حلقۂ یارانِ سخن (ٹنڈوآدم) کے زیراہتمام مشاعرہ

150

سلمان صدیقی
۔’’حلقہ یارانِ سخن‘‘ ٹنڈو آدم کی وہ ادبی تنظیم ہے جو ملک غلام مصطفی تبسم کی سرپرستی میں 1997ء سے فعال ہے۔ اپنی تشکیل کے سال سے یہ تنظیم 9 کل پاکستان سطح کے بڑے مشاعرے اور بے شمار چھوٹے بڑے ادبی پروگرام منعقد کرچکی ہے۔ کل پاکستان سطح کانواں بڑا مشاعرہ گزشتہ دنوں حلقہ یارانِ سخن کی جانب سے منعقد کیا گیا۔
ملک غلام مصطفی تبسم کی دعوت پر اس سے قبل بھی ہم ان کی تقریبات میں شرکت کے لیے ٹنڈو آدم جاتے رہے ہیں۔ اُن اسفار کا یادگار دورانیہ اور میزبان کا حسن انتظام ہماری یادداشت میں اب بھی تازہ ہے۔ مہمان داری تو اس نویں کل پاکستان مشاعرہ کے موقع پر بھی پُرکلف تھی، مشاعرہ بھی بہت اچھا ہوا۔ سامعین کی تعداد بھی قابل ذِکر تھی مگر دورانِ سفر ایک پریشانی نے اس مشاعرے کو مزید یادگار بنادیا۔ لیجیے روداد ابتدا سے جزئیات کے ساتھ آپ کے لیے حاضر ہے۔
کراچی میں حلقہ یارانِ سخن کے نمائندے آفتاب احمد قریشی نے پروگرام دیا کہ 11 شعراء جن میں 4 شاعرات شامل ہیں۔ گلشن اقبال میں واقع النساء کلب پر جمع ہوں گے جہاں تین کاروں کا انتظام ہے اور یہ قافلہ شام 4 بجے تک ٹنڈوآدم کے لیے روانہ ہوگا۔ ساڑھے 3 بجے10شعراآچکے تھے ۔صدرِ مشاعرہ اجمل سراج کا انتظار تھا اور اُن کے بغیر قافلہ روانہ نہیں ہوگا۔ذرا دیر ہی گزری کہ اجمل سراج تشریف لے آئے۔ اُن کی اس تاخیر کا فائدہ یہ ہوا کہ اس دوران النساء کلب کی بانی سابق ایم این اے آپا قمرالنساء قمر نے شعراء کے لیے چائے اور سموسوں کا اہتمام کیا ۔ وہ اس بات سے خوش تھیںکہ سفر کے آغاز کے لیے ان کے کلب کا انتخاب کیا گیا۔ پھر انہوں نے اپنے صاحبزادے سید اعجاز علی نوید کوبلایا اور ہمیں الوداع کہنے کی ہدایت کی۔ اس طرح سید اعجاز علی نوید سے مصافحہ کرکے تین کاروں میں سوار کراچی کے 11 شعراء پر مشتمل قافلہ ٹنڈوآدم کے لیے روانہ ہوا۔ پہلی کار میں ڈرائیور کے علاوہ چار شاعرات، یاسمین یاس، ڈاکٹر لبنٰیعکس، آئرین فرحت اور شہناز رضوی سوار تھیں۔ دوسری کار میں اجمل سراج، آفتاب احمد قریشی، ظفر بھوپالی اور آئرین فرحت کے آرٹسٹ شوہر ذیفرین سوار تھے جبکہ تیسری کار میں جسے معروف طنزومزاح نگار صفدر علی خان چلا رہے تھے، راقم الحروف، تنویر سخن اور الحاج یوسف اسمعیل سوار تھے۔ ہنستے بولتے، خوش گپیاں کرتے، اشعار سنتے سناتے اور مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے ہم جام شورو سے ذرا پہلے ایک معروف ہوٹل پر اس وقت رکے جب اگلی کار میں سوار میزبان اور میرکارواں آفتاب احمد قریشی نے فون پر ہمیں وہاں رکنے کی ہدایت کی۔ ہم وہاں پہنچے تو اگلی گاڑی کے سوار ہمارے منتظر تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ وہ گاڑی جس میں شاعرات سوار تھیں حیدر آباد سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ اس کا ڈرائیور بہت تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا ہے اور بہت خوش ہے۔ بعد میں شاعرات نے اس کی تصدیق کی کہ ان کی گاڑی کا ڈرائیور تمام راستے انہیں ڈرائیونگ کی باریکیاں سمجھاتا رہا۔ بہرحال ہوٹل پر سب نے چائے پی اور گاڑیوں میں واپس بیٹھنے سے پہلے پھیری والے انڈہ فروش سے ابلے انڈے لے کر کھائے جس کی تصاویر بعدازاں ایک دوسرے کو شیئر کی گئیں۔ یہاں سے روانگی کے وقت یہ طے ہوا کہ مرکزی شاہراہ سے ٹنڈو آدم کی ذیلی سڑک پر مڑتے ہوئے جو پہلے پہنچے وہ وہاں رک جائے تا کہ ہم ایک ساتھ مزید سفر طے کریں۔ اس دوران اندھیرا ہوگیا۔ صفدر علی خان بہت احتیاط کے ساتھ درمیانی رفتار سے گاڑی چلا رہے تھے۔ جبکہ اگلی گاڑی جس میں اجمل سراج اور آفتاب قریشی وغیرہ تھے ہم سے پہلے ٹنڈوآدم کی ذیلی سڑک کے اس موڑ پر پہنچ گئے جو ’’خیبر‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہماری گاڑی جب ’’خیبر‘‘ پہنچی اور ہم نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو ہمیں ان کی گاڑی نظر نہیں آئی اور ہم نے جانا کہ وہ آگے نکل گئے ہیں کہ اس مقام سے ٹنڈوآدم صرف 16 کلو میٹر رہ گیا ہے۔ لہٰذا ہم آگے بڑھ گئے۔ سفر کا یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ہماری مشکلات کا آغاز ہوا۔ اندھیرا پختہ ہوچکا تھا۔ سنگل ذیلی سڑک جس پر دوطرفہ ٹریفک رواں تھا بہت ہموار اور صاف ستھری غالباً نئی بنی ہوئی تھی۔ گاڑی کی ہیڈ لائٹس میں دونوں طرف کھیت نظر آتے تھے کھڑکی کھولنے پر یخ ہوا کے جھونکے چہرے سے ٹکراتے تھے کہ اچانک گاڑی نے جھٹکے لیے اور انجن خاموش ہوگیا۔ گاڑی بند ہو کر رُک گئی تھی۔ صفدر نے کئی بار سیلف لگایا مگر گاڑی نے اسٹارٹ ہونے سے انکار کردیا۔ سڑک پر لگا سنگ میل ٹنڈو آدم کے 9 کلو میٹر دور ہونے کا اعلان کررہا تھا۔ پریشان ہو کر آفتاب قریشی کو فون ملایا تو معلوم ہوا کہ وہ تو ’’خیبر‘‘ کے مقام پر کھڑے ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ آپ نظر نہیں آئے تو ہم آگے نکل آئے اور اب اس مسئلے کا شکار ہیں۔ انہوں نے پہنچنے کی اُمید دلا کر فون بند کردیا۔ 20 منٹ گزرے ہوں گے کہ پچھلی گاڑی آپہنچی۔ سب گاڑیوں سے اُترے تو ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ بونٹ کھولا، موبائلوں کی مشعلیں روشن ہوئیں۔ انجن ٹٹولا گیا اور انکشاف ہوا کہ گاڑی میں پٹرول ختم ہوگیا ہے۔ فوراً ہی دوسری گاڑی کے ڈرائیور کو پٹرول لینے بھیجا گیا۔ وہ کافی دیر میں ایک ڈبے میں پٹرول لایا، گاڑی میں ڈالا گیا۔ سیلف لگایا، گاڑی اسٹارٹ نہیں ہوئی۔ سوچا کہ شاید دھکے سے اسٹارٹ ہوجائے سو شاعروں نے کافی دور تک دھکا لگایا مگر گاڑی کو اسٹارٹ ہونا تھا ہی نہیں۔ ناچار ٹنڈوآدم فون کیا گیا۔ جہاں سے غلام مصطفی تبسم نے موٹر سائیکل سوار کے ذریعے ایک رسّا بھیجا۔ گاڑی کو دوسری گاڑی کے پیچھے باندھا گیا اور ہم ٹنڈوآدم پہنچے۔ شہر کے شروع میں ہی ایک سی این جی اسٹیشن پر گیس دستیاب تھی۔ وہاں گیس بھروائی گئی اور گاڑی اسٹارٹ ہوئی۔ ہم شہر کی گلیوں سے گزرتے ہوئے مشاعرہ گاہ تک پہنچے۔ یہ ایک اسکول کی عمارت تھی جس کے ہال میں مشاعرے کا انتظام تھا۔ ملک غلام مصطفی تبسم اپنے احباب کے ساتھ ہمارے منتظر تھے۔ فوراً ہی ہمیں کھانے پر لے جایا گیا اور پُرلطف عشائیے کے بعد ہم مشاعرہ گاہ پہنچے۔ مشاعرہ شروع ہو چکا تھا۔ سامعین کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ ٹنڈوآدم میں اتنے سامعین جمع کرنا بڑی بات تھی۔ رحیم یار خان سے آئے شاعر شہباز نیئر نظامت کررہے تھے۔ کراچی کی شاعرات دیگر شعراء کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز تھیں۔ ناظم مشاعرہ نے کارروائی روک کر صدرِ مشاعرہ اجمل سراج اور دیگر شعراء کو اسٹیج پر مدعو کیا۔ جس کے بعد مہمان شعراء کو سندھ کی روایتی اجرکیں پیش کی گئیں۔ بعدازاں آئرین فرحت اور آفتاب احمد قریشی نے مشترکہ نظامت کرتے ہوئے مشاعرے کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا۔ سندھ اور پنجاب کے شہروں سے آئے شعراء یکے بعد دیگرے مائیک پر آکر کلام پڑھتے اور داد وصول کرتے رہے۔ شعراء کے عمدہ کلام اور سامعین کی پُرجوش داد نے مشاعرے کو آخر تک زندہ رکھا۔ صدرِ محفل سے قبل میزبان تقریب، حلقہ یاران سخن کے سربراہ ملک غلام مصطفی تبسم نے خطاب کرتے ہوئے شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اتنی بڑی تعداد میں شریک ہو کر مشاعرے کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشاعروں کا مقصد، شعراء کو سماعت کرنے کے علاوہ مشاعرے کے تہذیبی عوامل کو زندہ رکھنا بھی ہے۔ جن میں نظم و ضبط کی پاسداری، اچھے شعر پر داد، تہذیبی دائرے میں رہتے ہوئے جملہ چست کرنے اور اخلاق سے گری ہوئی جملے بازی سے پرہیز کے ساتھ، شعراء کی حتیٰ الامکان حوصلہ افزائی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روایت قائم کرنا چاہتے ہیں کہ اب ان شعراء کو مشاعروں کی صدارت کے لیے مدعو کیا جائے جو اپنی پہچان بناچکے ہیں۔ پسند کیے جاتے ہیں اور طویل عرصے سے شعری منظرنامے پر موجود ہیں اور اس روایت کا آغاز ہم آج اجمل سراج کی صدارت سے کررہے ہیں۔ غلام مصطفی تبسم کے بعد آئرین فرحت نے صدر مشاعرہ اجمل سراج کو خطاب اور کلام کے لیے مدعو کیا۔ اجمل سراج نے اپنے خطاب میں کہا کہ غلام مصطفی تبسم جس طرح فروغ شعرو سخن کی شمع ٹنڈوآدم میں روشن رکھے ہوئے ہیں اس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وہ اس طرح زبان و تہذیب کی جو خدمت کر رہے ہیں وہ یاد رکھنے کے لائق ہے۔ اجمل سراج نے اپنا منتخب کلام نذر سامعین کیا جسے سامعین نے بہت سراہا۔ ان سے فرمائش کرکے بھی کلام سنا گیا۔ اس طرح رات دو بجے کے قریب یہ آل پاکستان مشاعرہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ سخت سردی کے باوجود سامعین کی ایک بہت بڑی تعداد ہال میں موجود تھی۔ کراچی، سندھ کے دیگر شہروں اور پنجاب سے آئے شعراء روانگی کے لیے دن نکلنے کے انتظار میں ہال میں بیٹھے رہے۔ خالی بیٹھے رہنا مشکل تھا۔ محمد علی گوہر گانا گانے لگے۔ پھر کیا تھا یکے بعد دیگر شعراء اور شاعرات بھی ان کا ساتھ دینے لگے۔ ہم اور اجمل سراج آرام کے لیے مختص کمرے میں جا کر سو گئے۔ فجر کی اذان تک ہال سے آنے والی گانوں کی آوازیں ہماری نیند میں خلل ڈالتی رہیں۔ صبح کی چائے کے بعد سب اپنی اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہوگئے۔ واپسی میں صفدر علی خان کی گاڑی کسی خرابی کے بغیر کراچی پہنچ گئی۔

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

پروین شاکر

حصہ