مشرف کی پھانسی اور سوشل میڈیا

218

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سوشل میڈیا کا استعمال فیس بک ، ٹوئٹر ،واٹس ایپ کیساتھ ساتھ کئی مختلف جہتوں میں پھیل رہا ہے ۔گزرتے وقت کے ساتھ کمر شلائزیشن کی دوڑ میں اس میں کئی ورائٹی آتی جا رہی ہیں ٹک ٹاک سے بات شروع کریں، یو ٹیوب کی وائنز ( ویڈیوز) کا ذکرکریں، انسٹا گرام یا اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارمز کی بات کریں ۔دنیا کی آبادی کا تخمینہ 7.7 ارب افراد کی لگائی گئی ہے ، ان میں سے نصف آن لائن سہولت کی حامل ہے اور ان میں سے فیس بک کے کوئی 2.4 ارب استعمال کنندگان ہو چکے ہیں ، گویا دنیا کی ایک تہائی آبادی۔مائی اسپیس کے نام سے 2004میں سماجی رابطوں کی سائٹ نے سنگ میل کے طور پر آغاز کیا۔اس سے قبل 2003میں Linkedinشروع ہو چکی تھی۔ 2005میں Redditنے اور 2006میں فیس بک اور ٹوئٹر نے پھر2007میں Tumblr کے بعد 2010میں انسٹا گرام اور اس دوران کئی مزید سماجی رابطوں کی سائٹس کا سلسلہ دنیا بھرمیں نوجوان نسل کے لیے نت نئی کشش رکھنے والی سہولیات کے ساتھ بڑھتارہا جن میں سے کئی کامیاب ہوئیں اور کئی ناکام ۔2016میں ٹک ٹاک لانچ ہوئی اور اب تین سال کے اندر 50 کروڑ استعمال کنندگان کے ساتھ اس وقت تیزی سے بلندیوں کا سفر کر رہی ہے ۔ ٹک ٹاک کو تو باقاعدہ نشہ کے مترادف قرار دیا جاتا ہے ، اس کے باقاعدہ ’ٹک ٹاک اسٹارز ‘ متعارف ہوچکے ہیں۔اس وقت دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں کوئی سو کے قریب نمایاں سوشل میڈیا سائٹس کام کر رہی ہیں۔لوگ مستقل جڑتے جا رہے ہیں ، نئی کہانیاں اور نت نئیتجربات و سانحات واقعات سامنے آتے رہیں گے۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 2 میں ایک ہندو گھرانے نے اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ مقامی تھانے میں کرائی ۔پولیس کو دوران تفتیش ایک سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو ملی ،جس میں ایک لڑکی روڈ پر کسی کا انتظار کر رہی تھی اور بعد میں وہ راضی خوشی کار میں بیٹھ کر چلی گئی تھی ۔مذکورہ لڑکی کے والدین نیاسے اغواء قرار دیا ۔پانچ دن بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی جس میں وہی لڑکی اپنے شوہر کے ساتھ اقبالی بیان دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر چکی ہے اور اب اس کا نام مہک فاطمہ ہو گیا ہے ۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے یونیورسٹی دوست عاشر کے ساتھ نکاح کر لیا ہے ۔ اسکول کے زمانے سے اُسے اسلام سے لگاؤ ہو گیا تھا اور میں نے اسلام سے متعلق معلومات بھی جمع کیں۔’’والدین کو جب پتہ چلا تو انہوں نے مجھ پر خاصی سختیاں کیںیہاں تک کہ میرا گھر سے باہر نکلنا بند ہو گیا۔ مجھے بھارت بھی بھیجا گیا تاکہ میں وہاں شادی کر کے ہندو سماج میں رچ بس جاؤں تاہم میں واپس آگئی۔اس کے بعد مجھے برطانیہ بھیجنے کی کوشش کی ، ان تمام سختیوں سے پریشان ہو کر میں نے مجبوراً گھر چھوڑا اوردرگاہ بھرچونڈی شریف میں جا کر اسلام قبول کیا‘‘۔اب اگلے روز والدین ویڈیو آنے پر کراچی پریس کلب کے باہر سول سوسائٹی کے نام پر اپنا احتجاج کر تے نظر آئے ۔ان سب نے وہی پرانی کہانی دہرائی اور درگاہ بھرچونڈی شریف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ باب الاسلام سندھ کی ایک درگاہ بھرچونڈی شریف (سکھر)ہے جس کے جلیل القدر بزرگ ،’’جماعت احیائے اسلام‘‘ کے بانی حضرت پیر عبدالرحمن نے تحریک پاکستان کوکامیابی سے ہم کنار کرانے میں فقیدالمثال کردار ادا کیا۔اس درگاہ سے منسلک پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبد الخالق عرف میاں مٹھو ،اس حوالے سے خاصا خبروں میں رہتے ہیں کہ سندھ کے اندر ہندو لڑکیوں کا قبول اسلام انہی کی درگاہ میں کیوں ہوتا ہے ؟صرف کم عمر و خوبصورت لڑکیاں ہی کیوں اسلام قبول کرتی ہیں ؟ کیوں کوئی مسلمان انہیں بہن نہیں بلکہ صرف بیوی ہی بناتا ہے؟ کراچی سے اغواء ہونے والی لڑکی شہر کے ہزاروں مدرسوں اور معروف علماء کے ہوتے ہوئے اتنی دور کیوں جا کر اسلام قبول کرتے ہیں؟اس طرح کے کئی سوالات کو بنیاد بنا کر پاکستان مخالف اور پاکستان میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کا رونا رویا جاتا ہے۔
تین چار دن سے پاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر جنرل (ر) پرویز مشرف ہر طرح کی خبروں پر چھائے ہوئے ہیں ۔ان پرآئین توڑنے، ایمرجنسی لگانے، ججز کو نظر بند کرنے کے الزامات ثابت ہوئے اور انہیں سنگین غداری کا مرتکب ٹھہرا کرخصوصی عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی۔چھ سالہ طویل کیس 125کے قریب سماعتوں پر مبنی یہ تیاریخ ساز فیصلہ سنا کر عدالت وججز نے جہاں ایک بڑی مثال قائم کی وہاں مجرم کے ساتھیوں کو شامل جرم نہ کر کے اور سزاوار نہ قرار دے کر ناقدین کو بڑا موقع فراہم کیا۔یہی نہیں بلکہ فیصلہ میں جسٹس وقار سیٹھ نے کہا ہے کہ پھانسی سے قبل اگر پرویز مشرف فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی لاش ڈی چوک لائی جائے اور 3 روز تک وہاں لٹکائی جائے۔اب اس پورے معاملے پر شروع میں تو سب حیران ہی رہ گئے ، پھر جیسے ہی پاک فوج کا فیصلہ کے خلاف سخت رد عمل سامنے آیا تو سب اُسی کے پیچھے اندھا دھند چل پڑے ۔جو جو لائن یا اشارے آتے رہے وہی لوگ سوچے سمجھے بغیر فارورڈ کرتے رہے۔کسی نے کہا کہ 3جنگیں لڑیں، کہیں سے آواز آئی کہ خانہ کعبہ کا محافظ، کسی نے معاشی ترقی یا د دلائی ، کسی نے خدمات یاد دلائی۔دوسری جانب آئین توڑنے، لال مسجد، اکبر بگٹی، ملک کو امریکی کالونی بنانے، ایٹمی پروگرام کے دشمن، عافیہ صدیقی سمیت بے شمار ایشوز یاد دلائے ۔سب سے زیادہ مزا وزیر اعظم عمران خان کے کلپس کا تھا۔ماضی میں کئی ٹی وی پروگرامات و عوامی پروگرامات میں جنرل مشرف کو ملک کا سب سے بڑا غدار ، قابل گرفت و سزا کہنے والے عمران خان کے کلپس کو یکجا کر کے خوب وائرل کیا گیا۔اصل میں تحریک انصاف کے سپورٹرز بھی اس عدالتی فیصلہ کے خلاف سوشل میڈیا کے میدان میں کود چکے تھے ۔ ایک اور اہم بات اسی دن ہوئی کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار پاکستان پیپلز پارٹی کی تمام اعلیٰ قیادت بشمول سابق صدر آصف علی زرداری ، اُن کی ہمشیرہ رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور ، خورشید شاہ اور اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو بھی ضمانت مل گئی ۔ کیس جاری ہے صرف گرفتاری سے ضمانت ملی تھی لیکن اس کو اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ضمانت کو بنیاد بنا کر سب عدلیہ کے فیصلہ کے خلاف متحرک ہو گئے ۔یہ سلسلہ تواتر سے جاری رہا اور جاری رہے گا جب تک لوگ دونوں معاملات کے فرق کو نہیں سمجھ سکیں گے ۔فیصلہ کے بعد پرویز مشرف کا دبئی کے کسی ہسپتال کے بیڈ پر سے ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ، جس میں انہوں نے غلط فیصلہ کا رونا رویا۔کامران سہیل اس صورتحال پر لکھتے ہیں کہ ۔’’عملاً تو پرویز مشرف بستر مرگ پر پڑا ہے، سب جانتے ہیں اس کو قدرت سزا دے رہی ہے۔اب مشرف لٹک کے مرے یا جئے اس بات سے کوئی فرق نہیں۔اصل بات یہ ہے اگر فیصلہ برقرار رہا تو آئندہ آئین کی معطلی کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔‘‘
بھارتی آئین میںمقبوضہ کشمیر کی الگ حیثیت سے متعلق شق 370 کی 5 اگست 2019کومنسوخی ہوئی ۔اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مستقل لاک ڈاؤن کے بعد بھارت عالمی خبروں کی زد میں آگیا۔بھارت نے وہاں کی صورتحال کے ابلاغ عام کو روکنے کے لیے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن پالیسی اپنائی ۔کشمیر سے شروع ہونے والا سلسلہ اب بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں تک جا پہنچا۔گذشتہ دس دنوں سے بھارتی حکومت نے اُن ریاستوں /شہروں میں انٹرنیٹ پوری طرح بند کیا ہوا ہے، کرفیو نافذ کیا گیا ، فوج کو بلوا لیا گیا ۔شہریت توسیعی بل حالیہ دنوں بھارت کی لوک سبھا میں منظور ہوا ۔ اس نئے قانون کے مطابق ’’31دسمبر2014سے قبل کسی بھی طریقہ سے پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش سے بھارت میں آنے والے ہندو، بدھ، سکھ، جین، عیسائی ، پارسی مذہب کے ہر فرد کو بھارت کی شہریت دے دی جائے گی ۔‘‘
بھارت میں دنیا کے سب سے زیادہ غیر ملکی آباد ہیں، بی جے پی حکومت نے اِس توازن کو بہتر کرنے اور معاملے کو حل کرنے کے لیے اس معاملے کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بھی بنایا تھا۔اُن کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہب کے نام پر مختلف تعصبات کا شکار غیر مسلم افراد کو (مبینہ )نفرت آمیز رویہ سے بچانے کے لیے اس بل کو پیش کیا گیا۔اس بل نے بھارت کے روایتی مسلم نفرت پر مبنی تعصب اور بھارتی حکومتی پارٹی بی جے پی نے اپنی ہندوتوا سوچ کو کھل کر ظاہر کیا ہے۔ اس قانون کے بعدسب سے پہلا بنیادی سوال بل میں شامل نہ کیے گئے سب سے اہم مذہب مسلمان کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہونے پر کیا گیا۔اس عمل کو ریاست کے آئین و دستور کے خلاف قرار دیا گیا کہ بھارت تو سیکولر ریاست ہے اس میںمذہب کی بنیاد پر کسی کے درمیان فرق نہیں کیا جا سکتا۔یہ بھی کہا گیا کہ ایسے تمام اقدامات سے بھارت کی عالمی سیکولر ساکھ متاثر ہوگی ۔پھر اگر بل میں چھ مذاہب کا نام لے ہی لیا گیا تو ان سب میں ’مسلمان ‘کا نام کیونکر نہیں شامل کیا گیا جو کہ خود بھارت میں دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے ۔بھارتی یکطرفہ موقف یا سوچ کے مطابق چونکہ مذکورہ بالا تین ممالک اسلامی ہیں ،اس لیے وہاں اگر مذہبی تعصب ہوگا بھی تو وہ تمام غیر مسلموںکے ساتھ ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت کے تمام آبائی رہنماؤں میں سے کسی نے بھی برصغیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہونے کی مخالفت کی تھی اور ایک سیکولر ریاست بنانے کا کہا تھا۔ہر بھارتی فریڈم فائٹر و آزادی کے ہیروز نے ہندو ریاست کے قیام کی مخالفت کی تھی باوجود اس کہ ہندوستان کو تقسیم کرکے پاکستان اسلام کے نام پر بن رہا تھا۔مذہب کا نام جان بوجھ کر لیا گیا جس پر سب حیران ہیں کیونکہ بھارت کے دستور میں کسی بھی قسم کے مذہبی معاملے یا نام تک شامل کرنے کی گنجائش نہیں۔بی جے پی کے تواتر سے مسلم دشمن اقدامات جن میں انتہاپسندی، غندہ گردی و قتل عام ، طلاق کیس، بابری مسجد، کشمیر اور اس کے بعد اب شہریت بل کو اُن کے ’ہندوتوا‘ ایجنڈے کا ہی حصہ محسوس ہوتاہے۔یہ بھی کہا جا رہاہے کہ بی جے پی ، اپنی سوچ کے مطابق لوگوں کے دھیان کو بٹانے کے لیے ہندو مسلم ایشو کو مستقل زندہ رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ ایسی ہندو مسلم تقسیم فارمولے کو بڑھاوا دینے سے ملکی ترقی سے جڑے اصل مسائل پرکسی کی توجہ نہ جا سکے گی۔
اس مقصد کی تکمیل کے لیے گذشتہ دو سالوں میں بھارت میں کئی ایسی فلمیں ڈرامے بنائے گئے ہیں جن میں ’غزوہ ہند‘ کو موضوع بنایا گیا۔ بنیادی طور پر یہ اس بات کا اظہار ہے کہ ’غزوہ ہند‘ کی حدیث اور مسلم عقیدہ بتا کر ’ہندو انتہا پسندی‘ کو اذہان میں فروغ دیا جائے ۔اس سلسلے میں ’طارق فتح ‘ کو عرصہ سے بھارتی میڈیا اس گندے مقصد کے لیے بھر پور استعمال کرتا آرہاہے۔ ’طارق فتح‘ اس وقت ایک متفقہ علیہ ’فتنہ ‘کے علاوہ کچھ نہیں جو اسلام کی من پسند تشریح کر نا پسند کرتا ہے۔پاکستان میں پیدا ہوا،کراچی میں ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی ۔ اپنے متنازعہ اور من گھڑت افکار کے پرچار کی وجہ سے پاکستان میں پھر سعودی عرب پھرکینیڈا اور اب بھارت میں عرصہ سے مقیم ہے۔ اپنے آپ کو ہندوستان کاشہری اس بنیاد پر قرار دیتا ہے کہ پاکستان کا قیام اُسکے لیے گناہ عظیم ہے اور اپنے آپکو فخر سے پنجابی مسلمان کہتے ہیں اور بھی بہت زہر اگلتے ہیں ۔ بس یہ جا ن لیں کہ اُس شخص کے زبانی فتنوں سے بھارت کے مسلمان بھی شدید تنگ ہیں ، بھارتی میڈیا اپنی ریٹنگ بڑھانے ، پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور مسلمانوں کو مزید خراب کرنے کے لیے طارق فتح کا پورا استعمال کرتے ہیں۔ویسے یہ موضوع کچھ طویل ہے اس لیے پر اگلے ہفتہ تفصیل سے بات کریں گے۔

حصہ