سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور سلطنت عثمانیہ

322

ڈاکٹر خالد امین /مرتب: اعظم طارق کوہستانی
(گزشتہ سے پیوستہ)
وقت گز رنے کے سا تھ مو لا نا مو دو دی کی یہ با ت درست ثا بت ہو ئی۔تر کو ں نے نہ صرف اپنے رسم الخط کو تبدیل کر دیا ‘بلکہ معاشرتی بنیا دو ں میں اسلا م بے زاری کو فر وغ دیا ۔اس انتہا پر جا نے کے با وجو د بھی تر کو ں کے دل میں اسلا م کی محبت کو مٹا یا نہیں جا سکا‘جس کی مثا ل آج کے تر کی میں دیکھی جا سکتی ہے۔حا ل ہی میں تر کی کے صدر طیب اردوگان نے تہذ یبو ں کے اتحا د کے نا م سے اقوام متحد ہ کے ادارے میں ویا نا کے ہا ف بر گ پیلس میں تقریر کر تے ہو ئے کہا ہے کہ:
ہما ری تو جہ ان جھگڑ وں پر مسلسل مر کو ز رہنی چا ہیے جو ایشیا اور افریقا میں چل رہے ہیں۔خاص طور پر بلقا ن اور مشر ق وسطی میں پائے جا تے ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ وہ خو ابیدہ خطرات بھی جو دنیا کے ممکنہ جنگو ں میں مو جو دہیںہما ری نظرو ں سے اوجھل نہیںہو نے چاہئیں۔بد قسمتی سے شا م کے معاملے میںجد ید دنیا اس امتحا ن پر پو ری نہیں اترسکی۔ہمیں علم ہے کہ گزشتہ دو سالو ں میں ستر ہزا ر کے قریب لوگ اپنی جا نو ں سے ہا تھ دھو بیٹھے ہیں۔یہ با ت کہ دنیا نے اس صورت حا ل پر کوئی خاص ردعمل ظا ہر نہیں کیا۔احسا س انصاف کو سنگین طو رپر پر مجر وح کر تاہے۔اسی طر ح تہذیبو ں کے اتحا د کے رو بر و یو رپ میں بڑ ھتی ہو ئی نسل پر ستی پُر مسا ئل شعبہ ہے۔مز ید بر آں ،مسلم مما لک سے لا تعلقی کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ جو مسلما ن اپنے ملک کے علا وہ کسی دوسرے ملک میں سکو نت پذ یر ہیں تو انھیں درشت،معا ندانہ اور ہتک آمیز رویو ں کا سامنا ہے۔
طیب اردوگا ن نے اس رویے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ ایک نا معقول عمل ہے جو دنیا بھر میں جا ری ہے۔ہماری کوشش ہو نی چاہیے کہ دیگر لو گو ں کے عقا ئد اور ثقا فتو ں کے بارے میںمعلو ما ت حا صل کر یں۔اس کے بر عکس ہم دیکھتے ہیں کہ لو گو ں کے عمل کی بنیا د تعصب ہے اور وہ دوسروں کا مقا طعہ کر تے ہیںاور ان سے نفرت بر تتے ہیں۔اسی وجہ سے یہ انتہا ئی ضرو ری ہے کہ ہم صیہو نیت ،سام دشمنی اور فسطا ئیت کو بھی انسا نیت کے خلا ف ایک جرم قرار دیں۔انھو ں نے ذرائع ابلا غ پر نکتہ چینی کر تے ہو ئے اس کے کر دار کو نفر ت اور اشتعا ل دلا نے والا قراردیا اور کہا کہ اس عمل سے تعصب کی بنیا دیں مضبو ط ہوجا تی ہیں۔
طیب اردوگا ن کے خیا لا ت مو جو دہ تر کی کے سیا سی کر دار کو بھی وا ضح کر تے ہیں۔مشر ق وسطی میں ما ضی کی طرح جغرافیا ئی ،تہذ یبی اور فکر ی انتشا ر جس انداز میں پھیلا یا گیا ہے وہ وہی ہے جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میںسلطنت عثما نیہ کے سا تھ اس وقت برطانیہ اور اس کے اتحا دی قو تو ں نے کھیلا تھا۔روس اور امر یکاکے مفا دات خواہ مشترک نہ ہو ں مگر ان کا کردار مسلما نو ں کے ساتھ معا ندانہ رویے کا حامل دکھا ئی دیتا ہے۔شا م ،عراق اور یمن میں جا ری خانہ جنگی کے نتا ئج کیا بر آمد ہو تے ہیں اس کا فیصلہ ہو نا ابھی با قی ہے مگر جا ر حا نہ قو تو ں کی حکمت عملی اگر اسی طر ح مسلم ممالک میں جا ری رہیں تو مسلما ن حکمر انو ں کے کردار پر بحث کی گنجا ئش مو جو دہورہے گی کہ وہ مسلسل نا کا می سے کیو ں دوچا ر ہیں۔
ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ تر کی کی سیا سی حکمت عملی میں اتحا داسلا م کو فر وغ دینے کی کو ششیں بار ہا دکھا ئی دیتی ہیں۔دنیائے اسلا م میں سیا سی بر تری جس طرح تر کو ں کے حصے میں آئی ہے ویسی کسی دوسری قوم کو نصیب نہیں ہوسکی۔ترکوں میں انجمن نو جو انان کی تحریک نے ترکو ں کو عہد اسلا می کی تا ریخ سے جس طر ح قطع تعلق کر نے پر مجبو رکیا ہے اس کی داستان نہا یت طو یل ہے مگر اس کا خمیا زہ بھی تر کو ں کو کئی نسلوں تک بھگتنا پڑے گا۔
جنو بی ایشیا کے مسلما ن تر کو ں کی تا ریخ اور تہذیب سے ربط رکھتے ہیں اس لیے وہا ں کی سیا سی زندگی میں ہو نے والی تبد یلی کے اثرات یہا ں پر بھی پڑتے ہیں۔مذ ہبی طبقہ یہ چا ہتا ہے کہ تر ک احیا ئے اسلا م کی جد وجہد میں دوبا رہ وہی کر دار ادا کر یںجو ان کے آبا کر تے رہے ہیںجب کہ جدید یت کے حا می ہر اس وحی کو جو انقر ہ سے نا زل ہو تی ہے مسلما نو ں کے سامنے اس طر ح پیش کرتے تھے گو یا قرآن منسو خ ہو چکا ہے اور رسا لت ختم ہو گئی ہے۔اب ہد ایت ہے تو اتا تر ک کے اسوہ میں ہے۔
یو رپی اور امر یکی سیا سی تنا ظر میں تر کی اور دیگر مسلما ن مما لک کا جا ئز ہ لیں تو ہمیں یہ دکھا ئی دے گا کہ جس عالمی رواداری کا مظا ہر ہ مسلما نو ں نے کیا ہے وہ مغربی اقوام کی دہشت و بر بریت کے سا منے ایک مثال ہے بہ شر طے کہ ہم انصاف سے تا ریخ اور مو جو دہ تنا ظر کا مطالعہ کریں۔مو جو دہ عہد میں مسلما ن ملکو ں میں دیگر اقوام کو جس طر ح مذ ہبی آزادی حا صل ہے وہ اکیسویں صدی کے یو رپ اور امر یکا میں مسلمانو ں کو میسر نہیں ہے ۔اس لیے فرانس اور جر منی میں حجا ب پر پابند ی کے حوالے سے جو ردعمل ظا ہر ہو ا ہے وہ ان کی حکومتو ں کے ذہنی رویے کی عکا س ہے۔
جد ید تر کی نے یو رپی قو تو ں کا ساتھ اپنی خوا ہشات سے بڑ ھ کر دیا ہے مگر وہ تا ریخ کے ان مسا ئل کو کبھی بھی حل نہیں کر سکتا جو سلطنت عثمانیہ اور اہل یو رپ کے ساتھ کئی صدیو ں سے جڑے ہو ئے ہیں۔اس کی حا لیہ مثا ل The Economist London۲۸ ؍جنو ری ۲۰۱۲ء کی ایک رپو رٹ میں دیکھی جا سکتی ہے۔جنوری ۲۰۱۲ ء میں فرا نس کی سینیٹ میں ایک بل پیش کیا گیا ،جس کے تحت ۱۹۱۵ء میں آ رمینیا میں تر کو ں کے قتل عا م کو جھٹلا نا جر م قرا ر پا ئے گا۔اس وقت کے ترک وزیر اعظم رجب طیب اردو گا ن نے فرانسیسی حکو مت کو متنبہ کیا ہے کہ اس بل کو منظو رکر کے قا نو ن بنا نے کے خطر نا ک نتا ئج بر آمد ہو ں گے۔
یو رپ نے تر کی کو ان تا ریخی حقیقتو ں سے فراموش کر کے نہیں دیکھا اور نہ ہی آ ئندہ اس کے امکا نا ت ہیں۔روس کی شام میں بڑ ھتی ہو ئی مدا خلت نے تر کی کی خا رجہ پا لیسی کو مشکلا ت کا شکا ر کر دیا ہے۔اس سنبھلتی ہو ئی قوت کو مشرق وسطی میں جا ری خا نہ جنگی نے کئی محا ذ پر بیک وقت مصروف کر دیا ہے جس سے مو جو دہ تر کی عہد ہ بر آ ہو تا ہے یا نہیں یہ فیصلہ ہو نا با قی ہے۔روس سے تر کی کی جا ری مخا صمت تین صدیو ں پرانی ہے یہ دو نو ں ہمیشہ سے روایتی حر یف رہے ہیں۔
سید مو دو دی نے تر کی اور اسلا می ملکو ں میں پروان چڑ ھتی ہو ئی نیشنل ازم کی تحریکو ں پر تنقید کی ہے۔انھو ں نے اس نظر یے کو اسلامی فکر کے عل الر غم قراردیااور اتحا د امت کی تر ویج و اشاعت پر خصو صی تو جہ دینے کے لیے کہا۔ان کی فکر میں اتحا د امت ایک ایسی قوت بن کر سا منے آ تی ہے جو زندگی کے ہر دائر ہ کا رمیں کسی مسئلے کو علا قائی اور جغرافیا ئی بنیا دوں پر نہیں دیکھتی،بلکہ عالمی اسلا می برادری کے ایک شریک کا ر کے طور پر ان مسائل کا حل چا ہتی ہے جو دنیا میں پھیلے ہو ئے مختلف خطوں میں آ با د مسلما نو ں کولا حق ہیں انھو ں نے مغرب کی جارح قوتو ں کا محاکمہ اس انداز میں کیا ہیـ وہ لکھتے ہیں کہ:
اس وقت مغرب کی جا بر قوتو ں کی وجہ سے اسلا می مما لک میں کش مکش بر پا ہے۔ہما ری ہمدردیا ں ان ملکو ں کے ساتھ ہے جو اپنے جا ئز حقو ق کی جد و جہد کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہمد ردی اس بنیا د پر نہیں کہ وہ مسلمان ہیں بلکہ اس بنیا د پر بھی ہے کہ وہ مظلو م ہیں۔ حق ان کے ساتھ ہے اور ان کاحریف سراسر نا حق ہے۔
نیشنل از م کی بنیا د پر استوار ہو نے کی وجہ سے ہم اپنے بھا ئی مسلما نو ں کی جا ئز مد د کر نے کے بھی قا بل نہیں رہتے۔اسی لیے سید مودودی نے اس نظر یے کو اسلا م سے متصا دم قراردیتے ہو ئے اس کے حا ملین کے با رے میں کہا کہ :اس نظریے کے پیروکا ر خدا اور مذ ہب کو بھی قو می بنا دیتے ہیں۔یہ نظریہ انسا نو ں میں ایسا تعصب پیدا کر دیتا ہے جسے جا ہلی عصبیت کے سوا کچھ قرارنہیں دیا جا سکتا۔انھو ں نے لکھا کہ:
نیشنل از م اختیا ر کر کے اس کے فطر ی تقا ضو ں سے کو ن بچ سکتا ہے؟غو ر کیجیے ،آ خر وہ کیا چیز ہے جو قوم پر ستا نہ طر ز فکر اختیا ر کر تے ہی ایک مصری نیشنلسٹ کا رخ خود بہ خود عہد فراعنہ کی طر ف پھیر دیتی ہے؟جو ایرانی کو شاہ نا مے کی افسا نو ی شخصیتوں کا گر ویدہ بنا دیتی ہے؟جو ہندوستا ن کو پرا چین سمے کی طر ف کھینچ کر لے جا تی ہے اور گنگ و جمن کی تقدیس کے ترانے اس کی زبا ن پر لا تی ہے؟ جو تر ک کو مجبو ر کر تی ہے کہ اپنی زبا ن ،اپنے ادب اور اپنی تمد نی زندگی کے ایک ایک شعبے سے عر بی اثرات کو خا رج کر کے اور ہر معا ملے میں عہد جا ہلیت کی تر کی روایا ت کی طر ف رجو ع کرے؟۔
تر کو ں نے جب اتحا د اسلا م کے نظر یے سے روگر دانی کی تو ان میں ایسی دل چسپیا ں پروان چڑ ھیں جو تہذیبی و تمد نی اعتبا ر سے محدود دائرے میں تھیں اور اس دائر ے میں خو دکو مقید کر کے اس قوم نے عالمی اسلا می اقوام کی سیا دت سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تر ک کئی معاملا ت میں تنہا ہو گئے۔سید مو دو دی نے جد ید تر کی کے با نی گو ک الپ ضیا کے خیا لا ت پر تبصرہ کر تے ہو ئے کہا کہ نیشنل ازم آدمی کے دما غ کو اسلا م سے جا ہلیت کی طر ف پھیر دیتا ہے کیو ں کہ گوک الپ ضیا نے کہا تھا کہ اسلا م ہما رے منا سب حا ل نہیں ہو سکتا اگر ہم اپنے عہد جا ہلیت کی طرف رجعت نہ کر یں تو پھر ہمیں ایک مذ ہبی اصلاح کی ضرورت ہے جو ہما ری طبعیت سے منا سبت رکھتی ہو۔
۲۱ ؍اگست ۱۹۶۹ء میں جب مسجد اقصٰی کو شہید کر دیا گیا تو لا ہو ر میں مولانا مو دودی نے ۲۴؍ اگست ۱۹۶۹ء میں تقر یر کرتے ہو ئے تر کو ں کے کردار پر نیشنل ازم کے گہر ے اثرات کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔انھو ں نے لکھا ہے کہ مغربی سیاست کاروں نے جس میں یہو دی بھی کا م کر رہے تھے سلطنت عثما نیہ کے حصے بخر ے کر نے کا منصو بہ بنا لیا تھا‘انھو ں نے ترکو ں میں یہ تحریک اٹھا ئی کہ وہ سلطنت کی بنیا د اسلا می اخوت کے بجا ئے تر کی قوم پر ستی پر رکھیں ،حا لا ں کہ تر کو ں کا جغر افیہ اس بات کی گو اہی دیتا ہے کہ تر کی میں صرف تر ک آ با د نہیں ہیں بلکہ عر ب اور کر د بھی ہیں۔اس کے علا وہ دوسری نسلو ں کے مسلمان بھی آباد ہیں۔ایسی سلطنت کی بنیا د صرف تر کی النسل لو گو ں پر رکھنے کے صا ف معنی یہ تھے کہ تمام غیر تر ک مسلما نو ں کی ہم دردیاں اس کے سا تھ ختم ہو جا ئیں گی۔دوسر ی جا نب عر بو ں اور دیگر اقوام کو اس با ت پر ابھا را گیا کہ وہ ترکوں کی غلا می سے نجات حاصل کر لیں۔
مو جو دہ تر کی میں جا ر ی اندورونی مخا صمت کا اندازہ اس پس منظر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اس کے کُر د صوبے آ ج بھی کئی حو الو ں سے تر ک ریا ست کے ہم راہ نظر نہیں آتے۔مغر بی قوم پر ستی کی بنیا د پر استوار ہو نے وا لے جد ید تر کی میں بڑھتی ہوئی خو ں ریز ی کی بنیا دی وجوہات کو ان امو ر میں ساتھ تلا ش کیا جاناکوئی مشکل امر نہیں ہے۔سید مو دو دی کے ان خیالات کا اعادہ اس لیے کیا جا نا ضروری ہے کہ تر کو ں نے سب سے پہلے اپنے آپ کو اسلامی فکر کے بنیا دی تصورات سے شعوری طو ر پر علا حدہ کیا۔بیسو یں صدی میں تر کو ں کے انحطا ط کی وجہ سے مسلما نو ں کی وحدت کو نظر ی بنیا دو ں پر اسی نیشنل از م کی تحر یک نے نقصا ن پہنچا یا تھا۔اسی لیے سید مو دو دی نے اپنی فکر میں امت کی تشکیل نو کو مرکز ی اہمیت دی ہے۔
روس اور یو رپ کی دو لت عثما نیہ سے جا ری مخا صمت کا مطا لعہ مصطفی کا مل پا شا (۱۸۷۴ء ۔۱۹۰۸ء )کی کتا ب مسئلہ شر قیہ میں موجودہے۔جس کا اردو تر جمہ سید ابو الا علی مودودی نے کیا تھا۔اس ترجمے سے سید مو دو دی کی فکری جہت کو سمجھنے میں مد د ملتی ہے۔عالم اسلا م میںجا ری مشرق و مغرب کی کش مکش میں تاریخی موڑ سلطنت عثما نیہ کا زوال تھا اور اس سقو ط نے عالم اسلا م کی تا ریخ سے خلا فت کے تصور کو ناپید کر دیا اور مسلما ن مر کزی حیثیت میں پھر کبھی مجتمع نہیں ہوسکے۔مصطفی کا مل پا شا کی اس کتا ب کے تر جمے کی غا یت یہی تھی کہ مسلمانو ں کو مغربی حکمت عملی کے تضا دات سے آگا ہ کیا جا ئے ۔اس کتا ب کے مطا لعے سے یہ با ت بھی سا منے آ تی ہے کہ انیسو یں اور بیسو یں صدی میں مسلما ن عالمی قوتو ں کی چیرہ دستیوں کا جس انداز میں شکا رہورہے تھے اس کے تسلسل کو سمجھنے کے لیے تر کو ں کی تا ریخ اور یو رپ پر اس کی فتح کا جا ئز ہ ضرور لینا اشد ضروری ہے۔

حصہ