سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور سلطنتِ عثمانیہ

46

ڈاکٹر خالد امین
مرتب: اعظم طارق کوہستانی
(گزشتہ سے پیوستہ)
اس کتا ب میں سلطنت عثما نیہ میں سیا سی و سفا رتی خد ما ت انجا م دینے والے کئی اہم لو گو ں کے بیا نا ت کو بھی شا مل کیاگیا۔جو اس بات کی گو اہی دیتے ہیں کہ جو رعا یت اور خا ص حقو ق عیسا ئی با شند وں کو سلطنت میں حاصل تھے وہ خا لص مذ ہبی تھے اور مذ ہبی آزادی کی حیرت انگیز مثا ل پیش کر تے ہو ئے دکھا ئی دیتے تھے۔تما م اقوام کو نہایت وسیع پیمانے پر حقوق حا صل تھے اور ایک طر ح سے انھیں اپنی اندورو نی و عا ئلی ز ندگی میںایسی خو دمختا ری حا صل تھی جو کسی دوسری سلطنت نے اپنی رعا یا کو عطا نہیں کی تھی۔
تر کی میں عیسا ئیو ں کی حا لت میںمصنف نے یو رپی قو تو ں کو تنقید کا نشا نہ بنا تے ہو ئے لکھا ہے کہ بیسو یں صدی میں حق اور انصا ف کو ہر جذ بہ پر غا لب رہنا چا ہیے مگر یو رپی اقوام مذ ہبی تعصب کی بنیا د پر غیر اقوام پر جھو ٹے الزا ما ت لگا تی ہیں اور تر کو ں پر لگایا جا نے والا یہ الزام کہ وہ اپنے ملک میں اقلیتو ں کا تحفظ نہیں کر تے بالکل بے جا ہے کیو ں کہ تر کو ں کی تا ریخ یہ بتا تی ہے کہ ان کی عمل داری میں تعداد میںقلیل اقوام ہمیشہ خو ش رہی ہیں۔کتا ب کے پہلے باب میں مصنف نے عثما نو ی دستو ر کی مثا ل دیتے ہو ئے کہا ہے کہ:
عثما نو ی دستو ر کی گیا رہو یں دفعہ میں ہم کو یہ الفا ظ نظر آ تے ہیں کہ سلطنت عثما نیہ میں ہر مذ ہب و ملت کے لوگوں کو اپنے اعما ل مذ ہبی میں کا مل آزادی حا صل ہے ۔بہ شر طے کہ وہ امن عا مہ کے خلاف نہ ہو ں۔
اس کتا ب میںمصنف نے سلطنت عثما نیہ کے کر دار کا جا ئز ہ لیتے ہو ئے دنیا کو یہ با ور کر انے کی کو شش کی ہے کہ مو جو دہ عہد میں مغربی اقوام نے جس انداز میںجدید تہذ یب کے علم کو بلند کیا ہے کیا اس کے نتا ئج دنیا پر وہی ہیں جیسے بیا ن کیے جاتے ہیں۔جب کہ حقیقت اور عمل کچھ اور ہی بیا ن کر تے ہیں۔کیو ں کہ خو دمغر بی اقوام میں مذ ہبی منا فرت اور فر قہ واریت جس تیز ی سے سرا یت کر رہی ہے اس کی بنیا دیں تا ریخ میں اس سے زیا دہ گہری رہی ہیں۔
مصنف نے چند مثا لیں پیش کر تے ہو ئے لکھا ہے کہ ایک لو تھرین کو کیتھو لک ہو جا نے پر جلا وطنی اور جا ئد اد ضبط کیے جانے کی سزا سنا ئی گئی،یو نا نی قا نو ن تبد یل ِمذہب کو رو کتا ہے۔پو لینڈ میں گر یک چر چ کے خلا ف جو سخت احکا ما ت جاری ہو ئے وہ دنیا کے سامنے ایک مثال ہیں۔بیسو یں صدی میں بر طا نیہ میں لا مذ ہبو ں کو پا رلیمنٹ میں جگہ نہیں دی جا تی تھی۔
ان مثا لو ں کو پیش کیے جا نے کا مقصدیہی تھا کہ سلطنت عثما نیہ پر لگا ئے گئے الزا ما ت کو رد کیا جا ئے کیو ں کہ عثمانو ی عہد میں یو نا نی ،ارمن،یہو دی،لا طینی ایک بڑی حکو مت کے اندر اپنی اپنی جدا حکو متیںرکھتے تھے۔ہر ایک اپنی مذ ہبی آزادی کے مطا بق اپنی زندگی بسر کر سکتا تھا۔اس کتا ب کے با ب اول میں اس کی کئی مثا لیں دیکھی جا سکتی ہیں کہ وہا ں غیر اقوام کو کس طرح کے حقو ق حا صل تھے۔ان حقو ق کے علا وہ اقلیتو ںکو اور کیا بنیا دی سہو لیا ت میسر تھیں اس کی بھی تفصیلا ت ہمیں ملتی ہیںان کی عبا دت گا ہو ں کو ملنے والی مراعات کی بھی تفصیلا ت اس کتا ب میں مو جو دہیں۔
سید ابو الا علی مو دودی کی اس کتا ب میں یہ با ت کہ سلطنت عثما نیہ میں اقلیت اس کی حدود میں ریا ست کے در جے میں رہتے تھے اس کا اظہا ر ترک محقق صا دق البیراک نے تر کی زبا ن میں Turkia yeide Din kavgasiکے نا م سے مختصر سی کتا ب میں بھی لکھی۔اس کا انگریز ی میں تر جمہ پا کستا نی اسکا لر محمد خا ن کیا نی نے Religious struggle in Turkey During the transformaition from Caliphate to Secular republicکے نا م سے کیا تھا جو استنبول میں شائع ہو ئی۔اس میں صا دق البیراک نے لکھا ہے کہ ۱۸۳۹ء میں گلہین پا رک(Gulhane Park)نا می اصلا حا ت عثمانیوں کے یہا ں متعا رف ہو ئی۔ان اصلا حا ت کے ذریعے مغر بی خیا لا ت و ثقا فت کا رخ تر کی معا شرے کی جا نب کر دیا گیا۔یو رپی قوتو ں کا خیال تھا کہ ایسا کر نے سے خلا فت اور اتحا دِ بین المسلمین کا تصو ر ان کے یہا ں نا پید ہو جا ئے گا اور Cosmopolitan Ottomanismکا زما نہ آئے گا۔ان اصلاحات اور تصور کے ذریعے دولت عثما نیہ میں اقلیتو ں کو مستحکم انداز میں ابھر نے کا مو قع ملے گا۔
یو رپی قو تو ں نے عثما نیو ں کو اس معا ہدے کے بعد اتنا دبا یا کے رشید پا شا کے دور میں مسلمانو ں کی حق تلفی کر کے اقلیتوں کو خو ش کرنے کے لیے زیا دہ مرا عات دی گئیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلطنت عثما نیہ کے حدود میںآبا د عیسا ئی اور یہودی اور دیگر اقوام ریا ست کے اندر ریاست State within Stateکی حیثیت اختیا ر کر گئے۔عیسا ئیو ں نے سفا رتی ذرائع استعما ل کر کے وہ مرا عات حا صل کر لیں جو ان کے اجداد تلوار کی نو ک پر بھی حا صل نہ کر سکے تھے۔سلطنت عثما نیہ ان حا لا ت میں غیر معمو لی دبا ئو کا شکا رتھی۔معا شی اور فو جی امداد کی پیش کش کے عو ض عالمی طا قتو ں نے سلطنت عثما نیہ میں بسنے والے عیسا ئیو ں اور دیگر اقلیتو ں کے لیے زیا دہ سے زیا دہ مراعا ت کو یقینی بنا یا ۔کریمیا کی جنگ کے بعد ۱۸ فروری ۱۸۵۶ء کو Hatt-i-Humayunنے جو فر مان جا ری کیا اس نے دو لت عثما نیہ کے غیر مسلمو ں کو مسلمانو ں کے برابر لا کھڑا کیا۔
سلطنت عثما نیہ کو اندورونی طو رپر کمزو ر کر نے کے لیے یو رپ کی عیسا ئی طا قتو ں نے اقلیتو ں کا سہا را لیا۔املا ک کو تبا ہ کرنے یا اس پر قبضہ کر نے کی سازش بھی کی گئی اور اس میں یو رپی قو تیں کا فی حد تک کا میا ب ہو ئیں۔ہر جنگ کے بعد سلطنت عثما نیہ کو کچھ زمین اور اچھی خاصی دولت سے محر وم ہو نا پڑا۔تر ک خزانے لو ٹ لیے گئے ،مسا جد اور مدارس کو شہید کردیا گیا۔ان میں جو ئے کے اڈے اور رقص گا ہیں ،شراب خا نے یا اصطبل کھو ل دیے گئے۔لا کھو ں مسلما نو ں کو قتل یا بے گھر کر دیا گیااور خو اتین کی بے حر متی کی گئی۔
سید ابو الا علی مو دو دی نے کتا ب کے آخر میں تر کی میں مختلف اقوام کی نسبت اعدا دو شما ربھی پیش کیے ہیں۔جن میں یورپین تر کی ،ایشیا ئے کو چک،ولا یت سمر نا،ارمن ولا یت شا مل ہیں۔یہ اعدادو شما رمشہو ر فر نچ جغرا فیہ دان مو سیو وٹا ل کوئنٹ نے اپنی کتا ب ترکی ڈی ایشیا میں پیش کی تھیں۔
سید ابو الا علی کا تر جمہ سمر نا میں یو نا نی مظا لم جو مختلف رپو رٹو ں پر مبنی ہے۔ یہ رپو رٹ اتحا دی حکو متو ں (امریکا،برطانیہ، فرا نس، اٹلی) کے مقرر کر دہ کمیشن کی تحقیق پر مبنی ہے جو لو زین کی انجمن عثما نیہ نے شا ئع کی تھی۔یہ کتاب بھی اردو خواں طبقے کے لیے کئی لحا ظ سے اہم ہے۔اس میں سیدمو دودی نے جا مع مقد مہ بھی تحریر کیا ۔یو نا نیو ں کا دعویٰ یہ تھا کہ سمر نا میں یو نا نیو ں کی تعداد تر کو ں سے زیا دہ ہے اس لیے اس پر اہل یو نا ن کا حق ہے۔سید مو دو دی نے اس دعوے کی نفی کرتے ہو ئے سمر نا میں بسنے وا لی مختلف اقوام کی آبا دی کا جا ئز ہ بھی پیش کیا تھا۔جس سے یو نا نی قوم کے دعوے کی نفی ہوتی تھی۔
شہرِ سمر نا چو ں کہ ایسا سمندری راستہ تھا جسے عثما نی تر کو ں سے چھین لینے کا مطلب یہ ہو تا کہ وہ ساری دنیا کے دست نگر بن کر رہ جائیںاور پھر بر طا نو ی حکو مت ان سے اپنے مطا لبا ت منوا نے میں کامیاب ہو سکے۔جنگ سمر نا کے مو ضو ع پر ہندوستا نی دانش وروں کی ایک کثیر تعداد ایسی تھی جس نے بر طا نو ی حکمت عملی کو نہا یت مکروہ قرار دیا۔ان کے مضا مین اور کتابو ں کے تراجم ان خیا لا ت کی تر جما نی کر تے ہو ئے دکھا ئی دیتے ہیں۔سید ابو الا علی مو دودی کی یہ کتا ب اب کم یاب ہے اس کے مو ضو عات بھی وقت گز رنے کے ساتھ پرانے ہو چکے ہیں مگر اس وقت کی صورت حا ل اور عثما نیو ں اور یو نا نیو ں کی تاریخ کا مطا لعہ کر نے والو ں کے لیے اس کامطالعہ بھی اہم ہے۔کیو ں کہ اس میں مو جو دتا ریخی حقائق یو نا نی در اندازی کی وجوہا ت پر روشنی ڈالتے ہو ئے نظر آتے ہیں۔خا ص طور پر بر طا نو ی کر دار اس سلسلے میں کیا رہا تھا اس کو ایک جگہ بیا ن کرتے ہو ئے مو لا نا نے لکھا ہے کہ:
انگر یز اگر چہ اسلا می مما لک پر قبضہ کر نے میں بہت کم تا مل کرتے ہیں۔مگر مسلما نو ں کو احمق بنا نے کے لیے وہ بعض مما لک پر خودقبضہ کر نا منا سب نہیں سمجھتے اور دوسری چھو ٹی چھو ٹی ریا ستو ں کو اکساتے ہیں ،یہی حا ل سمر نا کا تھا۔اگر چہ انھو ں نے خوداس پر قبضہ نہیں کیا لیکن وہ یو نا ن کے قبضے کو بھی اپنے ہی قبضے کے برا بر سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بر طا نو ی کو نسل نے نہایت آزادی کے ساتھ یونان کے مقبو ضہ علا قے میں ایک ارمن کا فیصلہ کر دیا۔
وہ تما م رپو رٹیں جو اس کتاب میں درج کی گئی ہیں مختلف ذرائع سے حا صل کی گئیں تھیں۔جن سے سمرنا پر یو نا نی قبضے کے بعد کی صورت حال سا منے آجا تی ہے۔سمر نا کی تا ریخ پر جتنی کتا بیں لکھی جا ئیں ان میں اس کتا ب کو ضرور حوا لے کے طور پر دیکھا جا نا چا ہیے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایسی رپو رٹیں بھی شا مل ہیںجو مختلف سیا سی ،سما جی اور صحا فتی خدمات انجا م دینے والو ںنے دیکھی تھیں جیسے کپتان ڈکسن جا نسن (Dixson Johnson)سمر ناسے ۲۱ ؍مئی ۱۹۱۹ء کو خط میں لکھتا ہے کہ جب تر ک افواج بیر کو ں میں واپس چلی گئیں تو یونانی انھیں بیرکوں سے واپس نکا ل لا ئے اور ہر اس شخص کو قتل کر دیا جس نے زیٹو دینی زیلو س (Zeto Ve nizelos)کا نعرہ نہیں لگایا۔ڈکسن جانسن نے اور بھی دو خطو ط سمر نا کے حوالے سے لکھے تھے،وہ ان واقعات کا عینی شا ہد تھا۔کیو ں کہ سمرنا کے یو نا نی قبضے کے دوسرے دن وہ وہا ں پہنچا تھا۔اس نے یہ خطو ط لندن میںمو جو ددفاع اسلا م کے نام پر بھیجا تھا۔
مو دودی صاحب نے عثما نی تر کو ں کے کردار پر اپنی کتا ب تنقیحا ت میں خا لدہ ادیب خانم کے خطبا ت کے مجموعے تر کی میں مشرق و مغرب کی کش مکش کے حوالے سے اظہا ر خیا ل کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ترکی کی نئی نسل جس نے خلا فت کے ادارے کا خا تمہ کر دیا اب وہ مادہ پر ستی،دہریت،مغرب سے کا مل مر عو بیت،مغربی تخیلات کی اندھی تقلید کر رہی ہے وہ اسلا می وحدت اور قدیم چیز وں سے بے زاری کا اظہا ر کر رہے ہیں۔ان کے دل میں یہ خیال راسخ ہو گیا ہے کہ اگر تر قی کر نی ہے تو با لکل مغربی طرز پر چل کر ہی تر قی کا قصر تعمیر کر نا پڑے گا۔سید مو دودی نے اس رویے پر وہا ں کے علما کو بھی تنقید کا نشا نہ بنا یا ہے ان کا یہ کہنا درست تھا کہ بد لتے ہو ئے حا لا ت میں تر کی علما نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی اس وقت ضرورت تھی۔(باقی آئندہ)۔

مولانا مودودی کے بارے میںقاضی حسین احمد (مرحوم) کی راے

(سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان)

جس مقصد کے لیے نبی کریم نے اللہ کی رضا کے لیے اس اُمت کو اُٹھایا، مولانا مودودیؒ نے اسی مقصد پر لوگوں کو دوبارہ اکٹھا کیا ہے۔ سید مودودی ؒکا اہم کمال یہ ہے کہ اُنھوں نے آسان نثر کے ذریعے قرآن و سنت کی تعلیمات کو ٹھیک ٹھیک انداز سے لوگوں تک پہنچایا۔ اُنھوں نے اُردو کو اپنی دعوت کا ذریعہ بنایا۔ مولانا نے پوری زندگی اس بات کو سمجھانے میں گزار دی کہ لوگ مذہب، سیاست اور دعوت میں فرق نہ کریں ۔ ان کے مطابق ہر وہ کام عبادت ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق کریں۔

مولانا مودودی کے بارے میں جسٹس جاوید اقبال (مرحوم) کی راے

(مصنف، فرزند علامہ اقبال)

مولانا مودودی کی کتاب ’دینیات‘ پوری دنیا میں اسلام کے حوالے سے ایک اہم مقام رکھتی ہے اس طرح سید قطب اور اخوان بھی ان کی خدمات کے معترف ہیں۔ ’تفہیم القرآن‘ ان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے اس کے ساتھ ساتھ دینی ادب اور اُردو ادب میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ میری مولانا مودودی سے گہری محبت تھی۔ وہ مجھ سے بڑی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے کہ جس کا میں ذکر نہیں کر سکتا اور میں ان کی بہت عزت اور احترام کرتا ہوں۔

حصہ