دسمبر ستمگر

220

ڈاکٹر سلیس سلطانہ چغتائی
ہر سال دسمبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی بے شمار المناک یادیں جنم لینے لگتی ہیں اور میں بہت جذباتی ہوجاتی ہوں۔ 16 دسمبر کے حوالے سے کئی حادثات جن میں میری بہت پیاری بھانجی جگنو کی جوان موت، آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گردی کا المناک واقعہ، اور سب سے ناقابلِ فراموش سقوطِ ڈھاکا کی یاد، جو ناسور بن کر ہر سال میرے دل کی گہرائیوں میں چبھن بڑھا دیتی ہے۔ میں ایک محب وطن پاکستانی مسلمان ہوں، سوچتی ہوں کیا صرف میرا ہی تعلق مشرقی پاکستان سے تھا، یا مجھ جیسے اور بھی دیوانے ہیں جو آج تک اس زخم کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں۔ میرا خیال ہے پاکستان میں مجھ جیسے اور بھی لوگ ہیں جنہیں مشرقی پاکستان کی یاد آتی ہے، پٹ سن اور چاول کے کھیتوں کی ہریالی انہیں بے چین کرتی ہے، جو ہمارے پاکستان کا انتہائی خوب صورت، سرسبزو شاداب حصہ تھا۔ جس پاکستان کی تشکیل اور بنیاد ڈھاکا میں رکھی گئی اور جس کے حصول میں بنگالیوں کی جدوجہد اور قربانیاں دوسروں سے ہرگز کم نہ تھیں، اس کے توڑنے میں شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل یحییٰ نے بظاہر اہم کردار ادا کیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی بنیاد تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی رکھ دی گئی تھی، اور اس سازش میں پاکستان کے دو اہم کردار اسکندر مرزا اور ایوب خان تھے۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان آرمی کا سربراہ انگریز آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ڈگلس گریسی تھا جسے 1951ء میں ریٹائر ہونا تھا۔ اُس وقت جنرل ایوب خان کا رینک دسواں تھا، ان سے پہلے کئی مسلمان آفیسر کسی نہ کسی فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے اور جنرل ایوب خان ترقی پاکر 16 جنوری 1951ء کو فوج کے سربراہ بنا دیے گئے۔ ان کی ترقی میں جنرل ڈگلس گریسی کی رضامندی شامل تھی۔ 1958ء میں ایوب خان نے پہلا مارشل لا لگا کر اس ملک کی بدنصیبی پر مہر ثبت کردی۔ 1964ء کے انتخابات میں مادرِِ ملت کو شکست دے کر عوام کو قائداعظم کے خواب سے دور کردیا۔
سقوطِ ڈھاکا کے عظیم فتنے کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ تقسیم ہند سے پہلے متحدہ بنگال کے مسلم لیگی وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے خصوصی صحافی دوست المنصور احمد نے قیام پاکستان کے چند ماہ بعد دسمبر 1947ء میں بنگالی زبان کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا مطالبہ کردیا۔ 1948ء کا سال بہت اہم تھا۔ فروری 1948ء میں قائداعظم نے امریکی عوام سے خطاب میں کہا ’’پاکستان اسمبلی کو ابھی پاکستانی قانون بنانا ہے، مجھے یہ نہیں معلوم کہ قانون کی اصل وضع کیا ہوگی لیکن مجھے یہ یقین ہے کہ یہ ایک جمہوری قسم کی ہوگی جس میں اسلام کے بنیادی اصول بھی شائع کیے جائیں گے۔ آج بھی یہ قانون ایسے ہی قابلِ عمل ہیں جیسے کہ تیرہ سو سال پہلے تھے۔ اسلام اور اس کے نظریے نے ہمیں جمہوریت سکھائی، یہ ہمیں انصاف، مساوات اور دوسروں سے اچھائی کا درس دیتا ہے۔ ہم ان اقدار کے وارث ہیں اور مستقبل کے پاکستانی قوانین کو بنانے کی مکمل ذمے داری کا احساس رکھتے ہیں۔‘‘ (بنگلہ دیش کا قیام اور اس کے پسِ پردہ کردار۔ ابوالایمان سید اسد اللہ ابراہیم)
1948ء میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تو بنگلہ زبان کی لسانی تحریک شروع ہوئی اور 11 مارچ 1948ء کو جب قائداعظم مشرقی پاکستان کے دورے پر پہنچے تو اسی لسانی تحریک نے ہڑتال کی، جس کے جواب میں قائداعظم نے 21 مارچ 1948ء کو دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پاکستان کی واحد قومی زبان اردو ہوگی۔ خواجہ ناظم الدین نے بنگال کے لوگوں کو یقین دلایا کہ بنگلہ بھی پاکستان کی قومی زبان ہوگی۔ اسی سال 11 ستمبر 1948ء کو قائداعظم رحلت فرما گئے۔
دسمبر 1970ء میں پاکستان کے قیام کے 23 سال بعد پہلا انتخابی عمل اگرچہ صاف شفاف تھا مگر اس کے نتائج بڑے ہولناک اور المناک ہوئے۔ ان انتخابات میں مغربی پاکستان سے بھٹو اور مشرقی پاکستان سے شیخ مجیب الرحمن نے اکثریتی کامیابی حاصل کی تھی۔ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ ایک جماعت کی حیثیت سے 1906ء میں معرض وجود میں آچکی تھی اور وہاں کے مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں متحد ہوکر ووٹ دیا تھا۔ ایوب خان کے جانشین جنرل یحییٰ خان انتخابات کے بعد 1971ء میں ڈھاکا گئے تو انہوں نے 9 مارچ 1971ء کو قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس کی خوش خبری سنائی۔ مشرقی پاکستان میں جوش و خروش عروج پر تھا، ان کے لیے پاکستان پر حکومت ایک خواب تھا۔ یحییٰ خان اسلام آباد آئے تو نامعلوم وجوہ پر اس اجلاس کو ملتوی کرکے نئی شرائط عائدکردیں۔ اس وعدہ خلافی پر مشرقی پاکستان کے عوام کا جوش و خروش غم و غصے میں بدل گیا اور طوفان کھڑا ہوگیا۔ اس غصے کو تحمل اور برداشت سے کم کرنے کے بجائے احتجاج کو دبانے کے لیے 25 مارچ کو پورے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔ بھٹو صاحب نے اس فوجی آپریشن پر اطمینان اور سُکھ کا سانس لیا۔ جس وطن کی تشکیل اور بنیاد ڈھاکا میں رکھی گئی تھی، جس وطن کے حصول میں بنگالیوں کی جدوجہد اور قربانیاں دوسروں سے ہرگز کم نہ تھیں، ستمبر 1965ء کے بھارتی حملے پر انہوں نے مغربی پاکستان کا مکمل ساتھ دیا تھا اور بھارتی پسپائی پر یوم دفاعِ پاکستان مناتے رہے تھے، صرف ساڑھے پانچ سال بعد انہی محب وطن بنگالی مسلمان شہریوں کے خلاف فوج بھیجی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی پاکستان کے بھٹو پورا الیکشن خود اکیلے ہضم کرنا چاہتے تھے۔ نہ مجیب الرحمن میں کشادگی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ دونوں سیاست دانوں کی اقتدار کے لیے رسّاکشی اور چھینا جھپٹی نے ملک کے دو ٹکڑے کردیے۔ وہ ملک جس کو بڑے ارمانوں، لاکھوں مسلمانوں کی جان، مال اور آبرو کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا، وہ سیاست دانوں کی ہوس، حماقت، حرص اور بے تدبیری کا شکار ہوگیا۔
لیفٹیننٹ کرنل عادل اختر نے لکھا: ’’16 دسمبر دراصل مغربی پاکستان کے سیاسی رہنمائوں کی بے ضمیری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘‘
جب بنگالیوں کو یقین ہوگیا کہ انہیں جان بوجھ کر اقتدار سے محروم کیا جارہا ہے تو بنگالی قوم پرستوں نے اپنی روح شیطان (بھارت) کے ہاتھ بیچ دی اور بھارت سے مدد طلب کی۔ بھارت ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ اگر بنگال میں اقتدار کی کشمکش نہ ہوتی تو بغاوت کی آگ بھی نہ بھڑکتی، اور بھارت کی مجال نہ ہوتی کہ وہ حملہ کرتا۔ بھارت کی مکتی باہنی 1971ء سے بہت پہلے بن چکی تھی۔ عوام کا ایک طبقہ سیکولرازم اور اشتراکیت کا اسیر ہوچکا تھا۔ بھارت کے ایجنٹ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کے مشرقی حصے میں اپنے پنجے گاڑ چکے تھے۔ مشرقی پاکستان کے اسکول، کالجوں میں ہندو اساتذہ نوجوانوں میں پاکستان اور اسلام کے خلاف نفرت کے بیج بو رہے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ بعض علمی اداروں میں دینیات اور اسلامیات پڑھانے والے اساتذہ ہندو تھے۔ مغربی پاکستان کی طرف سے جنرل یحییٰ کے حکم پر کیے جانے والے اس فوجی آپریشن نے بنگالیوں کی ذہنی رو کو موڑ دیا تھا۔ یحییٰ خان آرمی چیف انتہائی رندِ بلانوش تھے۔ ان میں نہ عسکری معاملات کی سمجھ تھی، نہ کردار کی پختگی۔ جنرل نیازی کا بھی یہی حال تھا۔ کہا یہ جاتا تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان کے دفاع میں مضمر ہے۔ یہ مفروضہ قطعی غلط تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں بھی اتنی ہی فوج کی ضرورت تھی جتنی مغربی پاکستان میں تھی۔ مشرقی پاکستان میں بھیجی جانے والی فوج کے لیے دریائی لڑائی کا ماہر ہونا بھی ضروری تھا۔ مگر یہ نہ تو فوجی ماہرین نے سوچا اور نہ سیاست دانوں نے۔ جب برا وقت آیا تو مغربی پاکستان سے صرف انفنٹری فوج ہوائی جہازوں میں ڈھو ڈھو کر بھیج دی گئی۔ صرف انفنٹری آرٹلری اور آرمرڈ کے بغیر کچھ نہیں ہوتی اور افراتفری کے حالات میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔
ایک اور غلط مفروضہ یہ بھی تھا کہ مشرقی پاکستان کے چپے چپے کا دفاع کیا جائے۔ زمینی حالات کا تقاضا تھا کہ پاکستانی فوجیں پیچھے ہٹتی جائیں اور آخر میں ڈھاکا کے اطراف میں اکٹھی ہوجائیں۔ اس طرح بھارتی افواج کا بڑا نقصان ہوتا اور انہیں ڈھاکا پہنچنے میں دیر لگتی۔ مغربی پاکستان سے جو چار ڈویژن فوج مشرقی پاکستان بھیجی گئی تھی اس میں فوجیوں کے پاس صرف رائفل اور لائٹ مشین گنیں تھیں، مگر ان فوجیوں نے انہی دو ہتھیاروں سے مارچ سے اگست تک صرف پانچ ماہ میں پورے مشرقی پاکستان کے ہر گھر پر پاکستانی جھنڈا لہرا دیا۔ اُس وقت کے جنرل آفیسر جنرل شوکت رضا نے اپنی سفارشات جنرل نیازی کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے، اب سیاست دانوں کو اپنی ذمے داریاں سمجھ ادا کرنی چاہئیں تاکہ سول انتظامیہ اپنی ذمے داری سنبھالے۔ ان کی اس بات کا جنرل نیازی نے بہت برا مانا اور انہیں کمان سے ہٹا دیا۔ دراصل مشرقی پاکستان میں بنگالیوں میں احساسِ محرومی شیخ مجیب الرحمن کا پیدا کردہ تھا۔ اس نے ایوب خان کے مارشل لا کے بعد ہی علیحدگی کا فیصلہ کرلیا تھا، اور یہ فیصلہ اس نے بھارتی ایجنسی را کے افسران کے ساتھ ملاقات کرکے 1962ء میں کیا تھا، اور اسی وقت بنگلہ دیش کے قیام کی حکمت عملی طے کرلی تھی۔
اس جنگ میں مکتی باہنی نے افواج پاکستان اور پاکستان کو متحد دیکھنے والوں کا قتلِ عام شروع کردیا تھا۔ اس جنگ میں بھارت ان باغیوں کو فوجی، مالی اور سفارتی امداد فراہم کررہا تھا۔ مکتی باہنی ہر گلی کوچے میں موجود تھے اور مسلسل کارروائی کرکے پاک افواج اور محب وطن پاکستانیوں کو قتل کررہے تھے۔
جیسور سیکٹر پاکستانی افواج کے لیے سب سے کمزور سیکٹر تھا جس پر نومبر کے مہینے میں دشمن نے غریب پور میں 150 مربع کلومیٹر رقبے پر اپنا کنٹرول قائم کرکے مضبوط مورچے بنا لیے تھے، جنہیں پاکستانی فوج نکالنے میں ناکام رہی۔ غلط حکمت عملی اور جلد بازی کی وجہ سے پاک فوج نے بڑا نقصان اٹھایا۔ برہمن باڑیہ سیکٹر، فاٹور سیکٹر، چاند پور سیکٹر، میمن سنگھ سیکٹر سمیت دور دور سرحدی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہزاروں نوجوان اللہ کے بھروسے پر متحدہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے۔
پاکستان کی فوج کا اصل مقابلہ اُن باغی بنگالی فوجیوں سے تھا جو پاکستان ہی کے تربیت یافتہ تھے اور جان دینے اور جان لینے کے ہنر سے آشنا تھے۔ انہوں نے مکتی باہنی کو سامنے رکھ کر مغربی پاکستان کے فوجیوں کو گھیرے میں لے کر نشانہ بنایا۔ مغربی پاکستان کے فوجی ہر بنگالی فوجی پر گولی نہیں چلا سکتے تھے، اس لیے کہ ان میں بہت سے محب وطن بنگالی بھی تھے۔ چاندپور اور میمن سنگھ کی کہانی بھی ایسی ہی تھی۔ ہمارے حصے میں محض جرأت اور بہادری کی داستانیں تھیں اور دشمن کے پاس ہماری خوب صورت کپاس اور چاول کے کھیتوں سے بھری سرزمین۔
دراصل شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات نے بنگالی عوام کو گمراہ کردیا اور انہوں نے ہر طرف سے مایوس ہوکر اپنے آپ کو ہندوستان کے حوالے کردیا۔ ہندوستان جو ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے، اس نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر تقسیم ہند کا بدلہ لے لیا۔ ڈھاکا میں بیٹھے جنرل نیازی اسی زعم میں مبتلا رہے کہ ان کی لاش سے گزر کر ہی دشمن ڈھاکا پہنچ سکتا ہے۔ 14 دسمبر تک ڈھاکا میں مغربی پاکستان کی عمل داری ختم ہوچکی تھی۔ پاکستانی حکام گورنمنٹ ہائوس سے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں منتقل ہوچکے تھے۔ امریکا اور چین کے دبائو میں آکر یحییٰ خان اور جنرل نیازی نے جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کردی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی مکتی باہنی اور قوم پرست بنگالیوں نے مشرقی پاکستان کے لاکھوں انسانوں کو برباد کیا۔ سقوط ڈھاکا میں مظلومیت کا ڈھونگ رچانے والے بنگالیوں نے اردو بولنے والوں پر بہت ظلم ڈھائے۔ خود میجر ضیا الرحمن نے اپنے حلف سے روگردانی کرتے ہوئے کرنل جنجوعہ کے خاندان کو چٹاگانگ سرکٹ ہائوس میں لے جا کر بیوی بچوں سمیت ذبح کردیا۔ کئی دن تک غیر بنگالیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاتا رہا۔ البدر اور الشمس کے کارکنوں کو گرم تیل کی کڑھائی میں پھینک دیا جاتا۔ یہ سب ان قوم پرست بنگالیوں نے کیا جو آج مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ چٹاگانگ، جیسور، کھلنا میں اردو بولنے والوں کو چن چن کر مارا گیا۔ ایک موقع پر پاکستانی فوج کا بیشتر حصہ بنگالی باغیوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ ان فوجیوں کی لاشوں کو دریا میں بہا دیا گیا جس نے دریا کا بہائو روک دیا اور پانی سرخی مائل ہوگیا۔ ہزاروں غیر بنگالیوں کو المناک اور دردناک طریقے سے قتل کیا گیا، اور یہ زیادتیاں مکتی باہنی نے بنگالیوں کے ساتھ مل کر کیں۔
پاکستانی فوج کی جنگ بندی پر رضامندی کے بعد ہندوستانی جنرل مانک شا نے جنرل نیازی کو پیغام بھجوایا کہ عارضی طور پر جنگ بندی کی تفصیلات طے کرنے کے لیے 15 دسمبر کو صبح پانچ بجے سے اگلے دن رات کے نو بجے تک سیز فائر رہے گا۔ پھر یہ دورانیہ بڑھا کر 16 دسمبر کی دوپہر تین بجے کردیا گیا۔ جنگ بندی کے حکم کے بعد پاکستانی ٹینکوں نے گولہ باری بند کردی۔
16 دسمبر 1971ء ایک بے ضمیری کا دن تھا۔ سیاست دان بے ضمیری کا ثبوت دیتے رہے۔ فوج لڑتی رہی۔ بھارت کے پاس مگ 21 اور 7 SIJ جیسے جنگی جہاز تھے جو ہر وقت ڈھاکا کی فضائوں میں منڈلاتے رہتے تھے، اور پاکستانی فوج پرانے زمانے کی توپوں سے ان کو نشانہ بناتی۔ زمین آگ اور خون سے رنگین ہوجاتی۔ حالات حوصلہ شکن تھے، مگر پاکستانی طیارہ شکن ہر وقت ملکی دفاع کے لیے مستعد رہتے۔
16 دسمبر کی شام کو چار بھارتی بمبار طیارے ڈھاکا کی فضا میں نمودار ہوئے۔ وہ جیسے ہی پاکستانی فائٹر طیاروں کی زد میں آئے ان پر چاروں طرف سے فائرنگ ہوئی۔ ایک طیارہ زیر تعمیر رن وے (کرمی ٹولہ) پر گرا۔ دوسرا مین ائر پورٹ کے مغربی سرے پر گرایا گیا۔ ائرپورٹ کی فضائیں نعرۂ تکبیر سے گونج اٹھیں۔ اسی 16 دسمبر کی شام جگجیت سنگھ اروڑا، جو بھارتی جرنیل اور جنرل نیازی کا روم میٹ تھا، ہیلی کاپٹر سے ائرپورٹ پر اترا۔ پاکستانی فوجیوں کو بیرک میں جانے کا حکم دے کر نہ جانے آپس میں کیا طے ہوا کہ جنرل نیازی نے اپنا پستول اروڑا کے حوالے کردیا۔ فوٹو گرافر تصاویر محفوظ کرنے لگے۔ جنرل نیازی نے سرنڈر کے کاغذات پر دستخط کرکے پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالیوں سے جینے کا حق چھین لیا اور اُن تین لاکھ اردو بولنے والے بہاریوں پر بھی زندگی تنگ کردی جو پاکستان سے محبت کے جرم میں راندۂ درگاہ ہوگئے ہیں۔ جن کو نہ پاکستانی حکومت اپنانے کے لیے تیار ہے، نہ بنگلہ دیش کی حکومت شہریت دینے پر آمادہ ہے۔
16 دسمبر 1971ء بنگلہ دیش کے قیام اور سقوطِ ڈھاکا وہ المناک دن ہے جو بنگالیوں کے لیے جشن اور متحدہ پاکستان کی تمنا کرنے والوں کے لیے قیامت کا دن تھا۔ سقوط غرناطہ سے سقوط ڈھاکا تک جن اہم کرداروں نے حصہ لیا وہ غرناطہ کا ابو عبداللہ اور ڈھاکا کا عبداللہ نیازی ہی تھا جس نے پاکستان کے بازو کاٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کاش کہ ہمارے ہاں سزا دینے کی روایت ہوتی تو کوئی بھی سیاست دان جیل سے باہر نہ ہوتا۔

حصہ