روٹی، کپڑا، مکان اور انٹرنیٹ، تانیہ کا پاکستان وکلا گردی کی زد میں

306

اہم ترین بات اس نعرے میں یہ ہے کہ جب سے میں نے گھر کے لیے روٹی لانا شروع کی اُس وقت تندور کی ایک روٹی کی قیمت25 پیسے تھی۔ شلوار قمیص کا ایک مناسب جوڑا 100روپے میں مل جاتا۔ جہاں میں اِس وقت رہتا ہوں وہاں120 گز کے پلاٹ اور مکان کی تعمیر کوئی ایک لاکھ روپے میں ہوتی۔ آج حال یہ ہے کہ اُسی ایک روٹی کی قیمت 12 روپے، شلوار قمیص کا مناسب سا جوڑا2000روپے، جبکہ اُسی جگہ 120گز کے مکان کی قیمت 2کروڑ روپے تک جا پہنچی ہے۔ البتہ انٹرنیٹ، موبائل، فون سم، سی ڈی، ڈی وی ڈی، کمپیوٹر اس ملک میں واحد سہولت ہیں جو کہ مستقل سستی ہورہی ہیں، جس کی تفصیل آپ بخوبی جانتے ہوں گے یا اخذ کرسکتے ہوں گے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ پرانی ٹیکنالوجی متروک ہوجاتی ہے اس لیے سستی ہوجاتی ہے۔ بظاہر تو دلیل بہت اچھی ہے، لیکن غور کریں بلکہ تحقیق کریں تو عملاً ایسا نہیں ہوگا۔
کہنے کو تو سادہ سی بات ہے کہ تانیہ نامی ایک پاکستانی لڑکی گوگل میں جاب (سنگاپور) چھوڑ کر پاکستان واپس آگئی۔ اس لڑکی کا کراچی سے تعلق تھا، سائنس کی طالبہ تھی، عمومی رجحان کے مطابق ڈاؤ میڈیکل کالج میں پہلا سال گزار کر احساس ہوا کہ یہ والی تعلیم یا اس شعبے میں اُس کی دلچسپی نہیں تھی۔ اس لیے اسے خیرباد کہا اور متبادل کے طور پر امریکا کے کئی کالجوں میں داخلے کی کوشش کی، جو کہ بوسٹن کے ایک کالج میں اچھی اسکالرشپ کی صورت کامیاب ہوئی۔ وہ والدین سے اجازت لے کر امریکا چلی گئی۔ وہاں بی ایس سی کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ نوکری بھی کی۔ یہ موبائل ٹیکنالوجی کے آغاز کا دور تھا۔ ٹیکنالوجی سے دلچسپی تھی جو کہ بڑھتی چلی گئی اور بیرونِ ملک مواقع ملے جنہیں استعمال کرتے ہوئے مزید تعلیمی سفر MIT میں داخلے کی صورت سامنے آیا، جہاں سے MBA مکمل کیا۔ اب عملی زندگی میں نئے ٹیکنالوجی تجربات کا سفر ’اسٹارٹ اپ‘ کی صورت شروع ہوا۔ 2006ء میں یہ پہلا تجربہ ٹیکنالوجی اور میڈیکل کیئر کو جوڑ کر ایک پورٹل کی صورت کیا جس میں دنیا بھر سے کسی بھی وقت کسی بھی ڈاکٹر سے آن لائن رابطہ کیا جاتا۔ اس کے بعد گوگل میں ایک انٹرن شپ کا موقع ملا جو کہ آگے جاکر باقاعدہ نوکری میں تبدیل ہوگیا۔ گوگل میں نوکری کے دوران پھر وہ ترقی کرتے کرتے اس پروفائل پر جا پہنچی۔ Chief of Staff and Head of Strategic Initiatives on the Next Billion Users (NBU) team at Google
10ماہ قبل کسی نے وزیراعظم پاکستان کو سنگاپور سے ایک ای میل کرکے متوجہ کیا اور پاکستان میں ٹیکنالوجی اور جد ت کے لیے تانیہ کی خدمات کا تعارف و آئیڈیا پیش کیا۔ وزیراعظم نے وہ ای میل اپنی متعلقہ ریفارم ٹیم کو بڑھا دی۔ اُس ریفارم ٹیم نے ای میل کے ذریعے مارچ میں تانیہ سے رابطہ کیا۔ پھر پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی کے سفر کو بڑھاوا دینے اور نئے آئیڈیاز پر بات شروع ہوئی، اچھی پریزنٹیشن بن گئی۔ جہانگیر ترین کی انٹری ہوئی اور انہوں نے تانیہ کے آئیڈیاز اور پریزنٹیشن دیکھ کر انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ یوں تانیہ کے 20 سال بعد پاکستان آنے اور حکومتی عہدیداران سے میٹنگز و بریفنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو کہ ’ڈیجیٹل پاکستان‘ منصوبے کی سربراہ کی شکل میں سامنے آیا۔ پوری دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب جارہی ہے، اس عمل میں پاکستان نے بھی اُترنا شروع کردیا۔ اس طرح موجودہ حکومت میں باقر رضا جنہوں نے آئی ایم ایف کی نوکری چھوڑی، کے بعد تانیہ ایدروس دوسری پاکستانی فرد قرار پائیں جو گوگل کی پُرکشش نوکری چھوڑ کر پاکستان کی خاطر، پاکستان کے لیے کچھ بڑا کرنے آئی ہیں۔ ویسے یہ نہ سمجھیے گا کہ یہ دو ہی افراد ہیں، ان کے علاوہ اور بھی سیکڑوں افراد ہیں جو اسی جذبے کے ساتھ پاکستان آکر اس کی خدمت کررہے ہیں۔ ہمارا موضوع سوشل میڈیا کا دائرہ کار ہے، اور تانیہ جب سے آئیں، سوشل میڈیا پر موضوع بنیں۔
’ڈیجیٹل پاکستان‘ کے منصوبے سے ہیلتھ، تعلیم و دیگر دستاویزات کے لیے کئی آسانیاں ملیں گی۔ ای گورننس کے معاملات، شفاف اور پیپر لیس ماحول بنانے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔ ہم تانیہ ایدروس کو ابھی تک قادیانی اور یہودی ایجنٹ جیسے فتووں سے محفوظ رہنے پر سلام اور مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح تانیہ کی ڈگری بھی ہدفِ تنقید بنی کہ ’’تانیہ نے تو صرف MBAکیا ہے، اس کی تعلیم و تربیت میں ٹیکنالوجی کی تعلیم، سافٹ ویئر یا ہارڈ ویئر، کوئی پروگرامنگ یا ایسا کچھ بھی نہیں۔گوگل میں بھی وہ بزنس بڑھانے یا گاہک بڑھانے کا شعبہ دیکھ رہی تھیں۔‘‘
کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی انسان قتل ہوتا ہے تو اس کا گناہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ’قابیل‘ کو لازمی جاتا ہے۔ مگر اب کوئی تانیہ کو بتائے کہ لاہور میں وکلا اور ڈاکٹروں کی لڑائی میں جن معصوم مریضوں کی جان گئی، اُس کا گناہ کس کے سر جائے گا؟ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کو بھی جھگڑے (حملے) کی وجہ بتایا گیا، جس میں ڈاکٹروں نے وکلا کا اپنی تقریر کے دوران مذاق اڑایا۔ ان ڈاکٹروں کو بھی نہیں پتا تھا کہ ویڈیو بن رہی ہے یا وائرل ہوگی، یا اُس کے کیا نتائج آئیں گے۔ ویڈیو اگر وائرل نہ ہوتی، یا عین ممکن ہے کہ ویڈیو جھگڑے کے بعد وائرل ہوئی ہو، کیونکہ معاملہ گرم ہوچکا تھا، سب جاننا چاہ رہے تھے کہ یہ کیا اور کیوں ہوا؟ لیکن اکثریت کا کہنا یہی ہے کہ وکلا اور ڈاکٹروں کے درمیان معاملات حل ہوچکے تھے، اس کے بعد ویڈیو نے راکھ میں دبی چنگاری کو ہوا دے کر پھر شعلہ بنا ڈالا۔ پھر ایک جانب جو کچھ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ’وکلا گردی‘ کے پرچم تلے ہوا، تو دوسری جانب سماجی میڈیا پر بھی حامیوں اور مخالفین کے درمیان ’پیشہ ورانہ‘ رقابت کا اظہار جاری رہا۔کچھ پھیلتی ہوئی پوسٹوں کا مواد یوں تھا:’’فیس نہ دینے پر ڈیڈ باڈی نہیں روکتے، دل گردے نکال کر نہیں بیچتے، سفید کوٹ میں کالے کام نہیں کرتے۔‘‘ اسی طرح ایک اور انداز یہ بھی تھا کہ ’’کوئی پوچھے توکہنا آج ڈاکٹرکا آپریشن تھا۔‘‘ ایک اور صاحب لکھتے ہیں کہ ’’پاکستانی وکلا اور ڈاکٹروں کی حرکتیں دیکھ کر تو مجھے پاکستانی انجینئر درویش محسوس ہوتے ہیں۔ وکلا گردی مسئلہ تعلیم کا نہیں تربیت کا ہے۔‘‘ اب بات یہ ہے کہ ایسی معاشرتی صورتِ حال میں تانیہ کو صرف ڈیجیٹلائزیشن ہی نہیں بلکہ ’اخلاقائزیشن‘ یعنی سماجی و اخلاقی تربیت کا بھی جامع پروگرام لانچ کرنا ہوگا۔ اگر آپ اسمارٹ فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا سے 22 کروڑ افراد کو بغیر تربیت کے جوڑ دیں گے تو آئے دن ایسے ہی نتائج سامنے آئیں گے۔ اسی تناظر میں ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ ’’معاملہ یہ ہے کہ بڑے سے بڑے فراڈیے کو فون کرلیں، رنگ ٹون ہوگی: ’کرم مانگتا ہوں عطا مانگتا ہوں‘ لگائی ہوتی ہے۔‘‘
جماعت اسلامی کراچی کے فیس بک پیج کو کئی تنبیہات کے بعد اس ہفتے کوئی 30۔35گھنٹے کے لیے بند کردیا گیا تھا، ساتھ ہی پیج چلانے والے تمام افراد کی آئی ڈیز بھی بند کردی گئی تھیں۔ جماعت اسلامی کی میڈیا ٹیم نے اپنے دفتر کے باہر کھڑے ہوکر فیس بک کے متعصبانہ رویّے پر احتجاج بھی کیا، ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بھی بنایا، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا نے بھی اس خبر کو جگہ دی۔ ردعمل کی ترتیب کے نتیجے میں رات تک پیج دوبارہ بحال کردیا گیا۔ جماعت اسلامی نے یہ مؤقف پیش کیا کہ تواتر سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور اُن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیوں، جلسوں و مظاہروں کی پیج پر کوریج کی وجہ سے یہ عمل کیا گیا ہے، کیونکہ کشمیر ایشو سے متعلق پوسٹوں یا مؤقف کے اظہار پر فیس بک ماضی میں کئی بار توجہ دلا چکا تھا، اور اُس وقت کے ذمہ دار کاشف حفیظ کا نہ صرف فیس بک بلکہ واٹس ایپ کا اکاؤنٹ بھی بند کردیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی کراچی کا واضح مؤقف ہے کہ بوقتِ ضرورت سوشل میڈیا کے ہر محاذ پر کشمیریوں کی حمایت سے کسی قیمت پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسی طرح پھر ایک دن بعد یعنی بدھ کے روز جماعت اسلامی لاہور کا فیس بک پیج بھی اسی انداز سے بند کردیا گیا کہ تمام ایڈمنز کی آئی ڈیز بندکردی گئیں۔ کشمیر کے معاملے پر ہم پہلے سے دیکھتے آرہے ہیں کہ بھارت جماعت اسلامی کو خاصا اضافی وزن دیتا ہے، اور جماعت اسلامی کے ہر ہر عمل کو بڑھا چڑھا کر اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھ کر ایسی اوچھی حرکتیں کرتا یا کرواتا رہتا ہے۔ اب یا تو پیج رپورٹ کیا گیا، پوسٹیں رپورٹ کی گئیں، یا پھر فیس بک کے بھارت میں مقامی دفتر سے یہ کام کیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک بار پھر بغیر لکھی تقریر پڑھتے ہوئے جذبات میں اتنا آگے نکل گئے کہ سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہوئے انہوں نے روانی میں انتہائی نامناسب الفاظ کا انتخاب کیا، خصوصاً جب آپ کی زبان میں یہی بات سمجھانے کے لیے دیگر الفاظ کا ذخیرہ موجود ہو۔ تکریم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تو یہ سمجھایا گیا ہے کہ بات کرتے ہوئے آواز بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونچی نہ ہوسکے، یہاں تک کہ دروازہ بھی کھٹکھٹانا ہو تو محدثین بیان کرتے ہیں کہ کسی نے کبھی ہاتھ (ہتھیلی) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کا دروازہ نہیں بجایا، ہمیشہ ناخنوں کی نوک یا انگلیوں کی پشت استعمال کی۔ اب کسی مفتی یا مولوی کا فتویٰ لینے کے بجائے آپ خود اندازہ کرلیں کہ یہ کس نوعیت کا معاملہ ہے۔ خیر ٹوئٹر پر ٹی ایل پی کی جانب سے اس پر شدید ردعمل کا آغاز ہوا جو ٹرینڈ کی صورت ظاہر ہوا، پھر اس میں عوام کی بڑی تعداد شامل ہوگئی۔ میں نے یہ ضرور محسوس کیا کہ لوگوں نے اس ایشو پر توجہات آنے کے بعد دماغ کا درست استعمال کرتے ہوئے متعلقہ ویڈیو اتنی بڑی تعداد میں شیئر نہیں کی جتنا عموماً کی جاتی ہے۔ اس کے بعد جب پی ٹی آئی کی ٹیم اپنے وزیراعظم کے الفاظ کا دفاع کرنے ’عمران سچا عاشقِ رسول‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ میدان میں اتری تو جواب میں ’قدر نبی دا نیازی کی جانے‘ کا ہیش ٹیگ آیا، اور دونوں ٹرینڈ لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اس عمل کا جس پر معافی، توبہ سے بات کافی ہوجاتی، زبردستی دفاع کرنا شروع کیا گیا، جس سے بات مزید بگڑتی رہی۔ اسلام کے پُرامن مذہب ہونے کا درس دینے والوں کو نہایت اچھے انداز سے یوں سمجھایا گیا کہ اسلام انتہائی پُرامن اور سلامتی والا دین ہے، یہ کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے لیکن فتح مکہ پر کتے کا بچہ تو بچ جاتا ہے، پر غلافِ کعبہ سے لپٹے انسان کو قتل کرا دیتا ہے۔ یہ اسلام کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے لیکن بدر میں کعبہ کے متولی کی گردن اتروا دیتا ہے۔ یہ کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے لیکن وقت کی دو سپر پاورز کو گرا دیتا ہے۔ یہ اسلام بہت پُرامن ہے، یہ کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے پَر باپ، بیٹے کی گردن پر تلوار چلا دیتا اگر وہ میدانِ بدر میں زد میں آجاتی۔ یہ کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے لیکن بھائی بھائی کو زور سے بندھواتا ہے کہ رہائی کے بدلے اس کی ماں سے اچھا پیسہ ملے گا۔ یہ بڑا پُرامن دین ہے، یہ کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے لیکن افریقہ کے جنگلوں میں عتبہ ؓبن عامر شیروں اور سانپوں کو بھی جنگل سے خالی کرا دیتا ہے۔ یہ کہتا کسی کو کچھ نہیں ہے لیکن بیٹے سے باپ کے سر پر تلوار رکھوا دیتا ہے۔ ان کے باپ عبداللہ بن ابی کے الفاظ قرآن نے سورۃ منافقون میں یوں بیان کیے:کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اُسے جو نہایت ذلت والا ہے۔‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق مکہ سے تھا لیکن اُس وقت وہ مدینہ میں مقیم تھے۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ ؓ عاشقِ رسولؐ تھے، جب اُنہیں اپنے باپ کے اس قول کے بارے میں پتا چلا تو روایت کے مطابق اشرافِ مدینہ کے روبرو اپنے باپ کی گردن پر تلوار رکھ دی اور کہا ’خدا کی قسم میں تجھے اُس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک کہ تُو یہ نہ کہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتہائی عزت والے ہیں اور میں سب سے ذلیل ہوں‘۔ پس انہوں نے اپنے باپ کو نہ چھوڑا جب تک اس نے یوں نہ کہہ دیا۔

حصہ