ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

190

قدسیہ ملک
ہمارے ایک بہت پسندیدہ استاد ہیں، وہ ہم سب کو ہمیشہ ایک بات کہتے ہیں کہ ہر انسان جو اِس دنیا میں آیا ہے اپنے ممکنہ وسائل میں رہتے ہوئے کام کرتا ہے،کوئی کم کوئی زیادہ۔ کسی کو آگے بڑھنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہے، کوئی بہت سے وسائل ہونے کے سبب تیزی سے آگے بڑھ جاتاہے، لیکن آگے جاکر ایک حد بعد اجل اس کا انتظار کررہی ہوتی ہے۔ وہ اس بات کو ہمیشہ ایک مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ کبھی شمالی علاقہ جات گئے ہوں گے۔ وہاں آپ نے درختوں کو دیکھا ہوگا، کتنے قدآور، لمبے اور پتلے پتلے ہوتے ہیں،کیونکہ انہیں سورج کی روشنی لینے کے لیے بہت اونچا ہونا پڑتا ہے۔ جبکہ میدانی علاقوں کے درخت گھنے، چوڑے اور چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے کہ انہیں سورج کی روشنی لینے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ آپ سب (طالب علموں) کا حال بھی ایسا ہی ہے۔ کوئی اپنی پوری محنت کے باوجود اتنے نمبر نہیں لے پاتا، اور کوئی ذرا سی محنت سے زیادہ نمبر حاصل کرلیتا ہے۔آپ میری کلاس میں پوری محنت سے پڑھیں گے۔ میں آپ سے کسی کتاب سے امتحان نہیں لوں گا، صرف آپ کی پوری زندگی کے تجربے اور ریاضت کا امتحان ہوگا کہ اب تک جو آپ پڑھ کر آئے ہیں اس سے آپ نے کیا سیکھا ہے۔
گروپ میں کسی کا واٹس ایپ پیغام پڑھا جو کچھ یوں تھا کہ کچھ لوگ اپنی تعلیم 22 سال کی عمر میں مکمل کرلیتے ہیں، مگر ان کو پانچ پانچ سال تک کوئی اچھی نوکری نہیں ملتی۔
کچھ لوگ 25 سال کی عمر میں کسی کپمنی کے CEO بن جاتے ہیں، اور 50 سال کی عمر میں ہمیں پتا چلتا ہے اُن کا انتقال ہوگیا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ 50 سال کی عمر میں CEO بنتے ہیں اور 90 سال تک حیات رہتے ہیں۔
بہترین روزگار ہونے کے باوجود کچھ لوگ ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں اور کچھ لوگ بغیر روزگار کے بھی شادی کرچکے ہیں اور روزگار والوں سے زیادہ خوش ہیں۔
اوباما 55 سال کی عمر میں ریٹائر ہوگیا جبکہ ٹرمپ 70 سال کی عمر میں شروعات کرتا ہے۔کچھ لیجنڈ امتحان میں فیل ہونے پر بھی مسکرا دیتے ہیں، اور کچھ لوگ 1 نمبر کم آنے پر بھی رو دیتے ہیں۔کسی کو بغیر کوشش کے بھی بہت کچھ مل گیا، اور کچھ ساری زندگی بس ایڑیاں ہی رگڑتے رہے۔
اس دنیا میں ہر شخص اپنے Time Zone کی بنیاد پر کام کررہا ہے۔ ظاہری طور پر ہمیں ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں، اور شاید ایسا بھی لگتا ہو کہ کچھ ہم سے ابھی تک پیچھے ہیں۔ لیکن ہر شخص اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہے اپنے اپنے وقت کے مطابق۔ ان سے حسد مت کیجیے۔ اپنے اپنے Time Zone میں رہیں۔
انتظار کیجیے اور اطمینان رکھیے۔ نہ ہی آپ کو دیر ہوئی ہے اور نہ ہی جلدی۔ کسی شاعر نے کہا ہے کہ

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟

اللہ رب العزت جو کائنات کا سب سے عظیم الشان انجینئر ہے، اس نے ہم سب کو اپنے حساب سے ڈیزائن کیا ہے۔ وہ جانتا ہے کون کتنا بوجھ اٹھا سکتا ہے، کس کو کس وقت کیا دینا ہے۔ اپنے آپ کو رب کی رضا کے ساتھ باندھ دیجیے اور یقین رکھیے کہ اللہ کی طرف سے آسمان سے ہمارے لیے جو فیصلہ اتارا جاتا ہے وہی بہترین ہے۔
اگر آپ اپنی زندگی سے کسی حد تک مطمئن ہونا چاہتے ہیں تو ان چند باتوں پر عمل کرنا ہوگا:
1۔ اپنے ماضی سے باہر نکل آیئے:
اپنے ماضی سے مکمل طور پر نکل آنا واقعی بہت مشکل کام ہے، جبھی تو غالب نے کہا تھا:

یادِ ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

پیچھے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے والوں کے پاؤں ہمیشہ غلط جگہ پڑتے ہیں۔ ڈگمگاتے، ہچکچاتے، لجلجاتے، سست اور کاہل قدموں سے چلنے والے کبھی منزل پر نہیں پہنچ پاتے۔ اپنے ماضی سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کیجیے۔ ماضی کو بھول جایئے، جو ہوا وہی ہونا تھا۔ آپ کے کوشش کرنے سے اب وہ واقعہ، وہ کام، وہ سانحہ، وہ حادثہ ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ ہاں البتہ آج کا سکون و آرام برباد ہوسکتا ہے۔ اسی لیے ماضی میں عبرت اور سبق لینے کے سوا جھانکنے سے اجتناب کیجیے۔ خوشیاں آپ کی منتظر ہیں۔
2۔ میرے آنے کا مقصد:
اپنی پیدائش کو سوچیے۔ اپنے وجود کا مقصد تلاش کیجیے۔ سوچیے کہ آپ نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا؟ اس دنیا میں لاکھوں لوگ آئے اور گئے، میرے جانے سے کیا فرق پڑے گا! میں جانے والا آخری نہیں ہوں۔ نظامِِ دنیا مجھ سے پہلے بھی چل رہا تھا، اور میرے بعد بھی چلتا رہے گا، پھر میری کیا ضرورت تھی؟ میں کیوں آیاتھا؟ اپنے لیے یا اِس دنیا کے لیے؟ اپنے لیے جینا تو حیوانی فطرت ہے۔ اوروں کے لیے جینا مقصد ہوتا ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں آگئے ہیں تو مقصد کے ساتھ جینا ہی اصل جینا ہے، تاکہ میرا ہونا اور نہ ہونا برابر نہ ہو۔
3۔ خودفریبی:
اپنے خول سے باہر نکلیے۔ ہم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں، یہ اہم نہیں ہے۔ بلکہ لوگ ہمیں کیا سمجھتے ہیں، یہ زیادہ اہم ہے۔ دنیا میں لوگوں کے درمیان رہنا ہے۔ اپنی ذات کے حصار سے نکلیے۔ بے شک آپ بہت خوبصورت، حسین، ذہین، معاملہ فہم اور صاف گو ہیں، لیکن آپ کو اپنے علاوہ اور بھی لوگوں کو دیکھنا ہے جن میں آپ سے زیادہ یہ صفات موجود ہیں۔ آپ لوگوں میں خصوصیات کو تلاش کیجیے۔ آپ کو انہی لوگوں کے درمیان رہنا ہے۔ لوگوں سے محبت کیجیے۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب آپ خودفریبی کے حصار سے باہر نکلیں گے۔
4۔دل کی بھڑاس:
دوسروں کو بھی موقع دیجیے کہ وہ آپ کے متعلق اپنی رائے آپ کے سامنے پیش کرسکیں۔ اس سے آپ کا بہت فائدہ ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ کی بات کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ اہم ہوجائے گی۔ دوسرا یہ کہ آپ لوگوں میں ہردلعزیز ہوجائیں گے۔ ایک داعی کے لیے یہ صفات بہت ضروری ہیں۔
5۔ خواہشات پر لگام ڈالیے:
انسان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے لیکن خواہشات ختم نہیں ہوتیں۔ عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکھٹا خط (چوکور) کھینچا۔ پھر اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو چوکور سے نکلا ہوا تھا۔ اس کے بعد درمیان والے خط کے اس حصے میں جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا، بہت سی لائنیں کھینچیں، اور پھر فرمایاکہ یہ انسان ہے، اور یہ (چوکور) اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے۔ اور یہ (بیچ کا) خط جو باہر نکلا ہوا ہے اس کی امید ہے۔ چھوٹے چھوٹے خطوط اس کی دنیادی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک (مشکل) سے بچ نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتاہے، اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں پھنس جاتاہے(بخاری)۔ ہماری چند روزہ زندگی کا یہی حال ہے۔
6۔ پُرسکون رہنا سیکھیں:
پُرسکون رہنے کا کوئی مخصوص طریقہ سیکھنا گھبراہٹ اور پریشانی پر قابو پانے میں مفید ہوسکتا ہے۔ گروپ کی صورت، ماہرین کی مدد سے، اور اس کے علاوہ کتابوں اور وڈیو ٹیپس کے ذریعے ہم خود بھی یہ طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اس عمل سے اُس وقت صحیح فائدہ ہوتا ہے جب اسے باقاعدگی سے کیا جائے، بجائے اس کے کہ صرف اُس وقت کیا جائے جب انسان کسی مسئلے کا شکار ہو۔
7۔ مستقبل کے لیے تیار رہیے:
معروف نفسیات دان ڈیل کارنیگی اپنی معروف کتاب ’’پریشان رہنا چھوڑیئے، جینا شروع کیجیے‘‘ میں لکھتے ہیں: ہمیں اپنی ساری کوشش، توانائی، ذہانت، قوت، جوش و خروش کو آج کے کام کو بہترین طریقے سے سرانجام دینے کے لیے صرف کردینا چاہیے۔ یہی ایک امکانی طریقہ ہے جس سے ہم مستقبل کے لیے تیار ہوسکتے ہیں۔
زندگی گزارنا سیکھیے۔ زندگی جب تک ہے لوگوں کی مخالفت کا سامنا رہے گا۔ مخالفتیں تو زندگی ہیں۔ ان سے گھبراکر ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ہر وقت لوگوں کی مخالفتوں کے لیے کمربستہ رہیں۔ لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانا سیکھیے۔ ہم مشنری لوگ ہیں، اعلائے کلمۃ اللہ کا علَم اٹھانے والوں کو مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اپنوں سے شفیق اور غیروں یعنی خدا کے باغیوں سے ہمہ وقت جنگ کے لیے تیار رہیے۔

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

اپنی صلاحیتوں کو مہمیز دیجیے۔ دورِ حاضر کی ٹیکنالوجی کو خود بھی سیکھیے اور اپنی ساتھی بہنوں اور بھائیوں کو بھی سیکھنے پر ابھاریئے۔ اگر آپ اپنے خول میں بند رہے تو لوگ آپ سے کترانے لگیں گے۔ اپنے آپ کو منوانا ہے تو زمانے کے ساتھ چلنے کا ہنر سیکھیے۔ لیکن اپنی تہذیب و مذہب کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیجیے۔ بقول علامہ محمد اقبال:

دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

آزمائش کے بہت سے پہلو ہیں، عامر محمد ہلالی نے آزمائش کی درج ذیل اقسام بیان کی ہیں :
1۔ بیماری کے ساتھ آزمائش
2۔ قید و بند کے ساتھ آزمائش
3۔ استہزاء و تمسخر کے ساتھ آزمائش
4۔ گالی گلوچ کے ساتھ آزمائش
5۔ اذیت، مار پیٹ اور سزا کے ساتھ آزمائش
6۔ خوف اور بے چینی کے ساتھ آزمائش
7۔ فقر و فاقہ، مالوں اور پھلوں کے نقصان کے ساتھ آزمائش
8۔ غم اور فکر کے ساتھ آزمائش
9۔ جلاوطنی کے ساتھ آزمائش
10۔دشمن کے تسلط اور غلبے کے ساتھ آزمائش
11۔ حاسدوں اور منافقوں کے پروپیگنڈوں کے ساتھ آزمائش
12۔ قریبی رشتے دار کی موت اور دوست کی گمشدگی کے ساتھ آزمائش
13۔ بھوک کے ساتھ آزمائش
14۔ رسوائی، تہمت، احساسات کے مجروح ہونے اور شہرت کے خراب ہونے کے ساتھ آزمائش
15۔ ظالموں کی طرف سے حملے، دھمکی اور ان کے ہاتھوں خوف زدہ ہونے کے ساتھ آزمائش
16۔ اپنے گھر والوں کے متعلق اس خوف کے ساتھ آزمائش کہ انھیں اس کی وجہ سے کوئی اذیت پہنچے اور وہ اس اذیت کو اُن سے دور کرنے کی طاقت بھی نہ رکھے
17۔ بیوی بچوں پر نازل ہونے والی تکالیف کے ساتھ آزمائش (’’مشکلات کا مقابلہ کیسے کریں؟‘‘ صفحہ 15۔ 16، ط: 2012ء، مکتبہ بیت السلام، لاہور)
حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں ایک دفعہ مدینہ اور حجاز کے علاقے میں زبردست قحط پڑا۔ حضرت عمرؓ نے مصر وشام کے علاقے سے کثیر مقدار میں غذائی اشیاء منگوائیں، مگر قحط کسی طور پر کم نہ ہوا۔ ایک صحابی بلال بن حارث مزنؓ کو خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو سمجھتا تھا کہ عمرؓ سمجھدار آدمی ہے! ان صحابی نے حضرت عمرؓ کو خواب سنایا، حضرت عمرؓ بہت پریشان ہوئے اور نمازِ فجر کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں نے میرے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی تبدیلی محسوس کی؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: نہیں۔ اور حضرت عمرؓ کی کچھ تعریف کی۔ حضرت عمرؓ نے خواب دیکھنے والے صحابی کو فرمایا کہ اپنا خواب بیان کریں۔ خواب سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: امیرالمؤمنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جانب متوجہ فرما رہے ہیں کہ قحط کے حالات سے نمٹنے کے لیے آپ دنیا کے ظاہری اسباب تو اختیار فرما رہے ہیں، لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ سے رجوع نہیں کیا، یعنی نمازِ استسقاء نہیں پڑھی حضرت عمرؓ چونکہ حق قبول کرنے کا مزاج رکھتے تھے تو آپؓ نے نمازِ استسقاء ادا فرمائی اور ایسی بارش ہوئی کہ مدینہ کا طویل قحط دور ہوا۔
اس واقعے سے معلوم ہوا کہ پریشانیاں، مشکلات اور مصائب ہمارے اپنے اعمال و کردار کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی اعمال کو بہتر بنانے سے بھی دلوں کو سکون ملتا ہے۔
اللہ ہمارے اعمال کو اپنے لیے خالص کرلے، سب سے زیادہ مجھے ان تمام باتوں پر عمل کرنے والابنادے، اور ففتھ جنریشن وار کے اس فتنے کی ریشہ دوانیوں سے مجھے اور آپ کو محفوظ و مامون رکھے۔

زمانے کی یہ گردش جادوانہ حقیقت ایک تو باقی فسانہ
کسی نے دوش دیکھاہے نہ فردا فقط امروز ہے تیرا زمانہ
(اقبال)

غزل

سمیرا غزل

دل میں اک رستہ بنانا چاہیے
یعنی دل سے دل ملانا چاہیے
جیت جانے کی تمنا ہے اگر
آپ کو پھر مسکرانا چاہیے
اس قدر تو بے رخی اچھی نہیں
کچھ تو ملنا آنا جانا چاہیے
زندہ رہنے کو ضروری ہے ہنسی
زندگی کو آب و دانا چاہیے
سب کو رکھنا چاہتے ہیں آپ خوش
خود پرستی سے نکلنا چاہیے
روٹھ جاتا ہے کبھی اپنا اگر
جلد ہی اس کو منانا چاہیے
سر بلندی کی تمنا ہے اگر
رب کے آگے سر جھکانا چاہیے

حصہ