وہ نفرتوں کے عذاب سہہ کر محبتوں کے گلاب بانٹیں

121

قدسیہ ملک
پچھلے دنوں کسی کام کے سلسلے میں کسی آفس میں جانا پڑا۔ حُسنِ اتفاق کہ اُس وقت وہاں آفس میں ایک جاننے والی متمول گھرانے کی خاتون اپنے ڈرائیور اور آفس کے دو اور افرادکے ساتھ موجود تھیں۔ گھر چھوڑنے کی آفر کی جو ہم نے فوراً قبول کرلی۔ طے یہ پایا کہ چونکہ آفس سے اُن کا گھر نزدیک ہے اس لیے ڈرائیور پہلے انہیں چھوڑے گا پھر باری باری گاڑی کے تمام افراد کو ان کے گھروں پر چھوڑا جائے گا۔ خیر ہم اُن کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ وہ پہلے تو ہمیں خاصی فریش اور قوی خاتون دکھائی دے رہی تھیں، لیکن جیسے ہی اُن کے نزدیک بیٹھنے اور اُن سے بات چیت کرنے کا موقع ملا تو پتا چلا موصوفہ بڑی پریشان ہیں۔ بیچاری بار بار اپنے گھر فون کرتیں اور اپنی بہو سے کہتیں ’’ابھی سونا مت، میں راستے میں ہوں‘‘۔ تھوڑی دیر بعد ہم سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں ’’لوگ سمجھتے ہیں کہ امیروں کو کوئی دکھ ہی نہیں ہوتا۔ تمہیں بتاؤں ہمارے کتنے مسئلے ہیں۔ ابھی ایک ہفتے سے کام والی نہیں آرہی، جو ہمارے گھر کی نوکرانی ہے اُس کا بیٹا بیمار ہے۔ دو دن سے وہ گھر میں رہتے ہوئے بھی کوارٹر سے نہیں نکلی۔ سارے کام خود کرنے پڑرہے ہیں۔ بہو کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ اسے اتنے کام کرنے کا تجربہ بھی نہیں ہے۔ آفس میں ملازمین کے الگ مسائل ہیں۔ ہر وقت کوئی گروپ احتجاج کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے‘‘۔ بقول اُن کے ’’ہر چھ ماہ بعد ملازمین کی تنخواہ بڑھائی جاتی ہے لیکن یہ غریب لوگ خوش نہیں ہوتے۔آئے دن احتجاج کرتے ہیں۔ غریب لوگوں کے نزدیک تو ہم بہت امیر ہیں، لیکن قبرکا حال مُردہ جانتا ہے‘‘۔ پورے آدھے گھنٹے کے سفر میں انہوں نے ایک بھی محبت والی بات نہیں کی۔ ہم حیرت سے ان کے مسائل اور مشکلات پر ہی سر دھن رہے تھے۔ غرضیکہ پورے راستے وہ ہمیں اپنے دکھ اور درد سے آگاہ کرتی رہیں۔ بالآخر ان کا گھر آگیا، جس پر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے آپ کو اُن سے بہت بہتر پایا۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں آیا ہوا ہر انسان کسی نہ کسی کمی، مشکل، پریشانی، آزمائش اور دکھ کا شکار ہے۔ لیکن اسی دنیا میں رہتے ہوئے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانا، محبتیں بانٹنا، اپنے اچھے خیالات سے لوگوں کو ہم آہنگ کرنا، لوگوں میں خوشیاں بانٹنا، ان کی تکلیفوں کو رفع کرنا ایک داعی، مومن، مسلمان اور تمام دنیاکی خدا ترس اور انسانیت کو سُکھ دینے والی غیر مسلم/ مسلم مشنری افراد کا مشن ہوتا ہے۔
لوگوں میں محبتیں یا خوشیاں بانٹنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا کہہ دینا۔ اس کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنا آپ مارنا ہوتا ہے۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں کسی کو برا کہہ دوں، کسی کے منہ پر اس کی برائیاں کردوں،کسی کی دکھتی رگ کو مزید دکھی کردوں، کسی کے زخم پر ہلکا سا نمک چھڑک دوں،کسی کے دکھ کوتازہ کردوں،کسی کو نیچا دکھادوں، کسی کے رستے زخم کو مزید گہرا کردوں۔ کیسا مزا آتا ہے ناں! یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔کیا آپ جانتے ہیں لوگ آسودگی میں رہتے ہوئے بھی ہمیشہ غمگین کیوں رہتے ہیں؟کیونکہ انہیں شکر گزاری کی عادت نہیں ہوتی۔ اور جب وہ خود خوش نہیں رہتے تو چاہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی شخص خوش نہ رہے۔ ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں۔ کہیں مسکراہٹیں بکھرتی دیکھ کر فوری انہیں کوئی غم کی بات یاد آجاتی ہے۔
ایک حدیث جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن کا چہرہ بشاش اور دل غمگین ہوتا ہے۔ اس کا مطلب تو یہی ہے ناں کہ ہم لوگوں میں رہ کر شرعی حدود کے ساتھ اُن میں خوشیاں بانٹنے والے ہوں نہ کہ ہر ایک کو نیچا دکھاتے رہیں، تاکہ ہمارا آپ اونچا رہے۔
چلیں میں آپ کو ایک واقعہ سناتی ہوں جو ہم میں سے اکثر لوگوں کو یاد ہوگا۔ استاد نے کمرۂ جماعت میں داخل ہوکر تختۂ سیاہ پر چاک سے ایک لکیر کھینچ دی اور طلبہ سے کہا: چھوئے بغیر اس لکیر کو چھوٹا کرکے دکھاؤ۔ طالب علموں نے بہت سوچا کہ بھلا لکیر کو مٹائے بغیر، کاٹے بغیر اسے چھوٹا کس طرح کیا جاسکتا ہے! جب تمام ذہین طلبہ نے ہار مان لی تو پچھلی نشست سے ایک طالب علم اٹھا، اُس نے لکیر کے نیچے اس لکیر سے تھوڑی بڑی ایک لکیر کھینچ دی۔ وہ لکیر خودبخود چھوٹی ہوگئی۔ استاد نے بڑھ کر طالب علم کا ماتھا چوم لیا۔
اگر کوئی آپ کو پسند ہے تو اس سے حسد کرنے، نیچا دکھانے، نفرت کرنے کے بجائے اپنے کردار کو اُس سے ذرا اور اونچا کرلیں۔ یقین جانیے آپ رب کے ساتھ ساتھ لوگوں کی نظروں میں بھی معزز ہوجائیں گے۔ ورنہ لوگ آپ کے سامنے تو آپ کے ڈر سے آپ کی بہت تعریف کریں گے لیکن آپ کے پیچھے دعا کریں گے کہ آپ سے کبھی واسطہ نہ پڑے۔

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر

لوگوں سے محبت کرنا سیکھیے۔ اگر آپ 50 یا 60، 70سال کے بھی ہیں تو اب بھی آپ کا وقت ختم نہیں ہوا۔ آپ کی مہلتِ عمل ابھی باقی ہے۔ جب تک سانس ہے لوگوں کو معاف کرنا سیکھیے۔ محبت کیجیے۔ لوگوسے کٹ کر آپ نہیں رہ سکتے۔ اللہ آپ کو معاف نہیں کرے گا جب تک لوگ معاف نہ کریں۔ اللہ کریم آپ کے گناہوں کو معاف کرے گا۔
محبتوں کے وہ باب سارے وہ چاہتوں کے گلاب سارے
سنبھال رکھنا، خیال رکھنا
وفا میں ساری عنایتوں کا وہ ٹوٹے دل کی شکایتوں کا
حساب رکھنا، خیال رکھنا
گلاب رت کے وہ سارے قصے کبھی کسی کو سنانا چاہو
تو لفظوں کو بے مثال رکھنا، خیال رکھنا
کبھی جو ہم تم کو یاد آئیں تو ہم سے رشتہ بحال رکھنا
یہ دوستی لازوال رکھنا، خیال رکھنا
آپ بھلے کتنے ہی برے حالات میں ہوں، اچھے اخلاق کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔ اپنے غصے و چڑچڑے پن پر قابو رکھ کر تحمل و پیار سے سب کے ساتھ پیش آئیں۔ جب مشکلات سے باہر آ چکے ہوں تو پھر خود کو دوسروں کی مشکلیں دور کرنے کے لیے وقف ضرور کریں، جتنا آسانی و ہمت سے کرسکیں۔ کیوں کہ جب آپ دوسروں کے کام سنوارتے ہیں تو اللہ پاک خود آپ کے کام سنوارنے میں لگ جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو آزما کر دیکھ لیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں ہم خود خوش نہیں تو دوسروں کو کیسے خوشیاں دے سکتے ہیں! بقول شاعر

تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری
تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے

اس شعر کے مصداق وہ ہر وقت شکوے شکایت اور پریشانیوں میں گھرے رہتے ہیں۔ آپ، لوگوں کو معاف کیجیے، یقین جانیے آپ خود خوش رہنا شروع ہوجائیں گے۔ اس سے آپ کو جو اندرونی خوشی ملے گی وہ بیان سے باہر ہے۔ یہ صفت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ اگر میں اور آپ تھوڑی سی کوشش کریں تو اپنے سے چھوٹوں، اپنے ماتحتوں میں خوشیاں بانٹ سکتے ہیں۔
آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے آئینے میں اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں عفو و درگزر، رحم و کرم، محبت و شفقت اورپیار ہی پیار نظر آتاہے۔ آپؐ نے پوری زندگی کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔کسی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ 9برس تک آپؐ کی صحبت بارحمت میں رہیں۔ وہ ارشاد فرماتی ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ شریفہ کسی کو برا بھلا کہنے کی نہیں تھی، آپؐ برائی کے بدلے میں کسی کے ساتھ برائی نہیں کرتے بلکہ اسے معاف فرما دیتے تھے۔ آپؐ کی زبانِ مبارک سے کبھی بھی کوئی غلط الفاظ نہیں نکلے۔ آپؐ گناہوں کی باتوں سے ہمیشہ کوسوں دور رہے۔ آپؐ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ غلام، لونڈی، عورت، بچہ یا خادم، یہاں تک کہ کسی جانور کو بھی کبھی نہیں مارا، لیکن اگر کوئی حدود اللہ کی بے حرمتی کرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برداشت نہ کرتے اور اس کا انتقام لیتے۔‘‘ (مسلم)
فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن تمام دشمنوں کو معاف فرمادیا جنھوں نے چند ماہ نہیں متواتر 13سال تک مکہ میں آپؐ اور آپؐ کے صحابہ کرامؓ پر عرصۂ حیات تنگ کیے رکھا۔ طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی، ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، اور آپؐ کو اپنا محبوب وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ قریشِ مکہ جب فتح مکہ کے موقع پر پریشان کھڑے تھے تو آپ جانتے ہیں ناں کیا ہوا تھا!
’’اے قریش کے لوگو! تم سوچ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘
تمام لوگوں نے کہا: اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)!آپ سے ہم کو خیر اور بھلائی کی امید ہے، اس لیے کہ آپ ہمارے بہترین بھائی ہیں اور ہمارے شریف بھائی کے فرزندِ ارجمند ہیں۔
اس کے بعد نبیٔ رحمت، محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’آج تم لوگوں پر کوئی لعنت و ملامت نہیں، تم لوگ آزاد ہو۔‘‘
اس کے علاوہ بھی محبت، پیار، اخوت اور عفو ودرگزر کے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔
کعب ابن زہیرؓ کو معاف کردیا، زہر دینے والی عورت کو معاف کردیا، حاتم طائی کی صاحب زادی کو معاف کردیا، مسجد کے تقدس کو پامال کرنے والے کو معاف کردیا، چچا کے قاتل کو معاف کردیا، ہندہ کو معاف کردیا، طائف کے سردار عبد یالیل کے بیٹے کو معاف کردیا، ابوسفیان بن حرب کو معاف کردیا۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہیں جو ہمیں اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ملتی ہیں۔ ان تمام سنتوں پر عمل کرکے ہی ہم بہترین انسان بن سکتے ہیں۔
قرآن کریم بھی میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نرم مزاجی اور حسنِ اخلاق کی تعریف کرتاہے۔ قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ اگر آپؐ رحیم و کریم، شفیق و مہربان اور نرم خو نہ ہوتے تو یہ وحشی اور درشت مزاج عرب آپؐ سے قریب نہ ہوتے ارشادِ ربانی ہے:
’’اللہ تعالیٰ کی عنایت اور رحمت سے آپؐ ان کے لیے نرم ہیں، اگر آپؐ کج خلق اور سخت مزاج ہوتے تو یہ (لوگ جو آپؐ کے گرد جمع ہوئے ہیں) آپؐ کے پاس سے ہٹ جاتے۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’ تم میں سے ایک پیغمبر آیا جس پر تمہاری تکلیف بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی اور اچھائی کا خواہاں ہے اور ایمان والوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔‘‘
اسلامی تحریکوں کے ماننے والوں کو آج سب سے زیادہ ان ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سسکتی انسانیت کے لیے ہمیں اپنے اوپر اتنا اعتماد ہونا چاہیے کہ ہم ہی اس سسکتی انسانیت کو راہِ نجات دکھا سکتے ہیں۔ سنت کے مطابق اسلامی تحریک کے قائدین کے مزاج میں نرمی دوسروں کی نسبت سوگنا زیادہ ہونی چاہیے۔

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ میرِ کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

اردو ویب محفل میں فاخر رضا کہتے ہیں کہ میرے ابو نے مجھے ایک بات سکھائی تھی، وہ کہتے ہیں کہ کسی کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سامنے والے کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے لیے مفید ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی سے آپ کے دل میں خلش، پاؤں میں چبھے کانٹے کی طرح ہے، جب چلیں گے تکلیف ہوگی… علاج ہے پاؤں سے کانٹا نکال دینا، یعنی معاف کردینا۔ ہم کڑھ کڑھ کے جس کے لیے اپنی راتیں برباد کرتے ہیں وہ تو سکون سے سو رہا ہوتا ہے۔ اگر آپ بھی سکون چاہتے ہیں تو معاف کردیں۔ میں اس میں اتنا اضافہ کردوں کہ معاف کردیں اور معافی مانگ لیں۔ جس سے معافی نہیں مانگ سکتے اُس کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ ایک اور بات ابو یہ کہتے ہیں: جو معاف کرے گا اسی کو معافی ملے گی۔ معاف کرنا ایک خدائی صفت ہے اور خدا اس صفت کو بہت پسند کرتا ہے۔ وہ غفار بھی ہے اور ستار بھی، یعنی معاف کردیتا ہے، اور اس معافی کا نہ دوسروں کو بتاتا ہے، نہ جتاتا ہے، نہ گناہ کو آشکار کرتا ہے۔ ہمیں بھی معاف کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
کسی کو معاف کرنے کے لیے سامنے والے کے معافی مانگنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بس معاف کردینا چاہیے۔ اللہ مجھے معاف کرنے والا، لوگوں میں محبتیں پھیلانے والا بنائے۔ سب سے بڑھ کر مجھے عمل کرنے والا بنائے۔جو یہ مضمون پڑھے اسے بھی معافی کی صفت عطاکرے۔محبتیں پھیلانے اور نفرتوں کی بیخ کنی کرنے والا بنادے۔زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، یا رب جتنی زندگی دی ہے اسے اپنی رضاکے کاموں میں بسر کروادے۔

محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہوگا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہوگا یہ طے ہوا تھا

حصہ