بادشاہ اور سامری جادوگر

81

کہ والد محترم کیا میں آپ کی اداسی کا سبب پوچھ سکتا ہوں۔ کئی دنوں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اداس بھی ہیں اور ہر وقت کسی سوچ میں گم رہتے ہیں۔ اس طرح اداس رہنے کی وجہ سے آپ کے امور مملکت بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور آپ کی صحت بھی خراب ہو سکتی ہے۔
بادشاہ اپنے بیٹے کی بات سن کر کچھ دیر تو خاموش رہا پھر بہت ہی مغموم آواز میں بولا کہ بیٹا ہمارے پڑوس میں جو ملک ہے اس کے نیک دل بادشاہ کی بیٹی پر ہمارے ملک کے سامری جادوگر کا جادو چل گیا ہے اور وہ کئی دنوں سے گہری نیند میں ہے۔ نیک دل بادشاہ نے بہت جتن کر لئے، ہر قسم کا علاج کرالیا، علما سے دعائیں بھی کرالیں اور عاملوں سے جھاڑ پھونک بھی کرالی لیکن شہزادی کی نیند ہے کہ ختم ہو کر نہیں دیتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کی نیند ختم ہونے کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ سامری جادو گر کو ہلاک کردیا جائے۔ میں نے اپنے ملک کی بزرگ ترین ہستی سے بھی مشورہ کیا تھا تو ان کا جواب بھی یہی تھا کہ جو حربہ سامری جادو گر نے شہزادی پر استعمال کیا ہے وہ مجھ سمیت دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے بزرگ کی دعا سے برباد نہیں کیا جاسکتا۔ وہ تین رنگین لکیریں جو شہزادی کی ناک کے ذریعے اس کے جسم میں داخل ہوئی ہیں یا تو اس کو خود سامری جادو گر ہی نکال سکتا ہے یا سامری جادو گر کی موت ان لکیروں کو باہر نکال سکتی ہیں۔ نیک دل بادشاہ اپنی بیٹی کی جان بچانے کیلئے ممکن ہے سامری جادوگر کے آگے سر ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔ سامری جادوگر اس کی بیٹی پر عاشق ہو چکا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ جب اس نے شادی کا ارادہ بادشاہ پر ظاہر کیا تھا اس وقت وہ ایک حسین ترین نوجوان کی شکل میں اس کے پاس موجود تھا لیکن کیونکہ نیک دل بادشاہ سے ہم اس شک کا اظہار کر چکے تھے کہ وہ حسین نوجوان جو ایک ماہر طبیب کی شکل میں آپ کے دربار میں ہے وہ ہمارے ملک کا سامری جادو گر بھی ہو سکتا ہے لہٰذا ہم نے اپنے بزرگ سے چند کلیمات لکھواکر بادشاہ کی خدمت میں پیش کئے تھے اور کہا تھا کہ اگر ان کو دل ہی دل میں دہراکر اس نوجوان پر پھونکے جائیں گے تو اس کی اصلیت سامنے آ جائے گی۔ بادشاہ کا ایسا کرنا تھا کہ سامری جادوگر کی اصل شکل سامنے آ گئی لیکن اس خبیث نے جاتے جاتے نیک دل بادشاہ کو دھمکی دی کہ وہ اس کی ایسی حالت بنادے گا کہ اس کا شمار نہ تو زندوں میں رہے گا اور نہ ہی مردوں میں۔ اس کے چند دن بعد ہی اس کی بیٹی تتلیوں سے کھیلتے کھیلتے اچانک گہری نیند میں چلی گئی اور کسی بھی صورت اس کی نیند ٹوٹ کر نہیں دے رہی۔
شہزادہ اپنے والد محترم کی باتیں بہت غور اور حیرت سے سنتا رہا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنے والد محترم سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھے سامری جادو گر کو ڈھونڈ کر قتل کرنے کی اجازت دیدیں گے۔ میں اپنی جانب سے اپنی آخری سانس تک اس کا مقابلہ کرونگا اور اس کو قتل کرکے ہی دم لونگا۔
باد شاہ بہت دیر تک خاموش رہا پھر اس نے کہا کہ اچھی بات ہے۔ میری جانب سے تمہیں اجازت ہے۔ اللہ نیک کام کرنے والوں کا حامی و ممد گار ہوتا ہے۔ اگر تم ایک نیک کام کیلئے پوری سچائی سے اترنا چاہتے ہو تو بسم اللہ لیکن یہ ضروری ہے کہ نیک دل بادشاہ سے بھی اجازت لے لو۔ ممکن ہے کہ اس نے کوئی تدبیر سوچ رکھی ہو۔
تین دن کا سفر طے کرکے شہزادہ نیک دل بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے اس کے دربار تک پہنچا۔ طویل مسافت کی وجہ سے نیک دل بادشاہ کے سنتری اسے شہزادے کی حیثیت سے نہ پہچان سکے لیکن جب اس نے اپنا مکمل تعارف کرایا اور اپنے ملک کے بادشاہ کی تحریر دکھائی تو باد شاہ کو آکر بتایا کہ آپ کے پڑوسی دوست ملک کا شہزادہ آپ سے ملنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ یہ سن کر باد شاہ نے کہا کہ اسے فوراً حاضر کیا جائے اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کیا جائے۔ شہزادہ اس کے سامنے حاضر ہوا تو بادشاہ نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔ شہزادے نے اپنی حاضری کا مدعا بیان کیا اور اجازت طلب کی تو بادشاہ نے کہا کہ یہ مجھے بہت ہی پْر خطر کام لگتا ہے۔ میرے ملک کے کئی کڑیل نوجوان سامری جادوگر کی تلاش میں روانہ ہوئے تھے۔ اس بات کا علم سب کو تھا سامری جادوگر کی جان ایک طوطے کے انڈے میں ہے اور وہ انڈا کہاں اور کس چیز میں بند ہے لیکن جتنے بھی نوجوانوں نے اس پہاڑ کے قریب جانے کی کوشش کی وہ اطلاعات کے مطابق سب کے سب پھتر کے بن چکے ہیں۔ وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ سکتے ہیں، کانوں سے سن سکتے ہیں اور ان کی عقل سمجھ عام انسانوں کی طرح ہی ہے لیکن زبان سمیت ان کا پورا جسم پتھر کا بن کر رہ گیا ہے اس لئے نہ تو وہ بول سکتے ہیں اور نہ ہی چل پھر سکتے ہیں۔ ایسے عالم میں میں یہ بات کیسے گوارہ کر سکتا ہوں کہ میرے اپنے بہترین دوست ملک کے بادشاہ کا کوئی بیٹا کسی مشکل میں پھنس جائے۔
شہزادے نے کہا اے نیک دل بادشاہ۔ کوئی بھی اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کیلئے نہیں آیا بس کوئی پہلے چلا جائے گا اور کوئی بعد میں۔ میں نے سنا ہے کہ اللہ ہمت کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی کوشش میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گا اس لئے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے۔ بس آپ کی اجازت چاہیے۔
نیک دل بادشاہ نے کہا کہ میری جانب سے تمہیں اجازت ہے۔ اللہ تمہارا حامی و مدد گار ہو۔
بادشاہ سے اجازت لینے کے بعد شہزادہ اپنے ملک واپس آیا، اپنے والد محترم کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا، اپنی ماں کی دعائیں لیں اور ضروری ساز و سامان اپنے ساتھ لیکر اپنی مہم پر روانہ ہو گیا۔
شہزادہ یہ تو جانتا تھا کہ سامری جادوگر کی جان جس طوطے کے انڈے میں ہے وہ انڈا کونسے ملک کے کونسے جزیرے کے کس پہاڑ میں ہے لیکن اس کو سارے راستوں کا علم نہیں تھا اس لئے یہ ضروری تھا کہ وہ نہ صرف تمام راستوں کی معلومات کرے بلکہ راستے میں جتنے بھی خطرات یا مشکلات درپیش ہونگی، ان سے نمٹنے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، وہ سب مہیا کرے۔ بہت سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے ملک کے ان برگزیدہ بندے کی خدمت میں حاضر ہو جن کی دعاؤں اور پاکیزہ عملوں کی وجہ سے ان کا ملک سامری جادو گر کی شیطانیوں سے اب تک محفوظ ہے۔ اللہ کے وہ برگزیدہ بندے ایک دن کی مسافت کی دوری پر ایک بہت اونچے پہاڑ کے دامن میں رات دن اللہ کی عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے۔
(جاری ہے)

حصہ