ابن انشاء (1927ء تا 1978ء)۔

134

یاسمین سلطانہ فاروقی

ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ پنجاب یونیورسٹی نے ایک مستقل شعبۂ حماقت قائم کردیا ہے تاکہ جو لوگ اس مضمون میں خصوصیت حاصل کرنا چاہیں وہ اس میں باقاعدہ فارغ التحصیل ہوں۔ ڈگری لیں اور آگے طلبہ کو فیض پہنچائیں۔

’میرا پیغام حماقت ہے جہاں تک پہنچے‘

آگے لکھتے ہیں:۔
مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ حماقت نہ حجامت خبر کا تعلق شعبۂ صحافت سے ہے۔ کاتب نے صحافت کو حماقت کیوں لکھا؟ ممکن ہے انھیں وقت پر تنخواہ نہ ملی ہو لیکن اتنی سی بات پر گھر کے بھیدی کا پوری لنکا ڈھا دینا کوئی اچھی بات نہیں۔ صحافت سے وابستگی اگر حماقت ہے تو اس راز کو فری میسنوں کی طرح اپنے سینے میں رکھنا چاہیے۔
ایک اور مثال ملاحظہ ہو اپنے کالم ’’گویا دبستاں کھل گئے‘‘:
اسکول کھولنے کے اس عاجلانہ اقدام سے موزے، بنیان، سگریٹ بیڑی، چپل، جوتے، حلیم اور دہی بڑوں کی صنعتوں پہ کاری ضرب لگے گی جسے ہم ایک ناقابل تلافی قومی نقصان سمجھتے ہیں۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ پچھلے دو تین ماہ میں یہ کاروبار کرنے والوں کی ذہنی اور تعلیمی سطح کسی حد تک بلند ہوگئی تھی۔ دیکھ کر جی خوش ہوتا تھا۔ پہلے یہ کاروبار عموماً ان پڑھ اور نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں تھے۔ اسکول بند ہونے اور تنخواہیں نہ ملنے کے بعد ہمارے فاضل اساتذہ جوق در جوق ادھر متوجہ ہوئے تو کایا ہی پلٹ گئی۔ ہم ایک روزناظم آباد کی پہلی چورنگی کی فٹ پاتھ مارکیٹ پر گئے تو یوں لگا گویا دبستاں کھل گیا۔ یہ مانٹی سوری سویٹ میٹ مارٹ ہے، ماسٹر جی جلیبیاں تل رہے ہیں اور تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا گنگنا رہے ہیں۔ یہ ذواضعاف اقل پان شاپ ہے۔ ایک شخص ریڑھی پر مٹکا رکھے کڑچھا پھیر رہا ہے اور صدا لگارہا ہے، لے لو الف بے جیم، بی اے۔ بی ٹی کی حلیم۔ جا بجا پھلوں کے ریڑھوں پر اور جوتے گانٹھنے کے کھوکھوں میں فلمسٹاروں کے متبادل کیلنڈروں کی جگہ جغرافیہ طبعی نقشے اور تاریخ انگلستان کے چارٹ لٹکے ہیں۔ کتبے بھی لگے ہیں۔ ’علم بڑی دولت ہے‘، ’کتاب بہترین ساتھی ہے۔‘۳۲
ایک اور مثال ملاحظہ ہو۔ ’’غیرت اور خون کے موضوع پہ ۱۲۹ویں پنجابی فلم‘‘ اس میں انشا جی کا انداز،محاوروں، تشبیہوں کا استعمال اور زبان کی روانی و فصاحت ملاحظہ ہو:
ہماری پوچھیے تو ہم پر سب سے کاری ثقافتی حملہ امرتسرسے نہیں ہو رہا لاہور سے ہو رہا ہے پچھلے دنوں لاہور میں جو فلم کنونشن ہوا، اس میں ہمارے فلمسازوں نے اپنے ایثار و قربانی کے مصائب کچھ اس طور بیان کیے کہ مارے رقت کے واپڈا ہال میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ سنسربورڈ کے اتنے لتّے لیے کہ سنسربورڈ کے کئی اراکین کو ہم نے دوکانوں پر سنکھیا کا بھاؤ پوچھتے یا ریلوے کے کانٹے والے سے آنے والی تازہ ترین گاڑی کا وقت دریافت کرتے دیکھا۔ ان فلم والوں نے جتنا جھانکا بس دوسرں کے گریبان میں جھانکا۔ اپنے گریبانوں میں نہ خود جھانکا نہ کسی کو جھانکنے دیا۔ اپنی پاکیٔ داماں کی حکایت کو اتنا نہ بڑھایا کہ نہ کہیں اسمگلنگ کا ذکر آیا نہ چرس اور چانڈو کا، نہ چربہ سازوں کے اس اقوال زریں کا کہ فلم حاصل کرو خواہ تمھیں اس کے لیے کابل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
ان کے مزاح کا ایک اور شہہ پارہ دیکھیے۔ ’’قصہ افتتاح کی چند تقریبوں کا‘‘:
اخبار خواتین کے تیسرے شمارے سے معلوم کرکے خوشی ہوئی کہ فرانس میں بالوں کے فیشن کی ایک نمائش کا افتتاح چوٹی کاٹ کر کیا گیا۔ چوٹی کاٹنا کوئی نئی بات نہیں ہے، کئی سال ہوئے لاہور میں ایک صاحب ہر وقت قینچی لیے بازار میں کھڑے رہتے تھے جو بی بی ان کو بے پردہ نظر آتیں یا جن کا لباس ان کی پسند کے مطابق نہ ہوتا،اس کی چوٹی کاٹنے کو دوڑتے۔ لیکن فرانس کی اس نمائش میں شریک ہونے والوں کی چوٹیاں نہیں کاٹی گئیں بلکہ مختلف رنگوں کے بالوں کی ایک چوٹی گوندھ کر صدردروازے کے آرپار تان دی گئی تھی اسی کو کاٹا گیا اور کاٹنے والے کوئی مولانا نہیں تھے۔ ایک صاحبہ نے خود قینچی چلائی۔ ساتھ ساتھ انھوں نے تقریر دلپذیر سے بھی حاضرین کو نوازا۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ لوگ کبھی ان کی قینچی کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی زبان کی طرف۔ آخری دم تک فیصلہ نہ کرسکے کہ کون اس میں سے زیادہ چلتی ہے اور کس کی کاٹ زیادہ بہتر ہے۔
اپنے ملک اِس کے باسیوںاور اِس معاشرے پر جو طنز انشا جی نے کیے ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ مثلاً ان کا کالم دیکھیے۔ ’’ہمارا ملک‘‘:
ایران میں کون رہتا ہے؟ ایرانی قوم رہتی ہے۔ انگلستان میں انگریز قوم رہتی ہے۔ فرانس میں کون رہتا ہے؟ فرانس میں فرانسیسی قوم رہتی ہے۔ یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے۔ اس میں پاکستانی قوم رہتی ہوگی؟َ نہیں۔ اس میں پاکستانی قوم نہیں رہتی۔ اس میں سندھی قوم رہتی ہے۔ اس میں پنجابی قوم رہتی ہے۔ اس میں یہ قوم رہتی ہے اس میں وہ قوم رہتی ہے۔ لیکن پنجابی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں۔ سندھی تو ہندوستان میں بھی رہتے ہیں پھریہ الگ ملک کیوں بنایا تھا؟
غلطی ہوگئی معاف کردیجئے۔ آ ئندہ نہیں بنائیں گے۔
’’کراچی میں دو عیدیں‘‘ اس کالم میں ابن انشاء نے مولویوں اور مفتیوں کے خوب لتّے لیے ہیں۔ الفاظ کے ہیرپھیر اور بات سے بات نکال کر اپنے موقف کو خوش اسلوبی اور لطیف پیرایہ میں بیان کرنے پر انشا جی کو کمال دسترس تھی:
کراچی میں اب کے دو عیدیں ہوئیں اس پہ سبھی لکھنے والوں نے کچھ نہ کچھ لکھا۔ لیکن ہم کچھ نہیں لکھیں گے۔ کیوں کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے۔ بعض بزرگوں نے اتوار کو عید منانے والوں کی روک تھام کے لیے جو مسجدوں میں تالے ڈال دیے تھے، اس باب میں بھی ہم کچھ نہ کہیں گے کیوں کہ وہ بھی شرعی مسئلہ ہے جس کی توضیح ایک صاحب ارشاد و ہدایت نے ہم سے یوں کی ہے کہ ہمارا بس چلے تو سارا سال تالے ڈالے رکھیں تاکہ بدعتی لوگ مسجدوں میں نہ آسکیں۔ فساد نہ پھیلا سکیں ہر چند کہ ہم نے سن رکھا ہے۔ شرع میں شرم نہیں لیکن شرع کی اس قسم کی شرح دیکھ کر ہمیں تو آتی ہے۔ ہم اس مسئلے پہ اس لیے بھی کچھ نہ لکھیں گے کہ یہ ایک اقتصادی مسئلہ بھی ہے۔ اگر تالوں کا وسیع پیمانے پر استعمال نہ ہو تو تالے بنانے والے بھوکے مرجائیں۔ علی گڑھ تالے بنانے والوں کی انجمن نے تو علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کے اس فیصلے کو برملا سراہا ہے۔

حصہ