سورج گرہن، فوٹیج، جنید اور سوشل میڈیا

220

عذاب، آزمائشیں، آفات اور تکلیفیں کیوں نہ آئیں! عوام سورج گرہن دیکھ کر خوشی سے نڈھال ہیں۔ اس ہفتے سورج گرہن بھی سوشل میڈیا پر خوب زیربحث رہا۔ ایسے میں ایک سیاسی ٹوئٹ بھی نظر سے گزری، جو تھی تو طنز پر مبنی، لیکن اچھی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ بنائی گئی: ’’ہماری حکومت نے ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصے میں سورج گرہن لگاکر دکھا دیا جو پچھلی دو حکومتیں پانچ پانچ سال میں بھی نہ لگا سکیں۔ وفاقی وزیر مملکت برائے موسمی تبدیلی زرتاج گل‘‘۔ سورج گرہن کے فضائل، اعمال، توہمات، سائنسی و مذہبی حقیقتوں کی وضاحت و تفصیلات کے ساتھ ساتھ اللہ کے سپر طاقت ہونے کا بھی اقرار کیا جاتا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ سب سے زیادہ شیئر ہوتی رہی: ’’سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کے مرنے جینے پر بے نور نہیں ہوتے، جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔‘‘ اسی طرح سورج اور چاند گرہن کے متعلق ابہام یا توہمات کو دور کرتے ہوئے یہ پوسٹ بھی وائرل رہی: ’’سورج و چاند گرہن کو دیکھنے کے لیے کہیں پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں اور کہیں حاملہ خواتین کو کمرے میں بند کرکے ان کو چاقو چھری کے استعمال سے منع کیا جاتا ہے، تاکہ بچے پیدائشی نقص سے پاک ہوں۔ کھانے کا زہریلا ہوجانا۔ ان سب میں صرف انسانی آنکھ کا سورج کو براہِ راست دیکھنے سے متاثر ہونا سائنسی بنیادوں پر مؤثر کہا جاتا ہے، باقی کچھ بھی حقیقت نہیں۔‘‘ جمعرات 26 دسمبر کو ملک کے کچھ حصوں میں سورج گرہن ہوا۔ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی نماز کسوف پڑھائی اور امت کو بھی تلقین فرمائی ہے کہ جب گرہن ہو تو یہ نماز پڑھا کریں۔ طریقہ نماز جیسا ہے، البتہ اس میں قرأت، رکوع و سجدے لمبے کیے جاتے ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ کسی توہم پرستی میں نہ پڑیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ 20 سال بعد اس طرز کا سورج گرہن ہورہا ہے۔ مسنون نماز کسوف کا اہتمام کریں۔ اس سنت پر عمل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ زندگی میں اس سنت پر عمل کرنے کا موقع پتا نہیں پھر ملے یہ نہ ملے۔
پاکستان میں یوٹرن کی اصطلاح گزشتہ ڈیڑھ سال میں تو تحریک انصاف کے سربراہ اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ہی منسوب تھی، لیکن اب آہستہ آہستہ اُن کے قریبی چاہنے والوں میں بھی یہی لیڈرشپ صفات پیدا ہوتی جارہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال رانا ثناء اللہ کی ضمانت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس ہفتے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ کی منشیات کے ساتھ گرفتاری والے کیس میں عدالت سے ضمانت ہوگئی۔ یہ ضمانت کا مہینہ تھا شاید، یا دسمبر کے اثرات تھے کہ اس ماہ پاکستان میں بدترین کرپشن کے الزمات کے ساتھ گرفتار ہونے والے کئی سیاسی رہنماؤں کو ضمانت پر رہائی کا پروانہ ملا۔ سابق صدر آصف علی زرداری، اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور، اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی، رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ، اور اب رانا ثناء اللہ۔ اس سے قبل میاں نوازشریف اور شہبازشریف بھی ضمانت پا چکے تھے۔ باقی پر تو عوام نے انجوائے کرلیا تھا لیکن رانا ثناء اللہ والے کیس میں اُس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے پریس کانفرنس، اسمبلی خطابات اور ٹی وی شوز میں بڑے دعوے کیے تھے۔ اس میں اُن کا ایک ایمان افروز جملہ خاصا مقبول ہوا: ’’میں نے اللہ کو جان دینی ہے‘‘۔ اب جان تو واقعی سب کو دینی ہے اور اللہ ہی کو دینی ہے، لیکن جب کوئی شخص اس طرز سے بات کرتا ہے تو وہ اپنی بات کی سچائی اور خوف ِخدا کا اقرار کرکے یہ بات کرتا ہے۔ انہوں نے رانا ثناء اللہ کے مجرم ہونے اور گرفتاری و منشیات برآمدگی کے وقت کی ویڈیوز یا کوئی ایسی ویڈیو جسے دیکھ کر رانا ثناء اللہ کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے، کو پیش کرنے یا اپنے پاس موجود ہونے کا ذکر کیا تھا۔ جب ضمانت ہوگئی اور پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت میں ضمانت رکوانے کے لیے ویڈیو تو دور کی بات، کوئی اور ٹھوس ثبوت بھی نہیں پیش کیا جا سکا تو ایسے میں عوام کو اُن کی تقریر کے جملے بہت ٹوٹ کر یاد آئے۔ پھر مسلم لیگ (ن) کی سوشل میڈیا ٹیم بھی میدان میں اتری۔ جواباً سابق وزیر مملکت کو اپنے بیان کی وضاحت کے لیے پریس کانفرنس کرنا پڑی، کیونکہ سوشل میڈیا پر جو گت بننا شروع ہوئی تھی وہ کسی بڑی ذلت سے کم نہیں تھی۔ اب مزا دوبالا یوں ہوا کہ انہوں نے اپنے سابقہ بیان کو… جس میں ویڈیوز ثبوت موجود ہونے کا دعویٰ کیا تھا… لفظ ’فوٹیج‘ سے جوڑ دیا اور کہا کہ ’میں نے کہیں بھی ویڈیو کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ فوٹیج کہا تھا۔ اب لفظ فوٹیج کی وضاحت وہ خود نہیں کر پا رہے، جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں ’فوٹیج‘ ویڈیو کا ہی عین مترادف یعنی ہم معنی لفظ ہے، مگر وزیر موصوف نے فرمایا کہ جو کچھ ہے سب پراسیکیوشن کو دیا جاچکا ہے، اُسے عدالت میں پیش کرنا اُن کا ہی کام ہے، جس کا میں اب ذمہ دار نہیں ہوں۔ اسی طرح ایس پی طاہر داوڑ کی لاش کے افغانستان سے ملنے پر بھی صحافی کے پوچھے گئے سوال کا وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔ شہریارآفریدی نے اپنی وضاحت میں مزید دیدہ دلیری سے کام لیتے ہوئے کہاکہ ’’راناثناء اللہ پرکیس میں نے یا عمران نے نہیں بنایا، اے این ایف نے بنایا جس کو ایک میجر جنرل اور8 بریگیڈیئر پروفیشنلی چلارہے ہیں۔ ویسے بھی آج کل ضمانتوں کا موسم ہے۔‘‘ اس طرح کے جملوں کی ادائیگی عوام کے نام بہت سارا پیغام دے گئی۔ ’’جب میں نے جان اللہ کو دینی ہے تو ثبوت بھی اللہ کو دوں گا‘‘۔ ویڈیو جب یوٹرن لیتی ہے تو فوٹیج بن جاتی ہے۔ کئی لوگ ویڈیو اور فوٹیج کی ڈکشنری سے تعریفیں شیئر کرتے رہے۔ ضرار کھوڑو لکھتے ہیں کہ ’’میں شہریار آفریدی کا مذاق بنانا چاہتا ہوں، لیکن یہ میں کیسے کروں کہ وہ تو خود ہی…؟‘‘ شہریارآفریدی پر ان حرکات و بیانات کے باعث ایسی ٹوئٹ اور میمز بن بن کر وائرل ہوتی رہیں، یہاں تک کہ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے یوم پیدائش کو بھی سماجی میڈیا پر اچھی طرح منایا گیا۔ بھارت میں شہریت بل پر مستقل بڑھتے پھیلتے احتجاج نے بھی قائد کے یوم پیدائش کے جشن میں چار چاند لگائے۔ بھارت میں جاری احتجاجی مظاہروں کی تقاریر، یا اسمبلی فلورپر بار بار محمد علی جناح کا ذکر کیا گیا۔ ’’70سال پہلے جناح نامی ایک شخص نے عظیم ہندوستان کو مذہب کے نام پر تقسیم کرکے ایک زخم دیا، آج 70سال بعد اُسی جناح کے چاہنے والے ایک بار پھر بھارت میں پاکستان بنانے کی بات کررہے ہیں‘‘ (کسی جگہ بھارت کی تقسیم کا لفظ استعمال کیا گیا)۔ انہی الفاظ ومعنی کے الٹ پھیر کے ساتھ بانیِ پاکستان کا یوم پیدائش پورے ہندوستان و پاکستان میں منایا گیا۔ ہم اس گیت کے انداز میں شکر ادا کرتے رہے کہ ’’یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران… اے قائداعظم ترا احسان ہے احسان‘‘۔ دوسری جانب یہی گیت یوں گایا جاتا رہا ’’خود تو لی آزادی ہوگئے ہم اب پریشان … اے قائداعظم دوبارہ کرو پھر احسان‘‘۔ خیر یہ تو ازراہِ مذاق تھا، مگر صورت حال بڑی گمبھیر ہے۔ پاکستان کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مودی اور امت شاہ کو بھرپور تنقید کا نشانہ بنارہا ہے، اور دوسری جانب بھارت میں بھی مودی اور امت شاہ ( بھارتی وزیر داخلہ)کے خلاف لوگ سڑکوں پر ہیں اور جناح کا ساتھی کہہ رہے ہیں۔ یہاں پاکستان میں لوگ قائداعظم کے خواب کو ’سیکولر پاکستان‘ سے تعبیر کرتے نہیں تھک رہے، اور پڑوس میں احتجاج اس بات کی تذکیر کے ساتھ ہورہا ہے کہ ’جناح نے مذہب کے نام پر ریاست تخلیق کر کے ہندوستان تقسیم کردیا‘۔ زید حامد اپنی ٹوئٹ میں لکھتے ہیں ’’قائد کی ایک اور بات سچ ثابت ہوگئی۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک ثبوت ہے قائداعظم ؒکی دور اندیشی کا۔ آج اُن پاکستان مخالف مولویوں کے نکاح تو قائم ہیں لیکن بھارتیوں کے ہاتھوں خاندان تباہ ہورہے ہیں۔ کہتے تھے اگر پاکستان کو ووٹ دیا تو نکاح ٹوٹ جائے گا‘‘۔ بھارت میں مقیم مسلمانوں کی مبینہ شہریت کے خلاف آنے والے دنوں میں اقدامات سے خوف زدہ بھارتی مسلمان تو سڑکوں پر ہیں ہی، ساتھ ہی کانگریس، دوسری اپوزیشن جماعتیں اور سیکولر بھارت یا بھارت کے آئین پر یقین رکھنے والے بھی اس احتجاج میں کھڑے ہوتے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس کی مختلف ویڈیوز تیزی سے وائرل ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں دیگر انتظامی، معاشی و سیاسی مسائل کی موجودگی اپنی جگہ، لیکن نہ ہی کسی مسلمان کو اور نہ ہی کسی غیر مسلم کو شہریت کھو جانے کا ڈر لاحق ہے۔
اب چلتے ہیں سب سے سنگین و اہم واقعے کی جانب، جس میں لوگ بہت کنفیوز نظر آئے۔ بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایم فل انگلش کے طالب علم، وزیٹنگ لیکچرر اور توہینِ رسالت کے مجرم جنید حفیظ کیس کے درج ذیل تمام تر واقعات کوئی جذباتی آرٹیکل یا افسانہ نہیں بلکہ ان حالات کی وجہ اس کیس کی اب تک کی عدالتی کارروائی، گواہوں کے بیانات، یونیورسٹی ریکارڈ اور کیس فائل میں دستاویزات پر مبنی تفصیلی رپورٹ ہے۔
’’فروری 2013ء کی صبح چند طلبہ نے بہا الدین زکریا یونیورسٹی، شعبۂ انگریزی کی چیئرپرسن ڈاکٹر شیریں زبیر کو وزیٹنگ لیکچرر جنید حفیظ کے متعلق شکایات اور کارروائی کی درخواست جمع کرائی۔
جنید حفیظ کے خلاف شکایت کی گئی کہ وہ دورانِ لیکچر اپنے فیس بُک اکاؤنٹ اور فیس بُک پر تخلیق کردہ پیج پر مذہب، حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اور اُمہات المومنین کی تضحیک کررہا ہے، لہٰذا اس کی سرگرمیوں کو روکا جائے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔کچھ دیر بعد ڈاکٹر شیریں زبیر طلبہ کو بلواکر اُن کی درخواست کو پھاڑتی ہے اور غصے میں وارننگ دیتی ہے کہ اگر اس بات کا کسی سے ذکر کیا یا دوبارہ ایسی شکایت لے کر آئے تو تم لوگوں کو بغیر ڈگری دئیے ڈپارٹمنٹ سے نکال دوں گی۔ طلبہ واپس چلے جاتے ہیں۔ اس کے کچھ دن بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو جنید حفیظ کے خلاف اسی طرح کی ایک درخواست دی جاتی ہے جس میں 25 فروری 2013ء کو جامعہ کے IMS ہال میں ہونے والے سیمینار میں مقرر جنید حفیظ کی جانب سے اسٹیج پر ’بسم اللہ‘ اور اللہ کے بارے میں سنگین الفاظ استعمال کرنے کی شکایت درج ہوتی ہے۔وائس چانسلر شعبے کی صدر سے پوچھتا ہے اور شیریں ایسے واقعے سے انکار کردیتی ہے۔
7 مارچ 2013ء کو جنید حفیظ اپنے بنائے گئے فیس بک گروپ پر اپنے فیس بک نام ’ملا منافق‘کے نام سے ایک پوسٹ ڈالتا ہے، جس میں تین سوالوں کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور امہات المومنین کی شان میں صریحاً گستاخی کی جاتی ہے۔
سوال: تو پھر زینب کے خاوند کو اپنا منہ بولا بیٹا کیوں بنایا؟
سوال: زینب کے …… جسم پر نظر پڑنے کے بعد ہی عرب سے منہ بولے رشتوں کا رواج ختم کرنے کا خیال کیوں آیا؟
سوال: اگر عرب سے منہ بولے رشتوں کا رواج ختم کرنے کا ارادۂ مبارک فرمایا تو اپنی بیویوں کو مسلمانوں کی مائیں قرار دے کر ان بیچاریوں کو اپنی۔۔۔۔۔۔ کے بعد کیوں شادی کی اجازت نہیں دی۔ یہ بھی تو منہ بولا رشتہ تھا جو محسن انسانیت نے بنایا تھا۔
لوگ اُسے پوسٹ ہٹانے کا کہتے ہیں لیکن وہ باز نہیں آتا۔ لوگ اُس پوسٹ کو لے کر شدید غصّہ ہوتے ہیں اور ایک سینئر پروفیسر سے ملتے ہیں۔ پروفیسر جنید حفیظ کو اپنے گھر بلا کر طلبہ کا سامنا کراتا ہے اور کہتا ہے کہ پوسٹ ہٹائی جائے، تاہم جنید حفیظ اظہار رائے کیِ آزادی کے نام پر انکار کردیتا ہے۔
دو دن بعد سلسلہ مزید تیز ہوجاتا ہے۔ اب مزید پوسٹ آتی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک اور درود پاک کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔ پھر مزید ایسی پوسٹ آتی ہیں جنہیں یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔یہ بات ہاسٹل سے پوری یونیورسٹی میں پھیل گئی، طلبہ احتجاجی ہڑتال پر یکسو ہوگئے۔
12 مارچ 2013ء کو تحریری طور پر دوبارہ جنید کے خلاف سخت کارروائی کے لیے ایک درخواست وائس چانسلر کو جمع کرائی گئی۔ اُسی رات جنید حفیظ اپنے ہاسٹل سے سامان سمیت فرار ہوکر ڈاکٹر شیریں کے گھر چلا جاتا ہے۔ 13 مارچ 2013ء کی صبح سے طلبہ کا احتجاج شروع ہوتا ہے۔ پولیس اور اعلیٰ ضلعی حکام بھی پہنچ جاتے ہیں۔ سی پی او ملتان ڈاکٹر رضوان واقعے کی تحقیق کے لیے دو عدد سینئر SP،DSP،SDPO، سب انسپکٹر اور آئی ٹی انچارج ملتان پر مبنی ایک JIT تشکیل دیتے ہیں۔ پولیس جنید کو لاہور ڈائیوو بس ٹرمینل پر کھڑی ڈائیوو بس پر سے اُس وقت گرفتار کرتی ہے جب وہ فون پر امریکی قونصلیٹ کے کسی اہلکار سے بات کررہا تھا۔ جنید حفیظ کو سی پی او آفس میں مقبوضہ سامان کے ساتھ JIT کے سامنے تفتیش کے لیے پیش کیا گیا۔ تفتیش میں جنید نے فیس بُک پوسٹوں کے مواد اور اس گروپ کے ایڈمن ہونے کو قبول کیا اور پوسٹوں کا مقصد آزادیِ اظہار بتایا۔ سارا عمل ریکارڈ کیا گیا اور جنید کو جیل منتقل کردیا گیا۔
جنید کے ایم فل کے چند کلاس فیلو طلبہ نے شیریں زبیر کے مذہب دشمن، دین بیزار رویّے پر بھی بیان دیئے۔کمیٹی نے ان سب الزامات کی بنیاد پر شیریں سے جواب مانگا، لیکن شیریں بہانے بناتی رہی اور پھر گول مول کرکے چند سوالوں کا جواب دیا۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا کہ بظاہر شیریں کے خلاف توہینِ مذہب کا کوئی بالواسطہ الزام ثابت نہیں ہوتا، لیکن جنید حفیظ کو نہ روکنے اور اسے بے جا ڈھیل دینے اور مکمل تحفظ فراہم کرنے کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا، اور شیریں کے انتظامیہ کو لاعلم رکھنے کی وجہ سے یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ شیریں اس کمیٹی کے قائم ہونے سے پہلے ہی چھٹیاں لے کر جرمنی چلی گئی تھی اور آج تک واپس یونیورسٹی نہیں آئی۔
جنید حفیظ پر کیس چلا۔ جنید حفیظ پولیس کے سامنے اعتراف کرنے کے بعد جب باقاعدہ مقدمہ چلا تو اپنے اعترافی بیان سے مکر گیا اور اکاؤنٹ ہیک ہونے کا نیا انکشاف کیا۔ جنید نے کہا کہ وہ 15 مارچ 2013ء کو مستقل لیکچرر ہونے جارہا تھا جس کی وجہ سے اس کے مدمقابل لیکچرر کے چند امیدواران نے اُس کے خلاف سازش رچائیہے۔ جب یونیورسٹی کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تو پتا چلا کہ لیکچرر کی ایسی کوئی اسامی تھی ہی نہیں جس کا دعویٰ جنید کررہا ہے۔ جنید اپنے بیان کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا، نہ ہی اکاؤنٹ ہیک ہونے اور ای میل پاس اکاؤنٹ کے بارے میں کوئی واضح درست جواب دے سکا۔15کے قریب گواہان نے جنید حفیظ کے خلاف اپنے بیانات قلم بند کروائے، جبکہ ملزم اپنے دعوے کے دفاع میں ایک بھی گواہ یا دستاویز پیش نہ کرسکا۔ فرانزک لیبارٹری اور یونیورسٹی کمیٹی کی رپورٹ بھی جنید کے خلاف آئی۔ حالات و واقعات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ سب قبیح حرکتیں ملزم نے امریکی شہریت/ سیاسی پناہ لینے کے لیے کیں، بالکل ایسے ہی جنید حفیظ کے سابقہ استاد اور شیریں زبیر کے خاوند معین حیدر عرف جوالہ مکھی نے بھی غیر ملکی شہریت اور سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔ جنید حفیظ کا کیس عدالت میں چلنے لگا۔ 20 سے زیادہ مرتبہ جنید حفیظ کو عدالت میں پیش کیا گیا اور کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن پھر اچانک اس کے ایک سال بعد جنید کے وکیل راشد رحمان کا قتل ہوگیا جس کا مقدمہ اس کیس کی پیروی کرنے والے وکلا پر درج کروانے کی کوشش کی گئی، لیکن ثبوت کی عدم دستیابی اور وکلا کے بے قصور ہونے کی وجہ سے یہ مقدمہ درج نہ ہوسکا۔
این جی اوز کی طرف سے بھاری فیسیں اور سیکورٹی پروٹوکول ملنے کی وجہ سے جنید کے وکلا نے بے جا تاریخیں اور پیشیاں لے کر کیس کو جہاں ایک طرف طول دیا ہے، وہیں دوسری طرف این جی اوز اور اس ملک کے مذہب بیزار طبقے نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہ صرف اس کیس کے لیے لابنگ کی بلکہ فرضی قصے کہانیاں بناکر اس کیس کے اصل حقائق کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی۔ جنید حفیظ کیس کو دیر تک لٹکانے کے ذمہ دار جنید کے اپنے وکلا ہیں، جنہوں نے فقط ایک گواہ (آئی ٹی انچارج) پر پورے ساڑھے تین سال جرح کی کہ شاید کوئی چیز ان کے حق میں آجائے، لیکن ایسا نہیں ہوا، اور یہ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی گواہ پر کی جانے والی سب سے طویل جرح تھی۔ این جی اوز، امریکی سفارت خانے اور قادیانی طبقے کی جانب سے اس کے متعلق اس قدر مؤثر لابنگ کی گئی کہ جولائی 2019ء میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیونے واضح طور پر جنید حفیظ کی رہائی کا پاکستان سے مطالبہ کیا۔ جولائی میں عمران خان کے امریکی دورے کے دوران عمران خان سے جنید حفیظ کی رہائی کے مطالبے اور امریکی امداد کو جنید حفیظ کی رہائی سے مشروط کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
نومبر 2019ء میں بیس سے زیادہ مغربی اور قادیانی اسکالرز نے جن میں قادیانی عاطف میاں بھی شامل ہے، پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو جنید حفیظ کی رہائی کے لیے ایک خط بھی لکھا ہے۔ ڈان اور دوسرے اخبارات متواتر جنید حفیظ اور اس کیس کے متعلق جھوٹ پر مبنی آرٹیکل چھاپ رہے ہیں جس میں اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان اخباروں سے متعدد بار کیس کے اصل حقائق کے بارے میں رابطہ کیا گیا اور حقیقت پر مبنی مواد دیا گیا، لیکن کبھی کسی اخبار نے سچ نہ چھاپا۔ اس کیس کے اصل حقائق کو مسخ کرکے عام لوگوں کو بھی گمراہ کیا جاتا رہا ہے، اور اسے مسلسل چند مذہبی طلبہ کی نام نہاد معصوم جنید حفیظ کے خلاف سازش قرار دیا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: کیا جنید حفیظ فارس کا شہزادہ یا نیلسن منڈیلا تھا کہ اُس کے خلاف سازش رچنے کے لیے توہینِ رسالت کا چند طلبہ نے سہارا لیا اور پھر بعد میں سی پی او ملتان، ڈی سی او ملتان، ہوم سیکریٹری پنجاب، سینئر ایس پی اور ایس پی انوسٹی گیشن، پولیس، یونیورسٹی انتظامیہ، وائس چانسلر، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے پانچ شعبہ جات کے سربراہان، سینئر پروفیسر، ڈپارٹمنٹ کے طلبہ اور جنید حفیظ کے ایم فل کے اپنے کلاس فیلوز سب اُس کا تختہ الٹنے کے لیے اس گھناؤنی سازش کا حصہ بن گئے؟
یہ کیس کسی خاص گروہ یا طبقے کا کیس نہیں بلکہ پوری اُمت کا کیس ہے، لہٰذا ہم مغربی میڈیا، امریکی حکومت اور این جی اوز کی جانب سے اس کیس میں عدلیہ اور حکومت پر دباؤ ڈالے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ فاضل ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے پورے کیس اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے اور تین دن اور راتوں تک دونوں جانب سے دئیے جانے والے حتمی دلائل سننے کے بعد بالآخر جنید حفیظ کو 295 سی میں سزائے موت، 295 بی میں عمر قید، اور 295 اے تعزیراتِ پاکستان کے تحت دس سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزائیں سنائیں۔
یہ فیصلہ سنانے والے وہی جج صاحب ہیں جو بلا خوف و خطر توہین رسالت کے الزام میں دو افراد کو اس فیصلے کے ساتھ بری کرچکے ہیں کہ ان پر الزام ثابت نہیں ہوا۔ جنید حفیظ کا کیس پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں رتی برابر بھی شک موجود نہیں، اور گواہوں اور ثبوتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا انبار موجود ہے۔ ’’بے شک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو، اُن پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں، اور اللہ نے اُن کے لیے ذلت کا عذاب تیار کررکھا ہے۔‘‘ (سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 57) (تحریر و تحقیق: ملتان وکلا سوسائٹی)۔
نوٹ: اس کیس میں بیان کیے گئے کسی بھی واقعے کے متعلق کسی بھی قسم کی دستاویزات کی مصدقہ کاپی عدالت سے چند سو روپے کے عوض حاصل کی جاسکتی ہے۔

حصہ