ببول کے پیڑ پر بیر نہیں اُگتے

200

ببول کے پیڑ پر بیر نہیں اُگتے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مملکت کے وزیر اعظم صاحب جو منہ میں آئے بولتے چلے جائیں اور ان کے وزراء کا حال تو مزید بدتر ہے۔ جس قسم کی سیاست کی بنیاد عمران خان صاحب نے 2016 میں ڈالی تھی کہ اپنے مخالف ہر سیاستدان کو ابے ، اوئے . ڈیزل ، لوہار جومنہ میں آیا کہتے رہے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے عوامی دھرنوں جلسوں اور نجی گفتگو میں بھی کہتے رہے ہیں۔
اگرچہ اس قسم کی گفتگو اور بدتہذیبی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا ، مگر میڈیا پر کھلے بندوں ا ن کی تقا ریر کو مکمل طور پر نشر بھی کیا جاتا رہا بلکہ خالی خولی جلسوں میں عمران خان کو کنٹینر پر چہل قدمی کرتے بھی دکھا تے رہے۔
کل وکلاء اور ڈاکٹرز کے درمیان کارڈیو ہسپتال لاہور میں جو کچھ بھی ہوا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک وڈیو جو کسی ڈاکٹر نے جاری کی اس کا رد عمل ہے یا اس کے پیچھے گزشتہ چند برسوں سے پروان چڑھایا جانے والا وہ سیاسی کلچر ہے جس کی داغ بیل موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے ڈالی۔
اس کے پس منظر میں جاکر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کس کی شہہ پر اتنا بڑا واقعہ رونما ہوا جس میں چند انسانی کا بھی زیاں ہوا۔ مریضوں کا ہسپتال میں مرجانا معمولی حادثہ نہیں۔ اور نہ ہی پنجاب میں آئے دن ڈاکٹرز کی ہڑتالوں پر چلے جانے اور ایمرجنسی سمیت ہر ڈیپارٹمنٹ میں ہڑتال کے نام پر بائیکاٹ کی تعریف کی جاسکتی ہے۔
اصل بات جس پر شاید دھیان ہی نہیں جا رہا وہ یہ ہے کہ ایک صوبے میں اس قدر بد انتظامی ، غنڈ ہ گردی ، پولیس گردی ، معصوم بچوں کے اسکینڈلز اور پھر ان کی لاشیں ملنا روز کا معمول بن چکا ہو ، پولیس گردی نے اپنے ماضی کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ہوں کیا پنجاب انتظامیہ کا بد انتظامی اور غنڈہ گردی روکنے میں کوئی کردار ہے ؟
انتظامیہ نے جب جب مملکت کے نظام کو اپنے قابو میں کرنا چاہا یا اپنا کنٹرول ہاتھ سے نکلتے دیکھا انھوں نے اداروں کے مابین تصادم کی پالیسی کو پروان چڑھایا۔
ڈاکٹرز کے جہاں تک معاملات ہیں وہ پورے پاکستان میں ا یک جیسے ہیں ، سندھ کے سرکاری اور کراچی بلدیہ کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں بھی تنخواہیں چھ چھ ماہ سے نہیں مل رہی ہیں ، ریٹائرڈ ڈاکٹرز کا حال تو اور بھی پتلا ہے ، ان کی گریجویٹی کی رقم بھی صوبائی حکومتیں کھا چکی ہیں اور چار چار سال سے ڈاکٹرز اپنے حق کے لئے پریشان ہیں۔مگر اس سب کے باوجود دیگر صوبوں میں صبر اور تحمل مزاجی کا عنصر نمایاں ہے ، مگر کیا وجہ ہے کہ صرف پنجاب میں ہی ڈاکٹرز ، وکلا اور سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ واپسی کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔
وکلاء کی موومنٹ کا سہرا تو جسٹس افتخار چودھری کو جاتا ہے جس میں انہوں نے آرمی ڈکٹیٹر کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہنے اور استعفیٰ نہ دینے کا اعلان کیا۔ اس وقت پاکستان کی تمام جمہوری جماعتیں اور سول سوسائٹی نے مل کر چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک چلائی۔ مگر اس تحریک کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ وکلاء برادری نے اپنے آپ کو کسی بھی قسم کے قانون سے آزاد سمجھنا شروع کردیا۔
اس وقت کے ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے قاف لیگ اور متحدہ قومی مومنٹ کو ساتھ ملا کر وکلاء اور سول سوسائٹی کو کراچی ائیر پورٹ پر گولیوں کی باڑھ پر رکھا جس کے نتیجے میں درجوں سیاسی کارکن شہید ہوئے۔ یہ سب کچھ تشدد کی فضا کی پروان چڑھا نے اور اپنے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی ترکیب تھیں جس میں معاشرتی اقدار کو مستقل پامال کیا جاتا رہا۔
عدالتوں پر حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی پاکستان کی عدلیہ کے لئے تاریک ترین دن وہ تھا جب مسلم لیگ کے کارکنوں نے عدالت پر حملہ کردیا تھا۔
اس کے بعد احتساب کا نعرہ بلند کیا گیا جس میں عمران خان کو بطور سیاستدان متعارف کروا یا گیا۔
بظاہر صاف ستھری غیر سیاسی شہرت کے حا مل سنجیدہ و متین پڑھے لکھے افراد تحریک میں شامل ہوئے۔ پھر احتساب کے نعرے کے ساتھ عمران خان سیاست کے میدان میں لنگوٹ کس کر اتر آئے۔
1997تحریک انصاف نے پہلی دفعہ انتخابی کارروائی میں حصہ لیا۔ انتخابی مہم کے دوران کراچی میں خطاب کرتے ہوئے خان صاحب نے فرمایا کہ ان کی جماعت کے منشور میں تین اہم نکات ہیں: انصاف کی فراہمی، انسانی حقوق کی ترویج اور قومی خود مختاری کا تحفظ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نکات انہوں نے اسلام سے اخذ کیے ہیں اور پاکستان کا مستقبل اسی صورت روشن ہو سکتا ہے اگر یہاں اسلامی فلاحی ریاست کا قیام ہو جائے۔۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انتخابات سے پہلے خود خان صاحب نے بھی کبھی ووٹ نہیں ڈالا تھا۔
عمران خان نے آٹھ نشستوں پر انتخاب لڑا لیکن ایک نشست بھی جیتنے میں ناکام رہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی 48 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے اور مشترکہ طور پر جماعت نے صرف تین لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ ٹی وی پر انتخابی اشتہارات میں خان صاحب نے اپنے ووٹروں سے درخواست کی تھی کہ وہ انتخابات کے روز خود ہی انتخابی مرکز پہنچ جائیں کیونکہ ان کی جماعت کے پاس ابھی اتنا سرمایہ نہیں کہ وہ سب کو مراکز تک پہنچا سکیں۔ انتخابات سے قبل انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی یا نواز لیگ کے ساتھ اتحاد نہیں کریں گے۔
یہ تھا ماضی جس طرح عمران خان کی سیاسی سیڑھی پر چڑھایا گیا اور پھر نواز شریف کے احتسا ب اور پانامہ لیکس جیسے اسکینڈل منظر عام پر آنے شروع ہوگئے۔
1997 کے قومی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی میں دو تہائی اور پنجاب اسمبلی میں نوے فیصد برتری حاصل کی۔ ٹرن آؤٹ تاریخی لحاظ سے کم ترین رہا اور صدر لغاری نے ٹی وی پر اعتراف کیا کہ شہری اور دیہاتی علاقوں میں صرف چھبیس سے ستائیس فیصد افراد نے ووٹ کا اختیار استعمال کیا۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ نواز نے 202 نشستوں میں سے 134 جبکہ پیپلز پارٹی نے 19، متحدہ قومی موومنٹ نے 12 اور عوامی نیشنل پارٹی نے 9 پر کامیابی حاصل کی۔ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز نے حکومت قائم کی اور شہباز شریف کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی مخلوط حکومت قائم ہوئی اور سردار مہتاب عباسی کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ صوبہ سندھ میں مسلم لیگ نواز اور متحدہ قومی موومنٹ نے مخلوط حکومت قائم کی جبکہ بلوچستان میں کسی جماعت کو واضح برتری حاصل نہ ہوئی اور اختر مینگل نے وزارت اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔
نواز شریف وزیر اعظم بنے مگر اب فرعونیت خوب پروا ن چڑھ چکی تھی۔ انھوں نے قانون اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ فوج سے بھی پنگے بازی شروع کی۔ ان حالا ت میں بیوروکریسی کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ عمران خان کو بطور وزیر اعظم منتخب کروائیں۔
وزیر اعظم کی حیثیت سے نواز شریف نے حلف اٹھانے کے ایک ماہ بعد ہی صحافت کی آزادی پر حملہ ایک آرڈیننس کے ذریعے کیا۔ اگرچہ ان کے پہلے دور حکومت کے دوران بھی صحافیوں سے تعلقات مثالی نہیں تھے اس مرتبہ انہوں نے آئین کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کی اور آئین میں درج تمام اصولوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے صدر کے اختیارات کم کرنے والی تیرہویں ترمیم اور تین ماہ بعد چودھویں ترمیم راتوں رات منظور کروا لی گئیں۔
بھا ری مینڈنٹ اور فوج کے خلاف کھل کر محاذ آرائی نے تشد د اور عدم برداشت میں اچانک اضافہ کردیا۔
اب تو حقیقت میں فوج جیسے ادارے کو اپنی عزت بچانی مشکل ہوگئی اور یہیں سے عمران خان کو وزارت عظمی کے خواب دکھائے گئے۔ مگر اس بار عمران کے ہاتھ میں فوج نے گالم گلوچ اور بدتہذیبی پر مبنی ساز و سامان فراہم کیے۔ جس کے مظاہرے اسلام آباد دھرنے میں خوب دیکھنے میں آئے۔
یہاں تک کہ پاکستان ٹیلی ویزن کی سرکاری عمارت پر بھی حملہ کیا گیا اور اسٹیج سے عمران خان نے بذات خود یہ اعلان کیا کہ یہ تحریک انصاف کے کارکن ہیں ، اور میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔
یہ الگ بات کہ فوج کے منظور نظر ہونے کی بناء پر ان پر کوئی مقدمہ نہیں بنا۔ اور نہ ہی اعلی سطحی تحقیقات ہوئیں۔
کل کے بدترین واقعے میں بھی عمران خان کے بھانجے حسان بخا ری کا نام لیا جارہا ہے جو خود ایک وکیل ہے اور حملہ آوروں میں شامل تھا ، مگر چونکہ وزیر اعظم کا بھانجا ہے اس لئے اس کا نام مطلوبہ افراد کی فہرست میں نہیں ڈا لا گیا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم اپنے ارد گرد بدتہذیب وزرا اور کرپٹ سیاستدانوں کی انجمن سجائیں جس میں رات بھر شراب و کباب کی محافل گرم ہوں اور قوم سے توقع رکھی جائے کہ وہ متشدد رویہ نہیں اپنائے گی۔ نہ ایسا کبھی ہوا ہے نہ ہی ایسا کبھی ہوتا ہے۔
وزیر اعظم اپنے رویوں اپنی زبان اور اپنے طور طریقوں کو ایک مرتبہ بلکہ آخری مرتبہ جانچ لیجئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی بیو روکریسی کے ہاتھوں میں ‘ماضی ‘ بن جائیں۔

حصہ