بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر

315

’’بندر روڈ سے کیماڑی
میری چلی رے گھوڑا گاڑی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر‘‘

یہ گانا سن کر میرے ذہن میں آتا ہے کہ اُس دور میں لوگوں کے چلنے کے لیے چوڑے چوڑے فٹ پاتھ ہوا کرتے ہوں گے، اور سڑکیں صرف گاڑیوں کے لیے ہی مخصوص ہوا کرتی ہوں گی۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا اپنے بڑوں سے یہی سنتا آیا ہوں کہ ایک زمانہ تھا جب کراچی صاف ستھرا شہر ہوا کرتا تھا، روشنیوں کے اس شہر کی بات ہی نرالی تھی، کچرا نام کی کوئی چیز تھی اور نہ ہی گٹر ابلا کرتے تھے، رات میں ٹریفک کی آمد و رفت کم ہوتے ہی پانی کے ٹینکر سڑکوں کی دھلائی کرتے دکھائی دیتے۔ جن لوگوں نے یہ مناظر دیکھ رکھے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ روشنیوں کی وجہ سے اس شہر کی چمکتی سڑکیں ایک الگ ہی منظر پیش کرتی تھیں۔ سڑکوں کے کنارے لگائے گئے درخت شہر کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگاتے، جس کی وجہ سے پورا شہر ہی سرسبز و شاداب دکھائی دیتا تھا۔ یہاں کے رہنے والوں کا معمول تھا کہ وہ شہر کی فٹ پاتھوں اور روشنیوں سے چمکتی سڑکوں پر بلا خوف وخطر چہل قدمی کیا کرتے اور رات گئے اپنے گھروں کو لوٹا کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ ملک کے طول و عرض سے لوگ اس شہر کی رونقیں دیکھنے آیا کرتے۔ ہمارے بھی کئی رشتے دار جون، جولائی کی چھٹیاں گزارنے اُس وقت کراچی آیا کرتے تھے۔ اُس زمانے میں کشادہ سڑکوں اور خوبصورت گلیوں کا یہ شہر اپنی مثال آپ تھا۔
پھر رفتہ رفتہ وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا چلا گیا، محبتیں نفرتوں میں بدلنے لگیں اور لسانیت نے پورے شہر کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ گولی اور گالی کا وہ کلچر متعارف کرایا گیا جس نے شہر کی رونقوں کو ماند کرڈالا۔ قبضہ مافیا سرگرم ہوا اور شہر کے چپے چپے پر قبضے ہونے لگے۔ نہ کھیل کا میدان بچا اور نہ ہی کوئی گرین بیلٹ۔ رفاہی پلاٹ ہو یا گزرگاہیں، ہر جگہ ناجائز تعمیرات کی گئیں، یہاں تک کہ فٹ پاتھ بھی اس قبضہ گروپ سے محفوظ نہ رہے۔ لوکل گورنمنٹ اور دکان داروں کی ملی بھگت سے فٹ پاتھوں پر پتھارے بازار قائم ہونے لگے۔ پھر ان بازاروں نے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔ اس طرح نہ صرف محکمہ بلدیہ کے ملازمین مال کمانے لگے بلکہ علاقہ پولیس کی بھی چاندی ہوگئی۔ یعنی ہر محکمے نے اپنی اصل ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے اپنے اپنے حصے کی خوب وصولی کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کراچی کی ہر مصروف شاہراہ کے ساتھ بنی فٹ پاتھ پر قبضہ مافیا کا کنٹرول ہے۔
ویسے فٹ پاتھ پر کیے جانے والے کاروبار ایک لحاظ سے تو خاصے منافع بخش ہوتے ہیں، یعنی انتظامیہ کو اس کا حصہ ادا کرکے اچھی خاصی بڑی جگہ حاصل کرکے کسی خوف کے بغیر مزے سے کاروبار کیا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک سڑک کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے فرش ان کی ملکیت ہوتے ہیں۔ عوام کا کیا، اگر چلنا ہو تو سڑک پر چلیں، کسی گاڑی کے نیچے آ کر مر جائیں، ان کی بلا سے۔
یہ قبضہ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ متعلقہ محکمے بھی ان کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اور بے بس کیوں نہ ہوں؟ جب مقرر کردہ حصہ وقت ِمقررہ پر مل جاتا ہو تو کس طرح اس مافیا کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے! یہاں میں یہ مثال دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ ’’منہ کھائے آنکھ شرمائے‘‘۔
کراچی ایک طرف اگر فٹ پاتھ مافیا کے کنٹرول میں ہے تو دوسری طرف یہ شہر کچرے کے ڈھیروں سے اٹا پڑا ہے، ہر سڑک کے کنارے آپ کو کچرے کے پہاڑ نظر آئیں گے، اس کے پیچھے بھی ٹھیلے والوں اور پتھارے داروں کا ہی کردار نظر آتا ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کے کاروبار سے منسلک یہ مافیا بھی کراچی کی فٹ پاتھوں پر قبضے سمیت شہر کو کچرے کا ڈھیر بنانے میں مصروف ہے۔ ان کی وجہ سے نہ صرف عوام انتہائی اذیت کا شکار ہیں بلکہ یہاں کی سڑکیں بھی تنگ ہوتی جارہی ہیں، جس کے باعث ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے۔ لوگوں کو گھنٹوں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بجائے اس کے کہ انتظامیہ اس قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کرے، الٹا شہریوں کو ہی الزام دھرتی نظر آتی ہے۔ کراچی کا سروے کرکے دیکھ لیجیے، آپ کو کوئی عمارت ایسی نہیں ملے گی جہاں کچرے کے انبار نہ ہوں۔ اسپتال، اسکول، کالج اور رہائشی پلازہ… ہر جگہ کچرے کے پہاڑ نظر آئیں گے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس شہر کی پہچان روشیاں ہوا کرتی تھیں وہاں اب اندھیروں کا راج ہے۔ جہاں سڑکوں کی دھلائی وصفائی ہوتی تھی وہاں گندگی کے ڈھیر ہیں۔ کراچی کے دل صدر کو چاروں اطراف سے جاتی سڑکیں چیخ چیخ کر اس قبضہ مافیا اورکچرے کے ڈھیروں سے نجات کی دہائیاں دیتی رہتی ہیں۔ یہاں قانون ہے نہ انتظامیہ، ہر محکمے کو اس کا پورا حصہ پہنچ جاتا ہے، لہٰذا ان کے نزدیک ان کی ذمہ داری حصہ وصولی تک ہی محدود ہے۔ ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ شام ڈھلتے ہی وصولی کرلی جائے۔ ایسے ہی کرداروں کی وجہ سے کراچی نہ صرف قبضہ مافیا کے شکنجے میں ہے بلکہ دنیا بھر کے میڈیا کی زینت بھی بنا ہوا ہے۔ یہاں کے فٹ پاتھوں پر قبضہ اور کچرے کے انبار عالمی شہرت اختیار کرچکے ہیں، آئے دن عالمی میڈیا کراچی شہر کی غلاظت کو سرخیوں میں جگہ دیتا ہے، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اس صورت حال پر کئی رپورٹیں بھی چھاپ چکے ہیں۔ اس صورتِ حال پر ساری دنیا کو فکر لاحق ہے، اگر فکر نہیں ہے تو یہاں کے حکمرانوں کو، جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔
کراچی کی سڑکوں سے کہیں زیادہ گندگی یہاں کی مضافاتی بستیوں میں ہے جہاں زیادہ تر غریب عوام رہتے ہیں۔ یہاں کی صورتِ حال اس وجہ سے بھی انتہائی خطرناک ہے کہ گندگی کی وجہ سے یہاں بڑی تیزی کے ساتھ ہیپاٹائٹس سی اور ڈائیریا جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق کراچی کی کچی آبادیاں بنیادی سہولیات اور صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے بیماریوں کا گڑھ بن چکی ہیں۔
یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ پچھلے دنوں میرا لاہور جانا ہوا، اسٹیشن سے رخصت ہوتے ہی لاہور کی سڑکوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ صفائی کے بہترین انتظامات دیکھنے کو ملے۔ سڑکوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر موسم کی مناسبت سے کی گئی شجرکاری انتہائی خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔ صبح صادق کے وقت سڑکوں پر ٹینکروں کو پانی کا چھڑکاؤ کرتے دیکھ کر مجھے کراچی کے وہ ایام یاد آنے لگے جن کا تذکرہ کرکے ہمارے بزرگ آہیں بھرتے رہتے ہیں۔ میں یہاں لاہور کا کراچی سے موازنہ نہیں کررہا البتہ حسد ضرور کررہا ہوں کیونکہ پہلے میرا شہر جس طرح ہوا کرتا تھا آج لاہور ویسا ہے۔ جبکہ لاہور کی صورت حال دیکھ کر مجھے غصہ بھی آرہا تھا، اس لیے کہ جس شہر (کراچی) کو مزید ترقی کرنا تھی وہ حکمرانوں کی اَنا کی وجہ سے کھنڈر بنتا جارہا ہے۔ ملک کا کوئی شہر ترقی کرے یہ خوشی کی بات ہے، لیکن میرا غم یہ تھا کہ تیزی سے ترقی کرتے شہر کو نااہل حکمرانوں نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ اگر کراچی شہر کی بربادی کی داستان لکھی جائے تو برسوں لگ جائیں گے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ایک نئی داستان لکھنا پڑے گی۔ یہاں کے حکمرانوں کی طرزِ حکمرانی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں بھی اس شہر کو مسائل سے نجات نہیں مل سکتی۔ مجھے کراچی کی گلیوں، محلوں اور پارکوں پر ہونے والے قبضوں سے نجات دلانے والا کوئی ایسا محکمہ نظر نہیں آتا جو پوری دیانت داری سے شہر قائدکو گندگی سمیت اس مافیا سے نجات دلاسکے۔
یہ تو میری رائے ہے، لیکن احمد بھائی میری باتوں پر یوں فرماتے ہیں:
’’تم کہہ رہے ہو کہ کراچی کو پرانی حیثیت میں لایا جائے! بھائی آج کراچی کی آبادی 2کروڑ سے بھی زیادہ ہے، تو یہ ایک عجیب و غریب منطق ہے۔ کیوں کہ 40سال کے دوران قائم ہونے والی عمارتوں کو کیسے گرایا جا سکتا ہے! انسدادِ تجاوزات مہم سے نہ صرف کراچی کے شہریوں بلکہ ان کی ثقافت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے، خاص طور پر روز کمانے والے غریبوں کا تو بہت برا حال ہے۔ بے شک یہاں کے عوام عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے دیے گئے حکم پر عدلیہ کے مشکور ہیں، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اس حکم کی روشنی میں ہی بلدیہ کراچی نے انہدامی کارروائیوں کا آغاز بھی کررکھا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ شاید ہی کسی شہر میں اتنی بے ضابطگیاں اور بے ترتیبی پائی جاتی ہو جتنی یہاں ہے۔ میں تو ایسے ریڑھی بانوں کی بات کررہا ہوں جو روز کما کر اپنے بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست ہیں، وہ آج فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ عدالت عظمیٰ اس مسئلے پر بھی توجہ فرمائے، اور حکومتِ سندھ خاص طور پر شہری حکومت ایسے بے روزگار ہوجانے والوں کے لیے جگہوں کا بندوبست کرنے کے احکامات صادر فرمائے، تاکہ ریڑھی لگانے والے بھی اپنے بچوں کے لیے روزگار کما سکیں۔‘‘
یہ احمد بھائی کی ذاتی رائے ہے جبکہ میرا مقدمہ تو کراچی قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کرنا ہے میرے نزدیک اس قبضہ مافیا اور کچرے کے ڈھیروں سے نجات کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کراچی کے شہری بلدیاتی اداروں کے رحم وکرم پر رہنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت محلہ کمیٹیاں بنائیں، اور ان کمیٹیوں کے ذریعے نظام میں بہتری لانے کے لیے دبائو بڑھائیں، تاکہ خاص طور پر حکومت کراچی میں پیدا ہونے والے کچرے کو ایسی صنعتوں کے ذریعے ٹھکانے لگانے کا معاہدہ کرے جو کچرے سے بجلی بناتی ہوں، اس طرح کچرا بھی ٹھکانے لگے گا اور شہریوں کو لوڈشیڈنگ جیسے عذاب سے نجات بھی مل سکے گی۔ دوسری طرف عوام کو ہی آگے بڑھ کر قبضہ مافیا سے اس شہر کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو آزاد کرانا ہوگا، حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ ایسے قوانین بنانے ہوں گے جن کی خلاف ورزی کی صورت میں غیر قانونی کام کرنے والوں کو سزا کا خوف ہو، اور مجرم یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگر کسی نے کوئی غیر قانونی عمل یا کام کیا تو یقیناً سزا سے نہیں بچ سکے گا۔

حصہ