صرف تُو مولا

239

سیدہ عنبرین عالم
زکریا ایک دین دار گھرانے کا فرد تھا، بچپن سے عاشقِ رسولؐ تھا، نعت گوئی سے ایسا متاثر تھا کہ باقاعدہ نعت گو بن گیا۔ محافل میں بلایا جاتا، لاکھوں وصول کرتا۔ مگر چونکہ عاشقِ رسولؐ تھا تو مالی طور پر کمزور لوگوں کے میلاد وغیرہ میں بلامعاوضہ بھی دو چار نعتیں پڑھ آتا۔ حالانکہ روز کاکام تھا، مگر عشق کی وہ بلندی کہ نعت پڑھتے پڑھتے ہچکیاں بندھ جاتیں۔ شادی شدہ تھا، 6 بچوں کا باپ تھا، مگر عشقِ رسولؐ میں بے قابو تھا۔ پیغمبر خدا کے نوادرات بھی جمع کر رکھے تھے۔ اس کے گھر میں لاتعداد ایسی پینٹنگز تھیں جو دورِ محمدؐ کے مدینے کی عکاسی کرتی تھیں۔
’’بیٹا! درود تاج کثرت سے پڑھا کرو، ان شاء اللہ پیارے نبیؐ کا دیدار ہوگا۔‘‘ امام صاحب نے فرمایا۔ پھر کیا تھا، زکریا دن رات نم آنکھوں سے درود تاج پڑھتا رہتا۔ گو نماز کا بھی پابند تھا، مگر عشق کی سمت جانب ِرسولؐ تھی۔
’’اچھا چلو! تمہیں پیارے نبیؐ کا دیدار ہوگیا، پھر؟‘‘ بیگم نے زکریا کی دیوانگی دیکھ کر پوچھا۔ زکریا نے ایسی نظروں سے بیگم کو دیکھا جیسے انتہائی احمقانہ سوال پوچھا گیا ہو۔
’’پھر کیا؟ دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر نعمت۔‘‘ زکریا نے کہا۔
بیگم نے غور سے زکریا کو دیکھا۔ ’’میرے نبیؐ نے تو کبھی یہ تعلیم نہیں دی کہ ان کے دیدار کو شرف مانا جائے، وہ تو کہتے تھے کہ قیامت کے روز مومنین کے لیے سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ دیدار الٰہی نصیب ہو۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’بے شک آپ نے درست فرمایا، لیکن اگر پیارے نبیؐ میرے خواب میں آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی میرے عشق سے آگاہ ہیں اور میری طرف نظرِ کرم ہے۔‘‘ زکریا بڑی پُرامید آواز میں گویا ہوئے۔
’’میرے پیارے نبیؐ پر درود و سلام، ان کی نظرِ عنایت کی طلب تو ہمیں بھی قیامت کے روز ہوگی، لیکن میرے نبیؐ کس کی نظرِ عنایت کے طالب تھے؟ وہ موسیٰ جوخاکستر ہوجانے کو تیار تھے مگر دیدار کی طلب بے کل کیے دیتی تھی، وہ ابراہیم کس کے عشق میں گرفتار تھے جو بیٹا ذبح کرنے سے بھی نہ کترائے۔ کیوں ناں ہم بھی وہی سمت اختیار کریں، آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ بیگم نے نرمی سے پوچھا۔
زکریا کچھ لمحے سوچتے رہے۔ ’’ہم مسلمان ہیں اور توحید پر جیے، توحید پر مریں گے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے وہ شخص مسلمان نہیں جس کو ہر ایک سے زیادہ میں محبوب نہیں۔ ہم تابعدار ہیں۔‘‘
بیگم نے کہا ’’اس حدیث کا مقصد یہ تھا کہ وہ عشق اختیار کریں جو پیارے نبیؐ نے کیا۔ سنتوں پر عمل ہو۔‘‘
زکریا مسکرائے۔ ’’محترمہ! ہم مسواک استعمال کرتے ہیں، سفید رنگ زیبِ تن کرتے ہیں۔ ہرا عمامہ، اونچے پائنچے، تہجد، داڑھی، گھر والوں پہ شفقت، باہر والوں سے خوش مزاجی، کھلا ہاتھ۔ مزید کیا؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
بیگم نے تاسف سے سر ہلایا۔ ’’بہت اچھا کرتے ہیں، میرا رب آپ کو اجر عطا فرمائے۔ میرے نبیؐ نے جب مکے سے مدینے ہجرت کی تو مطمئن ہوکر نہیں بیٹھ گئے، تیاری کرتے رہے اور پھر پلٹ کر مکے پر حملہ کیا، اسلامی نظام رائج کیا۔ ہم لوگ بھی تو آج سے 72 سال پہلے سنتِ رسولؐ پر عمل کرتے ہوئے دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف آئے، کیا ہمیں تیاری نہیں کرنی؟ کیا ہمیں واپس ہندوستان پر حملہ کرکے اسلام نہیں رائج کرنا؟ کیا یہ سنت کسی مولوی کو نظر نہیں آتی؟‘‘ وہ بولیں۔
زکریا نے قہقہہ لگایا ’’لیجیے جناب! اب جب آپ نے ہمیں مولوی سمجھ ہی لیا ہے تو ہم ٹھیرے دین کے عالم، ذات کے تاجر، پیشے کے نعت گو… ہم بھلا کیسے ٹینک لے کر ہندوستان پر چڑھ دوڑیں! ہم سے چھٹکارا چاہتی ہیں تو ویسے ہی کہہ دیں، آپ کے قدموں میں جان نچھاور کردیں گے، ہندوستان پر حملہ کرنے کیوں بھیج رہی ہیں؟‘‘ وہ بولے۔
بیگم نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ ’’میں آپ کو نہیں بھیج رہی، میرا مقصد دینی طبقے کی نااہلی کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ ہمارا دینی طبقہ کافروں سے اتنا نہیں لڑتا جتنا آپس میں لڑتا ہے۔ اسلام کی اتنی ترویج نہیں کرتا جتنا اپنے فقہ کے بارے میں جذباتی ہے۔ عشقِ رسولؐ بھی بس نعتوں اور بتیاں سجانے تک رہ گیا۔ کوئی دینی کام ہے تو بس یہ کہ گھٹنے کے درد کا وظفیہ، بے اولادی کا تعویذ، ٹی وی پر بیٹھ کر نیل پالش لگانے یا نہ لگانے پر فتوے دینا۔ آخر کیوں امت کو تیار نہیں کیا گیا؟ کیوں خالد بن ولیدؓ، صلاح الدین ایوبیؒ اور محمد بن قاسمؒ پیدا نہیں ہورہے؟ جیسے امت کے ہر شعبے میں زوال ہے، اہلِ دین پر بھی کُلی زوال ہے، عشق ناپید ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
زکریا نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔ ’’آپ عشقِ رسولؐ کے خلاف ہیں یا اسے ناکافی سمجھتی ہیں، مدعا کیا ہے؟‘‘ وہ بولے۔
’’حضور! عشقِ رسولؐ سے کس کو انکار ہے! بندۂ مومن براہِ راست تو میرے رب سے رابطہ کر نہیں سکتا، ہم تک جو بھی احکامات پہنچے ہیں وہ میرے پیارے نبیؐ نے ہی پہنچائے، ان سے انسیت کے بغیر دین پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ مگر وہ راستہ ہیں، منزل نہیں۔ منزل رب گرامی کی ذات ہے۔
’’صحابہ کرامؓ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جانیں نچھاور کرتے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
بیگم نے عقیدت سے آنکھوں کو چھوا۔ ’’ہماری جانیں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لاکھ بار قربان، آپ دیکھیے کہ کفار و یہود نے بھی میرے نبیؐ کی ذات کو ہی ہدف بنایا ہوا ہے، وہ میرے نبیؐ سے گستاخی کرتے ہیں کہ ہماری محبت کی شدت میں کمی پیدا ہو، ہمیں تکلیف پہنچے، ہم دین سے دور ہوجائیں۔ یعنی میرے نبیؐ کی اہمیت کا انکار تو ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن کیا فائدہ ایسی محبت کا کہ ہم میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ اپنے نبیؐ کی حرمت کے لیے لڑ سکیں۔ ممتاز قادری سولی چڑھا دیا جاتا ہے، اور آسیہ، کلبھوشن زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ کیوں ناں ہم وہ عشق کرلیں جو محمدؐ نے کیا، میرے رب سے عشق۔ صحابہؓ اس لیے پیارے نبیؐ پر جان دیتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول تھے، اللہ سے رابطے کا ذریعہ تھے۔ پیارے نبیؐ کا عزت و مرتبہ اللہ رب العزت سے ان کے عشق کا نتیجہ تھا، اسی عشق سے انہوں نے دہر کی ہر طاقت کو زیر کیا۔ اللہ اوّل ہے، اللہ افضل ہے۔‘‘ انہوں نے بیان کیا۔
’’نعوذ باللہ مجھے کب انکار ہے! لا الٰہ الا اللہ۔ بے شک اللہ ہی اوّل ہے، ہماری تمام عبادتیں، ریاضتیں میرے اللہ کے لیے ہی ہیں۔ پیارے نبیؐ کے جن احکامات پر ہم عمل کرتے ہیں وہ درحقیقت میرے رب کی تابعداری ہے۔‘‘ زکریا نے کہا۔
بیگم جھنجھلا گئیں۔ ’’مسئلہ حمد یا نعت کا نہیں۔ اگر آپ عاشقِ رسولؐ ہیں تو وہ رحمت للعالمین تھے۔ آپ رحمت عالم میں پھیلایئے، خدا کی قسم اگر آپ مخلص ہیں تو جو اللہ میرے نبیؐ کی مدد کرتا تھا، آپ کے لیے فرشتے بھیجے گا۔‘‘ انہوں نے فرمایا۔
زکریا مسکرائے۔ ’’میں سمجھ گیا، آپ فرما رہی ہیں کہ پیارے نبیؐ کی اس حد تک تکریم کہ عبادت کا شبہ ہونے لگے، مناسب نہیں، بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانا، ان سے اخلاص کا ثبوت ہوگا، اور اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے صرف عشقِ رسولؐ کافی نہیں، بلکہ پاک رب سے اس قدر عشق مطلوب ہے کہ راز، راز نہ رہیں۔ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے، نگاہِ مردِ مومن سے تقدیریں بدل جائیں، پھر میرے نبیؐ کی رحمت تمام عالم پر چھائے گی۔ ہم اپنے رب کے اور نبیؐ کے گیت نہیں گائیں گے بلکہ خلقت سر جھکائے گی، تحسین گائے گی۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’درست فرمایا آپ نے‘‘ بیگم نے کہا۔ ’’جتنا میں تاریخ سے واقف ہوں، اللہ تعالیٰ نے پیارے نبیؐ کے بیٹے بھی صرف اس لیے واپس لے لیے کہ کہیں پیارے نبیؐ کے بعد ان کی نسل کے افراد کی عبادت نہ شروع ہوجائے۔ جہاں تک صحابہ کرامؓ کی پاک نبیؐ سے محبت کا سوال ہے تو وہ پیارے نبیؐ کی تقدیس و تحمید سے زیادہ، ان کے ساتھ مل کر عرب میں ربِ کریم کا دین رائج کرنے میں مصروف تھے، زیادہ سے زیادہ علم پیارے نبیؐ سے کشید کرلیا کرتے تھے کہ آگے انہیں کون بتائے گا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ صحابہ کرامؓ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کا پانی تک زمین پر گرنے نہیں دیا کرتے تھے۔‘‘ انہوں نے بات مکمل کی۔
’’یہ کیا راز ہے؟ صحابہ کرامؓ ایسے کیوں کرتے تھے؟ یہ تو بندے کے آگے بندگی جیسا فعل معلوم ہوتا ہے۔‘‘ زکریا نے کہا۔
’’نعوذ باللہ یوں نہ کہیے، اگر ہمیں کوئی بات سمجھ نہیں آرہی تو ہم خدانخواستہ صحابہؓ کے افعال پر انگلی تو نہیں اٹھا سکتے۔ وہ آسمان، ہم زمین۔ جہاں تک میں سمجھی ہوں یہ عشق بھی اصل میں عشقِ الٰہی ہے۔ ہم قربانی کے جانور کی تکریم کیوں کرتے ہیں؟ شعائر اللہ کی تعظیم کیوں کرتے ہیں؟ ہم مسجد کو، قرآن کو کیوں ادب کے مقام پر رکھتے ہیں؟ یہ سب خدا تو نہیں ہیں، ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے۔ بات اتنی ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ سے منسوب ہیں۔ جب ہم ان چیزوں سے محبت کا اظہار کرتے ہیں تو پسِ پشت عشقِ الٰہی ہوتا ہے۔ لیکن انہی منسوب چیزوں کے عشق میں اتنا آگے بڑھنا کہ عشقِ الٰہی ہی ماند پڑ جائے، مناسب نہیں۔‘‘ بیگم نے کہا۔
’’آپ سمجھتی ہیں کہ جس حد تک میرا عشقِ رسولؐ جا چکا ہے، وہ مناسب نہیں، اصل عشقِ الٰہی ہے۔‘‘ زکریا بولے۔
بیگم دھیرے سے مسکرائیں۔ ’’میرے پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ میانہ روی اختیار کرو۔ پیارے نبیؐ سے دعائیں مانگنا، پیارے نبیؐ سے منسوب چیزوں کو باعثِ برکت سمجھ کر عبادت کرنا میرے نزدیک حد سے بہت آگے بڑھنا ہے۔ آپ جو تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگتے ہیں کہ مدینے میں موت آئے، وہیں تدفین ہو۔ آپ خود بتایئے کہ یہ کون سا عشقِِ رسولؐ ہے؟ اگرآپ کو رسولؐ سے عشق کی بنا پر مدینہ کی ریاست سے عشق ہے تو وہی انصاف، وہی دلیری، وہی اخوت، وہیں قوانین پوری دنیا پر رائج کرکے دکھایئے۔ آپ کے مدینے جاکر مرنے سے میرے نبیؐ کو کیا فائدہ ہوا؟ ان کا مشن تو ادھورا رہ گیا۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بولیں۔
زکریا بہت غور سے سن رہے تھے۔ ’’کیا عشقِ الٰہی میں بھی میانہ روی اختیار کی جائے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
’’بالکل! میرے نبیؐ جو کہتے ہیں بالکل صحیح کہتے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کا دیدارِ خداوندی کا طلب گار ہونا حد سے آگے بڑھنا تھا، جسے وہ جھیل بھی نہ سکے۔ حضرت ابراہیمؑ کا بیٹے کو ذبح کرنے چل دینا حد میں تھا کیوں کہ حکم الٰہی تھا۔ ہم اگر اپنے بیٹے قربان کرنے لگیں تو یہ حد سے بڑھنا ہے، کیوں کہ ہمیں ایسا حکم نہیں ہے۔ ہم ظہر کے چار فرض پڑھیں گے، اپنا عشق جتلانے کے لیے 10 نہیں پڑھ سکتے۔ ہاں روحانی تعلق کی کوئی حد نہیں۔ حضرت مریمؑ، اور حضرت موسیٰؑ کی ماں رسول نہیں تھیں، مگر اللہ رب العزت سے براہِ راست تعلق میں تھیں، اور اللہ کی راہ میں اُس کے کلمے کو نافذ کرنے کے لیے آپ جو قربانیاں اور کوشش پیش کرتے ہیں اس کی بھی حد نہیں، بس عقل و علم پاسباں رہیں۔‘‘ بیگم نے فرمایا۔
زکریا نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’جانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ انسان کی فطرت میں ہی بت پرستی ہے۔ جب وہ توحید کا اقرار کرلیتا ہے، بت پرستی سے توبہ کر لیتا ہے تو بھی بت پرستی کے شوق میں مبتلا رہتا ہے۔ توحید و عشق کی صفات طبیعت میں ناپید رہتی ہیں، اپنی اگلی نسل کو بھی توحید منتقل نہیں کر پاتا، نہ ہی دین پہ اطاعت و فرماں برداری مزاج کا حصہ بن پاتی ہے۔‘‘ وہ بولے۔
’’توحید کا معاملہ دو دھاری تلوار ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ ’’کیا تم سمجھتے ہو تمہیں یونہی بہشت میںٍ بغیر آزمائش بھیج دیا جائے گا؟ بڑا سخت امتحان ہے، جیسے جنگل میں چل رہے ہوں اور خاردار جھاڑیوں سے دامن بچاتے ہوئے گزرتے جانا ہے، آگے کنواں، پیچھے کھائی۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔‘‘ انہوں نے بیگم سے کہا۔
…٭…
زکریا قرآن پڑھ رہے تھے، سورۃ النور کی تلاوت تھی جب ’’رب النور السموٰت والارض‘‘ پڑھا تو دل بے کل ہوگیا۔ پڑھتے گئے، بار بار پڑھتے گئے، یہاں تک کہ داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی۔ دل کا یہ حال کہ کوئی پوشیدہ خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔ ’’میں نعت خواں ہوں، اپنے نبیؐ کی مدح و ثنا بیان کرتا ہوں اور آج سے عہد کرتا ہوں کہ شرکیہ نعتیں پڑھنے والوں کے خلاف جہاد کروںگا، چاہے میری جان ہی چلی جائے۔ جہاد کا مطلب ہے کوشش۔ میرے جہاد میں میرا ہتھیار پیار ہوگا، اپنے بھائیوں کو پیار سے سمجھائوں گا چاہے نوحؑ کی طرح 900 سال تک سمجھانا پڑے۔‘‘ انہوں نے عزم کیا۔

حصہ