بادشاہ اور سامری جادوگر

60

آخری قسط

یہاں پہنچ کر شہزادے کو ایسا سکون ملا جو اسے کبھی اپنے عالی شان محل میں بھی نہیں ملاتھا۔
اگلی صبح خوش پوش میزبانوں نے اس سے آکر کہا کہ بزرگ آپ کو یاد فرمارہے ہیں۔ جب شہزادے ان کے غار میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ خود اس نے جس غار میں رات گزاری وہ بہت ہی سجا سجایا تھا اور جس بستر پر وہ سویا تھا وہ اتنا آرام دہ تھا کہ اس پر لیٹتے ہی اسے نیند آ گئی تھی لیکن برزگ کا غار نہ تو پردوں اور قالینوں سے آراستہ تھا اور نہ ہی اس میں آرام دہ بجھونے بچھے ہوئے تھے۔ بزرگ کے غار میں ایک دری بچھی ہوئی تھی اور وہ خود ٹاٹ کی چٹائی پر دو زانوں ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔ شہزادے کے غار میں داخل ہوتے ہی ہاتھ کے اشار سے بزرگ نے شہزادے کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
شہزادے نے فرش پر بیٹھتے ہی کچھ کہنے کیلئے منھ کھولا ہی تھا کہ بزرگ نے ہاتھ کے اشارے سے شہزادے کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر غار میں بزرگ کی آواز نے ایک عجیب سا جادو جگا دیا۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بزرگ ایک مرتبہ پھر گویا ہوئے اور کہا زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ موت سے پہلے کوئی جن و بشر انسان کو نہیں مارسکتا۔ اللہ تمہاری حفاظت کرنے والا ہے۔ راستہ پر خطر اور دشوار ضرور ہے لیکن خوف زدہ یا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ میرے پاس چند مخصوص لباس ہیں جن کو پہن اوڑھنے سے حشرات الارض، موزی جانور اور کیڑے مکوڑے تم سے دور دور رہیں گے۔ اس لباس میں ایسی ناپسندیدہ بو ہے جسے حشرات لارض، موزی جانور اور کیڑے مکوڑے ہی سونگھ سکتے ہیں اور یہ بو ان کو تمہارے نزدیک بھی نہیں آنے دیگی۔ چند کلیمات تم دل ہی دل میں دہراتے رہو گے تو کسی بھی قسم کا ڈر اور خوف تمہیں پریشان نہ کر سکے کا۔ میری تیار کردہ جڑی بوٹیوں سے بنیں کچھ گولیاں ہیں جو مہینوں تمہیں بھوک کا احساس نہیں ہونے دیں گی اور میرے پڑھے ہوئے پانی کے چند قطرے تمہیں سارا سارا دن پیاس کا احساس تک نہیں ہونے دیں گے۔ درندے اس راستے میں نہیں ہیں جس کی وجہ سے تمہیں کوئی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ احتیاطاً ایک لاٹھی ضرور تمہارے پاس ضرور ہونی چاہیے جو تم کو دی جائے گی اور یہ بھی دم شدہ ہے جو کسی بھی درندے کے حملے کو ناکام بنانے کیلئے کافی ہوگی۔ ہمارے علم کے مطابق فی الحال اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ سامری جادو گر اس غار میں آئے جس میں طوطے کا انڈا رکھا ہے اس لئے کہ وہ بہت ہی خاص جنتر منتر سیکھنے میں مصروف ہے اور میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ اس کا عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کا کام تمام ہو جائے کیونکہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ہے کہاں اور جو کچھ وہ سیکھ رہا ہے اس کی نوعیت کیا ہے۔
کل صبح سے اللہ کا نام لیکر اپنے سفر کا آغاز کردو۔
شہزادے نے کہا کہ مجھے راستوں کا کوئی علم نہیں ہے، کیا مجھے اس سلسلے میں آگاہی دینا پسند فرمائیں گے۔
بزرگ نے شہزادے کو اٹھ جانے کا اشارہ کیا اور کہا کہ جو جو ضروری باتیں اور خطرات تمہیں درپیش ہو سکتے تھے اس سے میں نے تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔ میں تمہارے لئے مسلسل دعا گو رہونگا۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے، کل صبح پو پھوٹتے ہی اپنے سفر کا آغاز کردینا۔ اللہ حافظ۔
بزرگ کے باادب خدمت گار شہزادے کو اس کی آرام گاہ تک لائے اور پھر اللہ حافظ کہہ کر اور آرام کرنے کا مشورہ دے کر اپنے اپنے فرائض پر مامور ہونے چلے گئے۔
صبح صادق کے ہوتے ہی شہزادے نے اپنا سامان سفر اٹھا یا اور جیسے ہی اپنے غار سے باہر نکلا، ایک بلبل کے برابر لیکن چڑیا کی رنگت والا پرندہ اڑ کر اس کے کندھے پر آکر بیٹھ گیا۔ جونہی شہزادے نے اپنے قدم سفر کیلے بڑھائے، پرندہ اس سے آگے آگے اڑنا شروع ہو گیا۔ پرندہ آڑتا جاتا اور شہزادہ اس کی پرواز کی سمت بڑھتا جاتا۔ کئی گھنٹے کی مسافت کے بعد پرندہ ایک گھنے درخت کی شاخ پر بیٹھ گیا گویا یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب کچھ دیر آرام کرنا چاہیے۔ درخت کیا تھا ایک پناہ گاہ معلوم ہوتا تھا جس کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں پہنچ کر شہزادے کو بڑی فرحت محسوس ہوئی۔ گھنٹے بھر آرام کے بعد سفر پھر شروع ہوا اور سورج غروب ہونے تک جاری ریا۔ راستے میں شہزادے نے صاف محسوس کیا کہ زمین پر رینگنے والی موزی مخلوق اور طرح طرح کے حشرات الارض اس کے راستے سے خود ہی ہٹتے چلے جا رہے ہیں۔ اسے خیال آیا کہ بزرگ کا عنایت کیا ہوا لباس واقعی کراماتی ہے ورنہ سانپوں، بچھوؤں اور حشرات الارض سے مقابلہ کوئی آسان بات نہیں تھی۔
شہزادے کی آنکھوں کے سامنے وہ وادی تھی جس وادی میں ایک بلند پہار صاف نظر آرہا تھا۔ اسی پہاڑ کے دامن میں وہ غار تھا جہاں تک اسے پہنچنا تھا۔ گوکہ ابھی اس غار کا دہانہ تو دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن اب شہزادے کو یقین ہو چلا تھا کہ وہ اپنی مہم میں لازماً کامیاب ہو جائے گا۔ وادی کے قریب ایک چھوٹی پہاڑی کی بلندی پر اسے ایک غار کا دہانہ صاف نظر آرہا تھا اور اس نے پرندے کو اسی جانب جاتے ہوئے دیکھ بھی لیا تھا اس لئے شہزادہ سمجھ گیا کہ آج سارا دن اور اگلی پوری رات شاید یہی قیام کرنا ہے۔ شہزادے نے سوچا کہ پہاڑی کی بلندی سے وادی کا اور بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے اس لئے اچھا ہی ہے کہ اپنے اہم ترین مقصد کے حصول سے پہلے پہلے خوب آرام کر لیا جائے۔
غار اندر سے کافی کشادہ تھا اور گھٹن کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا تھا۔ پرندہ اور شہزادہ غار میں داخل ہوئے اور اپنا رخت سفر ایک جانب رکھ کر آرام کرنے لگے۔
اللہ جانے تھکن کا اثر تھا یا منزل کے بہت قریب پہنچ جانے کی خوشی، شہزادے نے کمر سیدھی ہی کی تھی کہ اسے گہری نیند نے آلیا۔ اچانک وادی میں ایک عجیب سی ہلچل شروع ہو گئی۔ ہر جانب سے عجیب قسم کی خوفناک آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ پرندے نے دیکھا کہ شہزادہ بے خبر سو رہا ہے تو اسے بہت تشویش ہوئی۔ وہ باہر کا جائزہ لینے غار سے باہر آیا تو ہر جانب بڑی چہل پہل لگی ہوئی تھی اور عجیب عجیب مخلوق کسی خاص تیاری میں لگی ہوئی تھی۔ اس نے سوچا کہیں جادو گر کی آمد آمد تو نہیں۔ وہ گھبرا کر غار میں داخل ہوا تو دیکھا شہزادہ اسی طرح گہری نیند میں ہے۔ اس نے شہزادے کو جگانے کیلئے اپنی مخصوص آواز نکالی چونچیں ماریں لیکن شہزادہ شاید بہت ہی گہری نیند میں چلا گیا تھا۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں کبھی غار اور کبھی باہر کے چکر لگا رہا تھا کہ ایک زوردار کڑاکا ہوا اور بجلی کی تیز چمک دکھائی دی۔ آسمانی بجلی کی تیز چمک اور کڑاکے کی آواز سے شہزادے کی آنکھ کھل گئی۔ شہزادے نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور کود کر غار سے باہر نکلا تو دیکھا کہ وادی میں ایک عجیب سی ہلہچل مچی ہوئی ہے۔ آسمان کی جانب دیکھا تو دور دور تک بادل کا ایک ٹکڑا تک دکھائی نہیں دیا تو پھر یہ بجلی کی چمک اور زوردار کڑا کا کیسا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جادو گر کی آمد آمد ہو۔ گویا اب وقت بالکل بھی نہیں تھا اس لئے کہ اگر جادو گر آگیا تو نہ تو وہ اس غار کے قریب پہنچ سکے گا اور نہ ہی اس انڈے کو توڑ سکے گا جس میں جادو گر کی جان ہے۔ بس پھر کیا تھا، شہزادے نے کوئی انتظار کئے بغیر بہت تیزی کے ساتھ وادی میں داخل ہوتے ہی غار کی جانب دوڑنا شروع کردیا۔ جس طرح بزرگ نے بتایا تھا کہ تمہیں بہت خوفناک آوازیں بھی آئیں گی اور بظاہر ٹھوس جسم رکھنے والی ڈراؤنی مخلوق تمہارے اوپر حملہ آور بھی ہوگی بالکل اسی طرح ہی ہوا۔ انسانی فطرت میں ڈر اور خوف تو ہوتا ہی ہے۔ شدید ڈراؤنی آوازوں سے اور عجیب و غریب مخلوق کو حملہ کرتے دیکھ کر ایک مرتبہ تو شہزادہ لرز کے رہ گیا لیکن اب یا تو مر جانا تھا یا جس کام کیلئے یہاں تک کا سفر کرکیا تھا وہ کام کر گزرنا تھا۔ یہ خیال آتے ہی اسے اپنے والد محترم اور اماں حضور کی دعائیں دینا یاد آیا، بزرگ کی عطا کردہ کلمات مقدسہ دل و دماغ میں گونجنے لگے اور وہ ان کلمات کو ادا کرتا کرتا، خوفناک مخلوقات کا مقابلہ کرتا آگے سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ یہ ساری ہلچل اور چہل پہل جادو گر کے آنے کی وجہ سے ہی مچی ہوئی ہے اور چند ہی منٹوں میں وہ یہاں پہنچنے والا ہے۔ وہ آندھی طوفان کی طرح دوڑتا ہوا غار کے دہانے تک پہنچ ہی گیا۔ ابھی وہ غار میں داخل ہی ہوا تھا کہ وادی لرزنا شروع ہو گئی۔ اور اس نے دیکھا کہ باہر کھڑی مخلوق سجدہ ریز ہونے لگی۔ اس کا مطلب تھا کہ جادوگر اب چند سیکنڈ کے اندر ہی اندر وادی میں داخل ہونے والا ہے۔ یہ جان کر شہزادہ چیتے کی طرح اس بکس کی جانب دوڑا جو اسے ایک کونے میں رکھا ہوا نظر آرہا تھا۔ جیسے ہی اس نے بکس کھول کر اس میں سے انڈا نکالا اسی وقت تمام وادی سے جادوگر کے کو خوش آمدید کہنے کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ اب شہزادے کے پاس کسی بھی سوچ بچار کا وقت نہیں تھا۔ اس نے انڈے کو پوری قوت کے ساتھ زمین پر دے مارا۔ اِدھر انڈا زمین پر ٹوٹ کر گرا ادھر پوری وادی میں جیسے زلزلہ سا آگیا۔ پورا غار پتے کی طرح کانپنا شروع ہو گیا اور وادی چیخوں کی آواز سے گونج اٹھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے سیکڑوں گائے بھینسوں کے گلے ایک ساتھ کاٹے جا رہے ہوں۔ شہزادہ غار کے ایک کونے میں کانوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھا رہا۔ آدھے گھنٹے تک ایسا ہی ماحول رہا لیکن اس کے فوراً بعد ایسا لگا جیسے سارا ماحول روشن ہو گیا ہو۔ جب وہ جادوگر کی وادی میں داخل ہوا تھا تو ہر جانب ایک عجیب سی وحشت چھائی ہوئی تھی اور فضا دھندلائی ہوئی سی تھی لیکن اب لگا جیسے موحول روشن ہو گیا ہو۔ رات کا نصف پہر ہونے کے باوجود پوری وادی روشنی میں نہائی ہوئی سی لگتی تھی۔ فضا میں چھائی ہوئی دھند چھٹ چکی تھی، اور ہر قسم کی چیخ و پکار بند ہو چکی تھی۔ پوری وادی میں چاندنی چٹکی ہوئی تھی۔ آج پورا چاند تھا اور وہ آسمان کا آدھا سفر مکمل کر چکا تھا۔ شہزادہ غار سے باہر آیا تو دھانے کے بالکل قریب ہی سامری جادو گر درخت کے تنے کی طرح ذبح ہوا پڑا تھا اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر چکا تھا۔ وہ ساری عجیب و خلقت مخلوق جو بظاہر ٹھوس جسموں میں اس سے آ آ کے ٹکرارہی تھی اس کا دور دور تک کہیں نام و نشان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ فضا میں یا تو چکوروں اور الوؤں کی آوازیں گونج رہی تھیں یا چھینگروں کی مخصوص آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ اچانک کچھ فاصلے پر اسے کچھ انسانوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ شہزادہ حیران تھا کہ اس وادی میں انسانوں کا کیا کام۔ اچانک اسے بزرگ کی یہ بات یاد آئی کہ شہزادی کی خاطر کچھ بہادر نوجوان بھی جادو گر کو مارنے کے ارادے سے اس وادی میں داخل ہوئے تھے لیکن سامری جادو گر نے ان سب کو پتھر کا بنادیا تھا۔ جیسے ہی اسے بزرگ کی بات یاد آئی وہ تیزی کے ساتھ آوازوں کی سمت لپکا۔ نو جوان اس تبدیلی پر حیران تھے اور اپنے دوبارہ انسان بن جانے کا راز جاننا چاہتے تھے۔ جب انھوں نے اپنے ہی جیسے ایک خوبصورت نو جوان کو دیکھا تو وہ حیران تو ہوئے لیکن پریشان بھی ہو گئے۔ وہ سمجھے کہ اب سامری جادوگر ان کے ساتھ کوئی نیا کھیل کھیلنا چاہتا ہے لیکن شہزادے نے ان کے قریب جاکر جب ان سب کو سلام کیا تو ان کی جان میں جان آئی کیونکہ سلام کرنے والا کوئی برا آدمی ہو ہی نہیں سکتا۔ شہزادے نے سلام کرنے کے بعد ان کو ساری کہانی سنائی اور بتایا کہ وہ سامری جادو گر کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ وہ سب کے سب یہ سن کر سجدے میں گر گئے اور اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔
اِدھر نیک دل بادشاہ اپنی بیٹی کیلئے تو پریشان تھا ہی، اب شہزادے کیلئے بھی فکر مند رہتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ سامری جادوگر بہت ہی طاقتور ہے اور اپنے پاس بہت سارے جادوئی حربے رکھتا ہے۔ اس کو مارنا کوئی آسان کام نہیں۔ میری بیٹی کی خاطر اس نے بہت بڑا قدم اٹھانے کا جو فیصلہ کیا ہے، معلوم نہیں اسے اس میں کامیابی ہوسکے یا نہ ہو سکے۔ اللہ اس کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ شہزادے کو سامری جادو گر کی تلاش میں نکلے کافی عرصہ گزرچکا تھا اور اب تک کسی کو بھی اس کی خیر خیریت معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ شہزادی کی نیند تھی کے ٹوٹنے میں نہیں آرہی تھی۔ وہ اپنی خوابگاہ میں سوتی رہتی تھی۔ اس کی اس کیفیت کی وجہ سے اس کی اپنی حالت تو بری تھی ہی، اس کی ماں (ملکہ عالیہ) کا بھی رو رو کے برا حال ہوا جارہا تھا۔ بادشاہ نے سوچا کہ کیوں نہ میں آج اپنی بیٹی کو باغ ہی میں لے آؤں۔ اس طرح اسے کچھ تو تازہ ہوا ملے گی اور ملکہ عالیہ بھی اس بہانے باغ کی تازہ ہوا کھا لیں گی۔ چنانچہ اس نے کنیزوں کی مدد سے پھولوں کی ایک سیج باغ میں سجوائی اور پھر کنیزوں کو حکم دیا کہ وہ میری شہزادی اور ملکہ عالیہ کو باغ ہی میں لے آئیں۔ حکم کی تعمیل ہوئی اور شہزادی کو باغ میں بنی پھولوں کی سیج پر لاکر لٹا دیا گیا۔ نیک دل بادشاہ اور ملکہ عالیہ باغ ہی میں بیٹھے اپنی بیٹی کو بڑے رنج و غم سے دیکھے جارہے تھے کہ اچانک انھوں نے کیا دیکھا کہ شہزادی کی ناک سے تین رنگین لکیریں نکل کر ہوا میں تحلیل ہو گئیں یہ لکیریں بالکل اسی رنگ کی تھیں جو انھوں نے آج سے کئی ماہ پہلے شہزادی کی ناک میں داخل ہوتے دیکھیں تھیں اور جن کے داخل ہونے کے بعد شہزادی گہری نیند میں چلی گئی تھی۔ ابھی وہ ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ ہی رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ شہزادی نے ایک کروٹ بدلی اور اپنی سیج پر بیٹھ گئی۔ شہزادی کی پیٹھ ان کی جانب تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ابا اور اماں حضور کو فوراً نہ دیکھ سکی۔ اِدھر باد شاہ اور ملکہ کا خوشی کے عالم میں یہ حال تھا کہ منھ سے کوئی آواز ہی نہیں نکل پارہی تھی۔ نیک دل بادشاہ اور ملکہ عالیہ نے دیکھا کہ شہزادی بڑی حیرت سے پھولوں سے سجی سیج کو دیکھ رہی ہے۔ پھر وہ مڑی اور اپنے ابا حضور اور اماں حضور کی جانب متوجہ ہوئی اور دوڑتی ہوئی ان سے لپٹ گئی۔ دونوں کے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ خوشی سے قہقہے لگائیں یا خوب زور زور سے روئیں۔ شہزادی ان سے لپٹ کر کہنے لگی کہ میں تو آپ کی گود میں سوئی تھی لیکن پھولوں کی یہ سیج میرے لیئے کس نے سجائی۔ اس بات سے ظاہر ہورہا تھا کہ شہزادی کو اپنے سونے سے لیکر ابھی ابھی جاگ جانے تک کے وقت کا کچھ اندازہ ہی نہیں تھا۔ اپنے والدین کو خوشی سے روتا دیکھ کر وہ بہت ہی حیران ہوئی اور اس طرح بچوں کی طرح بلکتے دیکھ کر اس نے رونے کی وجہ پوچھی۔ جب اپنی والدہ اور والد حضور سے ساری تفصیل معلوم ہوئی تو اسے بہت ہی حیرت ہوئی اور وہ گہری سوچ میں چلی گئی۔ والدین نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے شہزادی سے پوچھا کہ وہ اتنی گہری سوچ میں کیوں ہے تو شہزادی کہنے لگی کہ بات بہت عجیب سی ہے۔ آپ کی بات پر حیرت کروں یا اپنے جگائے جانے پر۔ نیک دل بادشاہ اور ملکہ عالیہ نے کہا کہ بیٹی تمہاری بات سمجھ میں نہیں آئی کہ تم کہنا کیا چاہتی ہو۔ شہزادی کہنے لگی کہ مجھے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہمارے پڑوسی ملک کے ایک شہزادے نے آکر جگایا تھا اور وہ کہہ رہا تھا کہ اٹھو اب تم سامری جادو گر کی قید سے آزاد ہو چکی ہو۔ میں نے تو آج تک پڑوسی ملک کے بادشاہ کے بیٹے کو دیکھا بھی نہیں تو مجھے وہ پڑوسی ملک کا شہزادہ کیوں لگا۔ شہزادی کی بات سن کر اور شہزادی کے جاگ جانے پر ان کو یقین ہو گیا تھا کہ شہزادہ لازماً اپنے ارادوں میں کامیاب ہو گیا ہے۔ واقعی جو نیک کام کے ارادے سے نکلتے ہیں اللہ ان کی لازماً مدد کرتا ہے۔
پورے ملک میں جشن کا سماں تھا اور ملک کے عوام شہزادی کی صحتیابی کی خوشی میں جشن منارہے تھے۔ اِدھر نیک دل بادشاہ کے ملک میں شہزادی کے بیدار ہوجانے پر جشن منایا جارہا تھا اور ادھر پڑوسی ملک میں سامری جادو گر کی ہلاکت اور شہزادے کی کامیابی کی خوشیاں منائی جارہی تھیں۔
ایک دن نیک دل بادشاہ کی ملکہ عالیہ کہنے لگیں کہ بیشک لڑکیوں کیلئے کوئی آکر رشتہ مانگا کرتا ہے لیکن میں سوچ رہی ہوں کہ جس ملک کے شہزادے نے میری بیٹی کی زندگی کی خاطر اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر سامری جادوگر جیسے مضبوط اور طاقتور جادوگر کو ہلاک کیا ہے کیوں نہ ہم خود اس کو اپنا بیٹا بنانے کی درخواست کریں۔ نیک دل بادشاہ نے کہا کہ ملکہ عالیہ آپ نے تو ہمارے دل کی بات کہہ دی۔ کیوں نہ کل سورج نکلتے ہی ہم اور تم دونوں اپنے پڑوسی ملک کے بادشاہ کے پاس جاکر اپنی بیٹی کیلئے اس کا بیٹا مانگنے چلیں۔
ابھی سورج افق کا محل چھوڑ کر شفق کے گلستان میں آیا بھی نہیں تھا کہ نیک دل باد شاہ کے کانوں میں خوش آمدید خوش آمدید کی آوازیں گونجنے لگیں۔ ان آوازوں کا مطلب ابھی وہ پوری طرح سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ کئی درباریوں نے بھاگتے ہوئے آکر بتایا کہ ہمارے پڑوسی ملک کے بادشاہ ہمارے ملک کی سرحدوں میں داخل ہو چکے ہیں اور کچھ ہی دیر میں آپ کے پاس پہنچنے والے ہیں۔ نیک دل بادشاہ یہ سن کر حیران ہوا اور فوراً ہی اعلان کیا کہ آنے والے بادشاہ اور ملکہ عالیہ کا شایان شان استقبال کیا جائے۔
پڑوسی ملک کا بادشاہ بہت تپاک کے ساتھ ملا اور عرض کی کہ ہم آپ کے پاس ایک گزارش لیکر آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی کو ہم اپنی بیٹی بنالیں۔ بس پھر کیا تھا، دونوں ممالک میں جشن منایا جانے لگا اور اتنی دھوم دھام سے شادی ہوئی کہ آسمان اور زمین نے بھی ایسی تقریب شاید ہی دیکھی ہو۔

حصہ