تبدیلی اور ارتقا (ترقی)۔

213

محمد فاروق فاروقی

آخری حصہ

-3جذباتی ارتقاء (Emotiones)

انسانی معاملات میں جذباتی ارتقاء بہت اہم جز ہے۔ یہ جذبات انسان کو ڈرائیو کرتے ہیں اور لے کر چلتے ہیں۔ جذبات مثبت بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی ہوتے ہیں۔ مثبت جذبات کا مطلب ہوتا ہے محبت‘ خیرخواہی‘ امید‘ ہمت۔ اور منفی جذبات ہیں غصہ‘ غیض و غضب‘ چڑچڑاہٹ‘ مایوسی‘ خوف کی کیفیت اور احساسِ جرم کو مدتوں پالنا۔
جب کہ ہمیں اپنی زندگی کو منفی جذبات سے پاک کرکے اس میں مثبت سوچ پیدا کرنا چاہیے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوچ تو دی تھی۔ صحابہ کرامؓ میں سے کتنے لوگ ہیں جو آکر کہتے کہ میں نے اپنی بچی کو زندہ دفن کر دیا۔ کوئی کہتا میں نے فلاں جرم کیا ہے یا مجھ سے فلاں جرم سرزد ہوگیا ہے۔ نبی اکرمؐ نے ان سب کو احساسِ جرم سے اور احساس ندامت سے نکالا اور فرمایا جو ہوا سو ہوا‘ توبہ کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے اور اس کے جذبات کو یکلخت تبدیل کردیا۔ لوگوں کے اندر سے احساس جرم کو ختم کیا اور ان کو غیض و غصب کی کیفیت سے باہر نکال دیا۔ یہ لوگ‘ جو بُتوںسے‘ سانپ سے‘ کائنات کی بے شمار چیزوں سے خوف زدہ رہتے تھے‘ ان کے آگے جھکتے تھے‘ اللہ کے رسولؐ نے ان کو نڈر بنا دیا اور سوائے ایک خدا کے خوف سے تمام خوف سے نجات دلائی۔ یہ ساری تبدیلی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا فرمائی اور یہ ایموشنل ڈویلپمنٹ (جذباتی ارتقاء) ہے۔ جذبات کے نشوونما کے ذریعے ہماری زندگی کے اندر مثبت رویہ آنا چاہیے‘ ایک خوش گوار تبدیلی آئے۔ ہمیں اپنی زندگی کو کنٹرول کرنا آنا چاہیے اور طویل عرصے تک ہم جو اپنی زندگی میں منفی جذبات لے کر چلتے ہیں اس سے ہماری زندگی پاک ہونی چاہیے۔

-4صلاحیتوں کا ارتقاء(Skill Development)

ہم جب دنیا میں آئے تو ہمیں کچھ نہیں آتا تھا۔ لیکن ایک ایک کرکے ہم نے سیکھا۔ چلنا سیکھا‘ بولنا سیکھا‘ سائیکل چلانا سیکھی‘ اے بی سی ڈی بھی سی سیکھی‘ قائدہ بھی پڑھا اور ایک حد پر جا کر ہم رک گئے‘ لیکن جو لوگ صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں دنیا میں ان کا ایک وزن ہوتا ہے‘ وہ دنیا میں قیادت کرتے ہیں‘ وہ دنیا میں کام کے لوگ کہلاتے ہیں اور جو بے صلاحیت ہوتے ہیں وہ دنیا کی صفوں میں آخری صف کے لوگ ہوتے ہیں۔ کتنی صلاحیتیں ہیں جو کہ ہمارے اندر ہونی چاہیئں۔ ان صلاحیتوں میں بولنا‘ لکھنا‘ کلام کو ترنم سے پڑھنا بھی ایک صلاحیت ہے‘ کام کو منظم انداز میں کرنا اور کروانا بھی ایک صلاحیت ہے‘ پبلک ریلیشن کی صلاحیت‘ قرآن کو قرأت اور ترتیل اور تجوید سے پڑھنے کی صلاحیت۔ صلاحیتیں بے شمار ہیں‘ ان کی ایک لمبی فہرست ہے جیسے آج کے دور میں کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال بھی بہت اہم صلاحیت ہے۔ ان صلاحیتوں کی ہم نشوونما کریں‘ ہم سوچیں کہ کہاں ہمارے اندر کمی ہے اور اس صلاحیت کی نشوونما ہماری دینی‘ معاشی اور معاشرتی ضرورت بھی ہے۔ صلاحیتوں میں یہ بات بہت اہم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کی صلاحیتوں کو پہچانا اور اسے نشوونما دی۔ حضرت بلالؓ ایک غلام تھے‘ ہم جانتے ہیں کہ غلام کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے‘ اس کی بہترین صلاحیت ہے کہ وہ اپنے آقا کا حکم پورا کرے اور عقل کا استعمال بالکل نہ کرے۔ مالک نے جو کہہ دیا وہ کرنا ہے‘ بلاچوں چرا اطاعت یہ غلام کی اعلیٰ صلاحیت گردانی جاتی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو آزاد کرایا اور پھر اپنا ساتھی بنایا‘ اس کے بعد وہ آپؐ کے پرسنل اسسٹنٹ بنے‘ آپؐ کے کام کاج کرتے‘ آپؐ نے ان کو ترقی دی تو آگے چل کر وہ آپؐ کے پرسنل سیکرٹری بن گئے۔ جس طرح ریاست کے معاملات چلانے کے لیے سیکرٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے۔ آپؐ نے مدینہ میں حضرت بلالؓ کو ریاست کا فنانس سیکرٹری یعنی سیکرٹری خزانہ بنایا۔ جنگوں سے حاصل ہونے والی آمدنی‘ زکوٰۃ اور انفاق سے جو مال آتا وہ مرکزی بیت المال میں جمع ہوتا اور مسجد نبویؐ کے پہلو میں ایک کمرے میں موجود ہوتا۔ ان سب کا ایک رجسٹر مرتب کرنا حضرت بلالؓ کی ذمہ داری تھی۔ کس نے کیا دیا؟ کیا عطیہ آیا‘ کس کو کیا ادائیگی کی گئی‘ مالِ غنیمت سے آنحضورؐ کا جو حصہ ہوتا اس کا الگ حساب رکھنا‘ نبی اکرمؐ کبھی پوچھتے کہ بلال میرے حصے کی کوئی رقم بیت المال میں ہے؟ تو آپؓ رجسٹر دیکھ کر بتا دیتے کہ آپؐ کا حصہ موجود ہے یا نہیں۔ اگر نہ ہوتا تو آپؐ کہتے کہ کسی سے قرض لے کر فلاں شخص کی مدد کر دو اور جب میرے حصے کی آمدنی آئے تو اس میں سے قرض ادا کر دینا۔ یہ سارا حساب کتاب حضرت بلالؓ تحریری طور پر رجسٹر میں رکھتے تھے۔
اُس کے علاوہ آپؐ نے حضرت بلالؓ کو مؤذن بنایا۔ آج کے دور میں ہمارے نزدیک مؤذن کا مطلب ایک معمولی کام کرنے والا آدمی ہے۔ پانچ وقت دروازہ کھولنا‘ گھڑی میں وقت دیکھنا اور لائوڈ اسپیکر میں اذان دینا۔ یہ مؤذن کا کام ہے۔ لیکن دورِ نبویؐ میں مؤذن کو علم فلکیات (اسٹرانومی) کی شدید ضرورت تھی۔ اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ ستاروں کو دیکھ کر یہ اندازہ کر لے کہ تہجد کا وقت ختم ہوگیا ہے‘ صبح صادق شروع ہوگئی ہے‘ اذانِ فجر اب دینی ہے۔ ظہر اور عصر میں تو اور بھی مشکل تھی اور سورج کی کفیت دیکھ کر ظہر اور عصر کے وقت کا تعین کیا جاتا تھا۔ آج بھی اگر ہم کسی صحرا میں چلے جائیں اور ہمارے پاس موبائل یا گھڑی نہ ہو تو اس قدر ایڈوانس معاشرے کا فردہونے کے باوجود ہم ٹھیک وقت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ حضرت بلالؓ کو رسول اکرمؐ نے اتنا علم عطا کیا کہ وہ مؤذن بنے اور مؤذن کا مطلب ہے بہت بڑا کام۔ اور یہ ہے صلاحیتوں کا ارتقاء۔

-5معاشی حالات کا ارتقا

معاشی ارتقاء کا بڑا انحصار صلاحیتوں کی ارتقا پر ہے۔ہمیں اپنے معاشی حالات کو سدھارنا اور اس میں استحکام پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ اسلام میں مانگنے والے کو پسند نہیں کیا گیا بلکہ دینے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ لینے والا ہاتھ کمزور ہوتا ہے اور دینے والا ہاتھ مضبوط ہوتا ہے۔ زکوٰۃ دینے والوں کی فضیلت ہے جن کے پاس پیسہ ہو وہ زکوٰۃ دے سکتے ہیں‘ وہ حج و عمرہ کرسکتے ہیں‘ وہ صدقہ و خیرات کر سکتے ہیں۔ اور جن کے پاس کچھ نہیں وہ کیا کرسکتے ہیں؟ اس لیے ضروری ہے کہ حلال طریقے سے پیسے اور دولت کمائیں‘ اپنے خاندان میں معاشی استحکام لائیں اسلام کو اس کو پسند کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو سب سے بڑا چیلنج مہاجرین صحابہؓ کا معاشی معاملہ تھا۔ مہاجرین صحابہؓ نے جو کچھ ان کے پاس تھا‘ مکے میں چھوڑ کر مدینہ چلے آئے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ کوئی سوسائٹی اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی ہے جب تک اس کے پیٹ کے سوال کو حل نہ کیا جائے‘ اس کی ضروریات زندگی کو پورا نہ کیا جائے۔ اُس وقت تک انسان دین کے لیے وقت دینے سے قاصر ہے جب تک معاشی طور پر اوسط درجے کا استحکام نہ ہو۔ اس ضمن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انتہائی نادر نسخہ تیار کیا اور مکہ اور مدینہ کے مہاجرین کے درمیان عقد مواخات کروایا۔ معاشی طور پر صحابہؓ کو ایک برادرانہ رشتے میں باندھا تاکہ یہ معاشی طور پر پرسکون ہوں اور اس کے بعد بڑے بڑے معرکے سر انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کا جو انصاری بھائی بنایا گیا اس نے کہا کہ آپ میرے مال میں سے آدھا لے لیجیے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا مجھے کچھ نہیں چاہیے‘ مجھے بازار کا راستہ بتا دو۔ آپؓ بازار گئے اور چھوٹی سی تجارت کی۔ انہوں نے پھر مزید خریداری کی اور فروخت کی اور دس سال کے اندر اندر آج کی اصطلاح میں ارب پتی صحابیؓ بن گئے۔یہ بات پھر جان لیجیے کہ معاشی حالات کے سدھار کا بڑا انحصار روحانی ارتقا اور اپنی صلاحیتوں کی ارتقاء پر ہے۔ اور یہ استحکام ہماری زندگی کا اہم جز ہے۔

-6آپس کے تعلقات کا ارتقاء

اس عمل سے ہماری زندگی بالکل خالی ہے اور اس میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ باہر سے دیکھیں تو ہم بہت بااخلاق‘ مہذب اور خوش گفتار نظر آتے ہیں لیکن اگر کسی کو ہماری زندگی میں جھانکنے کا موقع ملے تو اسے پتا چلے گا کہ بیوی سے ہمارا رویہ خراب ہے‘ بھائی بہنوں سے ناچاقی ہے اور محلے کے لوگ بھی ہم سے پریشان ہیں۔ تعلقات کی خرابی انسان کو کھا جاتی ہے اور انسان مضمحل اور کمزور ہو جاتا ہے۔ تعلقات کو خوش گوار بنانا اور پھر اس کو مستحکم رکھنا یہ بھی ہماری زندگی کا ایک پہلو ہے جس کی طرف توجہ کی شدید ضرورت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سورۃ تحریم میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے رسولؐ آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کیوں کر لیا ہے؟ اس کے بعد فرمایا آپؐ اپنی بیویوں کی مرضی کا خیال رکھتے ہیں۔ اس پر مفسرین نے لکھا ہے کہ بیویوں کی دل داری کرنا آپؐ کے مزاج کا حصہ تھا‘ اُن سے محبت اور اُن سے دل داری اور ان سے خوش اسلوبی سے پیش آنا یہ آپ کا وصف تھا۔ لیکن چونکہ آپؐ نبی تھے اس لیے اگر آپ کسی شے کو حرام کر دیتے تو وہ شے ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اس کام سے روکا۔ ورنہ بیویوں کی دلداری کے لیے آپؐ نے یہ کام کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلقات کی خوش گواری کے لیے کہاں تک جایا جاسکتا ہے۔

-7تہذیبِ نفس

اپنے آپ کو مہذب بنانا۔ کبھی کبھی انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ میں بہت بڑا آدمی ہوں‘ میرے اندر بہت قابلیت اور صلاحیت ہے‘ میرے بغیر کسی کا کام نہیں ہوسکتا۔ اُس کے چلنے میں‘ بات کرنے کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص اس واہمہ میں مبتلا ہے کہ میں بہت بڑی چیز ہوں۔ دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو کہا جاتا ہے اپنی ملامت کرنے والا۔ یعنی اپنے آپ کو کوڑے مارنے والا‘ اپنی نظر میں اپنے آپ کو یہ سمجھنا کہ میں بہت حقیر ہوں‘ میں فقیر آدمی ہوں‘ میں گناہ گار ہوں‘ مجھے آتا ہی کیا ہے‘ میں جھوٹا بھی ہوں‘ بہت کم تر اور ذلیل آدمی ہوں۔
ان دونوں انتہائوں کے درمیان اسلام انسان کی تربیت کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز نہ سمجھیے‘ اسلام کی نگاہ میں موسیٰ علیہ السلام بہت بڑے نبی تھے لیکن ان کو سیکھنے کے لیے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا۔ فوق کل ذی علم العلیم یعنی ہر صاحبِ علم کے اوپر ایک دوسرا صاحبِ علم ہوتا ہے۔ یہ احساس کہ میں بہت کچھ ہوں یا یہ کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں‘ دونوں ہی غلط ہیں۔
ان کے درمیان انسان اپنے نفس کی تہذیب کرے‘ لیاقت‘ صداقت‘ صلاحیت‘ صالحیت‘ دیانت داری‘ متانت‘ خوش اسلوبی‘ خوش اخلاقی‘ خوش گفتار اور خوش کردار یہ سب خصوصیات اپنے اندر پیدا کرنا اور انہیں بتدریج ترقی دینا تہذیبِ نفس ہے۔

-8آخری چیز ہے دوسروں کے لیے جینا

اپنے آپ کے لیے جینا کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے۔ جانور بھی اپنے آپ کے لیے جیتا ہے۔ جینا وہ ہے جو دوسروں کے لیے بھی ہو۔ انسان کو انسانیت کے لیے‘ معاشرے اور سماج کے لیے‘ اپنے ملک کے لیے اور دین کے لیے جینا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہؓ کو تیار کیا انہوں نے اپنی زندگی کی قربانیاں اسلام کو پھیلانے‘ اس کی اقامت کے لیے اور معاشرے کی ضروریات کی تکمیل کے لیے قربان کر دیں۔ انسانوں کو اپنے خول میں بند ہونے کے بجائے خول سے باہر نکلنا ہے اور انسانیت کے لیے مفید سے مفید تر بننا ہے۔
یہ آٹھ پہلو ہیں جن میں ہم تمام کارکنان تحریک اسلامی کو اپنی زندگی میں تبدیلی اور ارتقاء چاہتے ہیں۔

حصہ