این ای ڈی یونیورسٹی کا کانووکیشن انجینئرز کا مستقبل۔۔۔۔ ایک سوالیہ نشان

301

افشاں نوید
این ای ڈی یونیورسٹی کے وسیع وعریض گراؤنڈ میں آج میں بھی تین ہزار سے زائد ماؤں میں سے ایک تھی جن کے بچے شاداں و فرحاں گریجویشن و پوسٹ گریجویشن کی سند حاصل کرنے کے بعد اپنوں سے بغل گیر ہورہے تھے۔
مائیں بے ساختہ بچوں کی پیشانیاں چوم رہی تھیں۔
باپ ان مضبوط شانوں کے بیچ ایک عجیب سی قوت پارہے ہوں گے، کہ کل تک جسے پالنے میں جھُلاتے تھے، آج بڑھاپے کا سہارا بننے کو ہے۔
خوابوں کی تعبیر کوئی ایک دو دن میں تو نہیں مل جاتی!!! اٹھارہ، اُنیس برس کی مشقت کے بعد یہ دن نصیب ہوا تھا۔
والدین سب ایک سے ہوتے ہیں،آنکھیں بھی ایک سی اور خواب بھی سانجھے…
تاحدِّ نظر خوبصورت شامیانہ ہواؤں کے دوش بدوش کلکاریاں سی مار رہا تھا، بینڈ خیرمقدمی ترانے پیش کررہے تھے۔ سجیلے جوان آج عجب پُربہار تھے۔ بچیاں پُراعتماد…گورنر سندھ عمران اسماعیل کا خطاب…
آپ نے خطاب میں جو کچھ کہا وہ ایک دردمندانہ اپیل تھی کہ خدارا ملک چھوڑ کر نہ جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ’’میں ڈاکٹروں کے ایک کنونشن میں گیا، وہاں اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستانی اسپتالوں کے لیے ایمبولینسوں اور مشینری کے تحفے دیے تو میں نے کہا کہ ملک کو اس چیریٹی کی نہیں آپ کی ضرورت ہے، آپ ملک میں واپس آئیں۔ ہم نے تین ہزار روپے ماہانہ فیس پر ڈاکٹر اور انجینئر تیار کیے ہیں، وہ جاکر بیرونِ ملک بیٹھ جاتے ہیں اور آنے کا نام نہیں لیتے۔ اس پنڈال میں بھی نصف یہی خواب دیکھ رہے ہوں گے کہ انہیں ہر صورت باہر جانا ہے۔
آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آپ اس ملک کے مقروض ہیں۔ آپ ذہین نوجوان اس ملک وقوم کی ضرورت ہیں۔ اصل سرمایہ تو آپ ہیں۔‘‘
گولڈ میڈل ہولڈر نوجوانوں کو پانچ ہزار روپے کے چیک دیے گئے۔ کچھ کو اسپانسر کیے ہوئے لیپ ٹاپ دیے گئے۔
مجھ جیسی ایک عام ماں سوچ رہی تھی کہ گولڈ میڈلسٹ نوجوانوں کو جو انعامات دیے جارہے ہیں وہ سب اسپانسر کرائے گئے ہیں۔ خود حکومت نے ان انجینئروں کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے؟ ان کے ٹیلنٹ کی اس ملک وقوم کو کیا واقعی ضرورت ہے؟کس فیلڈ کے لیے کتنے انجینئر درکار ہیں؟ آخری حکومتی سروے کب کرائے گئے تھے؟
تین چار دہائی قبل اس جامعہ کے جو شعبے جتنے انجینئر پیدا کرتے تھے آج بھی اتنی سیٹیں مختص ہیں۔ آٹو موبائل کی صنعت کی صورتِ حال کس سے چھپی ہے! تیل وگیس کی صنعت کی نبض پر جو ہاتھ ہیں وہ ان ڈوبتی دھڑکنوں کی تعداد بتا سکتے ہیں۔
سوچنے کی بات ہے آج ہم ’’آٹومیشن‘‘ کے دور میں جی رہے ہیں۔ انسانوں کی جگہ مشینیں لے رہی ہیں۔ وقت آپ سے انجینئر کے بجائے منیجر کی ڈیمانڈ کررہا ہے۔ اب آنے والی دنیا روبوٹس کی دنیا ہے… آج بھی اتنا کچھ کمپیوٹرائزڈ ہوچکا ہے کہ انسانوں کی ضرورت کم ہورہی ہے۔ آپ ہر سال صرف ایک یونیورسٹی سے چار ہزار ذہین افراد انجینئر بنا کر ملک کے حوالے کررہے ہیں۔ یہ فارغ التحصیل نوجوان تین آپشن رکھتا ہے: سرکار اس کو ملازمت دے/ پرائیویٹ سیکٹر اس کو کھپائے/ وہ تلاش معاش میں بیرونِ ملک چلا جائے جہاں اس کی ڈگری کے عوض ملازمت مل سکے، وہ ہنر استعمال میں لائے۔
آپ حکومتی حالتِ زار فواد چودھری کے بیان کی صورت میں دیکھ چکے کہ ’’حکومت کی ذمہ داری نہیں روزگار فراہم کرنا، پرائیویٹ سیکٹر کو یہ کام کرنا چاہیے۔‘‘
پرائیویٹ سیکٹر کی صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ ہر فرد حکومتی اقدامات کی روشنی میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں تو کئی شعبے ہی بند کرچکیں کہ میٹالرجی کے شعبے کی پاکستان میں کہاں کھپت؟ پیٹرولیم کا شعبہ کہاں کھڑا ہے؟ اسٹیل ملز اور پی آئی اے جیسے نافع اداروں کو کرپشن کا دیمک چاٹ گیا…
ایک زرعی ملک کی انجینئرنگ کی حقیقی ضروریات کیا ہیں؟ اس موضوع پر آخری سیمینار کب اور کہاں ہوا، ہماری ناقص یادداشت میں تو محفوظ نہیں۔
این ای ڈی پاکستان کی بہترین انجینئرنگ یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے جہاں داخلہ ملنا کسی طالب علم کا خواب ہوتا ہے۔ اس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل دنیا بھر میں اعلیٰ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میرے بیٹے نے جس شعبے سے گریجویشن کیا، وہاں داخلے پچاسی فیصد پر بند ہوجاتے ہیں۔کوئی کونسلنگ نہیں کرتا طالب علموں کی کہ کہاں کس شعبے کی کتنی کھپت ہے؟ اب عملاً میکینکل سے زیادہ ٹیکسٹائل کا مستقبل ہے کہ کپڑا ایکسپورٹ ہوتا ہے۔ آپ کی معیشت جتنی بھی مُردہ حالت میں ہو، کپڑا بہرحال بنتا رہے گا، ایکسپورٹ ہوتا رہے گا۔ جس شعبے میں یونیورسٹی میں ساٹھ فیصد نمبروں پر داخلہ ہوتا ہے اس کا مستقبل زیادہ محفوظ ہے۔
نوجوان ڈگریاں لے رہے ہیں اور سر پیٹ رہے ہیں کہ کاش صحیح رہنمائی بروقت میسر آجاتی۔
میرا بیٹا بولا ’’ڈگری لیے چار ماہ سے دوست دردر کی خاک چھان رہے ہیں، انجینئر کا مستقبل اِس ملک میں نہیں‘‘۔ چار ماہ میں اُس کے ہم جماعت صرف چار نوجوانوں کو ملازمت مل سکی ساڑھے تین سو میں سے۔ باقی جو دورانِ تعلیم خرچ ہوا وہ الگ… اب ماں کا زیور اور باپ کی جائداد بیچ کر بیرونِ ملک جانا ہی آخری آپشن ٹھیرتا ہے۔ جن کے پاس یہ نہیں وہ اٹھارہ، بیس ہزار کی ملازمت یا اوبر،کریم چلانے کے لیے تیار رہیں۔ اگر انجینئر دوسرے ملکوں میں جاکر یہ کام کرسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں؟
بات تو یہ بھی سوچے جانے کی ہے کہ لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں انجینئرنگ پڑھ رہی ہیں۔ اگر وہ فیلڈ میں نہیں آرہیں تو کون سوچے کہ ان کے لیے کچھ خاص شعبے مختص کردیے جائیں تاکہ لڑکوں کا حق نہ مارا جائے۔ جب مرد انجینئر کے لیے ملازمت کے مواقع نہیں تو خواتین کے لیے تو ہماری سماجی مشکلات کئی حوالوں سے زیادہ ہیں۔
بس سماج میں ایک چارم ہے کہ ڈاکٹر بننا ہے یا انجینئر۔ ہماری دوستوں کے زمانے سے آج تک ہم نے جن لڑکیوں کو انجینئر بنتے دیکھا اُن میں ملازمت کی خواہش مند معلمی کو بطور پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اگر استاد ہی بننا تھا تو سائنس و سوشل سائنسز کے کسی بھی مضمون میں ماسٹر کیا جاسکتا تھا، اس کے لیے کسی انجینئر کی سیٹ ضائع کرنے کی کیا ضرورت!
ویسے کون سوچے اور کیوں سوچے؟ ہمیں کچھ عجیب سا لگا کہ وہ صوبائی گورنر جو انٹر کی ڈگری رکھتے ہیں، ایک اعلیٰ ادارے کے گریجویٹس کو اسناد دے کر ان کے وقار میں کیا اضافہ کررہے ہیں؟ ایک طرف آپ یونین پر پابندی لگاتے ہیں، دوسری طرف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس طرح سیاست کو گھسیٹ کر علم کا وقار مجروح کرتے ہیں۔
والدین کی عزت افزائی:
یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک طالب علم سے اس کانووکیشن کی مد میں آٹھ ہزار روپے وصول کیے تھے۔ فی پاس دو ہزار روپے، جبکہ والدین کے لیے پاس لینا لازم تھا۔ دوہزار روپے میں کوٹ اور کیپ جو اس تقریب کا یونیفارم تھا (جس کا کچھ فیصد رکھ کر باقی کوٹ کی واپسی پر لوٹا دیا جانا تھا)
کھانے کا انتظام وسیع وعریض پنڈال میں کیا گیا تھا۔ مانا کہ کرسیوں پر خرچ آتا ہے، مگر طعام گاہ میں میزیں ہی رکھ دی جاتیں تو اتنی عزت افزائی والدین کو ہضم ہوجاتی۔ فرشی نشست جہاں دسترخوان نام کی چیز بھی نہ بچھائی جاسکی۔ کچھ والدین اکڑوں،کچھ پیروں کی تکلیف کے باعث پیر پھیلاکر کھانا کھانے پر مجبور تھے۔ آج کسے گھٹنوں اور جوڑوں کا درد لاحق نہیں! کسی کو کھانا کھلانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں جس سے پاکستان کی اس بڑی یونیورسٹی کی انتظامیہ کماحقہٗ واقف نہیں تھی۔

حصہ