی میں اتنی استعداد پیدا نہ کرلیں، پانچ چھہ ترجمے سامنے رکھ لیا کریں۔ ایک سے بات صاف نہ ہو تو دوسرا دیکھ لیا۔
اس ملاقات سے دس ماہ بعد فروری ۱۹۴۲ء (محرم ۱۳۶۱ھ) کے رسالہ ترجمان القرآن کے ’’اشارات‘‘ سے مولانا مودودی نے تفہیم القرآن کا سلسلہ شروع کیا اور شروع میں لفظی ترجموں کی خامیاں اور ان ترجموں سے متاثر نہ ہونے کی وجوہات بتائیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ میری تیسری ملاقات کس حد تک تفہیم القرآن لکھوانے کا محرک بنی۔ بہرکیف تفہیم القرآن کے دیباچہ نے میرے تمام شبہات دور کردیے۔

تین ملاقاتیں

۱۹۵۰ء کی تعطیلات گرما میں لاہور کے کتب خانوں اور وہاں کے اہل علم حضرات سے استفادہ کرنے کے لیے میں نے چالیس دن لاہور میں گزارے، اس اثنا میں تین مرتبہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی خدمت میں بھی حاضر دی ملاقاتوں کا ذکر میری ڈائری میں ان الفاظ میں درج ہے۔

چوتھی ملاقات (۱۹؍ اگست)۔

لاہور، آج شام سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے ملنے اچھرہ جماعت اسلامی کے دفتر پہنچا، ساڑھے پانچ بجے تھے، دفتر سے معلوم ہوا سید صاحب نماز پڑھنے گئے ہیں، میں سائیکل لے کر اس امید پر مسجد کی طرف لپکا کہ ان کے پیچھے عصر کی نماز کا موقع مل جائے گا، پہنچا تو نماز ختم ہوچکی تھی، میں نے جاکر سلام کیا اور عرض کی کہ شوق ملاقات رکھتا ہوں پوچھا آپ نے نماز پڑھ لی ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ’’ابھی نہیں‘‘ فرمایا ’’اچھا پہلے نماز پڑھ لیں پھر دفتر میں آجانا‘‘ میں شوق اشتیاق میں دیکھتا رہا کہ سید صاحب کس طرح چلتے ہیں، اور ان کے ساتھ مداحوں کا کتنا ہجوم ہوتا ہے، مگر وہ اکیلے ساڑھے تین یا چار سالہ بچے کا ہاتھ پکڑے چلے جارہے تھے یہاں تک کہ گلی کا موڑ میری اور ان کی نگاہوں کے بیچ میں حائل ہوگیا۔ نماز سے فارغ ہوکر میں جلد از جلد دفتر پہنچا، برآمدے میں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ کسی کاغذ پر اپنا نام اور غرض ملاقات لکھ کر اندر بھیجنا پڑے گا کہ اتنے میں کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے سید صاحب نے فرمایا ’’آیئے‘‘ میں اندر گیا کمرے میں جس طرف نظر دوڑائی کتابیں ہی کتابیں پائیں، ایک طویل و عریض میز پر بہت سی کتابیں پڑی ہوئی تھیں، اس کے ایک طرف تین کرسیاں اور دوسری طرف سید صاحب کی کرسی تھی، اُنھوں نے بغلی کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد کھڑی کھولی پھر غسل خانہ کا دروازہ بند کرکے کرسی پر آبیٹھے، میں سامنے کی تین کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا، کوئی پونے چھہ بجے گفتگو شروع ہوئی، چیدہ چیدہ باتیں یہ تھیں۔
(جاری ہے)

حصہ