تبدیلی موسموں میں بھی

158

۔’’بھائی تمہیں کیا ہوگیا ہے! تمہارے مضامین میں کتے، بلیوں اور گدھوں کی داستانوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہاں زیادہ سے زیادہ شہر کی سڑکوں اور محلوں کی خستہ حالی بیان کردیتے ہو۔ تمہارے پاس اِن موضوعات کے سوا اور کچھ نہیں ہے کیا؟‘‘
’’میرے نزدیک تمام عوامی مسائل اہمیت کے حامل ہیں، اسی لیے جو بھی مسئلہ سامنے آجائے لکھنے لگتا ہوں۔ اگر تمہارے پاس معاشی، معاشرتی، سیاسی یا عوامی فلاح و بہبود سے منسلک کوئی موضوع ہو تو ضرور بتاؤ، اس پر کوشش کرلوں گا۔‘‘
’’آج کل کی نوجوان نسل پر لکھو، ان کی حوصلہ افزائی کرو، انہیں زندگی گزارنے کے بہتر مشورے دو‘‘
’’ٹھیک ہے اِس مرتبہ تمہارے مشورے پر عمل کرتے ہوئے نوجوانوں سے ہی بات کروں گا، انہیں بتاؤں گا کہ موبائل فون پر کھیلا جانے والا پپجی گیم اب کمپوٹر پر بھی کھیلا جاسکتا ہے، اس کے لیے جو سوفٹ وئیر ڈاؤن لوڈ کرنا ہے اس کا لنک بھی شیئر کردوں گا، اس طرح انہیں اب18سے 20 ہزار روپے والا موبائل خریدینے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
’’ارے ارے یہ کیا کہہ رہے ہو! نوجوانوں کو کس رستے پر لگانے کی باتیں کررہے ہو!‘‘
’’بھئی تم نے ہی تو کہا ہے کہ نوجوانوں کو بہترین مشورے دوں۔ نوجوان جب سارا دن پپجی گیم کھیل کر گزارتے ہیں تو ایسی صورت میں اُن کے لیے اس سے بہتر بھلا اور کیا مشورہ ہوسکتاہے!‘‘
’’تم سمجھے نہیں، میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں۔‘‘
’’پھر کیا مطلب
’’دیکھو، نوجوانوں میں لگن، جستجو اور مستقل مزاجی کا فقدان ہے، ان کے مزاج میں ٹھیراؤ نہیں۔ ضروری ہے کہ ان کی نفسیاتی تربیت کی جائے۔ لہٰذا اس پر کوئی تحقیقی مکالمہ تحریر کرو۔‘‘
’’اچھا اچھا تو یہ بات ہے! ٹھیک ہے، پھر اس پر ہی کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس مرتبہ نوجوانوں کو مستقل مزاجی اور زندگی میں ٹھیراؤ لانے کے طریقے بتاؤں گا، انہیں بتاؤں گا کہ کبھی اِس گلی تو کبھی اُس گلی، یا گرلز کالج کے چکر لگانے سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی دوشیزہ کا انتخاب کرلیں جو اُن کے گھر کے قریب ہی رہتی ہو، اور ساری زندگی اُسی کے ہوکر رہیں۔ اس سے نہ صرف وہ دردر کی ٹھوکریں کھانے سے بچ جائیں گے بلکہ سخت گرمی کے موسم میں اپنے چہرے کی جلد کو جھلسانے سے بھی بچ سکتے ہیں۔ میرے نزدیک نوجوانوں میں یکسوئی، لگن اور ٹھیراؤ پیدا کرنے کے لیے اس سے بہتر فارمولا کوئی نہیں۔‘‘
’’پھر نہیں سمجھے، پھر بات کو غلط سمت لے جارہے ہو۔ یہ طریقہ تو نوجوانوں کی ہمت بڑھانے کے مترادف ہے، بلکہ اس طرح تو ان کو مزید شہ ملے گی، اور پھر میں نے ایسے مشورے دینے کے لیے کب کہا ہے! میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ تمہیں کس طرح سمجھاؤں!‘‘
’’اچھا ایسی مستقل مزاجی اور ایسے ٹھیراؤ سے متعلق بھی آگاہی نہیں دینی تو کرناکیا ہے؟ جبکہ ہمارے معاشرے میں یہی کچھ تو ہورہا ہے۔ تم ہی بتاؤ میں کیا کروں، کیا لکھوں؟ جب تک تمہاری بات میری سمجھ میں نہیں آتی میں اپنی تحریر کو عملی جامہ کس طرح پہنا سکتا ہوں! لہٰذا سوچو اور جلدی سے بتاؤ کہ اس ہفتے کون سے موضوع پر صفحے کالے کروں؟‘‘
’’دیکھو، معاشرے میں بڑھتی ہوئی خرابیوں کی نشاندہی کرو، خاص طور پر علم وادب جوکہ ہماری ثقافت اور پہچان رہے ہیں، ان کے حوالے سے لکھو، اردو زبان میں تیزی سے بڑھتے ہندی الفاظ کی نشاندہی کرو، یعنی اپنی تحریروں کے ذریعے نوجوانوں کو اردو ادب سے روشناس کرائو۔‘‘
’’او ہو تو یوں کہو کہ جس طرح سال میں ایک مرتبہ پرانے چہروں کے ساتھ نئی نکور اردو کانفرنس منعقد کی جاتی ہے، میں بھی اردو کی ایسی ہی خدمت کروں، یعنی ہر سال نشر مکرر کے طور پر چلائے جانے والے پروگرام کی طرح مکھی پر مکھی ماروں! وہی پرانی داستانیں سنتا اور سناتا رہوں۔‘‘
’’تمہارے ساتھ تو بات کرنا ہی فضول ہے۔ جاؤ میاں جو مرضی میں آئے، کرو۔ تمہیں سمجھانا تو دیوار سے سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
’’ارے ارے کیا ہوا، کہاں چلے! لگتا ہے ناراض ہوگئے ہو۔ ٹھیرو ٹھیرو نوید بھائی، اس ہفتے کا مضمون تو بتاتے جاؤ۔‘‘
’’تم جانو اور تمہارا مضمون جانے، میں اب رکنے والانہیں۔‘‘
یوں نوید بھائی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوکر پلک جھپکتے ہی غائب ہوگئے۔ خیر وہ تو چلے گئے لیکن مجھے تو اپنا کام جاری رکھنا تھا، یعنی کچھ نہ کچھ تو لکھنا ہی تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ لکھوں، یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو معاشی، معاشرتی، سیاسی مسائل یا سرکاری ونیم سرکاری اداروں میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرے یا ان کے حل کے لیے تجاویز دے، میرے لیے وہ اور اُس کی جانب سے دی جانے والی رائے انتہائی قابلِ احترام ہے۔ نوید بھائی سے چونکہ محبت کا رشتہ ہے، اس لیے مذاق کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے۔ ابھی دو روز قبل ہی کی بات ہے جب نوید کراچی کے موسم، خاص طور پر موسم سرما پر لمبا چوڑا لیکچر دیتے ہوئے کہہ رہے تھے:
’’کراچی کا موسم بڑا عجیب ہوتا جارہا ہے۔ موسم سرما کو ہی لے لیجیے، کسی دن تھوڑی بہت سردی محسوس ہوتی ہے، تو کبھی سردیوں کا مزا لینے کے لیے پہلے کمرے میں تیز پنکھا چلا کر کمبل اور بستر کو اچھی طرح ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے، اس طرح خاصی دیر بعد جب کمرے کا درجہ حرارت کم ہوجائے تب ہی موسم سرما کا مزا لیا جاتا ہے، ورنہ سردی کسے کہتے ہیں؟ یہاں کے رہنے والے کیا جانیں۔ ہم نے تو جب بھی سردیاں دیکھیں ایسی ہی دیکھیں۔ ابا حضور کہا کرتے تھے ایک زمانہ تھا جب اہلِ کراچی ٹھنڈی ٹھنڈی راتوں اور چمکتے دمکتے سورج سے روشن دنوں میں گرم سوئیٹر پہنے، گلوں میں مفلر لیے چائے، کافی، انڈوں اور خشک میوہ جات کی سوغات سے لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب یہ باتیں کتابی سی لگتی ہیں۔ اب اہلِ کراچی کو موسم گرما کی تپش سے بچنے کے لیے پہاڑی، جبکہ سردیوں کو انجوائے کرنے کے لیے میدانی علاقوں کا رخ کرنا پڑتاہے۔ یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔‘‘
اب نوید بھائی کو بھلا یہ بات کون بتائے کہ موسم کی اس تبدیلی سے اعمال کا کیا تعلق! اس بارے میں اگر سوچا جائے تو ہر دوسرا شخص جو موسمی تغیرات سے شدبد رکھتا ہے جان لے گا کہ یہ یک دم نہیں ہوا، اور نہ ہی صرف ہمارے شہر میں ہوا ہے۔ موسم کے دورانیے میں ہونے والی یہ تبدیلی ایک دو دن میں نہیں آئی، بلکہ اس تبدیلی کا تعلق تو گلوبل وارمنگ سے ہے جو گرین ہائوس گیسوں کا توازن بگڑنے سے وجود میں آئی۔ قدرت نے تو ہمیں اچھا اور متوازن ماحول دیا تھا، مگر انسان نے اسے خود تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ صنعتی ترقی کے نام پر کارخانے اور فیکڑیاں لگائی جانے لگیں جن کی چمنیوں سے اگلتی آگ نے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا اضافہ کردیا۔ اس کے علاوہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی، کوئلے، تیل، گیس سمیت دیگر ایندھن جلائے جانے لگے، جس کی وجہ سے ہمارے موسموں پر خاصا اثر پڑا اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ خصوصاً ساحلی علاقوں کے درجۂ حرارت میں نمایاں تبدیلیاں ہوتی گئیں۔ یہاں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ موسم کی تبدیلی صرف سردیوں تک ہی محدود نہیں، بلکہ اس تبدیلی کا اثر موسم گرما پر زیادہ ہوا ہے۔ ظاہر ہے جب ساری دنیا کے درجۂ حرارت میں اضافہ ہوگا تو اس کا اثر تمام موسموں پر پڑے گا۔ موسم کس حد تک بدل رہا ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہیے کہ ماضی میں ہجرت کرکے لاکھوں پرندے کراچی کے ساحل پر آیا کرتے تھے، لیکن اب خاص طور پر سائبیریا اور دیگر علاقوں سے آنے والے ان پرندوں کی آمد و رفت میں واضح کمی آچکی ہے۔ اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خرابی فی حال خطرناک حد تک نہیں پہنچی ہے، لیکن اگر موسمی تبدیلیوں کا سلسلہ (بوجہ سمندری پانیوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار) اسی طرح جاری رہا تو بنی نوع انسان کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے ہی سرد موسم ساحلی علاقوں سے روٹھ رہے ہیں اور برکھا رت بھی خواب بنتی جارہی ہے۔ اس صورت حال میں ہمیں موسموں کو روٹھنے سے بچانا ہوگا، ہر آنے والے دن کی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے مثبت اقدامات کرنے ہوں گے، درختوں کی کٹائی کو روکنا ہوگا، صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت قوانین بناکر ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا، خصوصی طور پر قدرتی نعمت پانی کے ضیاع کو روکنا اور اس کی قدر کرنا ہوگی، تب ہی ہم اپنی آنے والی نسلوں کو موسموں کی حقیقی خوبصورتی لوٹا سکتے ہیں۔
جہاں تک نوید بھائی کی جانب سے سردیوں کا تحفہ یعنی ماضی میں کھائے جانے والے خشک میوہ جات کے ذکر کا تعلق ہے، تو وہ اب ممکنات میں سے نہیں۔ اِس دور میں جب دو وقت کی روٹی کھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے… خشک میوہ جات یعنی چلغوزہ 8 ہزار روپے، کاجو 1800روپے، پستہ 1800 سو روپے، بادام 1500 سو روپے، اخروٹ، کشمش 800 روپے، جبکہ انجیر 400 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہو تو کوئی غریب انہیں چکھ بھی نہیں سکتا۔

حصہ