سانحہ لال مسجد کی پراسراریت! ظالم کون؟ مظلوم کون؟۔

537

یہ کہانی بھی پرویز مشرف کے ارد گرد گھوم رہی ہے جن کو گزشتہ دنوں خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی ہے – آجکل ان کی پشت پناہی میں اسٹیبلشمنٹ سمیت ملک بھر کی لبرل اور سیکولر جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں کہ ان کے آئین پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کو درست اور جائز قرار دلوا کر ان کی سزا میں تخفیف کا معاملہ کروائیں –
ملکی اشرافیہ کی یہ کوشش اور میڈیا مہم کتنی کامیاب ہوتی ہے ؟ ہوتی بھی ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ جس تیزی کے ساتھ پرویز مشرف کے حمایتی سوشل میڈیا پر ہمدردیاں سمیٹنے اور پرویز مشرف کو ولی اللہ ثابت کرنے میں مصروف تھے اتنی ہی تیزی کے ساتھ ان کے جذبات ماند پر چکے ہیں –
سابق آرمی چیف پرویز مشرف پر ان کے مخالفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر شد ید جارحانہ انداز میں تنقید کی گئی اور عدالت کی جانب سے بھی میڈیا بریفنگ کا نوٹس لیا گیا ہے – جس کے سبب میڈیا پر فی الوقت مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے –
پرویز مشرف کے بطور سربراہ پاکستان جارحانہ اور مشتعل کردینے والے انداز حکمرانی کو بھی عوام میں پسند کی نگاہ سے نہیں دیکھا جارہا –
جس کی وجہ جہاں آئین پاکستان کو توڑ کر ایمرجنسی نافذ کی ، وکلا کے خلاف اور سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو استعفی دلوانے اپنے چیمبر میں گھنٹوں یرغمال رکھنے اور کراچی میں ان کی آمد کے مو قع پر سول سوسائٹی کی جانب سے کئے جانے والے استقبالی جلوسوں پر بے دریغ فائرنگ جس کے نتیجے میں درجنوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں ، اسی رات کو اسلام آباد میں اپنے مشیروں اور حلیف جماعتوں کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے اپنے حلیفوں کو قتل عام پر مبارک بعد دینے کے انداز پر بھی اہل کراچی ان کو بھلے الفاظ سے یاد نہیں کرتے – اگرچہ ان کی پشت پناہی میں میں کام کرنے والی فاشسٹ لسانی تنظیم متحدہ قومی مومنٹ نے ان کو ‘مہاجر آرمی چیف ‘کہہ کر کراچی والوں کی ہمدردی سمیٹنے کی بہترے کوشش کی مگر پرویز مشرف کے بچائو کے لئے نکالی گئی ریلی میں دو سو سے بھی کم حاضری نے پرویز مشرف کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ متحدہ کے تیزی کے ساتھ گرتے ہوئے گراف کو میڈیا اور عوام کے سامنے ننگا کرکے دکھا دیا – بلوچستان کے سابق وزیر اعلی اور بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر بگٹی کا قتل بھی اب تک بلوچستان سمیت ملک کے جمہوریت پسند نہیں بھول پائے – ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اس کے چھ ماہ کے کمسن بچے اور دیگر دو بچوں سمیت اغوا کرنے کے بعد ڈرامائی انداز میں افغانستان پہنچایا گیا ، جہاں سے اسے امریکا کی تحویل میں دے دیا گیا – کوئی چار سال بعد برطانوی خاتون صحافی ایوان ریڈلے جو خود طالبان کی قید میں تھیں ، اپنی رہا ی کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے پہلی مرتبہ میڈیا کے سامنے ایک پاکستانی لاپتا خاتون اور بچوں کا ذکر کیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ‘نامعلوم پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی ‘ہیں جن کے دو بچے تو مل گئے ،مگر دودھ پیتے معصوم بچے کے بارے میں آج تک نہیں معلوم کہ وہ زندہ بھی ہے یا وفات پاگیا ہے –
اس کارنامے کا ذکر پرویز مشرف نے اپنی کتاب ‘ ان دی لائن آف فائر ‘ میں فخریہ انداز میں کیا – ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اس وقت امریکا کی جیل میں ایک سو اسی سال کی سزا ہوچکی ہے –
اسلام آباد کی لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ کی حفاظ طالبات اور حافظ طلبہ پر فاتحانہ چڑھائی اور کامیابی اور پھر ان کی سوختہ لاشوں کو فاسفورس سے جلا کر رکھ کردینا بھی پرویز مشرف کے ملک بچاؤ مہم کا حصہ تھے – آج کی کہانی اسی جامعہ حفصہ کی ہے – اس سانحے کی ذمہ داری بھی پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے –
سابق وزیر داخلہ اور رکن قومی اسمبلی آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے 2007 میں ہونے والے لال مسجد آپریشن کی ذمہ داری سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور اْس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز پر عائد کی ہے۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ
‘لال مسجد میں مبینہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں وزارتِ داخلہ اور سویلین خفیہ ایجنسیوں کو شامل نہیں کیاگیا تھا۔’
لال مسجد آپریشن سے متعلق فیڈرل شریعت کورٹ کے جج شہزادو شیخ کی سربراہی میں قائم ایک رکنی عدالتی کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے اْس وقت کے وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے بتایا کہ ‘ لال مسجد آپریشن کو اْس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کنٹرول کر رہے تھے’۔
اْنہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ کو اْس وفد کے بارے میں بھی معلومات نہیں دی گئی تھیں جو پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا اور جنہوں نے مولانا عبدالعزیز اور مولانا عبدالرشید غازی سے ملاقات کی تھی۔
ظلم و بربریت کی حکومتی کا روائی جاننے سے پہلے مسجد کی لوکیشن اور کچھ اس کا ماضی سمجھ لینا بہتر ہوگا ، اسلام آباد میں واقع ‘ ئی ایس آئی ‘کے صدر دفتر سے لگ بھگ ڈیڑھ کلومیٹر کی مسافت پر موجود لال رنگ کی دیدہ زیب سرکاری لال مسجد جس کے منتظم دو برادران مولانا عبدا لعزیز اور ان کے چھوٹے بھائی لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید جو برسوں قبل ڈیرہ بگٹی ضلع راجن سے علاقائی جھگڑوں سے تنگ آکر اسلام آباد میں آباد ہوئے اور ایک سرکاری خالی پلاٹ پر قبضہ کرکے مسجد بنا ڈالی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مسجد مدرسے اور جا مع مسجد اور پھرجامعہ حفصہ میں بدل گئی – یہ سب کچھ اتنی تیزی کے ساتھ ہوا کہ بھر کی دنیا کو اس کی کوئی خبر نہیں تھی –
‘ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ‘جس کی اجازت کے بغیر آپ اپنے مکان کے نقشے میں ایک گز کا اضافہ نہیں کرسکتے۔اتنے بڑے پلاٹ کے قبضے کو درگذر کردیتی ہے۔کیوں ؟
یہ سوال شائد انتظامیہ کے لئے اس وقت غیر ضروری تھا –مسجد تعمیر ہو چکی تھی مدرسہ خوب چل رہا تھا ۔ سرکاری افسران اور ان کی بیگمات کا بھی آنا جانا تھا ۔ کسی کو کوئی پریشانی نہیں تھی –
اگرچہ اس دوران مسجد سے چند قدم کے فاصلے پر لگے ہوئے پولیس ناکے موجود پولیس اہلکاروں نے ایک مشکوک گاڑی مدرسے جاتے ہوئے روکی اور تلاشی پر خطرناک اسلحہ بھی برآمد ہوا۔لیکن ایک وفاقی وزیر کی مداخلت پر معاملہ آگے نہیں بڑھایا جاتا۔
اسی دوران اسلام آباد کی بدنام زمانہ لڑکیاں چلانے والی ‘ شمیم آنٹی ‘ کو اغوا کرکے مسجد لے جایا گیا اور تین دن تک اس کو اپنے قبضے میں رکھا گیا – یہ شمیم آنٹی نامی خاتون اسلام آباد کے اعلی گھرانوں میں اور مقتدر حلقوں میں فیشن ایبل کال گرلز کی سپلائی کا دھندہ کرتی تھی جس کے تمام ہی سرکاری افسران اور بیشتر سیاستدانوں سے تعلقات تھے ۔ حنیف عباسی نے تو اس حوالے سے شیخ رشید کا نام بھی کوڈ کیا ہے ، جس کی کوئی تردید بھی نہیں آئی –
اس معاملے نے اس وقت زیادہ شہرت پائی جب لال مسجد کے اطراف کے علاقوں میں اسلامی شریعت نافذ کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں اور مسجد کے قریبی علاقوں میں میوزک کی دکانیں بند کروانے اور انہیں متبادل کاروبار کی جانب راغب کرنے کی مہم چلائی گئی – یہ مہم قریب قریب پانچ ماہ جاری رہی –
سیکٹر ایف سیون میں چینی خواتین کے ایک مساج پارلر پر ڈنڈا بردار طالبات نے حملہ بھی کیا۔لیکن ان پانچ ماہ کے دوران مقامی انتظامیہ سے وزارتِ داخلہ تک اور پولیس کی سپیشل برانچ سے آئی ایس آئی تک کسی کے پاس کوئی مؤثر حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی کہ کیا کیا جائے۔کیوں ؟
اس فوجی ایکشن میں کتنے حفاظ کرام طلبہ اور طالبات شہید ہوئے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا –تاہم آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد لاپتا ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں اْنہیں معلومات نہیں ہیں۔
اس واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک کمشن بھی قائم ہوا مگر پرویز مشرف کی رعونت کا اندازہ لگائیے کہ وہ اور وزیر اعظم شوکت عزیز کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔
اور پھر ایک دن اچانک سے ہی مولانا عبدالعزیز بول اٹھے ‘کہ وہ سانحے کے تمام ملزمان پر سے اپنے الزامات واپس لے لیں گے ، اگرچہ اْن کے خاندان کے کچھ افراد اس پر راضی نہیں ہیں تاہم وہ اْنھیں منا لیں گے’ اور اسطرح سے سب کرداروں پر سو من مٹی ڈال دی گئی ۔
اس وقت بی بی سی کے نامہ نگار نے بہت اہم سوالات ا ٹھائے کہ کیا وجہ ہے کہ
مسجد میں جدید ترین اسلحہ جمع ہو تا رہا۔تربیت یافتہ عسکری نوجوان ڈیرے ڈالتے رہے۔آس پاس کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جا تی رہیں ۔ مگر بروقت اقدامات کیوں نہیں کئے گئے – کیا کسی اچھے اور موزوں وقت کا انتظار تھا ؟
پھر اچانک وہ وقت بھی آگیا جس کے لئے سارا اسٹیج سجایا گیا تھا اس سانحے کے مرکزی کردار دونوں بھائیوں کے پاس علما اور حکمران جماعتوں کے مصالحتی وفود بھیجے گئے ۔مختلف فارمولوں اور حکمتِ عملی پر غور ہورہا ہے۔اور دونوں برادران نے نہ سرکاری مصالحت کاروں کی بات سنی اور نہ ہی علما کی اپیلوں کو خاطر میں لائے کس قوت کے ایماء پر یہ دونوں بھائی آخر کیوں ڈٹے رہے یہ ان کی اپنی قوتِ ایمانی تھی یا کسی کے کہنے پر یہ اسٹیج سجایا گیا تھا ؟
آخری شب بقول چوہدری شجاعت حسین سمجھوتہ ہوچکا ہے۔ بڑے بھائی کی گرفتاری کے بعد چھوٹے بھائی نے بھی محفوظ راستے کی یقین دھانی پر اپنا ٹھکانا چھوڑنے اور راجن پور جانے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔مگر پھر اوپر سے حکم آتا ہے کہ وقت ختم۔کوئی لچک نہیں۔کوئی مصالحت نہیں۔آپریشن شروع ہے۔سوال یہ ہے کہ پانچ ماہ تک انتہائی لچک دکھانے والی حکومت آخر عین وقت پر بے لچک کیوں ہوگئی ؟
رفاقت علی، احمد رضا بی بی سی نمائندگان کی رپورٹ کہتی ہے کہ
لال مسجد کے چاروں طرف فوجی آپریشن شروع ہو چکا ہے ‘ ایمبیولینسز’ لال مسجد کے علاقے پہنچنا شروع ہو گئیں ہیں –
کمانڈوز مسجد اور مدرسے میں داخل ہو گئے ہیں جہاں انہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔فوج کے مطابق بیس بچے مدرسے سے نکل کر باہر آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے اس وقت نکل سکے جب فائرنگ شروع ہونے پر مسلح افراد بھاگ کر دوسری منزل پر چلے گئے۔
ہسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اب تک ا س کارروائی میں سکیورٹی افواج کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق مسجد کے اندر موجود افراد میں سے کم سے کم دس ہلاک ہوئے ہیں۔
آپریشن شروع ہونے کے بعد مولانا عبد الرشید غازی نے دیگر ٹی وی چینلز سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ ان کی والدہ کو اس کارروائی کے دوران گولیاں لگی ہیں اور وہ موت کے قریب ہیں اور وہ خود بھی’شہادت کے قریب ہیں۔‘ گفتگو میں پیچھے سے فائرنگ کی آویزیں سنائی دیں اور لائن اچانک کٹ گئی۔
لال مسجد میں محصور نائب مہہتم عبدالرشید غازی کا یہ دعوی تھا کہ مذاکرات میں ان کو دھوکہ دیا جا رہا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ہر بات شفاف طریقے سے ہو’میں چاہتا تھا کہ ہر بات ٹرانسپیرنٹ ہو۔‘
ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے عبدالرشید غازی کا یہ کہنا تھا پاس ’صرف چودہ کلاشنکوف‘ ہیں لیکن ’ہمارے بعد یہ یہاں بہت کچھ رکھ دیں گے۔‘
’یہ حتمی آپریشن ہے‘
فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے صبح اس فوجی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ حتمی آپریشن ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ مسجد میں سے تمام عسکریت پسندوں کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی علی الصبح چار بجے کے قریب شروع کی گئی۔
اس سے پہلے لال مسجد کے اندر محصور افراد سے حکومت کی طرف سے بات چیت کرنے والے حکمراں جماعت مسلم لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین نے ان مذاکرات کی نا کامی کا اعلان کر دیا ہے اور فوج نے بتایا ہے کہ لال مسجد میں محصور افراد کے خلاف حتمی آپریش اب شروع ہو چکا ہے۔
اسلام آباد میں آج سویرے ایک مختصر اخباری کانفرنس میں چودھری شجاعت نے کہا کہ ان کو اس سلسلے میں شدید مایوسی ہوئی ہے اور یہ مذاکرات نا کام ہوئے ہیں۔
اخباری کانفرنس کے فوراً بعد لال مسجد سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔
ساتھ ہی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے اعلان کر دیا کہ لال مسجد کے خلاف حتمی آپریشن کا اب آغاز ہو چکا ہے۔ حکومت جلد از جلد اس صورتحال کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے اندر مشتبہ دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔
بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے طلباء کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اتوار کو بھی باہر نکلنے کی کوشش کرنے والی تین طالبات کو مدرسے کے اندر سے فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا۔ بریگیڈئر (ر) چیمہ نے یہ بھی دعٰوی کیا کہ لال مسجد کے احاطے میں محصور جامعہ حفصہ کی بارہ طالبات نے وہاں سے نکلنے کے لیے احتجاجاً بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔
لال مسجد آپریشن کے آغاز سے اب تک اس لڑائی میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی سکیورٹی فوسرز اور لال مسجد میں محصور افراد کے درمیان ساڑھے بارہ سے ڈھائی بجے کے درمیان ہلکی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔
سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔ اطلاعات کے مطابق رات کو مسجد کے اوپر ایک چھوٹا طیارہ بھی محوِ پرواز رہا۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے دو ٹوک الفاظ میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کی تصدیق کی ہے۔ اس آپریشن میں
لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام آپریشن ہلاک ہوگئے
اس کے بعد جو کچھ بھی معاملات رہے وہ سب کے سامنے ہیں –البتہ ایک حافظ طا لبہ نے خط نے چونکا دیا ہے – یہ خط ماہنامہ البلاغ کے مدیر اعلی کے نام ہے – جس میں طالبہ نے لکھا کہ
جا معہ حفصہ گزشتہ کئی سال سے انٹرنیشنل شہر میں دینی تہذیب کا داعی تھا اور ہزاروں کی تعداد میں باپردہ طالبات کا آنا جانا اور اسلام آباد کے ماڈرن گھرانوں کی عورتوں اور لڑکیوں کا اس کی طرف میلان، روشن خیال طبقہ اور امریکا کو برداشت نہ تھا۔ اس لیے گزشتہ دوسال سے جامعہ کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دین کا کام کرنے کے لیے دینی احکام کو پامال کرنا یا مشورہ اور صحیح حکمت عملی، نیز طویل منصوبہ بندی نہ کرنا سخت نقصان کا باعث ہے۔ دینی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں، مگر ہم ان سے سبق حاصل نہیں کرتے اور نہ تاریخ کا مضمون اس نقطہ نظر سے درس نظامی میں شامل ہے جس کی وجہ سے اس کی طرف توجہ بہت کم ہوتی ہے۔
مولانا عبداللہ صاحب کے طالبان کے ساتھ براہ راست مراسم تھے اور وہ انقلابی ذہن کے حامل تھے، ان کی شہادت کے بعد برادران میں شدت آنا فطری عمل تھا، خصوصاً جب مظلوم کو عدالت سے انصاف نہ ملے اور نہ اس کی بات سنی جائے۔ چنانچہ جامعہ حفصہ کو ختم کرنے کے لیے ان کی سوچ میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے مزید شدت پید اکی گئی تاکہ وہ ایسا اقدام کریں جس سے قانونی گرفت میں آسکیں اور آپریشن کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سات اعلیٰ تعلیم یافتہ جن میں بعض اعلیٰ افسران کی بیویاں بھی تھیں ان کو تربیت دی گئی، جہاد کی آیات و احادیث، طاغوتی نظام کے خلاف جان دے دینے کے جذبات پر مشتمل اشعار، تاریخ میں اصحاب عزیمت کے واقعات، پرجوش تقاریر، اور ذہن سازی کی تربیت دی گئی۔ پھر ان خواتین نے جامعہ حفصہ میں آنا شروع کیا۔ ام حسان اور غازی برادران سے تعلقات مضبوط کیے۔ جامعہ میں تعلیم لینا شروع کی اور طالبات میں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، ان کی ذہن سازی شروع کی۔ فحاشی اور عریانی کے خلاف طاقت کا استعمال، اسلامی نظام کے لیے عملی جہاد کا ذہن بنایا۔ اس محنت کے نتیجے میں 70 طالبات جن میں لیڈر شپ کی کوالٹی تھی تیار ہوگئیں۔ ان طالبات میں بھی بعض طالبات کے متعلق یہ گمان تھا کہ وہ خفیہ ایجنسی کی تربیت یافتہ ہیں۔ ان کی پر جوش تقاریر سے انقلابی سوچ اور جہادی جذبہ اس قدر عروج پر تھا کہ معاملہ اب غازی برادران کے بس میں بھی نہ تھا، اور خلاف قانون اقدام ہونا شروع ہوئے اور آپریشن لمبا کرنے کے حکمتوں میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ آخری لمحات تک یہ نمائندہ خواتین جامعہ میں رہیں تاکہ جذبا ت میں کمی نہ آنے پائے۔ چنانچہ آہستہ آہستہ ان خواتین کو بحفاظت باہر لایا گیا اور منظر سے غائب کر دیا گیا۔ ان خواتین کے صحیح ایڈریس شاید اب ام حسان کو بھی معلوم نہ ہوں کیوں کہ اپنے تعارف کے متعلق جو معلومات دیں، وہ سب غلط تھیں۔
2. بعض وزرا جو علما سے دوستی کے رنگ میں منافقت کررہے تھے اورعلما سے ذاتی گہرے مراسم رکھتے تھے وہ بھی غازی برادران کو ملاقاتوں میں کہتے تھے کہ تم اپنے مطالبات میں حق پر ہو، اپنے مقصد پر ڈٹ جاؤ۔ ان کا اصل مقصد بھی آپریشن کا جواز پید اکرنا تھا جبکہ میڈیا پر ان کے بیان اور تھے۔
3. مولانا صاحب! ایک ملنے والے اسلام آباد خفیہ سرکاری ایجنسی کے ملازم ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بندی ہوچکی ہے کہ بڑے بڑے دینی مدارس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طلبا و طالبات کو داخل کیا جائے گا جس کا اہم مقصد طلبا اور اساتذہ میں نفرتیں پید اکرکے مقابلہ میں لانا ہوگا تاکہ اساتذہ پر اعتماد کی فضا ختم ہو۔ یہ طلبا دین پر عمل کرنے میں اساتذہ کی نظر میں دوسروں سے ممتاز ہوں گے۔ اساتذہ کا خصوصی قرب حاصل کریں گے، عربی، انگریزی، دینی علوم میں ممتاز اور قوت بیان کی خصوصی تربیت یافتہ ہوں گے۔
4. طالبات مذکورہ بالا مقصد کے علاوہ مزید یہ کام انجام دیں گی کہ مدرسہ سے اچانک غائب ہوں گی، ان کے سرپرست جامعہ کی انتظامیہ سے رابطہ کریں گے۔ آخر معاملہ متعلقہ تھانہ تک جائے گا، اور میڈیا کے ذریعہ بنات کے مدارس کو بدنام کیا جائے گا۔
5. یہ طلبا اور طالبات منتظمین کے سرکاری انتظامیہ سے خفیہ تعلقات استوار کرائیں گے اور ڈالروں کے ذریعہ ان کو خرید کر اپنے وفاقوں سے بدگمان کیا جائے گا، اور مزید دوسرے مقاصد میں استعمال کیا جائے گا۔
6. پبلک مقامات پر تربیت یافتہ لوگ عوام سے مدارس اور علما کے کردار پر بحث و مباحثہ کریں گے اور عوام میں مدارس اور علما کی نفرت پیدا کریں گے اور جو چینل مدارس، علما اور اختلافی مسائل پر زیادہ مذاکرے کرائے گا، اسے مراعات دی جائیں گی۔
7. اسکولوں سے یونیورسٹی کی سطح تک تفریح گاہوں اور پبلک مقامات پر تربیت یافتہ تنخواہ دار مرد و خواتین مغربی تہذیب و تمدن پھیلانے کے لیے اپنے لباس اور حرکتوں سے ایسے امور انجام دیں گے کہ آہستہ آہستہ ان کی برائی ختم ہو اور یہ ذہن بنے کہ ہر آدمی آزاد ہے، کسی کو روک ٹوک کرنا گویا ایک عظیم جرم ہے۔ یہ نوجوان اس مقصد کے لیے ملازم ہوں گے۔ یومیہ آٹھ گھنٹے مختلف پبلک مقامات پر اپنے لباس اور حرکتوں سے یہ امور انجام دیں گے۔
8. یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر مخلوط محافل موسیقی اور ناچ ہوگا جس کا خرچ غیر ملکی تنظیمیں برداشت کریں گی، یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو یہ تنظیمیں اپنے خرچ پر پہاڑی مقامات کی سیر کرائیں گی جہاں ان کا قیام و طعام اکٹھا ہوگا، گانا اور ناچ کے مقابلے ہوں گے اورغیر ملکی سفر کے ٹکٹ دے کر لڑکے اور لڑکی کو باہر بھیجا جائے گا اور باہر بریفنگ کے ذریعے ان کی ذہن سازی کی جائے گی اور اپنا نمائندہ بنایا جائے گا۔
9. بعض فوجی افسران کو درس نظامی کا مختصر نصا ب پڑھایا جا رہا ہے۔ وہ علما کے رنگ اپنا کر مدارس کے منتظم بنیں گے اور ان کے کردار پر طویل منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
10. تبلیغی مرکز رائے ونڈ میں خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران باقاعدہ مقیم ہیں، جماعتوں میں جاتے ہیں، بعض اب منبر سے ہدایات بھی دیتے ہیں، مشوروں میں باقاعدہ شامل ہوتے ہیں اور بزرگوں کی صف میں شامل ہو کر مکمل کنٹرول کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ‘
یہ خط خاصا طویل ہے ، میں نے اختصار سے کم لیا اور صرف چند اہم نکات درج کئے ۔
تاکہ اس سانحے کی پر اسراریت سے کچھ تو پردہ اٹھے !۔

حصہ