بلڈی سویلین یا۔۔۔۔؟۔

287

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بائی ڈیفالٹ فوج کے شانہ بشانہ کھڑا رہنے کو ہمیشہ سے ہی حب الوطنی سمجھتا رہا ہے۔ اور دوسری اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستانی معاشرے کی اسی خوبی کو کمزوری جانتے ہوئے ہمارے ارباب اختیار و ارباب اقتدار نے ہمیشہ ہی ناجائز فائدہ سمیٹا۔
آج جو بھی سیاسی و داخلی صورتحال ہے اس میں یقین جانیے جتنا سوچتا ہوں میرے دانتوں پسینہ آ رہا ہے۔
میں مانتا ہوں کہ ہمارا پاکستانی معاشرہ لاکھ سیاسی جماعتوں کے زیر اثر ہو مگر جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ بائی ڈیفالٹ ہم فوج کو اپنا ہیرو مانتے ہیں اور مانتے رہیں گے۔
آپ اگر مزید وضاحت طلب کریں گے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ تحریک نظام مصطفی کے دوران جس قدر بڑی سیاسی ماس موومنٹ بنی تھی جس کے نتیجے میں بھٹو مذاکرات پر آمادہ ہوا اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں جیسے ہی داخل ہوئے اسی دوران فوجی جرنل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ جمایا اور پھر ایک عدالتی کاروائی کو بنیاد بنا کر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر پہنچا کر ہی دم لیا گیا۔ اس کے بعد سے آج تک ذوالفقار علی بھٹو کی لاش پر پورا خاندان سندھ پر حکمرانی کر رہا ہے۔
خود ضیاء الحق نے پاکستانیوں کی فوج سے والہانہ محبت کو اپنے حق میں ا س خوبصورتی سے استعمال کیا کہ سیاسی جماعتیں دنگ رہ گئیں۔ یہاں تک کہ مذہبی جماعتیں بھی واضح طور پر منقسم دکھائی دیں۔ ضیاء الحق نے اپنی آمریت کو دوام دینے اور فوجی دردی اتارنے کے لیے اسلام کے نظام کے لیے عوامی ریفرنڈم کروایا اور پچانوے فیصد ووٹوں کی اکثریت سے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی اور فوجی وردی اتر کر شیروانی میں حکومت چلائی۔
فوج ہماری اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے اٹھاتے آج پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی و عسکری قوت کے طور پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ معاملہ کب تک چلتا ہے ؟ اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
آج بظاہر فوج پر برا وقت ہے۔ ملک کے اندر اور بیرون ملک اس کے ہر فیصلے پر شدید تنقید ہورہی ہے۔
خاص طور پر عمران خان کو بطور وزیر اعظم پاکستانیوں پر مسلط کرنے کا سہرا بھی فوج کے سر پر ہے۔ جس کا خمیازہ وہ اپنی بدنامی کی صورت میں پہلے دن سے ہی بھگت رہی ہے۔ مگر یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ فوج عمران خان کو ایک خاص وقت تک ہی برداشت کرے گی۔ اور مجھے اب ایسا لگتا ہے کہ وہ خاص وقت ہماری عدلیہ نے فراہم کردیا ہے جس کے بعد فوج عمران خان کے’ کرشماتی شخصیت’ کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار پھینکے۔
فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی جو ججمنٹ سامنے آئی ہے اس نے فوج کو خاصا مخمصے میں ڈال دیا ہے۔
اگرچہ یہ ملک کی تاریخ میں کوئی پہلا فیصلہ نہیں ہے جس پر اتنا غم و غصے اور اضطراب کا مظا ہرہ کیاجارہا ہے۔ اس سے پہلے سقوط مشرقی پاکستان کے عوامل کا جائزہ لینے جو عدالتی کمیشن قائم کیا گیا تھا اس کی ججمنٹ بھی بالکل اسی نوعیت کی واضح اور دوٹوک تھی۔ مگر اس وقت چونکہ فوج مکمل طور پر انڈر پریشر تھی لہذا کھل کھلا کر اخبارات اور میڈیا میں مہم نہیں چلائی گئی ، مگر کیا وہی جو اس نے کرنا تھا۔
یعنی کہ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو (نیشن کے گریٹر انٹرسٹ ) یعنی عوام کے وسیع تر مفاد میں منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ یہاں تک کہ تمام مجرموں کو صاف صاف بچا لیا گیا اور ان کو طبعی عمر تک پہنچانے کا انتظام و اہتمام کیا گیا۔ اور سب سے بڑے مجرم جرنل محمد یحییٰ خان کو محض نظر بند رکھ کر معا ملات پر پردہ ڈا لا گیا اور پھر فوج نے اپنے اس شکست خوردہ جرنل کی موت پر توپوں کی سلامی کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر قبر میں اتارا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس وقت کروڑوں پاکستانیوں میں اضطراب کی لہر دوڑی تھی کہ نہیں ؟
مگر قوم نے اس صریحاً زیادتی کے باوجود فوج کو اپنی آنکھوں کاتارہ بنائے رکھا۔
جس طرح پرویز مشرف کے معاملے میں خصوصی عدالت نے کاروائی چلائی ہے اس کے صبر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ
پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کا یہ مقدمہ6سال سے زائد عرصے تک چلتا رہا۔
اس مقدمے کو مسلم لیگ حکومت نے اپنی حکومت کے ابتدائی مہینوں میں ہی ‘ آئین شکنی ‘ کا مقدمہ دائر کر دیا تھا، سابق وزیراعظم نوازشریف نے 26 جون 2013 کو انکوائری کیلیے وزارت داخلہ کو خط لکھا جس پر وزارت داخلہ نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس نے16نومبر2013 کو رپورٹ جمع کرائی، لا ڈویڑن کی مشاورت کے بعد13 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کرائی گئی جس میں ان کے خلاف سب سے سنگین جرم متعدد مواقع پر آئین معطل کرنا بتایا گیا تھا۔ جس کے بعد خصوصی عدالت نے 24 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کو بطور ملزم طلب کیا جبکہ31 مارچ 2014 کو ان پر آئین توڑنے، ججز کو نظربند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترمیم کرنے، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کی فرد جرم عائد کی گئی۔ شروع میں پرویز مشرف نے اس کو سنجیدہ لیا ہی نہیں ، یا پھر ان کے وکلاء کی ٹیم نے ان کو بلاجواز اعتماد فراہم کیا چنانچہ پرویزمشرف نے صحت جرم سے انکار کیا جس کے فوری بعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کیا گیا،18 ستمبر 2014 کو پراسیکیوشن نے پرویز مشرف کے خلاف شہادتیں مکمل کیں اور پرویز مشرف کو بطور ملزم بیان ریکارڈ کرانے کا کہا گیا، انھیں مسلسل غیرحاضری پر پہلے مفرور اور پھر اشتہاری قرار دیا گیا۔ ان چھ سالوں کے دوران پرویز مشرف صرف ایک مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے اور پھر بیمار ہوکر سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل ہوئے، 2016 میں ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوا کر ملک سے باہر چلے گئے، خصوصی عدالت کی متعدد دفعہ تشکیل نوکی گئی اور ججز بدلتے رہے، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس طاہرہ صفدر سمیت 7 ججز نے اس مقدمہ کو سنا۔
لہٰذا پرویز مشرف کا یہ کہنا کسی طور بھی درست نہیں کہ انہیں نہیں سنا گیا اور یکطرفہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔
سقوط مشرقی پاکستان پر قائم کمیشن نے بھی دو سو سے زیادہ افراد کے بیانات اور ستر کے لگ بھگ شہادتیں قلمبند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کر دی تھی جو “ٹاپ سیکرٹ” قرار دے کر ملک کے عوام سے چھپا لی گئی تھی۔ اگرچہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے رپورٹ کی اشاعت کا مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا۔ مگر اس رپورٹ کے بعد ملک میں قائم ہونے والی کسی حکومت نے بھی اس مطالبہ پر توجہ نہ دی حتیٰ کہ اس رپورٹ کے کچھ حصے مبینہ طور پر چوری ہوئے اور بھارت کے بعض اخبارات نے انہیں شائع کر دیا۔ جس کے بعد بالاخر اس کے رپورٹ کے آٹھ حصوں میں سے صرف دو حصے “اوپن” کیے گئے ہیں جبکہ باقی چھ حصے بدستور ” صیغہ راز” میں ہیں اور اس کے مندرجات کو خارجہ تعلقات کے “حساس امور” قرار دے کر حسب سابق ناقابل اشاعت کے زمرے میں رکھا گیا ہے تاہم جو حصہ شائع ہوا ہے وہ بھی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے اور اس نے ان تمام شبہات ‘ خدشات اور الزامات کی تصدیق کر دی ہے جو اس عظیم سانحہ کے حوالہ سے اس وقت کی فوجی و سیاسی قیادت اور نوکر شاہی کے بارے میں عوامی حلقوں میں وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق جنرل یحییٰ خان‘ جنرل عبد الحمید خان‘ جنرل پیرزادہ‘ جنرل ٹکا اور ان کے رفقاء نے25 مارچ 1971کو صدر محمد ایوب خان مرحوم کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش کی جس پر ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
جنرل یحییٰ خان سمیت 15 اعلیٰ فوجی افسران اپنی نااہلی‘ کرپشن‘ بدعنوانی اور بدکرداری کی وجہ سے تقسیم ملک کے ذمہ دار ہیں‘ ان کا کورٹ مارشل کیا جائے۔
اب دیکھئے اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ واضح طور پر رپورٹ کی تجویز میں لکھا گیا کہ ان تمام کو سزا سنائی جائے مگر ہماری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سب مجرموں کو صاف صاف بچا لیا گیا اور پھر تماشا یہ ہوا کہ ان فوجی افسران نے اپنے مشترکہ مفاد کی خاطر سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں دھمکانے کے علاوہ روپے پیسے کا لالچ دے کر انتخابات کے نتائج اپنے حق میں کرانے کی کوشش کی۔
لیفٹیننٹ جنرل عمر نے سیاسی جماعتوں کو قومی اسمبلی کا اجلاس جلد بلانے کی مخالفت کرنے پر اکسایا۔
جنرل ٹکا خان مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر ہو کر ڈھاکا پہنچے تو انہیں حلف اٹھانے کے لیے کوئی جج میسر نہیں تھا۔
جرنل یحییٰ خان نے عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان پر دباؤ ڈالا کہ وہ دستور سازی اور چھ نکات کو نظر انداز کر کے حکومت سازی میں پیپلز پارٹی سے تعاون کریں۔
شیخ مجیب الرحمان واجبی سطح کے لیڈر تھے‘ چھ نکات ان کے مرتب کردہ نہیں تھے اور نہ ہی ان میں اتنی اہلیت و صلاحیت تھی بلکہ یہ چھ نکات جو ملک کے سب سے بڑے سیاسی تنازعہ کی بنیاد بنے مشرقی پاکستان کے ینگ سی ایس پی افسران کے ایک گروپ نے مرتب کیے تھے اور انہیں بیرونی عوامل کی پشت پناہی حاصل تھی جنہوں نے ان چھ نکات کی تشہیر اور مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کے حق میں تیار اور متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تین مارچ کو ڈھاکا میں عوامی لیگ کے احتجاجی جلسہ پر فوج کی فائرنگ سے ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔
25مارچ کو فوج نے ڈھاکا میں آدھی رات کو پوزیشن سنبھال کر فوجی ایکشن شروع کیا جس کے نتیجے میں پچاس ہزار کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوئے۔
جنرل یحییٰ خان اور ان کے ساتھی جرنیلوں کا اکثر وقت عورت اور شراب کے ساتھ مصروف گزرتا تھا اور اس مقصد کے لیے راولپنڈی صدر میں صدر یحییٰ خان کا ذاتی بنگلہ بدکاری کا اڈہ بن گیا تھا۔
رپورٹ میں ایک درجن سے زائد عورتوں کی فہرست اور کوائف دیے گئے ہیں جن کے شب و روز یحییٰ خان اور ان کے ساتھی جرنیلوں کے ساتھ گزرتے تھے اور وہ دوسری عورتیں بھی سپلائی کرتی تھیں۔
یحییٰ خان اکثر اوقات رات سات آٹھ بجے ڈنر کے بہانے ایوان صدر سے نکلتے اور صبح واپس آتے۔
صدر یحییٰ خان نے صدارتی آفس میں جانا بھی ترک کر رکھا تھا اور بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران جی ایچ کیو کے آپریشن روم میں وہ صرف دو تین بار گئے۔
عسکری ادارے کے سربراہ کی اخلاقی گراوٹ کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نومبر 71میں عین حالت جنگ کے دوران یحییٰ خان نے گورنر ہاؤس لاہور میں تین روز ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ بسر کیے۔
جنرل نیازی پان سمگل کرتے تھے‘ رشوت لیتے تھے اور رقاصاؤں کے گھروں میں جاتے تھے۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے۔
یہ بھی رپورٹ ہوا اور ثابت ہوا کہ ‘بریگیڈیر حیات اللہ ‘نے مقبول پور کے محاذ جنگ میں عورتیں بنکرز اور مورچوں میں طلب کر لیں۔
‘ بریگیڈیر جہاں زیب ارباب’ نیشنل بینک کی سراج گنج شاخ سے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے لوٹنے کی واردات میں اپنے دوسرے چھ فوجی افسر ساتھیوں سمیت ملوث ہیں۔
جی ایچ کیو نے جنرل نیازی کو بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ فیصلہ جنرل نیازی کا ذاتی تھا۔
یہ وہ جنگیں لڑنے والے جیالے بانکے سجیلے جوانوں آنکھوں کے تاروں کے کارنامے ہیں جن پر قوم کو کوئی اضطراب نہیں۔۔۔ حیرت ہے !
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ آرمی نے کورٹ مارشل کرکے اپنے تین افسران کو غدار قرار دیا جن میں سے دو مفرور ہوکر امریکہ میں موجود ہیں اور ایک کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس وقت اخلاقی و قانونی تقاضے پورے کئے گئے تھے ؟
عافیہ صدیقی کو کس قانون کے تقاضے کے تحت امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا ؟ جامعہ حفصہ کی سینکڑوں طالبات اور حفاظ کو بمبا رمنٹ کرکے صفحہ ہسی سے اڑا تے وقت کس آرٹیکل کو بنیاد بنایا تھا ؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ پاکستانی حکام نے سیکڑوں افراد کو اغوا کیا ہے ، ان پر دہشت گردوں کے تعلقات کا الزام عائد کیا ہے اور انہیں خفیہ مقامات پر رکھا ہوا ہے یا امریکی پیش کردہ انعامات کے لیے انہیں امریکی حکام کے حوالے کردیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سینئر ڈائریکٹر ریسرچ کلاڈو کورڈون نے کہا کہ امریکی نامعلوم دہشت گردی کے مشتبہ افراد کو ہزاروں ڈالر کی رقم فراہم کرنے کے معمول کے مطابق ، بے گناہ افراد کو غیر قانونی نظربند کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لندن میں مقیم محقق انجیلیکا پاٹھک نے کہا کہ امریکی انعامات کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی گرفتاریوں اور حقوق کی پامالیوں کا سبب بنی۔
ایمنسٹی کے الزامات ، بڑے پیمانے پر ایک وقت کے نظربند افراد کے ساتھ انٹرویوز پر مبنی ، ملک کے صدر ، جنرل پرویز مشرف کے ، “ان لائن آف فائر” میں اپنی یادداشت میں یہ انکشاف کرنے کے کچھ دن بعد ہی سامنے آئے ہیں ، کہ پاکستان نے القاعدہ کے 689 دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا ، اور 369 سے زیادہ واشنگٹن کا رخ کیا۔
پرویز مشرف نے یہ بتائے بغیر کہ کتنا معاوضہ ادا کیا گیا ، انہوں نے کہا ، “ہم نے کل لاکھوں ڈالر کی رقم حاصل کی ہے۔”
یہ تو قدرت کا نظام ہے۔ انسان وہی کاٹتا ہے جو بویا گیا تھا۔

حصہ