بارہویں عالمی اردو کانفرنس

285

سیمان کی ڈائری
کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان میں منعقدہ چار روزہ عالمی اردو کانفرنس اپنی بارہویں اننگز کھیل کر ختم ہوچکی۔ اردو کانفرنس کی افتتاحی تقریب کا آغازرواں ماہ پانچ دسمبربہ روز جمعرات پروقار انداز میںآرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آڈیٹوریم میں کیا گیا ۔ چیدہ چیدہ احوال کچھ یوں ہے کہ افتتاحی جلاس میںبھارت سمیت دُنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادیبوں اوردانشورں جن میں ممتاز نقاد، ادیب اور دانشور پروفیسر شمیم حنفی،محترمہ زہرا نگاہ، اسد محمد خاں، کشور ناہید، رضا علی عابدی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، مسعود اشعر، حسینہ معین، چین سے آئے ہوئے ٹینگ مینگ شنگ، جاپان سے تعلق رکھنے والے ہیروجی کتاوکا، زاہد حنا، نورالہدیٰ شاہ اوردیگرمہمانوں نے شرکت کی۔ حکومتی سطح پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے شرکت کی ۔اُن کی آمدتاخیر سے ہوئی جو سینئرز ادیبوں،شرکااور حاضرین کے لیے آزمائش کی گھڑی تھی۔خیر! ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔ وزیر اعلٰی سندھ کی آمد کے بعد باقاعدہ اردو کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میںکانفرنس میں شریک مندوبین کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہاکہ 12ویں عالمی اُردو کانفرنس کے مندوبین آرٹس کونسل کے نہیں حکومت سندھ کے مہمان ہیں اور سندھ حکومت میزبانی کا حق ادا کرے گی۔ اس کانفرنس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان مختلف ثقافتوں کا ملک ہے۔ ہر ثقافت پاکستان کی ثقافت ہے اور ہر صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔مجھے اس کانفرنس میں شرکت کر کے خوشی ہوئی ہے۔پروفیسر شمیم حنفی نے کہاکہ کسی جزیرے میں رہ کر نہ ہی کوئی شعر تخلیق کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کوئی افسانہ لکھا جاسکتا ہے، زندگی کی رفتار تیز سے تیز تر ہورہی ہے جبکہ ادب کی رفتار سست۔ ہم نے زمین کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی آلودہ کردیا، شور شرابے میں بہترین ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا، معاشرے میں یہ صورتِ حال ہو تو ادیبوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ افتتاحی اجلاس کے اختتام پر جوش ملیحہ آبادی کی 121ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔
افتتاحی تقریب کے بعد غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کی مناسبت سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس کا عنوان’’غالب ہمہ رنگ شاعر‘‘ تھا اجلاس کی صدارت بھارت سے آئے ہوئے نامور ادیب شمیم حنفی نے کی جبکہ اجلاس میںڈاکٹر نعمان الحق نے’’یگانہ اور مثال زمانہ گونہ گوں‘‘،تحسین فراقی نے ’’حیات اور تصور حیات‘‘ اور ہیروجی کتاوکا نے اپنا مقالہ پیش کیا،مقررین نے کہا غالب ایسے شاعر ہیں جنہیں عالمگیر سطح پر قبول کیا گیا، ہم مشرق مغرب کو دیکھتے ہوئے بہت سی باتوں کو درگزر کردیتے ہیں،ہندستان میں ان کے پائے کا کوئی شاعر نہیں ہے اگر غالب نہ ہوتے تو ہم انیسویں صدی میں دستاویز سے محروم ہوتے ۔ نامور صداکار ضیا محی الدین نے دیوان غالب سے مرزا اسدا اللہ خان غالب کی نظمیں پڑھیں جبکہ ناپاکے میوزک ہیڈاورمعروف ستار نواز استاد نفیس خان نے اپنے شاگردوں کے ہمراہ غالب کی شاعر ی کوستار کی خوبصورت دھنوں کے ساتھ پیش کیا۔پہلے روزمیں جشن فہمیدہ ریاض کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں معروف ترقی پسند ادیبہ شاعرہ سماجی کارکن اور حقوقِ نسواں کی علمبردار فہمیدہ ریاض کو خراجِ تحسین پیش کیاگیا۔ مقررین میں ڈاکٹر آصف فرخی، ڈاکٹر فاطمہ حسن،مجاہدبریلوی ،یاسمین حمید،نور الہدیٰ شاہ شامل تھیں۔
اردو کانفرنس کے دوسرے دن جو سیشنز ہوئے ان میں’’شعروسخن کا عصری تناظر ‘‘ یارک شائر ادبی فورم اور آرٹس کونسل کے تعاون سے یارک شائر اعتراف کمال ایوارڈز کا انعقاد کیاگیا جس میں معروف شاعرہ شہناز نور اور شاعر کشمیر احمد عطاااللہ کو یارک شائر کمال فن ایوارڈزدیا گیا۔ ’’دور عصر حاضر میں نعتیہ اور رثائی ادب، ایک جائزہ‘‘’’’ دبستان اردو اور بلوچ شعرا‘‘، مختلف کتابوں کی رونمائی کے موقع پر تبصرہ پیش کیاگیا۔ اصغر ندیم سید کی کتاب ’’ٹوٹی ہوئی طناب اُدھر‘‘پر عرفان جاوید، صابر ظفر کے مجموعہ کلام ’’آواز کی لہر پر چلا میں‘‘ پرڈاکٹر ضیاء الحسن، رشید حسن خاں کی کتاب ’’گنجینہ معنی کا طلسم‘‘ پر مبین مرزا اور ڈاکٹر فاطمہ حسن کی کتاب ’’فاصلوں سے ماورا‘‘ پر نعمان الحق نے تبصرہ پیش کیا۔ جاپان اور پاکستان کے ادبی و ثقافتی روابط کے حوالے سے خصوصی گفتگو بھی کی گئی۔ شرکائے گفتگو میں ہیرو جی کتاوکا اور مایامانے یاسر تھے جبکہ میزبانی کے فرائض خرم سہیل نے سرانجام دیے۔ ہیروجی کتاوکا معروف اُردو اسکالر اور گزشتہ پچاس سال سے ترویج اُردو میں مصروف ہیں، غالب، فیض، اقبال اور منٹو کے تراجم اُن کا خصوصی حوالہ تھا۔ ان دنوں وہ جاوید نامے کے جاپانی زبان میں ترجمے پر کام کررہے ہیں۔ اوساکا یونیورسٹی جاپان میں ترویج اُردو کے بڑے مرکز کے طور پر مشہور ہے ۔سویامانے یاسر نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ جاپان میں اُردو کی تقریباً 350سے زائد کتابوں کا جاپانی زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اُردو لغت جاپانی، اُردو،فارسی اور عربی تقابلی لغت بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ اس کے بعد نعیم بخاری کے ساتھ میزبان ارشد محمود کے سوالات جوابات کا سیشن تھا ۔ ’’کیااردوادب اور صحافت زوال کا شکار ہے ؟‘‘کے عنوان سے ایک سیشن بھی تھا جس کی میزبان عاصمہ شیرازی اور مہمان اینکرپرسن حامد میرتھے ۔ اس اجلاس کا افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ حامد میر جو کہ سینئرصحافی ہیں ،سوائے دو جملوں کے پوری گفتگو اپنے سیشن کے موضوع سے کسی بھی طور مطابقت نہیں رکھتی تھی۔یا انھیں علم نہیں تھا کہ انھیں اس موضوع پر گفتگو کرنی ہے یاپھر یہ وہ کسی خاص نظریے کے تحت کچھ اور کہنا چاہتے تھے اور وہ کہہ گئے۔ اُن کی اس گفتگو کے پیچھے کیا ایجنڈہ تھا؟ یہ سوال اس سیشن میں موجود بہت سے صحافیوں کے دماغوں میں تھا اور کچھ تو اس کا زبان سے اظہار بھی کرتے رہے ۔ حامد میر کی گفتگو ’نامعلوم‘افرادہی کے گرد گھومتی رہی۔یہ نامعلوم افراد کون ہیں؟ یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔سیشن کے دوران گفتگو جب جب اپنے موضوع کے قریب ہونے لگتی وہاں پھر عمران ثاقب کی نظم کا حوالہ آ جاتا۔ بہرحال یہ سیشن جیسے تیسے لاپتا افراد، نامعلوم افراد اور لال لال لہرائے گا پرختم ہوا۔امید کی جا سکتی ہے کہ حامد میر کو جب بھی کسی سیشن میں مدعو کیا جائے تومنتظمین ان سے اُن کا ایجنڈہ ضرور پوچھ لیں۔ تاکہ اجلاس بے ربط نہ رہے ۔ کانفرنس میں کشور ناہید سے ملاقات کا سیشن بھی رکھا گیا۔ جس میں اُن کی چیدہ چیدہ یادداشتوں کے ساتھ ساتھ اُن کی نظمیں بھی سنی گئیں ۔ ’’فیض احمد فیض….شخصیت اور شاعری‘‘ کے موضوع پراگلے سیشن میںنعمان الحق کی ’’کلیاتِ فیض‘‘کا اجراکیاگیا۔”جدید سرائیکی ادب ”کے موضوع پر ایک تقریب زیڈ اے بخاری اوپن ایئرتھیٹر میں منعقد ہوئی۔جس میں سرائیکی دانشوروں، صحافیوں، شعراء،سیاسی رہنماؤ ںاور گلوکاروں نے شرکت کی۔مقررین نے سرائیکی ادب پر روشنی ڈالی اور سرائیکی زبان کے فروغ پر گفتگو کی۔ انگلش ناولExploding Mangoes کے مصنف معروف صحافی انگریزی، اُردو اور پنجابی زبان کے لکھاری محمد حنیف کے مذکورہ ناول کے ترجمے ’’پھٹتے آموں کا کیس‘‘ کا اجرابھی کیاگیا جس کے مترجم ’’کاشف رضا‘‘ تقریب کے میزبان تھے۔ایک سیشن ’’پختون ثقافت کیا ہے‘‘ کے عنوان سے تھا جس میں پختون دانشور اباسین یوسفزئی نے پختون ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور پختونوں کے طرز زندگی اور رہن سہن کو الگ الگ بیان کیا۔اس موقع پر مختلف وڈیوز بھی دکھائی گئیں،جن میں پختون ثقافت کواجاگر کیا گیا تھا۔ ’’اردو کی نئی بستیاں‘‘کے عنوان سے سیشن میں مختلف ممالک میںبسنے والے پاکستانیوںنے ان ممالک میں اردو کے فروغ کے حوالے سے آگاہ کیا۔پروگرام کی صدارت رضا علی عابدی نے کی جبکہ لندن سے آئے ہوئے باصر کاظمی، ریحانہ قمر،جرمنی سے عارف نقوی،عشرت معین سیما،کینڈا سے اشفاق حسین، امریکا سے وکیل انصاری،فرانس سے ثمن شاہ،ڈنمارک سے صدف مرزا،اسکاٹ لینڈ سے راحت زاہداور ایران سے دفایزداں منش نے شرکت کی۔ایک شام انور مسعود کے نام سے رکھے گئے سیشن میں انور مسعود نے اپنی نئی اور پرانی مزاحیہ نظمیں سنا کر سما باندھ دیا۔
تیسرے روز ’’اردو فکشن۔ معاصر منظر نامہ‘‘ کے موضوع پرسیشن منعقد کیا گیا۔ مجلس صدارت میں اسد محمد خاں، حسن منظر اور مسعود اشعر شریک تھے۔برطانیہ سے آئی ہوئی نجمہ عثمان نے’’اردو فکشن انگریزی فکشن کے تناظر میں‘‘ کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا ،اخلاق احمدنے ’’جدید افسانے میں عصری حسیت‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ اختر رضا سلیمی نے ’’اردو میں ناول کی کمی، ایک بحث‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا ۔ خالد محمود سنجرانی نے ’’جدید افسانہ اور سماجی معنویت‘‘ پر گفتگو کی ،ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ’’اردو افسانے ۱۱/۹ کے تہذیبی وسیاسی اثرات‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا ۔ٹوکیو یونیورسٹی کے سویامانے یاسرنے ’’جاپان میں اردو افسانے کے مطالعہ‘‘پر گفتگو کی جبکہ صبا اکرام نے ’’روشن خیالی اور ہم عصر افسانہ‘‘ پراظہارِ خیال کیا۔ ’’پاکستانی ثقافت، تخلیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ کاسیشن بھی رکھا گیا جس میں صوبائی وزیر ثقافت سید سردار احمد ،قاسم بگھیو ،نور الہدیٰ شاہ،افضل ندیم سید اور نذیر لغاری نے اظہار خیال کیا ۔ جدید سندھی ادب”کے موضوع پر منعقد سیشن بھی منعقد ہوا جس کے مقررین ممتاز بخاری، مظہر جمیل، نورالہدی شاہ، ریاضت برڑو،پروفیسر نور احمد جنجہی شامل تھے۔ ’’پنجابی ادب‘‘ پر مبنی اجلاس کی میزبانی کے فرائض عاصمہ شیرازی نے ادا کیے جبکہ شرکائے گفتگو میں ثروت محی الدین اور معروف ادیب محمد حنیف شامل تھے۔ سیشن کا انعقاد پنجابی زبان میں ہی کیاگیا۔تیسرے روز سیشنز کے اختتام پر سبزہ زار میںاردو عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جو رات گئے تک جاری رہا۔اندرون اور بیرون ملک سے آئے شعرا نے اپنا کلام سنایا۔طویل فہرست کے باعث مہمان شعرا ایک سے زاید کلام نہیں سناپائے۔عالمی مشاعرے کی اچھی بری باتیں ہر جگہ ہی موجود رہتی ہیں۔چاہے وہ نظامت کے معاملات ہوں یا میزبان شعرا کا مہمانوں کے بعد پڑھنا ۔ اس لیے مشاعرے میں متنازع پہلو کا احتمال رہتا ہے۔
چوتھے اور آخری روز ’’معاصراردوتنقید ‘‘ کے عنوان سے ایک سیشن مقرر کیا گیاجس میں انوار احمد نے ’’معاصر اردو تنقید کا منظر نامہ‘‘، مسلم شمیم نے ’’عصرِ حاضر میں اردو کا مقدمہ‘‘، محمد حمید شاہد نے ’’فکشن کی تفہیم میں تنقید کا کردار‘‘، ڈاکٹر آصف فرخی نے ’’بین الاقوامی تناظر اور ادبی انعامات کی سیاست‘‘،ڈاکٹرضیاء الحسن نے ’’نئے تنقیدی تصورات اور ادب کی تفہیم‘‘ جبکہ ناصر عباس نیر نے ’’اکیس ویں صدی میں تنقیدی افکار و تصورات پراپنے اپنے مقالے پیش کیے۔ کانفرنس کے آخری روز کتابوں کی رونمائی میں محمد حمید شاہد کی کتاب ’’سانس لینے میں درد ہوتا ہے‘‘ پر آصف فرخی نے،تہمینہ راؤ کی کتاب’’خامشی کاشور‘‘ پر خالد شریف،عقیل عباس جعفری کی کتاب ’’تعلق‘‘پرعشرت آفریںاور سیدہ ہماطاہرہ کی کتاب ’’بام ِ فلک‘‘ پر امجد اسلام امجد نے تبصرہ کیا ۔مقررین نے اپنی گفتگو میں کتابوں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ ’’تعلیم:مسائل کیا ہیں ؟حل کیا ہوں؟‘‘ کے عنوان پر مقررہ سیشن میں ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی ،زبیدہ مصطفی، امینہ سید، ڈاکٹر توصیف احمد، غازی صلاح الدین اور صادقہ نے گفتگو کی ۔ اجلاس کے آخری لمحات میں صدر آٹس کونسل محمد احمد شاہ نے تجویز پیش کی کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیدی جائے جس کے ممبران بھی ڈاکٹر پیرزادہ قاسم خود منتخب کریں گے۔ اس کمیٹی کی سفارشات حکومت کو پیش کی جائیں گی تاکہ ہم بہتر تعلیمی نظام کے قیام میں معاون ثابت ہوسکیں۔اجلاس کے آخر میں رضا علی عابدی، محمود شام اور سلیم مغل نے بچوں کے لیے لکھی ہوئی نظمیں حاضرین کو سنائیں اور محمود شام کی کتاب ’’آئیاں آئیاں یویو‘‘ حاضرین بچوں میں پیش کی گئی۔ ’’ سوشل میڈیا اور اردو‘‘کے عنوان سے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال ہر گروپ اور ہر پارٹی کے علاوہ انفرادی طور پر بھی کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا کی وجہ سے ہماری زبان ہی خراب ہو گئی ہے۔اظہارخیال کرنے والوں میں اویس توحید، وست اللہ خان اور ندیم فاروق پراچہ،عظمی الکریم شامل تھے۔ ’’اردو کا شاہکارمزاح‘‘ کے عنوان سے سیشن میں شہزاد شرجیل نے ’’آتے ہیں غیب سے مضامین‘‘،نذرالحسن نے ’’کتے‘‘،میثم نقوی نے ’’اتفاق میں برکت ہے‘‘، فواد خان نے ’’اب گم، یکہ‘‘، اور نصرت علی نے ’’منتخب شاعری‘‘(مختلف شاعروں کی آواز میں ان کے شعر) پیش کیے۔ سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سے ملاقات کا سیشن بھی تھا جس کی میزبانی مبشر زیدی نے کی، سہیل وڑائچ نے ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور شرکاکے سوالات کے جوابات دیے۔ ادب کی تین بڑی شخصیات کو چار لاکھ روپے کیش کے ساتھ لائف ٹائم ایچویمنٹ ایوارڈ دیا گیا جن میں امر جلیل،اسد محمد خان،افتخار عارف شامل تھے۔ ’’پاکستان میں اظہارِ فن کی آزادی‘‘ کے موضوع پر معروف مصور شاہد رسام، محمد ذیشان، عابد مرچنٹ اور ثمینہ نے اظہارِ خیال کیا۔نظامت کے فرائض ہما میر نے انجام دیے،’’یادِرفتگاں‘‘ کے عنوان سے اجلاس میں مسعود اشعر نے انور سجاد، تحسین فراقی نے ڈاکٹر جمیل جالبی، امجد شاہ نے نیاز احمد، عقل عباس جعفری نے لیاقت علی عاصم، شاہد رسام نے ذکاالرحمن اور صوبیہ نقش نے اپنے والد معروف مصور جمیل نقش پر گفتگو کی۔ معروف ڈرامہ و مزاح نگار، دانشورانور مقصود کے اجلاس میں انہوں نے مختلف موضوعات ، فہمیدہ ریاض اور فیض احمد فیض کے مکالمے کو دلچسپ انداز میں پیش کیا۔ انور مقصود کو سننے کے لیے عالمی اُردو کانفرنس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک تھی جو بدنظمی کا شکار ہوئی ۔ ،پچھلی اردو کانفرنسز کی طرح اختتام پر اردوزبان کی ترقی و ترویج اور فروغ کے حوالے سے قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔حسبِ روایت اختتامی اجلاس کے بعد کانفرنس باقاعدہ اور اعلانیہ طور پر ختم ہو جاتی تھی۔ منتظمین نے اس بارتبدیلی کرکے کانفرنس کے اختتام کے بعد نوجوان نسل کا مشاعرہ منعقد کیا۔ نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ خوش آئند اقدام تھا۔ اردوکانفرنس کے حوالے سے ہربار کچھ مثبت کچھ منفی پہلو سامنے آتے رہے ہیں۔ میرے خیال سے گنجائش کا خانہ خالی ہی رہنا چاہیے تاکہ اردو ادب کی ترویج اَور بہتر انداز میں کی جا سکے ۔

حصہ