حضرت ایوبؑ

136

دُنیا میں جِن لوگوں نے مذہب کے موافق صبر کے خاص درجے حاصل کیے ہیں ان میں ایک حضرت ایوب علیہ السلام بھی ہیں۔ ان کا صبر بہت مشہور ہے۔ وہ اللہ کے بڑے نیک بندے تھے ان پر طرح طرح کی مصیبتیں نازل ہوئیں مگر ان کی زبان پر کبھی شکایت کا ایک لفظ نہ آیا۔ وہ ہر حال میں اپنے خدا کے حکم پر راضی رہے اور ہر تکلیف کو خدا کی طرف سے سمجھ کر راضی رہے۔
اُن کی تکلیفوں میں ایک یہ تھی کہ ان کا تمام مال و اسباب جل کر خاک ہوگیا۔ کھیتی باڑی تباہ ہوگئی۔ مکان گر پڑا۔ بچے سب مر گئے مگر ان کی تیوری پر بل تک نہ آیا۔
جب یہ سب کچھ ہوچکا اور انہوں نے اپنے نبی ہونے کا پورا ثبوت دے دیا تو اب ان کی جسمانی اذیت کا زمانہ شروع ہوا اور ان کو ایک ایسا مرض لگا جس کو کوڑھ کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا متعدی مرض ہے۔ یعنی ایسا مرض جس کی ہوا دوسرے کو بھی اسی بیماری میں مبتلا کرسکتی ہے۔ اس مرض میں گرفتار ہونے کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام آبادی سے نکل کر جنگل میں چلے گئے اور اس لیے کہ خدا کی مخلوق محفوظ رہے، ایک جھونپڑی میں وقت گزارنے لگے۔
کوڑھ میں کھجلی کا دورہ شروع ہوا جس کی وجہ سے تمام جسم میں زخم پڑ گئے اور چند روز میں ان زخموں میں کیڑے پیدا ہوگئے۔
ایک روز جبکہ وہ جھونپڑی سے باہر بیٹھے اپنے زخموں کو دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ کیڑے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ پریشان ہوتے انہوں نے خدا سے دعا کی کہ اے رب مجھ کو تکلیف پہنچی اور تو سب رحم کرنے والوں میں بہتر ہے۔
کس قدر صبر ہے کہ ایسی حالت میں بھی خداوند کریم سے کوئی شکایت نہیں بلکہ اس کا شکر ادا کررہے ہیں اور تعریف کررہے ہیں۔ جب یہ دُعا قبول ہوچکی تو آپ کی بیوی آپؑ سے مل گئیں اور دونوں میاں بیوی ہنسی خوشی رہنے لگے۔

حصہ