ریٹنگ کا فارمولا

430

یو ٹیوب پر بول ٹی وی کے پروگرام ’چیمپئن ‘کے آڈیشنز کی ویڈیو مستقل ٹرینڈ لسٹ پر چھائی ہوئی ہے۔وقار ذکاء اس پروگرام کے میزبان ہیں جو اپنی برداشت کے مطابق ، حتی الامکان اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ویسے تو سب ریکارڈڈ اور انتہائی سنسر سے گزارے گئے پروگرام ہیں لیکن اس کے باوجود میزبان کی گفتگو کے درمیان کئی بار ’بیپ‘ سنائی دیتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ میزبان نے کوئی ایسا لفظ بولا ہے جسے نشر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ناظرین کو از خود اپنے معاشرتی تجربات و مشاہدات کی روشنی میں بوجھنا ہوتا ہے کہ موصوف نے کیا فرمایا۔اس حوالے سے مجھے ایک بزرگ سینئر صحافی کی بات یاد آگئی جس میں انہوں نے ’اردو کی خرابی و تباہی میں موجودہ الیکٹرانک میڈیا کو بڑا ذمہ دار قرار دیا۔‘ہو سکتا ہے کسی کو یہ بات سمجھ نہ آئے لیکن انہوں نے تو اُس وقت بھی نیوز کاسٹرز و کاپی ایڈیٹرز کے توسط سے نشر ہونے والی کئی مثالوں سے سمجھائی تھی، تاہم گزرتے وقت کے ساتھ ڈراموں اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر جو کچھ نشر ہوتا ہے اس نے بھی بہت سارے معاملات خراب کیے ہیں۔ذکر ہو رہا تھا وقار ذکاء کے پروگرام کا جس میں نوجوان نسل چیمپئن بننے کے لیے ، جس کے ساتھ شہرت کا تڑکہ بھی لگا ہوا ہوسب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو کر آرہے ہیں۔اب تک یو ٹیوب پر کوئی سات اقساط نشر ہو چکی ہیں۔اس میں کئی پروگرامات کے کلپس خوب وائرل رہے۔ اب باقاعدہ اقساط بھی ٹاپ ٹرینڈ چارٹ پر جگہ بنا رہی ہیں۔ وقار ذکاء اس سے پہلے بھی ’ڈیر‘ Dare یعنی بہادری و جرأت کے اظہار کے سلسلے میں دیگر ٹی وی چینلز سے بھی اسی طرز کا بلکہ اس سے بھی خطرناک قسم کے آڈیشنز و شوز Living on the Edgeکے نام سے کر چکے ہیں۔اب کچھ سال کے وقفہ کے بعد اپنی بے باک گفتگو و اسٹائل کے ساتھ دوبارہ اسکرین پر جلوہ گر ہیں ۔ جو کچھ اس شومیں ہو رہا ہے اور جس طرح کے لوگ شریک ہو رہے ہیں خصوصاً خواتین کے آڈیشنز کی کیفیت اتنی بدترین ہے کہ مجھے حیرت ہے کہ پیمرا کیوں خاموش ہے یا ریاست مدینہ کے دعویدار ، ارتغرل جیسی سیریز کو عوام میں مقبول کرنے کے خواہش مند وزیر اعظم نہ جانے کس دنیا میں مگن ہیں۔اخلاق باختگی بلکہ معاشرے میں رائج چلن اور نوجوان نسل کی علمی، اخلاقی، ذہنی پستی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے ۔بہادری و جرأت دکھانے کے نام پر جو کچھ گفتگو ہوتی ہے اُس سے بھی نہایت تشویش ناک اور افسوس ناک صورتحال سامنے آتی ہے۔پھرشرکاء کو دیئے گئے اہداف مثلاً ہری مرچیں کھانا، ناک میں سانپ ڈال کر منہ سے نکالنا، سانپ کو چومنا جیسے چند کاموں کو دیکھ کر جرأت و بہادری یا چیمپئن کی تعریف تبدیل کروانے کا دل کرتا ہے۔اس شو کے کئی کلپس الگ سے وائرل ہوئے جس میں ایک خاتون کی سیاسی معلومات کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ ’پنامہ ‘ ایک جزیرے کا نام ہے جسے نواز شریف خرید کر مالی کرپشن میں ملوث ہوا۔بہر حال اسی شو کے ایک تازہ کلپ میں مقابلہ میں شریک ایک خاتون نے کہا کہ ’ لوگ یہی دیکھنا چاہتے ہیں، اگر میں کوئی اسلامی بات کروں یا نعت سناؤں تو کوئی نہیں دیکھے گا۔ویسے افسوس کی بات یہ تھی کہ اس جملے کو آن ایئر جانے دیا گیا اور بے باک ، حاضر جواب ، چرب زبان وقار ذَکاء خاموشی سے آگے بڑھ گئے ۔‘ یہ ٹھیک ہے کہ میں نے اُسی وقت یو ٹیوب کی ٹرینڈ لسٹ چیک کی تو خاتون کی بات صرف ’اُس وقت ‘تودرست لگی ، پاکستان کی حدود میں یو ٹیوب کی پوری ٹرینڈ لسٹ میں اُس وقت کوئی بھی نعت رسول مقبول ﷺ یا کوئی دینی پروگرام نہیں تھا، لیکن ایسا ہر وقت نہیں ہوتا ۔ آپ خود بھی یو ٹیوب پر سرچ کر سکتے ہیں مولانا طارق جمیل ، علامہ رضا ثاقب مصطفائی، ڈاکٹر ذاکر نائیک، نعمان علی خان، مصطفیٰ حسنی(مصر)، شیخ مشاری الفاسے، بلال فلپس، انجینئر محمد علی ، ماہر زین، طاہر قادری، اویس قادری و دیگرجیسے بے شمار نام ہیں ۔ ان کی ویڈیوز کے ویوز کسی طور بھی کم نہیں کہے جا سکتے ۔ اس کے علاوہ نعتوں و بیانات کے کلپس جو اکثر وائرل ہوتے رہتے ہیں وہ خود اتنی بڑی گواہی ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ لوگ یہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسانی نفسیات کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنے ویوز لانے اور پیسہ کمانے کی خاطر خواتین کا غیر ضروری استعمال اور ویڈیو کا’تھمب نیل‘ ایسا بنایاجاتا ہے کہ لوگ ویڈیو دیکھیں۔ اسی ہفتہ ایک اور خبر نظر سے گزری کے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مشہور ترکی ڈرامہ سیریل ’ارتغرل‘ کو اردو ترجمہ کے ساتھ پی ٹی وی پر نشر کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔اب بھلا ریٹنگ اور اس نفسیات کو جو یہ کہتے ہیں کہ عریانیت، فحاشی ، بے حیائی و گندگی ہی ’ریٹنگ‘ ( ناظرین) لانے کا ذریعہ ہے اُن کے سامنے خود انٹرٹینمنٹ کی دنیا سے اتنی بڑی مثال ہے جو کہ ایک دو نہیں اس وقت دُنیا کے 80ممالک میں انتہائی پسندیدگی سے دیکھا گیا اور دیکھا جا رہا ہے ۔ اب تو چھٹا سیزن شروع ہو گیا ہے اس کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کا اندازہ کریں کہ کل ہی ’کرولس عثمان ‘ ( ارتغرل کے چھٹے سیزن ) کی تیسری قسط بغیر کسی سب ٹائٹل یا ترجمہ کے صرف ترکی زبان میں نشر ہوئی اور 17گھنٹوں میں اس کے صرف ایک چینل اور صرف یو ٹیوب سے ہی 2ملین ویوز ہو چکے تھے ۔ واضح رہے کہ یہ قسط دو گھنٹہ دورانیہ کی ہوتی ہے۔اس کے کلپس الگ وائرل ہوئے ہیں۔ یہ سیریز ڈرامہ کے تمام بنیادی عناصر کے ساتھ گلیمر کی چکا چوند سے مکمل پاک ہے ، لیکن ہم اس ڈرامہ اور اس جیسی مزید بے شمار لا تعداد ویڈیوز کی مقبولیت دیکھ کر یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا مالکان و پروڈیوسرز کے اذہان میں پھیلا ہوایا پنپتا ہوایہ فلسفہ مکمل شیطانی ہی ہے۔اس کی دلیل قرآن سے بھی یوں ملتی ہے کہ ’شیطان تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے۔‘اس لیے یہ کہنا اور ماننا کہ کہ لوگ اسکرین پر ’بے حیائی ‘ ، ’گلیمر‘ دیکھنے کے خواہاں ہیںتو اُس کے شیطانی ہونے میں کوئی شک نہیں ۔بات ہو رہی تھی انٹرٹینمنٹ اور اخلاقیات کی تو اسی ضمن میں میمز بنانے والے ایک نئے پیج ’ موم بتی‘نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے شاٹس اور ان کی دوسری اہلیہ کے شاٹس پر مبنی ایک ’میم ‘بہت محنت سے تیار کر کے اپ لوڈ کی ۔ memeسوشل میڈیا کی سب سے مقبول صنف ہے جو بنیادی طور پر’نقل‘کرنے یا کسی واقعہ ، بیان کو طنز و مزاح کے پیرائے میں کسی تصویر یا ویڈیو کو جوڑ کر بنائی جاتی ہے۔ اس کو یوں بھی سمجھ لیں کہ اس میں کوئی چیز کا اضافہ نہیں کیا جاتا یعنی کسی کی تصویر لی گئی ہے تو وہ اُسی طرح استعمال کی جاتی ہے جیسی وہ ہے ، بس صورتحال کی مناسبت سے اس کا کیپشن یا جملہ ایسا لگایا جاتا ہے جو ناظر کو ہنسنے ، مسکرانے یا خوشی بکھیر دیتا ہے ۔اسی طرح ویڈیوز میں بھی مختلف کلپس کو جمع کر کے کسی خاص پس منظر کی آڈیو یا اور کلپ سے جوڑ دیا جا تا ہے۔ اس سلسلے میں کئی یو ٹیوب چینلز نہایت creativity کے ساتھ memeتیار کرتے ہیں۔ الطاف حسین کے خطابات کے ٹکڑے نکال کر بنائی گئی memes ہمیشہ کامیاب رہتی ہیں۔ اسی طرح ملکی سیاسی صورتحال پر سیاسی قائدین کے مختلف ٹی وی انٹرویوز، بیانات، خطابات کو جوڑ کر کسی مشہور بھارتی فلم کے ٹریلر کی آڈیو کے ساتھ مرتب کیا گیا۔ یہ آئیڈیا بہت وائرل رہا،لوگ بہت محظوظ ہوتے ہیں۔اسی طرح کے آئیڈیے پر موم بتی والوں نے بھارتی فلم دبنگ ۳ کے ٹریلر پر عامر لیاقت حسین کی meme بنا ئی ۔ شروع میں تو عامر لیاقت نے خود وہ ویڈیو اپنی ٹوئٹر وال پر شیئر کی پھر موم بتی والوں کو چرب زبانی سے آخرت کچھ یوں یاد دلا ئی ۔’وہ ایک نہایت نازیبا ویڈیو تھی اس لیے کچھ دیر کے لیے آپ سب کے علم میں لایا کہ اب ہمارے بھانڈ ہر قسم کے لحاظ کی حد عبور کر چکے، نہ عورت کااحترام باقی، نہ وردی کا کوئی خیال، نہ مجالس کی ویڈیوز کا پاس اور نا ہی محافل کا ادراک بس memes بناناہے چاہے آخرت جاتی رہے یا حشر میں حشر کیا جائے۔‘ اب اس پوسٹ کے بعد چاہنے والوں کا تو وہی رد عمل آیا جو آنا تھا البتہ کچھ نے آٗینہ بھی دکھایا ، ’’نازیبا،میمز، بھانڈ، آخرت آپ پی ٹی آئی کے خلاف کب سے ہو گیے۔‘‘اِسی طرح ایک اور فالوور نے لکھا کہ ،’’آخرت کی یاد اور عامر بھائی۔۔۔ واہ نازک معاملہ ہے۔ویسے آپ بھی اسی کیٹیگری میں آتے ہیں کبھی کبھار آئینہ دیکھ لیا کریںیا اپنے پرانے کلپس۔‘ویسے اہم بات یہ تھی کہ ’موم بتی‘ نے مذکورہ ویڈیو ڈیلیٹ بھی کر دی اور ڈیلیٹ کرنے کی پوسٹ جب لگائی تو اُس نے بھی اچھا خاصا دائرہ ابلاغ بڑھایا۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے شا ئقین کرکٹ کو اس ہفتہ بھی آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں عبرت ناک شکست کے ساتھ ایک بار پھر مایوس کیا۔ سرفراز کو نکالنے، مصباح کو تین عہدے دینے اور بودی کار کردگی پر خوب رد عمل جاری رہا۔
ایک اور اہم بات کراچی بلکہ ملک بھر میں امن و امان ، اسٹریٹ کرائمز، چوری ڈکیتی ، بھتہ خوری کی آزادانہ لہر سامنے آئی۔صرف یہی نہیں بلکہ مہنگائی کی بھی عجیب صورتحال کا سامنا اہل پاکستان کے تمام مڈؒ اور لوئر مڈل کلاس کو کرنا پڑا ۔ سوشل میڈیا پر اس ضمن میں ٹماٹر کے علاوہ کوئی ذور و شور سے مہم نہیں چلی لیکن ذکر گاہے بگاہے اور کئی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی صورت سامنے آتا رہا۔ اسی دوران کراچی میں امسال لڑکی کے اغوا کی دوسری واردات سامنے آئی۔ پہلی لڑکی کو تو تاوان لے کر چھوڑ دیا گیاتھا جبکہ دوسری لڑکی کے لیے (تادم تحریر)بھی بذریعہ واٹس ایپ کوئی ڈھائی لاکھ ڈالر بطور تاوان طلب کیا گیاہے۔یہ اغواء بھی سوشل میڈیا پر خوب زیر بحث رہا اور مختلف انداز سے ۔ ایک جانب اغواء کے خلاف آواز اٹھائی گئی دوسری جانب ایک اور بڑے طبقہ نے اغواء کی تفصیلات کی روشنی میں اغواء کو درست قرار دیا۔شیئر کردہ سی سی ٹی وی ویڈیو کے مطابق لڑکی رات کے خاص پہر میں ایک نوجوان کے ساتھ سڑک پر جا رہی تھی ، کہ اس پر حملہ ہوا۔ واقعہ کی تفصیل عاجز جمالی یوں بیان کرتے ہیںکہ ،’گذشتہ شب ڈیفینس کے بخاری کمرشل میں ایک انوکھا واقعہ رونما ہوا ہے۔ عمومی طور پر ایسے مناظر ہم نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں ہی دیکھے تھے کہ کسی گاڑی میں سوار مسلح افراد فائرنگ کرتے ہوئے آتے ہیں۔ وِلن کو زخمی کرتے ہیں اور پھر ہیروئن کو اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر فائرنگ کرتے ہوئے روانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ ہی سین تھا ریسٹورنٹس کی لائین میں پیدل چلنے والی دعا منگی اور اس کے ساتھ چلنے والے حارث سومرو کے واقعے کا۔ حارث گولی لگنے سے شدید زخمی ہے دعا کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں کہ کہاں ہے؟ دو روز بیت چکے ہیں پولیس کے بقول کہ وہ ملزمان کو تلاش کر رہی ہے۔کیا یہ محض اغوا ہے۔ دوستی دشمنی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گھنائونا کھیل ہے جو اوباش امیرزادوں نے کھیلا ہے؟کیا آئی جی سندھ کی روزانہ یہ کہنا کہ کراچی میں جرائم کی شرح کم ہو رہی ہے کے پس پردہ دعا منگی کے اغوا کو جرائم کی کس شرح میں شمار کیا جائے ۔ امید کرتے ہیں کہ کلیم امام اور غلام نبی میمن کو وزیر اعلی ہائوس بلا کر اس تشویش کی تپش کو آپ محسوس کریں گے۔ امید کرتے ہیں دعاوی بازیابی میں سر توڑ کوشش کی جائے گی۔ ورنہ کراچی میں امن و استحکام کے سر دعوؤں کی کلی کھل جائے گی۔‘اسی طرح سوشل میڈیا پر لڑکی کے لباس کو دیکھ کر جو تبصرے ہوئے وہ معاشرے کی ایک دوسری تصویر دکھا رہے ہیں۔’’آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ اسے اغواء کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے اپنی مرضی سے گئی ہو۔ ورنہ ایسے کپڑے پہن کر اس وقت کون لڑکی باہر آتی ہے‘‘ ایک صاحب لکھتے ہیں کہ،’’ایسی ننگی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ بہت اچھے لڑکو.جب آدھی رات کو ڈی ایچ اے کی برگر فیمینسٹ بچی اپنا جسم دکھاتے ہوئے، چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گندے کام کررہی ہو گی تو یہ تو ہو گا۔‘‘ ایک اور چبھتا ہوا تبصرہ یہ بھی تھا کہ ،’’ دعا جب رات کے وقت اپنے بوئے فرینڈ کے ساتھ باہر گھوم رہی تھی۔ اس کے گھر والے سکون سے گھر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنی بچیوں کو بے لگام چھوڑتے ہیں۔ان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘‘ ابھی تک اس کیس کی گتھی نہیں سلجھی لیکن سوشل میڈیا پر سماجی رویوں اور سوچ کی عکاسی غور و فکر کرنے اور سماجی اصلاح کی ضرورت و اہمیت اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے۔

حصہ