شریک مطالعہ: “لوح” اردو ادب کی نئی روایت

28

نعیم الرحمن
وہ آیا، اس نے دیکھا اورفتح کرلیا۔ اردو ادب کے حوالے سے ممتاز شیخ کے ادبی جریدے ’’لوح‘‘ پر یہ مثال صادق آتی ہے۔ لوح کے پہلے شمارے کی اشاعت کے ساتھ شائقینِ ادب کو علم ہوگیا کہ یہ اردو کا منفرد اور بے مثال ادبی جریدہ ہے۔ صرف آٹھ شمارے مشترکہ گیارہ، بارہ نمبر کی اشاعت تک ’لوح‘ اردو ادبی دنیا پر چھا چکا ہے۔ اعلیٰ ترین پرنٹنگ، بہترین سفید کاغذ اور مجلّد بڑے سائز کے 672 صفحات کے تازہ شمارے کی قیمت ایک ہزار روپے ناقابلِ یقین ہے۔ ’نقوش‘ کے بارے میں ابن انشا مرحوم نے کہا تھا کہ ’’اس کا شمارہ خاص نمبر ہوتا ہے، عام شمارہ خاص خاص مواقع پر شائع ہوتا ہے‘‘۔ لوح کے بھی اب تک تمام آٹھ شمارے خاص ہی ہیں۔ اسی طرح ایک اور ادیب نے کہا تھا کہ نقوش کو آلۂ ضربِ شدید کے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو یہ بات لوح کے ضخیم شماروں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ ممتاز شیخ اب تک آٹھ شماروں میں ایک بے مثال ’’افسانہ صدی نمبر‘‘ بھی شائع کرچکے ہیں جس میں اردو افسانہ کے 117 سال کا شاندار انتخاب شائع کیا گیا، اور اب ممتاز شیخ نے ایک اور منفرد نمبر ’’ناول، افسانہ، غزل و نظم نمبر‘‘ شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا خاص شمارہ ہوگا جس میں اردو نثر و نظم کی چار اہم ترین اصناف کا احاطہ کیا جائے گا۔ ایسے کسی نمبرکی اس سے قبل اردو ادبی جرائد میں کوئی مثال نہیں ہے۔
’’حرفِ لوح‘‘میں ممتاز شیخ لکھتے ہیں: ’’غالباً 2000ء کی بات ہے کہ انقلاب بذریعہ شعر و سخن کی سوچ میرے اندر در آئی اور میں نے اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے ادب میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مشاعروں کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں اس کی اہمیت سہ چند ہوجائے گی، مگر یہ بھی جہدِ مسلسل کا تقاضا کرتی ہے۔ آج قومی تشخص پارہ پارہ ہوچکا ہے تو مجھے پھر یہی خیال آتا ہے کہ میری بیس برس پہلے کی سوچ درست تھی کہ ادب برائے انقلاب کا نعرۂ مستانہ ایک بار پھر بلند کیا جائے، اور جب میری اس سوچ اور ارادے کو مزید تقویت ملی کہ ادب ہی تشدد کی جبلت پر قابو پاسکتا ہے اور ایک تہذیب یافتہ سماج وجود میں آسکتا ہے تو میں نے ’لوح‘ کا اجرا کیا کہ ادب ہی سماج میں صحت مند اور مثبت تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے اور موجودہ تکلیف دہ صورتِ حال میں ادب کی وسیع پیمانے پر قبولیت ہی تحمل اور برداشت کی کسی منزل کی طرف لے جاسکتی ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ ادبی رسالوں کو پڑھا جارہا ہے اور رسالوں کی مانگ بڑھ رہی ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ ادبی رسالوں کی ذمہ داری سہ چند ہوگئی ہے کہ انہیں اپنے اعلیٰ مواد کی بنا پر معاشرے اور سماج کے سدھار کے لیے بہرحال اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ورنہ تو سماج میں ادب اگر کسی مقام پر تھم جائے تو اس کے بھیانک نتائج ہوسکتے ہیں۔ یہی وہ ذمہ داری ہے جسے شعوری طور پر ’لوح‘ نے اپنے کاندھوں پر لیا ہے کہ اپنے حصے کی شمع جلائے رکھیں۔ روزِ اوّل سے ’لوح‘ یہ بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اپنے حلقۂ اثر میں موجود نوخیز جوہرِ قابل کے ذوق کی تربیت کی جائے اور سماج میں جہاں انقلاب بذریعہ ادب کا نعرۂ مستانہ بلندکیا جائے وہاں اس کے نتائج پر بھی پوری نظررکھی جائے۔‘‘
جس مثبت نظریے کے ساتھ ممتازشیخ نے ’لوح‘ کا اجرا کیا تھا، وہ بہ خوبی اس پر عمل کررہے ہیں اور اس کے ہر شمارے کے ایک ایک لفظ سے اسی کی عملی تعبیر نظر آتی ہے۔ اکتوبر میں ’لوح‘ کی اشاعت کو پانچ سال مکمل ہوگئے۔ پانچ سال میں آٹھ شمارے ممتاز شیخ کی مثبت سوچ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں اور دنیا بھر کے اردو شائقینِ ادب اب اس کے منتظر رہتے ہیں۔ تازہ شمارے کی ابتدا معروف شعرا محمد اظہارالحق اور سلیم کوثر کی خوب صورت حمد سے ہوئی ہے:

ظلمات میں شکل ڈالتا ہے تو رحم میں روح ڈالتا ہے
تھک جاتے ہیں جانثار سارے بیمار کو تُو سنبھالتا ہے
رکھ کر ہمیں موت کی پناہ میں کچھ دیر تو حشر ٹالتا ہے
ویسا ہی اس کے دھیان میں تُو ہے جیسا جس کے گمان میں تُو ہے
آسماں پر بلند ہو تے ہوئے طائروں کی اڑان میں تُو ہے

نسیم سحر اور صفدر صدیق رضی کی بھی حمد باری تعالیٰ بہت عمدہ ہے۔ احسان اکبر کی طویل بحر میں نعت کا بھی جواب نہیں:

جلی یا خفی جلوہ نورِ محمد سا پھر خاکداں میں ہوا ہے نہ ہوگا
جمیل الشیم ان کے مانند کوئی زماں و مکاں میں ہوا ہے نہ ہوگا
سبھی عالمی نامیوں کے نشاں رشتہ داروں کے ہاتھوں بڑھے ہیں
حریف اپنے ہی جس کے ہوں ایسانامی بھی کوئی جہاں میں ہواہے نہ ہوگا

سلیم کوثر اور جاوید احمد کی نعتیں، فیروز ناطق خسرو کا نعتیہ قصیدہ اور افتخار عارف کی روح پرور منقبت بھی شمارے کا حصہ ہیں۔ ’لوح‘ کے ہر شمارے میں ممتاز شیخ اپنی مادرِ علمی گورنمنٹ کالج لاہور سے جس محبت کا ثبوت دیتے ہیں، اس کی مثال معروف افسانہ نگار مقصود الٰہی شیخ پہلے ’’راوی‘‘ اور پھر ’’مخزن‘‘ کے نام سے ادبی جریدہ شائع کرکے دیتے رہے۔ مخزن کے صرف دس شمارے ہی شائع ہوسکے۔ اب لوح کے ہر شمارے میں ایسے مضامین لازمی شامل کیے جاتے ہیں۔ اس شمارے میں ’’محبت جو امر ہوگئی‘‘ کے عنوان سے گورنمنٹ کالج لاہور کے عظیم ماہر نفسیات و فلسفہ، پرنسپل، شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد اجمل کا خصوصی گوشہ شائع کیا ہے۔ معروف افسانہ نگار اور ادبی جریدے ’استعارہ‘ کے شریک مدیر ڈاکٹر امجد طفیل نے ڈاکٹر محمد اجمل کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد اجمل 7 ستمبر 1919ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور ایک بھرپور اور قابل ِ رشک زندگی بسر کرنے کے بعد 31 جنوری 1994ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ تحریر سے زیادہ تقریر کے آدمی تھے، اسی لیے ان کا تحریری سرمایہ کچھ اتنا زیادہ نہیں۔ ان کی پہلی کتاب ’’سقراط‘‘ تھی، اس کے بعد انہوں نے ژنگ کی نفسیات پر ’’تحلیلی نفسیات‘‘ کے نام سے کتاب لکھی۔ ان کے متفرق مضامین کا مجموعہ ’’مقالاتِ اجمل‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ادب، مذہب، تصوف اور نفسیات پر ان کی تحریریں شامل ہیں۔ انہوں نے ول ڈیورانٹ کی کتاب کا ترجمہ ’’نشاطِ فلسفہ‘‘ کے نام سے کیا، جب کہ ان کی اہم ترین کتابMuslim Contribution to phhschotherapy ہے، جس نے پاکستان میں نفسیات کو ایک نیا رُخ دیا۔ اسی کتاب کا ایک اہم حصہ ’’نفسی طریق علاج میں مسلمانوںکا حصہ‘‘ بھی ڈاکٹر اجمل کے گوشے میں شامل ہے۔ اس مضمون کا ایک اقتباس:
’’تصوف کا نقطۂ نظر جو ہم تک پہنچا ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل علم معلومات نہیں ہیں، اور نہ ہی گنے چنے مفروضے ہیں، بلکہ علم وہ ہے جس میں جاننے والا اور جانی گئی شے ایک وحدت میں پروئے جاتے ہیں۔ علم اور وجود ایک ہیں۔ اگر انہیں الگ کرنے کی کوشش کی جائے تو اس سے نفسیاتی فاصلہ، تضاد اور غلط شناخت جنم لیتے ہیں۔ تمام نفسیاتی فاصلے جو انسان اور انسان کے درمیان یا انسان اور فطرت میں موجود ہیں، اُس فاصلے کا شاخسانہ ہیں جو خدا اور بندے کے درمیان پیدا ہوچکا ہے، چنانچہ ذہنی صحت کا دار و مدار نفسیاتی طور پر خدا سے قریب ہونے میں ہے۔‘‘
حال ہی میں انتقال کرنے والے اردو کے معروف محقق، دانشور، ادیب اور ماہرِ تعلیم جمیل جالبی کا گوشہ بھی ’لوح‘ کے تازہ شمارے کا اہم حصہ ہے۔ اس میں ڈاکٹر معین الدین عقیل ’’جالبی صاحب کا امتیاز‘‘ اور صدف مرزا کا مضمون ’’علی گڑھ کی مٹی۔ کراچی کی ہواؤں تک‘‘ شامل ہیں۔
افسانوں کاحصہ ’’سن توسہی جہاں میں ہے ترا فسانہ کیا‘‘ کے عنوان سے 144 صفحات پر مبنی ہے، جس میں 20 افسانہ نگاروں کے اتنے ہی افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ رشید امجد کا افسانہ ’’شہر جہاں وقت نہیں‘‘ اور انور زاہدی ’’ایک دن اکیلے‘‘ عمدہ موضوعات پر اچھے افسانے ہیں۔ محمد الیاس کا نیا افسانوی مجموعہ ’’چڑیاں اداس ہیں‘‘ حال ہی میں شائع ہوا ہے، جب کہ نئے اشاعتی ادارے صریر پبلشر سے جلد ’’وارے کی عورت‘‘ شائع ہونے والا ہے۔ محمد الیاس کا طویل افسانہ ’’سبحان اللہ‘‘ حسبِ سابق بہت عمدہ ہے۔ اخلاق احمد افسانہ ’’ایک تھا رستم‘‘ قارئین کے لیے لے کر آئے ہیں۔ علی تنہا کا ’’ایک ہی آنکھ‘‘ ہے، جب کہ استعارہ کے مدیر امجد طفیل کا ’’آنکھ میں ٹھہرا آنسو‘‘ بھی ایک عمدہ افسانہ ہے۔ امجد طفیل کے دو افسانوی مجموعے ’’اینٹیک شاپ‘‘ اور ’’مچھلیاں شکار کرتی ہیں‘‘ ایک جلد میں ’’میرے افسانے‘‘ کے نام سے شائع ہورہے ہیں۔ بھارتی افسانہ و ناول نگار مشرف عالم ذوقی کے ناول جلد صریر پبلشرز سے شائع ہونے والے ہیں۔ ذوقی کا افسانہ ’’گل بوزا اور باقی چھ‘‘ دل کو چھو لیتا ہے۔ طاہرہ اقبال کا نیا ناول ’’گراں‘‘ بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ طاہرہ اقبال کا افسانہ ’’نوکر بچہ‘‘ ان کی منفرد معیار کی تحریر ہے۔ گلزار جاوید ’’جشن بے قراری‘‘، بشریٰ اعجاز ’’رب ملیا، رانجھا نہ ملیا‘‘، شموئل احمد ’’ٹیبل‘‘ لے کر آئے ہیں۔ خالد فتح محمد کا بھی نیا افسانوی مجموعہ حال میں منظرعام پر آیا ہے۔ ان کا ’’کراہ‘‘ بھی ایک عمدہ افسانہ ہے، جب کہ رفاقت حیات کے ’’خوامخواہ کی زندگی‘‘ اور ناول ’’میرواہ کی راتیں‘‘ کے نئے ایڈیشن جلد شائع ہورہے ہیں۔ رفاقت حیات کی ’’سزائے تماشائے شہرِ علم‘‘ جیسے مشکل عنوان سے ایک خوب صورت تحریر ہے۔ نگہت سلیم، سمیرا نقوی، شاہین کاظمی، ارشد اقبال، منیر احمد فردوس اور آدم شیرکے افسانے بھی دامنِ دل کو کھینچتے ہیں۔ آدم شیر نے پہلے ہی مجموعے ’’ایک چپ سو دکھ‘‘ سے قارئین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
معروف افسانہ، ناول اور سفرنامہ نگار سلمیٰ اعوان نے دنیا بھر کے ماضی اور حال کے اہم اہلِ قلم اور دانشوروں کے بارے میں بہت عمدہ کتاب ’’عالمی ادب کی فروزاں قندیلیں‘‘ تحریر کی ہے جس کا دوسرا حصہ بھی شائع ہونے والا ہے۔ سلمیٰ اعوان کی ’’اسپین کے گارشیا لورکا ایک توانا انقلابی آواز‘‘ ایک بہت عمدہ تحریر ہے۔ سلمیٰ اعوان ایسے عالمی ادیبوں کو اردو قارئین سے متعارف کراکے بہت اہم ذمہ داری انجام دے رہی ہیں۔
حصہ نظم کو ممتاز شیخ نے ’’نظم لکھے تجھے ایسے کہ زمانے وا ہوں‘‘ کا عنوان دیا ہے جو94 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں 45 شعرا کی چھوٹی بڑی141 تخلیقات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ستیہ پال آنند، کشور ناہید، سعادت سعید، نصیر احمد ناصر، علی محمد فرشی اور جمیل الرحمن کی نظموں کے بارے میں اظہارِ خیال تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ نصیر احمد ناصرکے شاندار ادبی جریدے ’تسطیر‘ کا آٹھواں شمارہ بھی حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ تسطیر اور لوح اس وقت اردوکے ادبی جرائد میں اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں۔ علی محمد فرشی کا ’سمبل‘ جاری نہ رہ سکا لیکن وہ اپنی بے مثال شاعری سے دلوں کو تسخیر کرنے میں مصروف ہیں۔
’’لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے پھر انبار‘‘ عنوان ہے لوح کے حصۂ مضامین کا، جس میں 17 مصنفین کے مضامین شامل ہیں۔ ہر مضمون اپنے موضوع کے اعتبار سے ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ ابوالکلام قاسمی ’’راشد کی فکری اور فنی جہات اور نو آبادیاتی مضمرات‘‘، قاضی افضال حسین ’’غیرکی تشکیل: طریقہ کار اور اقسام‘‘، ڈاکٹر رؤف پاریکھ ’’اردو لغت بورڈ کی لغت: چند مزید الفاظ مع اسناد‘‘، ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی ’’بے راہ رو، اشعار، لاپتا شاعر‘‘ اور محمد اظہار الحق ’’کیا محبت ابھی نصاب میں ہے؟‘‘ جیسے عمدہ مضامین لے کر آئے ہیں۔ دیگر مصنفین نے بھی بہت اچھے مضامین تحریرکیے ہیں۔
حصہ غزل کا عنوان ہے: ’’غزل شاعری ہے، عشق ہے، کیا ہے‘‘، جس میں 51 شعرا کی 119 غزلوں کو شامل کیا گیا ہے۔
لوح کے تازہ شمارے سے ’’نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری‘‘ کے عنوان سے مشہور ناول نگار ڈاکٹر رشید امجد کی آپ بیتی شروع کی گئی ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد کی آپ بیتی کا پہلا حصہ ’’تمنابے تاب‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ پھر انہوں نے اپنی آپ بیتی کو ’’عاشقی صبر طلب‘‘ کے نام سے آگے بڑھایا۔ رشید امجد کی آپ بیتی کی پہلی طویل قسط 23صفحات پرپھیلی ہے اور بہت دلچسپ ہے۔
’’قرطاس پر جہانِ دِگر بھی ہیں‘‘ کا عنوان تراجم کو دیا گیا ہے۔ اردو کے منفرد شاعر افتخار عارف نے یوگوسلاویہ، جاپان اور آسٹریلیا کے شعرا کی نظموں کے آزاد تراجم کیے ہیں۔ عامر حسین پاکستان کے انگریزی ادیب ہیں۔ ان کے چند اردو افسانے بھی معاصر ’آج‘ میں شائع ہوچکے ہیں۔ عامر حسین کے انگریزی افسانے ’’خار زار‘‘ کا ترجمہ معروف شاعرہ اور افسانہ نگار فاطمہ حسن نے کیا ہے جب کہ ہندی افسانہ نگار نوین کمار نیتھالی کے ’’پارس‘‘ کا ترجمہ احسن ایوبی نے کیا ہے۔ دونوں طویل اورعمدہ افسانے ہیں۔
’لوح‘ میں ادب کے ساتھ ساتھ دیگر فنون لطیفہ کو بھی جگہ دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز پاکستان کی معروف گلوکارہ ’’ناہید نیازی: ایک مہذب آواز‘‘ لے کر آئے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز خود بھی بہت اچھے گلوکار ہیں۔ انہوں نے ہند و پاک کے مشہور موسیقاروں اور گلوکاروں پر دو بہت اچھی کتب ’’میلوڈی میکرز‘‘ اور ’’میلوڈی سنگرز‘‘ تحریر کی ہیں، اور اردو میں موسیقی پر تحریروں کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ اپنی انہی کتب سے مضامین مختلف ادبی جرائد میں بھی شائع کررہے ہیں لیکن ایک ہی مضمون دو مختلف جرائد کو بھیجنا ادبی بددیانتی ہے۔ ناہید نیازی پر مضمون ’استعارہ‘ کے شمارہ پانچ میں بھی شائع ہوچکا ہے اور اب ’لوح‘ میں بھی شامل ہے۔ اس سے قبل بھی ڈاکٹر امجد پرویز کا ایک مضمون دو پرچوں میں شائع ہوا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
’لوح‘ کے اختتامی حصے میں طنز و مزاح میں ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی اور ڈاکٹر عزیز فیصل کے مضامین اور محمد عارف کا شاعر و ناول نگار اور ’ادبیات‘ کے مدیر اختر رضا سلیمی کا بہت خوب صورت خاکہ ہے، جبکہ منفرد شاعر اور ڈراما نگار سرمد صہبائی کی اردو کافیوں کا جواب نہیں۔
’لوح‘ کا شمارہ گیارہ بارہ بھی حسبِ سابق بہت بھرپور اور عمدہ ہے، جس میں تمام اصنافِ ادب کا بہترین انتخاب شامل ہے۔ بہترین ادبی جریدے کی مسلسل اشاعت پر ممتاز شیخ مبارک باد کے حق دارہیں۔ لوح کے ’’ناول، افسانہ، غزل اور نظم نمبر‘‘ کا قارئین کو انتظار رہے گا۔

حصہ