مجلسِ مصنفین کے زیراہتمام اشفاق حسین کے ساتھ ایک شام

220

نثار احمد نثار
مجلس مصنفین کے زیر اہتمام کے ایم سی آفیسرز کلب کے اشتراک سے کینیڈا سے تشریف لائے ہوئے شاعر و ادیب اشفاق حسین کے ساتھ شام محبت ترتیب دی گئی جس میں پروفیسر شاداب احسانی صدر تھے۔ طارق جمیل نے تلاوت کلام مجیدکی سعادت حاصل کی جب کہ صفدر صدیقی رضی نے نعت رسول پیش کی۔ راشد نور نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ رضوان صدیقی نے خطبۂ استقبالیہ میں کہا کہ دوستوں کے لیے محفلیں سجانا ان کی ہابی ہے ہمارے شہر میں ان دنوں اشفاق حسین آئے ہوئے ہیں میں ان کا ممنون و شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی گوں ناگوں مصروفیت میں سے ہمارے لیے وقت نکالا یہ ہمہ جہت شخصیت ہیں‘ یہ چالیس برسوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں اور اپنی معاشی ضروریات کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہیں انہوں نے کینیڈا میں بے شمار پروگرام منعقد کیے ہیں جن میں اکنافِ عالم کے قلم کاروں نے اپنے فن کے جوہر دکھائے انہوں نے فیض احمد فیض کے حوالے سے بھی شہرت کمائی ہے کیوں کہ انہوں نے فیض احمد فیض پر پہلا مقالہ لکھا تھا اس کے بعد بھی انہوں نے فیض احمد فیض کے فن و شخصیت پر کئی کتابیں تحریر کیں۔ تاج دار عادل نے کہاکہ جب ادبی فضا پورے عروج پر تھی اور بڑے بڑے قد آور شعرا منظر عام پر موجود تھے ایسے ماحول میں اشفاق حسین نے اپنی آواز بلند کی اور اپنی شناخت بنائی‘ یہ بڑی اہمیت کی بات ہے‘ یہ بنیادی طور پر کراچی سے تعلق رکھتے ہیں‘ انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چار سال تک ملازمت کی کینیڈا جا کر بھی یہ اپنے وطن کو نہیں بھولے۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر ہمیں اشفاق حسین کے اشعار نظر آرہے ہیں ان کی نثری تخلقیات بھی اردو ادب کا سرمایہ ہیں یہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے عزت و شہرت سے نوازا ہیں۔ آج بھی ہم ان کی محبت میں یہاں جمع ہیں۔ سلمان صدیقی نے کہا کہ دس سے زائد شعری اور نثری کتابوں کے خالق‘ تمغۂ حسن کارکردگی کے حامل‘ کینیڈا میں مقیم اشفاق حسین ایک زندہ دل شخصیت ہیں‘ ان کی غزلیں داخلی اور خارجی محسوسات کی آئینہ دار ہیں‘ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ے کہ قاری کو ہمہ وقت اپنے سحر میں رکھتی ہے۔ نئی بستی میں نئے لوگوں کے ساتھ گزربسر کرتے اور نئے راستوں سے گزرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:

بستی نئی ہے‘ لوگ نئے‘ راستے نئے
ماضی میں سانس لیتا ہوا گھر کہاں سے لائیں

اشفاق حسین ایک ایسی نسل کے شاعر ہیں جس نے ترقی پسند تحریک کی نعرہ بازی اور رومانیت کا آخری دور بھی دیکھا ہے اور اس کے اثرات بھی قبول کیے ہیں‘ اپنی نظموں میں زُومنگ کی تیکنیک بروئے کار لاتے ہوئے ایک ماہر عکاس کی طرح انہوں نے قریب اور دور کے مناظر عکس کیے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی بیانیے کو بھی اپنے اشعار کا محور بنایا ہے کہ یہ ہر سطح پر پاکستانی ثقافت کے علمبردار ہیں۔ اس موقع پر رونق حیات نے اشفاق حسین کو منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ صاحبِ صدر پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی نے کہا کہ شاعری میں جمالیاتی حسیّات کے حوالے سے فیض احمد فیض جیسا آدمی نظر نہیں آتا۔ اشفاق حسین نے بھی فیض احمد فیض کے فن اور شخصیت سے استفادہ کیا ہے‘ ان کے یہاں غزل کے روایتی مضامین کے علاوہ جدید لب و لہجے کا استعمال ملتا ہے۔ ان کی شاعری زمینی حقائق سے جڑی ہوئی ہے انہوں نے زندگی کو جس طرح برتا ہے وہ ان کے اشعار میں نظر آرہی ہے۔ صاحب صدر نے عہد حاضر کے بارے میں کہا کہ کتابوں کی اشاعت بڑھ رہی ہے لیکن ریڈر غائب ہے کتب بینی کا شعبہ برباد ہو رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سامعین کو مشاعرے میں لائیں۔ صاحب اعزاز اشفاق حسین نے اپنی خوب صورت نظمیں اور غزلیں سنا کر خوب داد و تحسین وصول کی۔

کراچی پریس کلب ادبی کمیٹی کی تقریب ملاقات

پیر 9 دسمبر شام چھ بجے کراچی پریس کلب میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں دیگر ممالک سے تشریف لانے والے شاعروں اور ادیبوں کے اعزاز میں تقریبِ ملاقات کا اہتمام کیا۔ تقریب کی صدارت رضا علی عابدی نے کی۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت سعید احمدنے حاصل کی۔ اختر سعیدی نے نعت رسولؐ پیش کی۔ راشد نور نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ تقریب میں عارف نقوی‘ اشفاق حسین‘ وکیل انصاری‘ ریحانی قمر‘ نجمہ عثمان‘ راحت زاہد‘ غزل انصاری‘ تہمینہ ناز‘ صدف مرزا‘ محمودہ غازیہ اور فرح اقبال نے کلام سنایا جب کہ صاحبِ صدر رضا علی عابدی نے کہا کہ یہ ایک اچھی تقریب ہے جس میں ہر موضوع کی شاعری سامنے آئی ہے یہ ایک اچھی روایت ہے کہ ہم اپنے شعرا کی پزیرائی کر رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اردو زبان و ادب کے حوالے سے الیکٹرانک میڈیا پر اردو کے صحیح تلفظ ادا نہیں ہو رہے اس طرف توجہ کی ضرورت ہے جب کہ ماضی قریب میں ہر فن کار‘ تلفظ کی درست ادائیگی کے لیے توجہ دیتا تھا۰ اس موقع پر کراچی پریس کلب کی ادبی کمیٹی کی جانب سے تمام مہمانوں کو اجرک پیش کیا گیا۔ کراچی پریس کلب کے جنرل سیکرٹری ارمان صابر نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ کراچی پریس کلب ایک تاریخ ادارہ ہے پاکستان کی ہر بڑی سیاسی تحریک کا بنیادی محور یہی ادارہ ہے۔ ادبی‘ سیاسی اور سماجی لحاظ سے بھی کراچی پریس کلب بہت فعال ہے۔ کراچی پریس کلب کا قیام 1958ء میں عمل میں آیا۔ ہر نظریے کے لوگ یہاں آتے ہیں۔ یہاں سب کا خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کی جانب سے کل پاکستان مشاعرے‘ کل کراچی مشاعرے‘ بین اللسانی مشاعرے‘ صحافی شعرا پر مشتمل مشاعرے‘ مذاکرے‘ تنقیدی نشستیں‘ پینٹنگ کی نمائش اور کتابوں کی تعارفی تقاریب بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پریس کلب کا انتخاب ہر سال دسمبر کے آخری ہفتے کے دن ہوتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کراچی پریس کلب ترقی کی جانب رواں دواں ہے۔ تقریبِ ملاقات کی انعقاد میں علاء الدین خانزادہ‘ راشد نور‘ اختر سعیدی اور حنیف عابد نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان حضرات کی کوششوں سے سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی شائقین علم و ادب نے ہر اچھے شعر پر کھل کر داد دی‘تقریب تقریباً تین گھنٹے چلی اس دوران کچھ مہمان اپنے اشعار سنا کر چلے گئے کہ ان کی اور بھی مصروفیات تھیں۔ مجموعی طور پر یہ ایک کامیاب تقریب تھی۔

اکادمی ادبیات پاکستان کا مذاکرہ اور مشاعرہ

اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیر اہتمام نامور افسانہ نگار‘ تنقید نگار‘ شاعر انتظار حسین مرحوم کی یاد میں خصوصی لیکچر اور محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت پروفیسر خیال آفاقی نے کی۔ مہمان خصوصی امریکا سے آئے ہوئے معروف شاعر ایاز مفتی‘ گجراتی ادب کے معروف ادیب کھتری عصمت علی پٹیل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر خیال آفاقی نے کہا کہ ایک خود مختار مملکت کے طور پر پاکستان کے قیام کے آس پاس ابھرنے والے ادیبوں میں انتظار حسین کا نام بہت جلد اہمیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے اس نو آزاد مملکت کو اپنی نسل کے لیے ایک تخلیقی چیلنج قرار دیا اور اس مملکت کے ادب و فن کو ایک نئی‘ واضح اور منفرد شناخت عطا کی۔ یوں انتظار حسین کا نام پاکستانی ادب کے معماروں میں شامل ہونے کا مستحق ہے۔ افسانہ و ناول‘ تنقید‘ ترجمہ‘ صحافت‘ کالم خاکہ‘ مزاحیہ مضمون‘ ڈراما غرض کہ انتظار حسین نے نثر کی کم و بیش سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا اصل میدان افسانہ ہے جس میں انہوں نے نہ صرف فنی کامیابی حاصل کی بلکہ اس انداز پر اتنے گہرے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ آج جس طورپر افسانہ کہا جاتا ہے اس کا تعین ان سے اتفاق یا اختلاف کیے بغیر ممکن نہیں۔ داستان اور کتھا سے لے کر مابعد جدید رویے کی حامل علامتی کہانی تک انہوں نے اپنے افسانوی ادب میں اتنے انداز اختیار ہیں کہ ان کو پڑھنا دراصل کہانی کی پوری تاریخ کو سمیٹ لینا ہے۔ معروف شاعر ایاز مفتی نے کہا کہ پاکستان آنے کے بعد انتظار حسین نے پہلے پہل ہفت روزہ ’’نظام‘‘ میں مدیر کے طور پر ملازمت اختیار کی اس کے بعد ان کا ذریعہ معاش بڑی حد تک صحافت ہی رہا۔ انہوں نے متعدد اخبارات میں ملازمت کی‘ ان کی طویل وابستگی روزنامہ ’’مشرق‘‘ سے رہی جہاں وہ مستقل کالم اور فیچر لکھتے رہے۔ ان تحریروں کا انتخاب کتابی شکل میں شائع ہو چکا ہے۔ 1988ء میں وہ روزنامہ ’’مشرق‘‘ سے ریٹائر ہوگئے اور اس کے بعد آزاد قلم صحافی و ادیب کے طور پر کالم لکھتے آئے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر قادر بخش سومرو نے کہا کہ عہد حاضر کے نامور ناول نگار اور صاحب طرز کہانی کار انتظار حسین کسی تعارف کے محتاج نہیں‘ ان کی 60 برس کا تخلیق سفر ہماری ادبی تاریخ کا روشن باب ہے۔ انتظار حسین کی تحریریں ان کے ناول‘ ان کے افسانے‘ ان کی یادداشتیں‘ ان کے مضامین ہمارے عصری ادبی سمرایہ کا انتتہائی اہم حصہ ہیں۔ انتظار حسین نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی‘ ن۔م۔ راشد کی ’’ماورا‘‘ کا گہرا اثر لیااور اسی انداز میں آزاد نظمیں لکھنا شروع کیا۔ جلد ہی وہ شاعری سے افسانہ نگار کی طرف آگئے‘ 1982ء میں ’’بستی‘‘ کو آدم جی ادبی ایوارڈ دیے جانے کا اعلان ہوا۔ پاکستان رائٹر گلڈ کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک خط میں انتظار حسین نے لکھا ’’میں اپنے آپ کو اس اعزاز کا مستحق نہیں سمجھتا۔ یہ انعام کسی مستحق کو دے دیاجائے۔‘‘ انتظار حسین کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’گلی کوچے‘‘ 1952 میں لاہور سے شائع ہوا۔ بعدازاں مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پروفیسر خیال آفاقی‘ سید نیاز مفتی‘ ضیا شہزاد‘ عرفان علی عابدی‘ عبدالمجید محور‘ افضل ہزاروی‘ حنیف عابد‘ صدیق راز ایڈووکیٹ‘ محسن نقی‘ وحید محسن‘ عبدالستار رستمانی‘ حمیدہ کشش‘ فرح دیبا‘ نازیہ غوث‘ جمیل ادیب سید‘ دلشاد احمد دہلوی‘ فہمیدہ مقبول‘ تاج علی رعنا‘ نظر فاطمی‘ ضیا حیدر زیدی‘ نصیر قمر‘ یاسمین عباس‘ شجاع الزماں خان‘ عامر جونیجو‘ خصر علی‘ محمد رفیق مغل‘ فاروق عرشی نے اپنا کلام سنایا۔

بزم تقدیسِ ادب کراچی کا مشاعرہ

بزم تقدیسِ ادب ہر ماہ ایک مشاعرے کا اہتمام کر رہی ہے‘ یہ سلسلہ 2012 سے جاری ہے۔ گزشتہ اتوار احمد سعید خان کی رہائش گاہ پر عباس حیدر زیدی کی صدارت میں بہاریہ مشاعرہ منعقد ہوا‘ پروفیسر رضیہ سبحان مہمان خصوصی تھیں۔ خالد میر مہمان اعزازی تھے۔ میزبانِ مشاعرہ احمد سعید خان نے نظامت کے فرائض کے ساتھ ساتھ خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے ہر زمانے کی ضرورت ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ یہ ادارہ زبان و ادب کی ترقی کا اہم کردار ہے۔ آج کل جو مشاعرے ہو رہے ہیں ان میں نوجوان طبقہ خاص طور پر بہت اچھے اچھے مضامین پر شاعری کرتے نظر آتے ہیں لیکن یہ خرابی اپنی جگہ ہے کہ نوجوان نسل بہت جلدی میں ہے‘ وہ جلد از جلد شہرت کی بلندیوں پر جانا چاہتے ہیں اس کے لیے وہ شارٹ کٹ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بزم تقدیس ادب کے منشور میں یہ شامل ہے کہ قلم کاروں کے مسائل کے حل کے لیے ہم ہر ادارے سے تعاون کریں گے‘ نیز قلم کاروں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی‘ اس سلسلے میں ہم ایک عظیم الشان پروگرام ترتیب دے رہے ہیں ہمارے ساتھ کچھ علم دوست ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہم اردو زبان و ادب کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔ مشاعرے میں صاحب صدر‘ مہمان خصوصی‘ مہمان اعزازی اور ناظم مشاعرہ کے علاوہ جن شعرا نے کلام پیش کیا ان میں آصف رضا رضوی‘ اختر سعیدی‘ علی اوسط جعفری‘ خالد معین‘ سلیم فوز‘ راقم الحروف نثار احمد نثار‘ ریحانہ احسان‘ عبدالمجید محور‘ الحاج یوسف اسماعیل‘ حنیف عابد‘ شفیع محسن‘ حامد علی سید‘ تنویر سخن‘ نظر فاطمی‘ افضل ہزاروی‘ حیات علی اور خصر حیات شامل تھے۔ اس موقع پر شاعری لکھنوی‘ غوث متھراوی اور شاہدہ عروج کے والد صاحب کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

O…علمی و ادبی لطیفے…O

پُرخلوص فرمائش

یہ امرتسرکا واقعہ ہے‘ ایک مشاعرے میں جوش ملیح آبادی اپنے خالص پٹھانی انداز میں گرجتے برستے ہوئے رباعیاں پڑھ رہے تھے۔ انگور کی بیٹی کی چاہت کے باعث پڑھنے کے دوران بار بار ان کا منہ کف سے بھر جاتا اور وہ ہر ایک مکمل رباعی پڑھنے کے بعد ڈائس کے پیچھے منہ پھیر کر تھوک رہے تھے۔
چند رباعیاں پڑھنے کے بعد انہوں نے اگلے شاعر کے لیے جگہ خالی اور جونہی انائونسر نے دوسرے شاعر کا نام پکارنے کے لیے منہ کھولا عین اسی وقت سامعین میں سے ایک فرمائشی آواز بلند ہوئی ’’اوئے پہلوان جی ایک اور سنا دو تھوک کے۔‘‘
یہ سن کر جوش صاحب کی تو اوپر کی سانس اوپر نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اور وہ سناٹے میں آگئے لیکن مجمع میں سے کوئی بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ گویا ہنسی کا ایک سیلاب سا آگیا جس میں آخر کار جوش صاحب بھی شریک ہوگئے۔

نئی نظم اور دھوبی کا حساب

الٰہ آباد کے ایک کالج میں مشاعرہ زوروں پر تھا‘ جب اسرار الحق مجاز لڑکھڑاتے ہوئے ڈائس پر آئے تو مجمع میں سے آوازیں ابھریں:
’’آوارہ… آوارہ۔‘‘
سامعین کا اس سے مقصد یہ تھا کہ مجاز صاحب اپنی مشہور نظم ’’آوارہ‘‘ سنائیں۔ آوارہ‘ آوارہ کے شور میں مجاز کی بھرائی ہوئی آواز بلند ہوئی ’’جناب پہلے میری ایک نظم سن لیں بعد میں آوارہ بھی سنا دوں گا۔‘‘
مجمع میں خاموشی چھا گئی اور سامعین مجاز کی نئی نظم سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہو گئے‘ یہ دیکھ کر مجاز بھی جھوم جھوم کر پڑھنے کی ابتداء کی۔
’’دو قمیص‘ ایک پاجامہ‘ دو رومال‘ ایک…‘‘
سامعین نے فلک شگاف قہقہے لگانے شروع کیے تو مجاز چونکے پھر اپنے ہاتھ میں دبے کاغذ پر نظر ڈالی اور معصومیت سے بولے:
’’حضرات! معذرت خواہ ہوں‘ دراصل پرچے کے ایک طرف تو میری نئی نظم لکھی ہوئی اور دوسری طرف دھوبی کا حساب درج ہے۔‘‘

حصہ