پارٹی فنڈنگ کا صندوق

257

جمہوری سیاست، کاروباری دنیا اور سفید پوش جرائم کا دھندا… ان تینوں کا آپس میں تعلق اتنا ہی پرانا ہے جتنا سیاسی پارٹیوں کا وجود اور ان کے اخراجات کے نام پر ’’پارٹی فنڈ‘‘ کا گھناؤنا گھن چکر۔ امیر ترین ممالک سے لے کر غریب اور قحط زدہ ممالک تک، سب اس جمہوری چکاچوند پر بیش بہا سرمایہ لٹاتے ہیں۔ پورے ملک میں پارٹیوں کے دفاتر قائم ہوتے ہیں جن کے مسلسل اخراجات ہوتے ہیں، لیڈرانِ کرام ملک بھر میں دورے کرتے ہیں، سارا سال چھوٹے موٹے جلسے، کارنر میٹنگیں، عید ملن پارٹیاں، افطاریاں وغیرہ ہوتی رہتی ہیں۔ بڑے بڑے جلسے بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اشتہارات، بل بورڈز، بینرز اور میڈیا میں مہم جوئی بھی چلتی رہتی ہے۔ جلوس نکالنا ہوتے ہیں، دھرنے دینا ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کی ٹیم کے اخراجات اٹھانا ہوتے ہیں، اور پھر بالآخر الیکشن کا دن آجاتا ہے۔ اس الیکشن سے تقریباً دو ماہ اور بعض ممالک میں تو چھ ماہ قبل الیکشن مہم کا آغاز ہوجاتا ہے۔
یہ مہم کسی بڑے عالمی اولمپکس سے کم نہیں ہوتی، اس پر جس قدر سرمایہ خرچ ہوتا ہے وہ شاید ہی دنیا کے کسی بڑے ایونٹ پر خرچ ہوتا ہو۔ یہ صرف الیکشن پر اٹھنے والا خرچہ ہے جو پانچ سال کے بعد ہوتے ہیں۔ باقی پارٹی اخراجات علیحدہ ہیں۔ امریکا میں اندازاً ہر الیکشن پر چھ ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ ان اخراجات میں وہ تمام اخراجات شامل نہیں ہیں جو چھوٹے چھوٹے گروپ آپس میں پارٹی کے لیے کرتے ہیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی جیسے بڑے ممالک کے اخراجات بھی امریکا سے کسی طور کم نہیں ہیں، یہاں تک کہ برازیل جیسا ترقی پذیر ملک بھی امریکا کے 25 ڈالر فی ووٹر کے مقابلے میں 20 ڈالر فی ووٹر الیکشن پر خرچ ضرور کرتا ہے۔
الیکشن کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک دو گروہوں میں تقسیم ہیں، ایک وہ جو اخراجات کی کوئی حد مقرر نہیں کرتے جیسے آسٹریلیا، ڈنمارک، ہالینڈ، ناروے، اسپین اور ترکی وغیرہ۔ جب کہ کینیڈا، جاپان، فرانس، چلی اور بیلجیئم وغیرہ نے اخراجات کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔ یہ حد مقرر کرنا بھی ایک مذاق ہے، کیوں کہ ہر ملک کی یہ تمام پارٹیاں اپنے زیر سایہ چند گروپ بنوا لیتی ہیں جنہیں ’’خیرخواہ گروپ‘‘ کہا جاتا ہے، وہ بہت سے اخراجات اٹھاتے رہتے ہیں، بالکل ویسے ہی، جیسے ہمارے ہاں سارے اخراجات اشتہارات کے نیچے ’’منجانب‘‘ لکھ کر حساب بے باق کردیا جاتا ہے اور امیدوار کہتا ہے کہ میرے تو وہی چند لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں، باقی خرچہ تو یار دوستوں نے کیا ہے۔ اخراجات پر کسی نہ کسی ملک میں تھوڑی بہت پابندی لاگو ہے، لیکن تمام جمہوری ممالک میں پارٹی فنڈنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ آپ جتنا، جس سے چاہیں اکٹھا کرلیں۔
پارٹی فنڈنگ وہ ہتھیار ہے جس سے پوری پارٹی کو ہانکا جاتا ہے۔ پوری کی پوری سیاسی پارٹی کسی ایک بڑے کاروباری گروہ یا کئی کاروباری گروہوں کی ملکیت بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ ہے وہ اساس اور بنیاد جس پر دنیا کے ہر جمہوری نظام کی عمارت کھڑی ہے۔ دنیا کا کوئی جمہوری نظام ایسا نہیں جس میں سیاسی پارٹیاں نہ ہوں۔ آج آپ غیر جماعتی جمہوری الیکشنوں کی بات کریں آپ کو آمریت یا ڈکٹیٹر شپ کا ایجنٹ قرار دے دیا جائے گا۔ ایک سیاسی پارٹی اپنی تنظیم کی وجہ سے ایک ایسا گروہ بن جاتی ہے جو منظم ہوتی ہے اور اسے اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرمائے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضرورت جتنی زیادہ ہوگی اتنے ہی بڑے ڈونر کی بھی ضرورت پڑے گی۔ یوں دو ایجنڈوں کا ایک خفیہ اور غیر مقدس رشتہ قائم ہوجاتا ہے، ایک کاروباری دنیا یعنی کارپوریٹ کلچر کا ایجنڈا، اور دوسرا کسی بھی سیاسی پارٹی کا ایجنڈا۔ ان دونوں میں غالب اس کا ایجنڈا اور مفاد آتا ہے جو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ تمام فیصلے اس کی مرضی ہی نہیں بلکہ ہدایت و حکم کے زیراثر کیے جاتے ہیں، اور یوں ہر بڑی سے بڑی سیاسی پارٹی کا ایجنڈا کاروباری دنیا کے سامنے سرِتسلیم خم کرلیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا ہر بڑا کاروباری ادارہ اپنے ملک ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک کی بھی تمام سیاسی پارٹیوں کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کو ’’پارٹی فنڈنگ‘‘ کہتے ہیں۔
اپنے ملک کی پارٹیوں کو اس لیے فنڈ دیا جاتا ہے تاکہ اسمبلیوں میں اپنی مرضی کے قوانین پاس کروائے جائیں اور اپنی سہولت کے مطابق ٹیکسوں کا نظام وضع کروایا جائے۔ جب کہ دوسرے ممالک میں سے ایسے ممالک کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں ان کے مال کی کھپت ہوتی ہے۔ وہاں بھی قانون سازی پر اثرانداز ہونے کے لیے فنڈنگ ہوتی ہے۔ اس سارے نظام کو ایک مکارانہ طریقے سے وضع کیا گیا ہے۔ اس کا آغاز جرمنی میں ہوا۔ وہاں بڑے بڑے کاروباری اداروں نے ایک ٹرسٹ بنالیا جس کا مقصد الیکشن کے لیے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر فنڈ فراہم کرنا تھا۔
1966ء میں اس ماڈل کو بھارت میں ٹاٹا گروپ نے شروع کیا، اور پھر 2009ء کے الیکشن میں 36 بڑے کارپوریٹ گروپوں نے ایک کروڑ فی گروپ جمع کیا اور اس میں سے تمام سیاسی پارٹیوں کو حصہ بہ قدرِ جثہ عطا کیا گیا، بلکہ بعض کو جثے سے بھی زیادہ نوازا گیا۔ ایسے ٹرسٹ کا کمال یہ ہے کہ یہاں سرمایہ فراہم کرنے والے کا نام کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ ٹرسٹ اپنے اکاؤنٹ آڈٹ کرواتا ہے اور پارٹیوں کو فنڈ فراہم کرکے ایک سمت خاموش ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ ایسا ماڈل تھا جس کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی اور یوں امریکا، برطانیہ اور یورپ کے ممالک نے بھی اسی طریق کار کو اپنالیا۔ اس وقت امریکا میں 527 ایسے کاروباری ادارے ہیں جو الیکشن مہم جوئی کے لیے سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک گروپ بنایا ہوا ہے جسے پولیٹکل ایکشن کمیٹی کہتے ہیں۔ ایسے گروپ اُس وقت بنانے شروع کیے گئے جب کانگریس میں ارکان نے ایک دوسرے کو یہ طعنے دینے شروع کیے کہ تم فلاں کاروباری شخصیت سے پیسے لیتے ہو اور تم فلاں سے۔ یوں جولائی 1943ء میں فلپ مری نے پہلا پولیٹکل ایکشن گروپ بنایا۔ اس گروپ نے الیکشن میں سرمایہ لگایا اور پھر کانگریس سے قوانین منظور کروائے کہ ڈونر کے نام ظاہر نہیں کیے جا سکیں گے۔
دنیا بھر کی جمہوریتوں میں پارٹیوں کو فنڈ فراہم کرنے کے لیے اسی طرح کی تنظیمیں بنانے اور گروپ تشکیل دینے کے لیے قوانین بنائے گئے، جن کے تحت ایسی کسی بھی قسم کی رقوم پر ٹیکسوں کی چھوٹ دی جانے لگی۔ اس تمام طریق کار کو باقاعدہ ایک کاروباری زبان دی گئی۔ پارٹی فنڈنگ کو سرمایہ کاری (investment) کہا گیا۔ ووٹر کو صارف (consumer) اور سیاسی رہنماؤں کو Public Service Provider یعنی عوامی خدمات فراہم کرنے والے کہا گیا۔ ان ٹرسٹوں کا کمال یہ ہے کہ ان کی وجہ سے تمام سیاسی پارٹیوں کو سرمائے کی فراہمی میں ایک تسلسل قائم رہتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی کمی نہیں آنے دی جاتی۔ ٹرسٹ، یہ دنیا بھر میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے این جی اوز کو بھی سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ این جی اوز جو ملک میں جمہوریت جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں، سیاسی تربیت کرواتی ہیں۔ سیمینار، ورکشاپ اور جلوسوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ یہ ہے وہ سرمایہ کاری جس کے گرد دنیا کے ہر جمہوری نظام کا پہیہ گھومتا ہے۔ ہر سیاسی پارٹی ان ڈونرز کے مفادات کا احترام کرتی ہے۔ ایسے ٹرسٹ ملکوں کے اندر بھی بنائے جاتے ہیں اور بیرونِ ملک عالمی سطح پر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت الیکشن آجائیں، بڑے جلسے کرنا ہوں، دھرنے کرنے ہوں، تحریک چلانی ہو، لیڈروں کو جلاوطنی کاٹنی ہو، کبھی بھی سرمائے کی کمی نہیں ہوتی۔ اسی سرمایہ کاری سے پوری کی پوری پارٹیاں یرغمال بنائی جاتی ہیں، اور یوں پوری کی پوری پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن مل کر بھی ایسا ٹیکس نافذ نہیں کرسکتیں جو ڈونرز کے مفاد کے خلاف ہو۔ آج اگر پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کے اخراجات کا سرسری تخمینہ ہی لگایا جائے تو شاید کوئی بھی سیاسی پارٹی ان اخراجات کے جائز ذرائع آمدن نہ بتا سکے۔ پارٹی فنڈنگ وہ مقدس صندوق ہے جسے کوئی بھی کھولنے نہ دے گا۔ اگر اس صندوق کو کھولا گیا تو اس کے اندر چھپے ایسے سانپ اور بچھو نکلیں گے جو اپنے ہی مالکوں کو کاٹ کھائیں گے۔

حصہ