پاکستان، بھارت تعلقات

247

شائستہ شبیر
پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ ہی سے اتار چڑھاو کا شکار رہے ہیں۔مختلف واقعات سے تعلقات پر بہت اثرپڑا ہے ۔
پاکستان اور بھارت بالترتیب ۱۴ اور ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو آزاد ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہویے۔دونوں ممالک کو ہندو مسلم آبادی کی بنیاد پر تقسیم کرنے پر آزاد کیا گیا تھا۔بھارت جس میں ہندو اکثریتی قوم تھی ایک سیکولر ریاست قرار پایا جبکہ مسلم اکثریتی پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا گیا۔آزادی کے وقت سے ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے اچھے تعلقات استوار رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا مگر ہندو مسلم فسادات اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے دونوں ممالک میں کبھی اچھے تعلقات دیکھنے کو نہیں ملے۔آزادی کے بعد سے اب تک دونوں ممالک ۴ بڑی جنگوں جب کہ بہت سی سرحدی جھڑپیںہوچکی ہیں۔
پاک بھارت جنگ ۱۹۷۱ اور جنگ آزادی بنگلہ دیش کے علاوہ تمام جنگوں اور سرحدی کشیدگیوں کا محرک کشمیر کی تحریک آزادی رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی بہت سی کوششیںکی گئیں۔جن میں آگرہ،شملہ اور لاہور کا سربراہی اجلاس شامل ہے۔۱۹۸۰ کی دہائی سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخ ساز بگاڑ محسوس کیا گیا اس بگاڑ کا سبب سیاچن کا تنازع ۱۹۸۹ میں کشمیر میں بڑھتی کشیدہ صورتحال ۱۹۹۸ء میں بھارت اور پاکستانی ایٹمی دھماکے اور ۱۹۹۹ء کی کارگل جنگ کو سمجھا جاتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ۲۰۰۳ء میں جنگ بندی کا معاہدہ اور سرحد پار بس سروس کا معاہدہ کیا گیا مگر تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تمام کوششیں پے در پے رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی نظر ہوتی گئیںجن میں۔۔۔
٭ ۔۔ ۲۰۰۱ء بھارتی پارلیمان کی عمارت پر حملہ
٭۔۔۲۰۰۷ء میں سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین کا دھماکہ
٭۔۔۲۶ نومبر۲۰۰۸ء ممبئی میں دہشت گردی کی کاروائیاں شامل ہیں۔

جونا گڑھ تنازع

جونا گڑھ بھارتی گجرات کے جنوب مغربی کنارے پر واقع ہے جو ہندو اکثریتی ریاست تھی ۔ریاست جونا گڑھ کا نواب مہتاب خان ایک مسلمان حاکم تھا ۔ اس نے جونا گڑھ کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنا مناسب سمجھا۔اور ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا ۔حکومت پاکستان نے ۱۵ستمبر ۱۹۴۷ء کو جونا گڑھ کا الحاق باقاعدہ طور پر قبول کر لیا۔بھارتی حکومت نے اسے فیصلے کو مسترد کر دیاکہ ریاست چونکہ تینوں ا طراف سے ہندوستانی سرحدوںسے گھری ہوئی ہے لہٰذا جونا گڑھ کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہیے۔پاکستانی حکومت نے بھارتی اعتراض کو مسترد کرتے ہویے ریاست جونا گڑھ کا رابطہ سمندری راستوں سے پاکستانی سرحدوں سے جوڑے رکھنے پر زور دیا ۔دونوں ممالک تنازعے کو دوستانہ طریقے سے حل کرنے میں ناکام رہے۔بھارتی وزیر داخلہ ولبھ بھائی پیٹل نے کہا کہ بھارتی حکومت بھارت میں مذہبی بنیادوں پرفساد سے بچنے کے لیے ریاست جونا گڑھ کا الحاق پاکستان سے تسلیم نہیں کر سکتی ۔ بھارتی حکومت نے ریاست جونا گڑھ کو جانے والی ایندھن اور کوئلے کی رسدبند کر دی۔اور بازور ہتھیارریاست پر قبضہ کر نے کے لیے اپنی فوج سرحدوں پر بھیج دی۔۲۶ اکتوبرکو نواب مہتاب خان نے بھارتی افواج سے جھڑپوں میں مسلسل ناکامی کی وجہ سے پاکستان ہجرت کی اور ۹ نومبر کو بھارتی افواج نے جونا گڑھ پر قبضہ کر لیا ۔حکومت پاکستان نے بھارتی جارحیت پر احتجاج ریکارڈکروایا جسے بھارتی حکومت نے مسترد کر دیا۔

سیاچن کا تنازع

۱۳ اپریل ۱۹۸۴ء کے روز بھارت نے شمالی کشمیر میں ایک سخت مقابلے کے بعد پاکستان کو شکست دے کر سیاچن گلئشیرپر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔کوہ پیماوں کی رسیوں اور نوک دار بوٹوں سے شروع ہونے والی یہ لڑائی اب ایسی جنگ میں بدل چکی ہے جس میں دونوں اطراف کے فوجی مورچے بنا کر ایک دوسرے کے خلاف بندوقیں تانے ہوئے ہیں ۔ لگتا ہے کہ یہ فوجی تقریبا اسی مقام پر منجمد ہو گئے ہیںجہاں انہوں نے۳۰ سال سے پہلے ایک دوسرے پر بندوقیں تانی تھیں۔
اندازہ ہے کہ اب تک مشترکہ طور پر بھارت اور پاکستان کے تقریبا ۲۷۰۰ فوجی سیاچن کے مقا م پر اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔اور مرنے والوں کی اکثریت دشمن کی گولی کے بجائے برفانی طوفانوں کے نذر ہوئی۔پاکستان سترکی دہائی میں بین الاقوامی کوہ پیمانوں کوسیاچن گلئیشر کے ارد گرد پر جانے کی اجازت دے کے اس خیال کو تقویت دیتا رہا کہ یہ علاقہ پاکستان میں شامل ہے۔ اس مقام پر کرنل کما ر نے بھارتی فوج کے اندر خطرے کی گھنٹی بجا دی اور خود سیاچن گلیشئر پر مہم جوئی کی ٹھان لی جب یہ واضح ہو گیا کہ بھارتی فوج پوری طرح سیاچن کے معاملے میں مستعد ہو گئی ہے تو پاکستان نے بھی اس خطے پراپنا حق جتانے کی ٹھان لی ۔پاکستان اپنے ارادوں میں کامیاب بھی ہو جاتا اگر بھارتی خفیہ اداروں کو اس کی مہم جوئی کا پتا نہ چلتا۔
بھارت نے فوری طور پر اپنے فوجی سیاچن روانہ کر دیئے اور یوں بھارت پاکستان سے ایک ہفتہ پہلے گلیشئر پر پہنچ گیا۔ پاکستان کے پہنچنے سے پہلے ہی بھارتی فوجیوں نے گلیشئر اور اس سے ملحقہ سالٹورو کی پہاڑوں پر قبضہ کر لیا ۔ سیاچن پر ایک اہم بھارتی چوکی کا نام کرنل نریندر کے نام پر کما ر بیس رکھا گیا اس کے بعد پاکستان کی طرف سے بھارتی فوج کو یہاں نکالنے کی غرض سے کئی جوابی کاروائیاں ہو چکی ہیں جو سب ناکام ہوئیں۔پرویز مشرف کی سربراہی میں کی جانے والی ایک مہم بھی ان ناکام مہمات میں سے ہے۔۲۰۰۳ء کی جنگ بندی کے بعد پاکستان سیاچن پر بھارت کا قبضہ چھڑانے کی کوشش ترک کر چکا ہے۔
٭…٭…٭

کارگل تنازع

کارگل جنگ کنٹرول لائن پر ہونے والی ایک محدود جنگ تھی جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ۱۹۹۹ء میں لڑی گئی ۔اس جنگ میں واضح کامیابی کسی ملک کو نہیںمل سکی لیکن پاکستانی فوج نے بھارت کے لڑاکا جہاز مار گرایا اس کے علاوہ بھارتی فوج کارگل سیکٹر میں اپنا توازن کھو بیٹھی اور ۷۰۰ سے زائد فوجی ہلاک ہوئے اس جنگ میں بھارت کو شدید دھچکا لگا تھا بعد میں دونوں فریقین نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔

آبی مسائل۔۔۔

پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا پانی استعمال کرنے والاملک ہے جہاں پانی کا سالانہ فی کس استعمال ۱۰۱۷ کیوبک میٹر ہے جبکہ عالمی معیار کے مطابق پانی کا فی کس کم از کم استعمال ۱۰۰۰ کیوبک میٹر ہے جس کے باعث آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا میں پانی کے بحران زدہ ممالک میں ہوتا ہے پاکستان میںپانی کی قلت کی وجہ قیام پاکستان کے بعد مطلوبہ ڈیمز کا نہ بننا ہے پاکستان کا پہلا ڈیم وارسک ڈیم ۱۹۶۰ ء میں بنا ۔ جس کے بعد
٭منگلا ڈیم ۱۹۶۱ء میں
٭کملی ڈیم ۱۹۶۲میں
٭راول ڈیم ۱۹۶۲ میں
٭حب ڈیم ۱۹۶۳ میں
٭ تر بیلا ڈیم ۱۹۶۸ میں
٭ خان پور ڈیم ۱۹۶۸ میں
٭ میرانی اور سبک زنی ڈیمز بنائے گئے ۔
۱۹۷۵ کے بعد کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا گیا ۔پاکستان میں اس وقت چھوٹے بڑے کل ۱۵۵ ڈیم ہیں جب کہ بھارت میں ۳۲۰۰ ڈیم ہیں پاکستان اپنے دریاؤں کا دس فیصد حصہ پانی زرخیز کر سکتا ہے ۹۰ فیصد ضائع ہو جاتا ہے جس کی اہم وجہ ملک میں ڈیمز کی کمی ہے پاکستان کے مجموعی ڈیموں میں صرف ۱۴ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے اس طرح ہم صرف ۳۰ دن کا پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں جبکہ بھارت ۱۲۰ دن تک اور امریکا ۹۰۰ دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح پاکستان میں پا نی ذخیرہ کرنے کی فی کس مقدار ۱۵۰ کیوبک میٹر چین میں ۲۲۰۰کیوبک میٹر آسٹریلیا اور امریکہ میں ۵۰۰۰کیوبک میٹر ہے ۔اس طرح پاکستان اپنے دستیاب آبی وسائل کا صرف ۷فیصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ جبکہ عالمی سطح پر یہ تناسب ۴۰ فیصد ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی دنیا میں سب سے کم ہے پاکستان اپنے دستیاب پانی کو ذخیرہ نہ کر کے سالانہ ۳۰ سے ۳۵ ارب ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے ،جبکہ کالا باغ ،بھاشا اور اکھوڑی ڈیم کی تعمیر ی لا گت صرف ۲۵ ارب ڈالر ہے ۔
امر واقعہ یہ ہے کہ آ ج تک ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پانی کا رخ موڑ رہا ہے بھارت اس پانی سے جہاں بجلی میں اضافہ اور اپنی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے وہیں پر پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنانے کے منصوبے کی تکمیل بھی کر رہا ہے ۔حال ہی میں پاکستانی ماہرین کا ۳رکنی وفد بھارت میں دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے ہائیڈرو پاور منصوبوں کا جائزہ لینے کے بعد وطن واپس پہنچ گیا ہے۔ وفد کی سربراہی کرنے والے پاکستانی کمشنر برائے سند ھ طاس سید مہر علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے کہا ہمارا یہ دورہ کامیاب رہا ہم نے دریاے چناب پر چار ہائیڈرو پاور منصوبوں کا معائنہ کیا جس میں ۱۰۰۰ میگا واٹ کا پکال دیل ۴۸ میگاواٹ کا لوئر کلنی ۸۵۰ میگاواٹ کا راٹلے اور ۹۰۰ میگاواٹ کا بگھلیا ڈیم شامل ہے ۔

سند ھ طاس معاہدہ

سندھ طاس کے نا م سے پہچانا جانے والا معاہدہ دراصل پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کی منصفانہ تقسیم کی یاداشت ہے جس پر دونو ں ملکوں نے ۱۹۶۰ میں اتفاق کیا ۔ ۱۹۴۸ میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے مشرق دریاؤں کا پانی بند کر دیا گیاجس کے بعد انسانی ضروریات سے متعلق بنیادی معاملہ کو چھیڑنے پر دونوں ملکوں میں موجودہ کشیدگی بڑھ گئی تھی،کئی برس تک معاملات یوںہی چلتے رہے جسکے بعد ستمبر ۱۹۶۰ میں کراچی میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا جسکا ضامن عالمی بنک بنا۔ معاہدے کے تحت ۳ مغربی دریاوں یعنی سندھ ،جہلم ،اور چناب سے آنے والے ۸۰ فیصد پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاوں بیاس، راوی اور ستلج کا کنترول بھارت کو دے دیا گیا پاکستان کی جانب سے صدر ایوب خان اور بھارت کی جانب سے جواہر لال نہرو نے اس معاہدے پر د ستخط کیے ۔

مسئلہ کشمیر

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی بنیادی وجہ کشمیر کا تنازع ہے۔پاکستان اور بھارت ددنوں مسئلہ کشمیر پر ایک بنیادی نظریے پر کھڑے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔تقسیم ہند کے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتی تھی۔جس کی ۹۵ فیصد آبادی مسلم تھی جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میںہندو اکثریت تھی ان کو بھارت اور جن میں مسلم اکثریت تھی ان کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔
کشمیر میں اکثریتی آبادی مسلم تھی اور حکمران ایک سکھ تھا اور وہ چاہتا تھا کہ الحاق بھارت کے ساتھ ہو۔ تحریک پاکستان کے راہ نماوں نے اس بات کو مسترد کر دیا ۔آج بھی پاکستان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں مسلمان زیادہ ہیں اس لیے یہ پاکستان کا حصہ ہے۔اور بھارت کا کہنا ہے کہ اس پر ایک سکھ حکمران تھاجو بھارت سے الحاق چایتا تھا تو یہ بھارت کا حصہ ہے۔۔یہ مسئلہ تقسیم ہند سے چلا آ رہا ہے اور اب تک دونوں ممالک کے درمیان ۴ بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔
اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم اورکنٹرول لائن پر آے دن گولہ باری بھی دونوں ممالک کے درمیان جنگ بڑھانے کا سبب ہوتا ہے۔۲۰۱۰ء میں ہندوستان کا کنٹرول ۴۳ فیصد حصے پر تھا جس میں کشمیر ،جموں، لداخ۔سیاچن گلیئشر شامل تھا۔پاکستان کے پاس ۳۷ فیصد آزاد کشمیر، گلگت بلتستان شامل ہے۔

بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات

پاکستان اور بھارت کی سفارت بھی ان کے تعلقات کی طرح کشیدہ ہے۔جس کی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔اسلام آباد قومی سلامتی کمیٹی نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جا کے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس اجلاس میں پانچ فیصلے کیے گئے۔
٭۔۔۔بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ
٭۔۔بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کی جائے
٭۔۔۔ دو طرفہ معاہدوں کا جائزہ
٭۔۔۔مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر جانے کا فیصلہ

بھارت کا ردعمل

بھارت نے پاکستان سے سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہیے۔پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہ جس سے بھارت کا ہوش ٹھکانے آیا ہے۔ بھارت کی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت امید کرتی ہے کہ پاکستان سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور دو طرفہ تجارت معطل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ دونوں ممالک میں معمول کے سفارتی تعلقات قائم رہیں۔پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے متنازع مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت کے حالیہ اقدامات کے ردعمل میں نئی دہلی کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹانے اور تمام دو طرفہ تجارت کہ معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تجارت

پاکستان ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے انڈیپنڈنٹ اردو کو مہیا کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان بھارت کو ۳۸۳ ملین ڈالر کی اشیا برآمد کرتا ہے جس میں کھجور کی برآمد۹۲ ملین ڈالر ۔سیمنٹ کی ۶۳ ملین ڈالر ،اور چمڑے کی بنی اشیا ۷۔۱۳ ملین ڈالر ہے۔جبکہ دوسری جانب پاکستان بھارت سے ۹۔۱ بلین ڈالر کی اشیا درآمد کرتا ہے جس میں پاکستان بھارت سے ۳۴۴ ملین ڈالر کی کاٹن در آمد کرتا ہے جو ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خام مال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔واضح رہے کہ کشمیر کی کشیدگی کی وجہ سے پاکستان نے اپنی تجارت بھارت کے ساتھ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
معاشی امور کے ماہرین کے خیال میں اس کشیدہ صورتحال کی وجہ سے دونوں ممالک کے تجارت کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ ورلڈ بنک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ تجارت کا حجم صرف ۲ بلین ڈالر ہے جو بہتر تعلقات کی صورت میں ۳۷ بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

حصہ