رضیہ سبحان کے مجموعہ کلام ’’آگہی کی منزل پر‘‘ کی تعارفی تقریب

399

نثار احمد نثار
۔16 دسمبر 2019ء بروز پیر کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے زیر اہتمام کانفرنس روم میں پروفیسر رضیہ سبحان کے مجموعہ کلام ’’آگہی کی منزل پر‘‘ کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت پروفیسر سحر انصاری نے کی۔ محمود شام مہمان خصوصی تھے۔ رونق حیات مہمان اعزازی تھے۔ راشد نور نے نظامت کے فرائض کے انجام دیے۔ مقررین میں پروفیسر انیس زیدی‘ حنیف عابد‘ نثار احمد نثار‘ ڈاکٹر نزہت عباسی‘ نیلوفر عباسی اور شائستہ مفتی فرخ شامل تھے۔ سحر تاب رومانی اور رونق حیات نے منظوم خراجِ تحسین پیش کیا۔ پروفیسر انیس زیدی نے کہا کہ پروفیسر رضیہ سبحان انگریزی ادب کی استاد ہیں لیکن اردو کی ترویج کے لیے ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں۔ انہوں نے انگریزی نظموں کے منظوم تراجم کے علاوہ مولانا روم کے بہت سے اشعار کو منظوم کیا ہے۔ ان کی غزلوں میں جمالیاتی فکر نظر آتی ہے‘ انہوں نے خاص طور پر معاشرتی ناہمواریوں کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ ان کے بہت سے اشعار زندہ رہنے والے ہیں‘ ان کی فکری سطح بہت بلند ہے۔ شائستہ مفتی نے کہا کہ پروفیسر رضیہ سبحان بہت زرخیز ذہن کی مالک ہیں ان کے یہاں موضوعات کی کمی نہیں‘ ان کا ویژن بہت وسیع ہے‘ دھیمے لہجے میں بڑی سے بڑی بات کہہ جاتی ہیں۔ راقم الحروف نثار احمد نے کہا کہ رضیہ سبحان ایک شاعرہ اور ماہر تعلیم ہیں یہ کب سے شاعری کر رہی ہیں یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ شاعرہ ہیں‘ متشاعرہ نہیں ہے۔ ان کی شاعری میں گیرائی اور گہرائی پائی جاتی ہے‘ انہوں نے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے زندگی کے بیشتر مناظر کو آسان لفظوں کی شاعری میں پیش کیا ان کا تعلق ورکنگ وومن سے ہے۔ انہوں نے زندگی کے روّیوں کو جس طرح برتا ہے‘ انہیں اپنی شاعری میں Paint کر دیا ہے ان کی ترقی کا سفر جاری ہے لیکن ادبی منظر نامے میں ان کی حیثیت کا تعین ہونا باقی ہے۔ ڈاکٹر نزہب عباسی نے کہا کہ پروفیسر رضیہ سبحان قریشی کی شاعری میں مختلف ذائقے پائے جاتے ہیں‘ وہ اپنے وجود کا اظہار کرتی ہیں‘ ان کا اسلوب شعری جمالیات کا آئنہ دار ہے‘ زبان و بیان پر قدرت حاصل ہونے کے سبب ان کے یہاں جدید لفظیات اور تلمیحات کا استعمال موجود ہے۔ حنیف عابد نے کہا کہ رضیہ سبحان شاعری کے ساتھ ساتھ مصوری کے فن میں بھی کمال رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی نظموں میں معاشرتی مسائل اجاگر کیے ہیں‘ وہ اپنی آگہی سے اندھیروں میں روشنی پھیلا رہی ہیں۔ نیلوفر عباسی نے کہا کہ رضیہ سبحان ان کی فیس بک کی دوست ہیں‘ میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آج ہم دونوں بالمشافہ مل رہے ہیں۔ کراچی پریس کلب نے رضیہ سبحان کے اعزز میں تقریب ترتیب دے کر بہت مستحسن کام کیا ہے رضیہ سبحان کی شاعری اور مصوری کی پرستار ہوں۔ اس موقع پر رضیہ سبحان نے اپنی غزلیں اور نظمیں سنا کر خوب داد وصول کی۔ محمود شام نے کہا کہ انہوں نے رضیہ سبحان کی کتاب پر پیش لفظ لکھ دیا ہے اگر آپ ہال میں موجود کتاب خرید کر پڑھیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رضیہ سبحان حقیقت کو جاننے کے لیے سرد آگ‘ خاموش دستک‘ سیپیاں محبت کی اور مکاں لامکاں سے گزرتے ہوئے آگہی کی منزل تک آگئی ہیں۔ اس منزل پر پہنچ کر بھی تشنگی ختم نہیں ہوتی‘ منزلیں آواز دیتی رہتی ہیں۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیے خود کو کھونا پڑتا ہے۔ ان کے یہاں خودی کی تلاش نئے نئے افکار‘ تراکیب‘ تلمیحات‘ استعارے تراشنے کا محرک بنتی ہے۔ انہوں نے اپنے محسوسات کو قارئین تک پہنچانے کے لیے سہل ممتنع کا سہارا لیا ہے جس میں یہ بڑی حد تک کامیاب ہیں۔ ان کی نظموں میں زندگی رقص کر رہی ہے۔ انہوں نے عورتوں کے مسائل بھی نظم کیے ہیں اور مرد حضرات کی مشکلات بھی لکھی ہیں۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہا کہ شاعری فنونِ لطیفہ میں سب سے مقبول اور متاثر کن ذریعۂ اظہار ہے۔ پروفیسر رضیہ سبحان نے اس فن میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے۔ انہوں نے زندگی کے جو نشیب و فراز طے کیے ہیں ان کا پورا شعور ان کے کلام میں موجود ہے‘ ان کی غزلیں دورِ حاضر کی مانوس فضائوں کی عکاسی کرتی ہیں‘ ان کی نظمیں دل میں اتر جاتی ہیں‘ ان کی شیریں بیانی نے انہیں مقبول شاعرہ بنا دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان کی یہ کتاب ادب کے لیے بے حد مفید ہوگی۔ کراچی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری ارمان صابر نے کہا کہ کراچی پریس کلب نے اس سال سب سے زیادہ ادبی تقریبات ترتیب دی ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہیں اگر آپ کا تعاون جاری رہا تو ہم اسی طرح اردو ادب کے لیے مصروف عمل رہیں گے۔ کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے کنوینر علاء الدین خانزادہ نے کلمات تشکر ادا کیے اور عارف شفیق کے لیے دعائے مغفرت کرائی۔ اس موقع پر رضیہ سبحان نے مہمانانِ اسٹیج کی خدمت میں پھولوں کے تحائف پیش کیے جب کہ کراچی پریس کلب کی جانب سے رضیہ سبحان کو اجرک پیش کی گئی۔ رضیہ سبحان نے اپنی ایک پینٹنگ کراچی پریس کلب کو تحفے میں پیش کی۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ ایک اچھی تقریب تھی اور کافی تعداد میں حاضرین موجود تھے تاہم کراچی پریس کلب کے بہت سے اراکین و عہدیداران بھی اس تقریب میں شریک تھے۔ حنیف عابد نے ہیرو فائونڈیشن کی جانب سے رضیہ سبحان خدمت میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پیش کیا۔

ادبی تنظیم دراک کی 108 ویں تنقیدی اور شعری نشست

ادبی تنظیم دراک کی 108 ویں ماہانہ نشست گزشتہ ہفتے میٹرو پولیس گرلز کالج فیڈرل بی ایریا میں منعقد ہوئی جس کی صدارت رفیع الدین راز نے کی۔ مہمان خصوصی یشب تمنا تھے۔ دو حصوں پر مشتمل اس پروگرام کے پہلے دور میں جنید حسن کا افسانہ بہ عنوان ’’پانچ ہزار روپے‘‘ ناظم تقریب سلمان صدیقی نے حسب روایت تخلیق کار کے نام کے اعلان کے بغیر پڑھا۔ افسانے پر سب سے پہلے ثریا وقار نے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اس افسانے میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اگر ہمارا عقیدہ و ایمان اللہ تعالیٰ پر قائم ہو تو ہم تمام مشکلات سے باآسانی گزر سکتے ہیں۔ ناہید عزمی نے کہا کہ اس افسانے میں کوئی چونکا دینے والی بات نہیں ہے یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو امید و ناامیدی کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ حنا علی نے کہا کہ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اپنے روّیوں کے سبب مشکلات کا شکار ہیں اس افسانے کا مرکزی خیال بھی یہی ہے۔ سلیم عکاس نے کہا کہ ایک عام فہم کہانی کو قلم کار نے افسانے کا رنگ دے دیاہے۔ حامد علی سید نے کہا کہ یہ افسانہ ہمارے زمانے کے حالات سے جڑی ہوئی ایک کہانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ڈاکٹر عرفان شاہ نے کہا کہ قلم کے ذریعے علمی جہاد کرتے رہنا بھی عین عبادت ہے۔ کشور عدیل جعفری نے کہا کہ اس افسانے میں ایمان داری کا درس دیا گیا ہے۔ رحمان نشاط نے اس افسانے کو بیانیہ افسانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کی ایک خوبی اختصار ہے مگر برتائو بہت کمزور ہے جس کے بیانیہ اور کہانی کا کینوس محدود کر دیا ہے۔ زبان و بیان بھی کمزور ہے البتہ چند جملے اچھے ہیں۔ لگتا ہے کہ اس افسانے کو لکھنے والا ابھی لکھنا سیکھ رہا ہے۔ عباس رضوی نے کہا کہ افسانہ نگار نے سادگی اور معصومیت سے اپنا بیانیہ لکھ دیا ہے افسانے کا لب و لہجہ یہ ہے کہ ضرورت مند آدمی کو پانچ ہزار روپے کا نوٹ ملنا چاہیے لیکن اس مضمون پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ افسانہ نگار کو چاہیے کہ وہ اس افسانے کو دوبارہ لکھے۔ شاعر علی شاعر نے کہا کہ یہ ایک درمیانے درجے کا افسانہ ہے اس میں کوئی قابل ذکر بات نہیں ہے۔ یشب تمنا نے کہا کہ اس افسانے میں ابہام ہے یہ پتا نہیں چل رہا ہے کہ افسانہ نگار کیا کہنا چاہتا ہے اس کا پلاٹ کمزور ہے کرداروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔ رفیع الدین راز نے کہا کہ یہ افسانہ اس وقت ختم ہو گیا تھا جب اس افسانے کے مرکزی کردار نے پانچ ہزار کا نوٹ اس کے اصل مالک کو واپس کر دیا تھا‘ مجھے ذاتی طور پر یہ افسانہ اچھا لگا۔ سلمان صدیقی نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ادبی تنظیم ہر ماہ ایک شعری نشست منعقد کر رہی ہے جس میں پہلے مذاکرہ اور پھر مشاعرہ ہوتا ہے‘ پاکستانی نژاد اور غیر ممالک میں مقیم شعرا کی پزیرائی بھی کرتے ہیں‘ آج کے پروگرام میں رفیع الدین راز صاحب اور یشب تمنا صاحب موجود ہیں جو کہ حال ہی میں پاکستان آئے ہیں۔ رفیع الدین راز ایک کہنہ مشق شاعر ہیں جن کی 25 کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور کئی کتابیں زیور طباعت سے آراستہ ہونے جارہی ہیں جب کہ یشب تمنا برطانیہ میں مقیم ہیں ان کی شاعری کا مجموعہ منظر عام پر آچکا ہے۔ سلمان صدیقی نے مزید کہا کہ شاعری فل ٹائم جاب ہے اس لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ شاعری ایک خداداد صلاحیت ہے‘ ہر کوئی شاعر نہیں بن سکتا لیکن متشاعر بن سکتا ہے اس وقت ہمارے شہر میں جینوئن شعرا کے ساتھ ساتھ بہت سے دو نمبر شعرا بھی منظر عام پر ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم ادب کی ترقی کے لیے جیونئین لوگوں کی معاونت کریں۔ اس پروگرام کے دوسرے دور میں شعری نشست ہوئی جس میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ عباس رضوی‘ حامد علی سید‘ عظیم حیدر سید‘ ناہید عزمی‘ اختر عبدالرزاق‘ سلیم عکاس‘ شاعر علی شاعر‘ سلطانہ رازق عزیز‘ کشور عدیل جعفری‘ احمد سعید خان‘ ضیا حیدر زیدی‘ حنا علی‘ گل افشاں‘ زیب اورنگزیب اور دیگر نے کلام پیش کیا۔

رانا خالد محمود کا شعری مجموعہ ’’امید سہارا دیتی ہے‘‘ شائع ہوگیا

رانا خالد محمود قیصر بینک کار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر و ادیب کے حوالے سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں‘ ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں تاہم ’’امید سہارا دیتی ہے‘‘ ان کی بہاریہ شاعری کا مجموعہ ہے۔ 202 صفحات پر مشتمل اس مجموعہ کلام میں 64 غزلیں اور 4 نظمیں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے لکھا ہے کہ رانا خالد کی شاعری آگے بڑھ رہی ہے‘ ان کے اشعار میں زندگی کے حقائق نظر آتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی بیانیے کو بھی اپنی شاعری میں لکھا ہے امید ہے کہ ان کی کتاب پاکستانی سماج میں پزیرائی حاصل کرے گی۔ پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی نے لکھا ہے کہ رانا خالد محمود قیصر کی شاعری میں بھاری بھرکم الفاظ کی بھرمار نہیں ہے بلکہ انہوں نے شائستگی کے ساتھ آسان زمینوں میں مانوس قافیوں اور نرم الفاظ کی تراکیب سے قابل قدر شاعری کی ہے۔ ان کی غزلیں عصری آگہی کے امتزاج کی آئینہ دار ہیں۔ ڈاکٹر نزہب عباسی کہتی ہیں کہ رانا خالد محمود قیصر نے سماجی و سیاسی مسائل پر قلم اٹھایا ہے ان کے یہاں نغمگی کے ساتھ ساتھ نفاستِ زبان بھی موجود ہے۔ انہوں نے نئی لفظیات‘ نئی علامتیں‘ نئی تشبیہات سے اپنی شاعری سجائی ہے‘ ان کے یہاں تازہ کاری بھی ہے اور غزل کا روایتی لہجہ بھی۔ یہ سادہ مزاج آدمی ہیں انہوں نے داخلی محسوسات اور خارجی تجربات و مشاہدات کو آسان بحروں میں سمو دیا ہے۔ ڈاکٹر فرحت عباس لکھتے ہیں کہ رانا خالد محمود قیصر کے یہاں تخلیقی روشنی بھی ہے اور فنی لوازمات کا التزام بھی۔ انہوں نے نعت‘ غزل‘ نظم‘ رباعیات اور قطعات میں اپنا فنی اظہار کیاہے لیکن ان کی غزل ہی ان کی پوری طرح نمائندگی کرتی ہے۔ یہ غزل کے مزاج سے آشنا ہیں اور غزل کی نزاکت کے مطابق ہی الفاظ اور لفظی تراکیب کا استعمال کرتے ہیں ان کی شاعری میں جہاں ذات اور کائنات کے معاملات ہیں وہیں غمِ جاناں اور غم دوراں کے موضوعات بھی ہیں اور یہ بھی ان کا کمال ہے کہ وہ خارجی کیفیات کو بھی اپنے داخلی محسوسات میں پوری طرح ضم کرکے انہیں فنی طور پر تخلیقی عمل سے مالا مال کر دیتے ہیں۔ ایک ذمے دار شاعر کی طرح وہ اہل سیاست کی چیرہ دستیوں پر بھی احتجاج کرتے ہیں لیکن ان کا احتجاج بلند آہنگ نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ اکرم کنجاہی نے لکھا ہے کہ رانا محمود قیصر نے وہ علامتیں بھی استعمال کی ہیں جو ایک زمانے میں مقبولِ عام تھیں۔ ساغر‘ مے خانہ‘ ساقی‘ مے کش‘ جنوں‘ داماں‘ چاک گریباں‘ حجاب‘ نقاب‘ آشیانہ‘ چار تنکے‘ بجلی‘ گردش‘ وغیرہ وغیرہ اس تناظر میں وہ روایت سے جڑے ہوئے ہیں لیکن انہوں نے موجودہ عہد کی جدید لفظیات سے بھی استفادہ کیا ہے یہ مجموعہ ان کی فنی ہنر مندی اور چابک دستی کا ثبوت ہے۔ مسلم شمیم نے لکھا ہے کہ رانا محمود قیصر کے یہاں نئے امکانات کی جلوہ سامانیاں ہیں جو ادب کے قاری پر گرفت رکھتی ہیں ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے ان کی غزلیات میں کلاسیکی روایات کے ساتھ ساتھ جدید حسیت پائی جاتی ہے ان کی غزل پورے محاسن شعری کے ساتھ جلوہ گرہ ہے۔ فکری بصیرت ان کے اشعار کا محور ہے۔ یہ بہت تیزی سے شاعری کے منظر نامے میں اپنی جگہ بنانے میں مصروف ہیں۔ امید ہے کہ یہ بہت آگے جائیں گے۔

منافقت

ایک مشاعرے میں جوش ملیح آبادی‘ گوپی ناتھ امن اور دوسرے مشہور شعرا کے ساتھ غیر معروف نومشق شعرا بھی پڑھ رہے تھے۔
ایک نو مشق شاعر کی باری آئی تو اس نے اپنا غیر موزوں کلام سنانا شروع کیا جسے سن کر بیشتر شعرا نے آدابِ محفل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کیے رکھی لیکن جوش ملیح ابادی خاموش نہ رہ سکے۔ ایک ایک مصرع پر بڑھ چڑھ کر داد دینے لگے۔ جوش صاحب کی اس جوش و خروش کو دیکھ کر گوپی ناتھ امن خاموش نہ رہ سکے اور بولے:
’’حضرت! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
’’منافقت‘‘جوش صاحب نے فوراً جواب دیا۔

حصہ