پاکستانی بیانیے کے بغیر ہم ایک قوم نہیں بن سکتے‘ پروفیسر شاداب احسانی

168

انسانی زندگی میں مذاہب ہوں کہ دیو مالا‘ سائنس ہو کہ سوشل سائنس یا ہومینٹیز‘ یہ سب حیات اور کائنات کے تعلق کے استعارے ہیں اور یہ تمام استعارے شہادت سے منسلک ہیں۔ ہمیں ہمارے ہر عمل کی گواہی ڈھونڈنی پڑتی ہے یا گواہی کے ساتھ پیش ہونا پڑتا ہے۔ اس گواہی کے عمل نے انسان کو کہانی کار بنایا اور کہانی کہنے والے کے مؤقف نے کہانی کی انفرادیت کو نمایاں کرنے میں بنیاد کا کام کیا۔ کہانی کار کا یہ مؤقف جب تک مقامی رہا‘ کہانی پڑھنے اور سننے والے اسے دل جان سے قبول کرتے رہے اور اپناتے رہے کیوں کہ کہانی کی تشبیہات و استعارات‘ کردار و محاکات نیز منظر و پس منظر میں انہیں اپنا تشخص زندہ و جاوید نظر آتا تھا۔ بیانیے میں تشخص کے اظہار کا یہ عمل دنیا کی جن اقوام کی زندگی کا حصہ بنتا گیا وہ دنیا میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگیں۔
بیانیے کا بے دریغ استعمال ہمیں ترقی یافتہ دنیا میں تاریک عہد (Dark Ages) کے بعد نظر آتا ہے۔ بات ہم قبل از تاریخ کی بھی کر سکتے ہیں لیکن واضح بیانیے کے جو شواہد ملتے ہیں وہ قبل مسیح کی چھٹی صدی ہے جس میں گوتم بودھ کی اصلاح مت کی تحریک ہے‘ زرتشت کے اہرمن اور یزداں ہیں اور کنفیوشس کی علم کی تعریف و توجیح کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کا جہانِ معانی بھی ہے جب کہ طالیس کو پہلا سائنس دان ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا اور یسعیاہ کے گمنام نبی کے بابل و نینوا کی درمیان تعلیمات۔ چھٹی صدی قبل مسیح کو یوں یاد کیا جارہا ہے کہ یہاں سے حیات اور کائنات کے روابط میں بیانیے کا دخل ہونا شروع ہوا۔ بعدازاں مسلمان مذکورہ علوم و فنون کے وارث قرار پائے اور یوں بیانیے کا عمل ملی تصورات کے زیر اثر ہوتا چلا گیا جب کہ یورپ کا تاریک عہد میں یہ سلسلہ لاطینی کے زیر اثر جاری رہا۔ تاریخ اور سماجی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہے کہ جن قوموں کا اپنا بیانیہ نہیں ہوتا یعنی انکا اپنا قومی تشخص بیانیہ سے نمایاں نہیں ہوتا وہ اس قوم کے لیے ایک تاریک عہد کا دورانیہ ہے۔ اس اعتبار سے تیرہویں صدی تک مسلمانوں کی ملی تصور نے وہ بیانیہ تشکیل دیا کہ جس کے زیر اثر مجموعی دنیا پروان چڑھی۔ بعدزاں پندرہویں صدی کی نشاۃ الثانیہ نے پورے یورپ کو بیدار کیا۔ پھر واسکوڈی گاما کے ثمرات کے حصول کے لیے مغرب کی تجارتی کمپنیاں پرتگالی‘ ولندیزی‘ فرانسیسی اور ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کے نام پر سونے کی چڑیا یعنی ہندوستان پر غلبے کے حصول میں مصروف کار ہوئیں۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں بیرونی زبانوں کے ذریعے اقتدار پر گرفت رکھی گئی جس کی نمایاں مثالیں سنسکرت‘فارسی اور انگریزی ہیں‘ یہ تینوں مقامی زبانیں نہیں ہیں۔ گوتم کے پیروکار چندرگپت موریا نے چانکیا کی دانش کے سہارے متحدہ ہندوستان کا تصور پیش کیا اور چانکیا نے چوتھی صدی قبل مسیح میں ارتھ شاستر تصنیف کی۔
یہ باتیں اس لیے کی جارہی ہیں کہ اگر گوتم بودھ کا بیانیہ نہ ہوتا تو ممکن ہے ہندوستان کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔ مختصر یہ کہ قومی تشخص کے ساتھ جڑا ہوا بیانیہ کسی بھی قوم کو ترقی سے ہمکنار کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ہم بیرونی زبانوں کے ضمن میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب سنسکرت کا بیانیہ مقامی بیانیے سے ہم آہنگ نہ رہا تو وسط ایشیائے حملہ آوروں کو خاصی سہولت میسر آئی کیوں کہ جب قوموں کا بیانیہ مقامی نہیں رہتا تو وہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جاتی ہیںاور اس سے بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ماضی میں یہ طاقتیں ملکوں پر قبضہ کر لیتی تھیں‘ آج معیشت کو کنٹرول کرتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کے 71 برس ہوگئے لیکن تاحال پاکستانی بیانیہ ظہور میں نہ آسکا یہی وجہ ہے کہ تعلیمی نظام ہو کہ معاشی نظام‘ سب کچھ تنزل کا شکار ہے۔ کرپشن کی آوزوں سے لے کر ناانصافی‘ میرٹ کے فقدان کے نعروں کی گونج میں تقسیم در تقسیم کے عمل کو مزید تقویت مل رہی ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ یہ کہانی ہر گھر کی ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم قصہ پارینہ ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ایک ہی خاندان کے افراد میں بھی اتفاق و اتحاد کمیاب ہوتا جارہا ہے۔ یہ ماحول اس لیے پیدا ہوا کہ تاحال ہمارا بیانیہ انگریزی کے زیر اثر ہے۔ یقینا ہم ایک تاریک عہد کے باشندے ہیں۔ یورپ اس تاریک عہد سے 600 برس میں نکل پایا تھا۔ امریکیوں کو سلام ہے کہ ان کی آزادی میں ان کے دانشوروں کا یہ کہنا کہ ہم برطانوی بیانیے کو نہیں مانتے‘ اب ہمارے ہاں امریکن ملٹن اور امریکی شیکسپیئر پیدا ہوں گے۔ 1776ء میں امریکا آزاد ہوا۔ پہلے صدر جارج واشنگٹن سے لے کر ابراہم لنکن تک بنیادی اصلاحات ہوئیں مگر 1855ء میں ابراہیم لنکن کو قتل کر دیا گیا لیکن اس وقت تک امریکا کا مقامی بیانیہ اس حد تک مضبوط ہو گیا تھا کہ لنکن کے قتل سے بھی امریکا کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ ان کے دانشوروں اور حکمرانوںنے امریکا کو امریکن بیانیے کی طرف گامزن کیے رکھا۔ یہاں یہ بات بھی محلِ نظر رہے کہ امریکا اور برطانیہ کی زبان انگریزی ہی تھی۔ تاریخ شاہد ہے کہ بیانیہ کسی قوم کو غلام بناتا ہے اور کسی قوم کو آزاد کرتا ہے مگر قوموں کو یہ آزادی اس وقت میسر آتی ہے کہ جب قوموں کا اپنا بیانیہ مقامی ہو۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ فرانسیسی بیانیہ تشکیل پانے میں بہت وقت لگا یہی معاملہ جرمنی کے بیانیے کا رہا اور یہی دیگر اقوام کا ہے۔ فن لینڈ Scandivian Countries کا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ وہاں کا تعلیمی نظام مثالی ہے اور وہاں اس لیے مثالی ہے کہ وہاں کی ثقافت سے ہم آہنگ بیانیے نے انہیں مثالی ترقی سے ہمکنار کر رکھا ہے۔ فن لینڈ میں Nokia ایک چھوٹا سا دریا ہے اور Nokia Mobile کی ایکسپورٹ سے آپ اندازہ لگ سکتے ہیں کہ اس کا نام ہی انہوں نے اپنے تشخص پر رکھا۔ یہاں یہ بات محل نظر رہے کہ جب تک انگریزی بیانیہ لاطینی کے زیر اثر رہا‘ برطانوی سامراج ترقی سے کوسوں دور رہا۔
پاکستان اور پاکستانی بیانیہ کا معاملہ بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ پاکستان کی تشکیل میں اردو زبان کو تفوق حاصل رہا ہے کہ اس زبان میں پورے ہندوستان کے رہنے والوں کے ملی تصورات جگہ پا گئے تھے یعنی مسلمانوں‘ ہندوئوں‘ سکھوں اور عیسائیوں وغیرہ کے ملی تصورات تویا ان تصورات نے اردو کو پورے ہندوستان کی زبان بنا دیا تھا حالانکہ یہ زبان براہ راست ہندوستان کے کسی بھی خطے سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ 1862ء میں فرانسیسی مستشرق ڈاکٹر گستائولی بان کے مطابق 25 کروڑ کی آبادی میں سب سے زیادہ یعنی یعنی 8 کروڑ 25 لاکھ اردو بولنے والے پائے جاتے تھے۔ 1877ء میں بلوچستان کی سرکاری زبان بھی اردو رہی۔ یہ اعداد و شمار اس لیے پیش کیے جارہے ہیں جیسا کہ ہم بتا ائے ہیں کہ سنسکرت بیانیے کے کمزور پڑنے کے بعد فارسی بولنے والے ہندوستان کے حکمران بنے۔ لیکن اورنگزیب کے عہد میں فارسی بیانیہ کمزور پڑ گیا تو نتیجتاً اردو‘ جو سب کی زبان بنتی جارہی تھی‘ دربار نے بھی اسے اپنا لیا۔ لیکن جب انگریزوذں نے ہندی کو اردو کے مقابل لا کھڑا کیا تو معاملات ایک بار پھر تقسیم در تقسیم کی ڈگر پر چل نکلے۔ جناب زبان ایک ایسی حقیقت کا نام ہے جو مذہب سے بڑی اکائی بناتی ہے۔ انگریزوں کی نظر سونے کی چڑیا یعنی ہندوستان پر تھی۔ انہیں بھی لاطینی بیانیے سے پیچھا چھڑائے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ وہ ہندوستان میںاپنے بیانیے کے ساتھ ساتھ اردو کی ترویج میں بھی حصہ دار رہے لیکن بعدازاں 1835ء میں یہ اعلان سامنے آیا کہ تعلیم بہ زبان انگریزی ہوگی تو یہ مطلب واضح تھا کہ اردو اور ہندوستان کی دوسری زبانیں انگریزی بیانیے کے زیر اثر ہوں گی۔ اس سلسلے میں سروسز بطور خاص تشکیل دیا گیا۔ یہ بات ہم اس لیے بھی زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پیش نظر امریکا ہے اور حاکم و محکوم کی زبان انگریزی ہے‘ پس ہم اس نتیجے پر پہنچے کے زبانوں سے اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا کہ اپنا بیانیہ نہ ہونے سے پڑتا ہے۔ اگر کسی قوم کے بیانیے میں تشخص نہیں تو پھر کوئی اسے ذلت و رسوائی سے نہیں بچا سکتا‘ قوم اپنے بیانیے کے بغیر متحد نہیں ہوسکتی ہے۔ اس کی مثال ہمارے پڑوس میں ہی موجود ہے یعنی ہندوستان میں جہاں سہ لسانی فارمولہ ہے۔ وہاں کے لوگ خواہ انگریزی بول رہے ہوں‘ گجراتی بول رہے ہوں ‘ مراٹھی بول رہے ہوں‘ ان کا بیانیہ ہندوستانی ہے جب کہ ہندی بھی وہاں کسی کی ماں بولی نہیں ہے۔ ہندوستان کے بیانیے کے مضبوط ہونے سے ان کی معیشت‘ خارجہ پالیسی اور 22 فیصد سافٹ ویئر میں ان کا حصہ یہ بتاتا ہے کہ بیانیہ ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ ہمیں دانش و بینش کی سطح پر تیزی سے پاکستانی بیانیے کی طرف آنا چاہیے۔ یہاں کسی زبان سے کسی زبان کا جھگڑا نہیں اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہماری قومی زبانیں انگریزی کے ساتھ ترقی کرسکتی ہیں یا اردو کے ساتھ؟ کیا پاکستانی بیانیے کے بغیر ہم ایک قوم بن سکتے ہیں؟ کیا پاکستانی بیانیے کے بغیر ہم غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں؟ہم معزز ارباب اختیار اور وزیراعظم صاحب کی مدد کے لیے حاضر ہیں کہ ایسے کیا اقدامات کریں جس سے ہمارا قومی بیانیہ تشکیل پا جائے اور یہی قومی بیانیہ دیگر اقوام کے بیانیوں سے برابری کی سطح پر تعلق بنائے۔ ہوا یہ کہ پاکستان بننے کے بعد اردو اور ہماری قومی زبانوں کو وطنی تصور سے واسطہ پڑا اور ہم وطنی بیانیے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھا نہ سکے۔ لہٰذا ہم چند ہم خیال احباب نے ایک تھنک ٹینک ادارہ پاک بیانیہ پاکستان قائم کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیںکہ تمام پاکستانی بالخصوص صاحبان اقتدار و اہل دانش و بینش ہمارا ساتھ دیں۔

ماجد نور بریلوی کی یاد میں مشاعرہ

۔13 دسمبر کو بزم نگار ادب پاکستان کے یادِ رفتگاں کے سلسلے کا چھٹا پروگرام بیادِ نور بریلوی پروفیسر منظر ایوبی کی صدارت میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر شاداب احسانی تھے جب کہ مہمانان اعزازی طارق جمیل‘ آصف رضا رضوی اور کوثر نقوی تھے۔ نور بریلوی کے صاحبزادے معروف صحافی و شاعر راشد نور‘ ان کی اہلیہ اور صاحبزادی نے بھی خاص طور سے پروگرام میں شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز بزم کے جنرل سیکرٹری وسیم احسن کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا بعدازاں بزم کے صدر واحد رازی نے نعتِ رسولؐ مقبول پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اس موقع پر ریحانہ احسان اور اختر سعیدی نے ماجد نور کو منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ بزم کے چیئرمین سخاوت علی نادر نے نور بریلوی کی شخصیت اور فن پر اظہار خیال کیا اور ان سے اپنی چالیس سالہ رفاقت کو شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماجد نور بریلوی ایک دیانت دار سرکاری افسر تھے‘ وہ مغربی پاکستان ریلوے میں ہیڈ ایس ٹی کے عہدے پر تعینات تھے اگر وہ چاہتے تو اپنے دور ملازمت میں بہت مال بنا سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے بال بچوں کو ہمیشہ حلال رزق کھلایا۔ نور بریلوی ایک گوشہ نشین شاعر تھے وہ مشاعرے کے شاعر نہیں تھے‘ بہت کم مشاعروں میںجایا کرتے تھے‘ ان کی تین شعری تخلیقات شائع ہوچکی ہیں۔ سخاوت علی نادر نے مزید کہا کہ نور بریلوی ایک اصول پسند انسان تھے جنہوں نے اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کیا۔ اس موقع پر معروف صنعت کار طارق جمیل نے اپنے مختصر خطاب میں بزم نگار ادب اور سخاوت علی نادر اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور دبستان کراچی میں ان کی ادبی خدمات کی تعریف کی۔ راشد نور نے اس موقع پر کراچی کے علاقہ شاہ فیصل کالونی میں 1970ء کی دہائی میں مشاعروں کی فضا میں اپنے والد کے ساتھ دیگر شاعروں کا تذکرہ کیا انہوں نے اپنے والد کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور ان کا کلام بھی نذر سامعین کیا جس پر انہیں بے تحاشا داد سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر شاداب احسانی نے اس موقع پر ماجد نور کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا اور مجلس سماجی کارکنان کے مشاعروں میں ان کے ساتھ اپنے مشاعروں کو بیان کیا۔ پروفیسر منظر ایوبی نے اس موقع پر کہا کہ سخاوت علی نادر اور ان کے رفقا بہت بڑا کام کر رہے ہیں کہ وہ تواتر کے ساتھ یادِ رفتگان کے لیے محفلیں سجا رہے ہیں۔ یہ یقینا ایک اچھی روایت ہے اور اس کو آگے بڑھنا چاہیے۔ منظر ایوبی نے ماجد نور پر تفصیلی گفتگو کی اور ان کے ساتھ اپنے مشاعروں کی یادداشتوں کو شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیض احمد فیض اور رئیس امروہوی نے بھی ماجد نور کی شاعری پر شاندار تبصرہ کیا ہے اور ان کو اعلیٰ پائے کا شاعر قرار دیا ہے۔ پروگرام کے پہلے حصے کی نظامت کے فرائض نوجوان شاعر سید شائق شہاب نے اپنے منفرد لب و لہجے سے اد اکیے۔ پروگرام کا دوسرا حصہ مشاعرہ پر مشتمل تھا جس کی نظامت سلمان صدیقی نے کی۔ جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میں پروفیسر منظر ایوبی‘ ڈاکٹر شاداب احسانی‘ کوثر نقوی‘ آصف رضا رضوی‘ اختر سعیدی‘ راشد نور‘ شہاب الدین شہاب‘ سلمان صدیقی‘ حجاب عباسی‘ سیف الرحمن سیفی‘ عظیم حیدر سید‘ ریحانہ احسان‘ کشور عدیل جعفری‘ نسیم شیخ‘ احمد سعید خان‘ نظر فاطمی‘ یوسف چشتی‘ حکیم علی نصر عسکری ‘ افضل ہزاروی‘ حنیف عابد‘ وقار زیدی‘ سلمان عزمی‘ خالد میر‘ حجاب فاطمہ‘ طاہرہ سلیم سوز‘ گل افشاں‘ کاشف علی ہاشمی‘ چاند علی‘ وسیم احسن‘ واحد رازی‘ شائق شہاب‘ یاسر سعید صدیقی‘ ضیا زیدی‘ ناز عارف‘ خاور بشیر‘ مرزا حیات خضر اور سخاوت علی نادر شامل ہیں۔

شاعر معاشرے کا نباض ہوتا ہے‘ ڈاکٹر اقبال پیرزادہ

ہر معاشرے میں اربابِ سخن ایک خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ معاشرے کے بگاڑنے اور سنوارنے میں شعرا کرام بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ہر زمانے میں شعرا نے اصلاح معاشرہ کے فرائض انجام دیے۔ قیام پاکستان کی تحریک میں شاعروں کا اہم کردار رہا ہے۔ شاعری کا تعلق انسانی زندگی سے ہے۔ شاعر معاشرے کا نباض اور بہت حساس ہوتا ہے‘ یہ اپنے اردگرد کے ماحول و مناظر پر بڑی گہری نظر رکھتا ہے اور اپنے احساسات کو شاعری بنا کر پیش کر دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر ڈاکٹر اقبال پیرزادہ نے 23 دسمبر کو سلمان صدیقی کے آفس میں منعقدہ شعری نشست میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر زمانے میں مشاعرے تہذیبی روایات کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ مشاعروں میں عوام کی دلچسپی کا باعث یہ بھی ہے کہ مشاعرہ نہ صرف ذہنی آسودگی فراہم کرتے ہیں بلکہ عوامی جذبات کے نمائندہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی میں مشاعرے عوام میں ادبی ذوق پیدا کرتے تھے‘ آج عوام کے ذوق کو مدنظر رکھ کر اشعار تخلیق کیے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ داد و تحسین حاصل کی جاسکے۔ اس وقت نوجوان شعرا اپنی غزلوں میں عجیب عجیب قافیے اور ردیفوں کا استعمال کر رہے ہیں اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ پبلک ٹیسٹ کے مطابق اشعار کہے جائیں۔ ہر شاعر اپنی ذہنی بساط کے مطابق اشعار کہہ سکتا ہے اب جدید لفظیات کا زمانہ ہے لہٰذا غزل کے مضامین بدل رہے ہیں۔ غزل ترقی کی جانب رواں دواں ہے لیکن نظم کی شاعری بڑی شاعری مانی جاتی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم نظموں کی طرف بھی آئیں۔ اس مختصر سی شعری نشست میں یامین اختر‘ سلمان صدیقی‘ ڈاکٹر اقبال پیرزادہ‘ راقم الحروف نثار احمد نثار‘ حجاب عباسی‘ رحمن نشاط‘ سہیل شہزاد‘ ڈاکٹر ریاست اور رانا خالد محمود قیصر نے اپنے اشعار سنائے۔ اس شعری نشست میں کراچی کی ادبی سرگرمیاں بھی زیر بحث آئیں‘ سلمان صدیقی نے اس سلسلے میں کہا کہ کراچی کی ادبی سرگرِمیاں اپنے عروج پر ہیں‘ آرٹس کونسل کراچی اور کراچی پریس کلب میں روزانہ کی بنیاد پر تقاریب ہو رہی ہیں اس کے علاوہ کراچی میں ادبی انجمنیں بھی ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ ادکامی ادبیات پاکسستان کراچی کے قادر بخش سومرو ہر ہفتے مشاعرے اور مذاکرے کرا رہے ہیں اس ادبی پروگرام میں ان شعرا کو بھی اشعار سنانے کا موقع مل رہا ہے جو کہ ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ یامین اختر نے کہا کہ جب سے کراچی میں امن وامان بہتر ہوا ہے زندگی کی رونقیں لوٹ آئی ہیں ادب کا معاملہ بھی زندگی سے جڑا ہوا ہے زندگی پرسکون ہوگی تو مشاعرے ہوں گے‘ ادبی محفلیں سجائی جائیں گی۔ حجاب عباسی نے کہا کہ کراچی میں خواتین مشاعرے رواج پا رہے ہیں کئی ادبی انجمن خواتین مشاعرے کرا رہی ہیں یہ ایک اچھی روایت ہے کہ مردوں کے معاشرے میں خواتین کو بھی سنا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کو چاہیے کہ ادب کو بھی اپنے پروگراموں میں جگہ دیں۔

حصہ