مزار ولی سڑک

140

مزار کی جانب جاتی ہوئی سڑک پر کھڑے شخص کے گرد لوگوں کا جم غفیر دیکھ کر میرے دل میں بھی اُس شخصیت سے ملاقات کرنے کی خواہش جاگ اٹھی۔ ظاہر ہے کسی بھی چلتی ہوئی سڑک پر کھڑے شخص کے گرد اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا اس شخص کی معاشرتی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت تھا، ایسے میں میرا وہاں سے اُن سے ملے بغیر گزرنا، یا یوں کہیے ایسی شخصیت سے مصافحہ نہ کرنا زیادتی سے کم نہ تھا، سو میں تیزی سے اس ہجوم کی جانب بڑھنے لگا۔ ابھی چند قدم ہی بڑھا تھا کہ میری نظر سڑک کی دوسری جانب کھڑے طاہر پر پڑی۔ طاہر چونکہ میرے اسکول کے زمانے کا دوست ہے اور وہ ایک عرصے بعد دکھائی دیا تھا، اس لیے میں اُس کی جانب چل دیا۔ حال چال پوچھنے کے بعد میں نے اُس سے سڑک پر کھڑے لوگوں سے مصافحہ کرنے والے شخص کے بارے میں پوچھنے کے ساتھ اس کے اتنا عرصہ منظرعام سے غائب رہنے کے بارے میں بھی سوالات کرنا شروع کردیے۔
میرے سوالات سن کر طاہر میرے چہرے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے بولا: ’’تم یہاں کیا کررہے ہو، اور تمہارا یہاں کیا کام؟ میں خاصی دیر سے تمہیں یہاں دیکھ رہا ہوں، کیا تم نے بھی ٹوکن لینا شروع کردیا ہے؟‘‘
’’یہ ٹوکن کیا ہے، اورٹوکن لینے سے تمہاری کیا مراد ہے؟‘‘ میں نے طاہر سے فوری طور پر پوچھا۔
’’جب ٹوکن نہیں لینا ہے تو پھر تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘
’’بھائی کیا بولے جارہے ہو، دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟ میں تو یہاں سے گزر رہا تھا، سڑک کے کنارے کھڑے اس شخص کو جس سے لوگ مصافحہ کررہے ہیں، دیکھ کر رک گیا۔ سوچا کوئی مشہور شخصیت ہیں اس لیے میں بھی سلام کرتا چلوں، بس اتنی سی بات ہے، اور تم نہ جانے کیا کیا بولے جارہے ہو۔‘‘
’’بس یہی بات ہے؟ اس کے علاوہ تو کوئی بات نہیں ہے ناں!‘‘
’’ہاں ہاں بس یہی بات ہے۔ چھوڑو ان باتوں کو، اپنی سنائو، کہاں غائب تھے؟ کیا اب یہاں رہتے ہو، پرانا محلہ چھوڑ دیا؟‘‘
’’خدا کا شکر ہے تمہارے متعلق میرے دل میں آنے والے خیالات درست نہ تھے، میں تو ڈر گیا تھا۔‘‘
’’اوبھائی کیا ہوگیا، کیا غلط فہمی ہوگئی ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں، چھوڑو ان باتوں کو۔ اور ہاں، میں یہاں نہیں رہتا، نہ ہی پرانے محلے میں ہوں۔ ایک عرصہ ہوا نئی آبادی میں شفٹ ہوئے۔ اب وہیں ہوں۔ جسے تم مشہور شخصیت سمجھ کر مصافحہ کرنے کا شرف حاصل کرنا چاہتے تھے میں یہاں اسی کے چکر میں کھڑا ہوں۔ یہ کوئی روحانی شخصیت ہے اور نہ ہی اس سے ہاتھ ملانے والے اس کے مرید۔ اس سے ہاتھ ملانے والا ہر شخص نشے کی پڑیا لے رہا ہے۔ میں اس ہیروئن فروش کے پیچھے لگا ہوا ہوں، اسی لیے تمہیں یہاں دیکھ کر پریشان ہوگیا تھا، اور نہ جانے کیا کیا بول گیا۔ مجھے معاف کردینا میرے دوست۔‘‘
’’ارے یار خیر ہے۔ لیکن تم اس کے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہو؟ یہ تمہارا کام تو نہیں ہے۔ کیا کسی ایسے ادارے میں نوکری کرلی ہے جس کا کام منشیات کی روک تھام ہے؟‘‘
’’ادارے کہاں روکتے ہیں! میں تو خود متاثرین میں سے ہوں، ایک عرصہ ہوا نشے کی لت ایسی لگی کہ زندگی تباہ ہوگئی۔ اب تو دن پورے کررہا ہوں، سوچتا ہوں جب تک زندہ ہوں اس زہرِ قاتل کو فروخت کرنے والوں کے خلاف کام کروں اور اپنی نوجوان نسل کو ان درندہ صفت انسانوں کے چنگل سے بچائوں۔‘‘
’’یار اگر اتنی سمجھ ہے تو نشہ چھوڑ دو اور اپناعلاج کروا کر اچھی زندگی گزارو… جو ہوگیا اسے بھول جائو۔‘‘
’’میرا کوئی علاج نہیں، ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔ یہ زہر میرے سارے وجود میں سرایت کرچکا ہے۔‘‘
’’یہ سب کیسے ہوگیا؟ تم تو اچھے خاصے سمجھ دار تھے، کیسے نشہ کرنے لگے؟‘‘
’’دوستی، میرے یار دوستی… یہ سب دوستی کے چکر میں ہوجاتا ہے۔ جب حلقۂ احباب اچھا نہ ہو تو اسی قسم کے نتائج آیا کرتے ہیں۔‘‘
’’لیکن…‘‘
’’لیکن ویکن کچھ نہیں ہوتا، یہی سچ ہے کہ ہمارے نوجوان محض دوستوں کے کہنے، یا فیشن کے طور پر منشیات کا استعمال کرتے ہیں، اور یہی ان کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد ہیروئن اور شراب کا استعمال تو پہلے سے ہی کثرت سے کرتے تھے، اب تو کرسٹل آگیا ہے جسے آئس بھی کہا جاتا ہے۔‘‘
’’شراب، چرس، افیون، ہیروئن یا مختلف ادویہ کے بارے میں تو خوب سنا ہے جنہیں نشے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یہ ’’کرسٹل‘‘ کس چڑیا کا نام ہے؟‘‘
’’حیرت ہے،تمہیں اس کے بارے میں نہیں معلوم! آج کل تو اس کی بڑی ڈیمانڈ ہے۔ یہ نشہ میتھ ایمفٹامین نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے، جو چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر کی سفید چیز ہوتی ہے، جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ اس نشے کے لیے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ نشہ کرنے والے افراد اسے انجکشن کے ذریعے بھی جسم میں داخل کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا طاقت ور نشہ ہے، جو پہلی بار کے استعمال سے ہی انسان کو اپنا عادی بنا لیتا ہے۔ یہ کوئی سستا نشہ نہیں، بلکہ اس کی قیمت انتہائی زیادہ ہوتی ہے۔ آئس کا زیادہ تر استعمال ہائی کلاس پارٹیوں میں اسٹیٹس کی علامت کے طور پر ہونے لگا ہے، اسے عموماً شیشے کے ایک چھوٹے پائپ کی مدد سے پیا جاتا ہے، تاہم کچھ لوگ اسے نگل کر، سونگھ کر، یا سرنج کے ذریعے نس میں داخل کرکے بھی پیتے ہیں۔ ایک گرام کوکین اگر 10ہزار سے 12 ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے تو ایک گرام آئس1500 روپے سے 3 ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ آئس کا نشہ کرنے کے بعد انسان کی توانائی وقتی طور پر دُگنی ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے، اس دوران وہ چاق وچوبند رہتا ہے۔‘‘
’’طاہر! تمہاری باتوں سے تو ظاہر ہوتا ہے جیسے یہ نشہ کوئی ایسا وٹامن ہے جس کے استعمال سے توانائی دُگنی ہوجاتی ہے اور انسانی صحت کو کسی قسم کا کوئی نقصان بھی نہیں پہنچتا؟‘‘
’’میں نے ایسا کب کہا! جس طرح دوسری نشہ آور اشیاء انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں اسی طرح اس نشے کے بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتے ہیں، مثلاً آئس کے عادی افراد کو نشہ اترنے کے بعد زیادہ نیند اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ جب اس نشے سے پیدا ہونے والے فرحت بخش احساسات و جذبات ختم ہوتے ہیں تو نشہ کرنے والے پر اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں، جن میں آنکھوں کی پتلیوں کا بڑا ہوجانا، منہ کا خشک ہونا، بہت زیادہ پسینہ آنا، حرکتِ قلب میں بے ترتیبی، بلڈ پریشر اور جسمانی حرارت میں اضافہ، متلی اور قے، سانس پھولنا اور بھوک میں کمی شامل ہیں۔ جبکہ نفسیاتی اعتبار سے آئس کے عادی افراد خللِ دماغ، چڑچڑے پن، گھبراہٹ، تھکاوٹ، ڈپریشن اور ہیجانی رویّے کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘
’’طاہر تم کسی ریسرچر سے کم نہیں، تم نشہ آور اشیاء کے بارے میں خاصی معلومات رکھتے ہو، مجھے تمہاری باتیں سن کر حیرت ہورہی ہے۔‘‘
’’جیسے کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں میں خود بھی نشے کا عادی ہوں، اسی لیے اتنا سب کچھ جانتا ہوں۔ میری زندگی کا تو اب اختتام ہے، مرنے سے پہلے بس یہی خواہش ہے کہ اپنی نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچا سکوں، اسی لیے منشیات فروشوں کے خلاف جو بن پڑتا ہے کرتا رہتا ہوں۔ کبھی پولیس، تو کبھی اینٹی نارکوٹکس کنٹرول جیسے اداروں کو باخبر کرتا رہتا ہوں، لیکن خاطر خواہ کامیابی نہیں ملتی۔ مجھے خدا کی ذات پر پورا بھروسا ہے کہ وہ میری اس جدوجہد کو ضرور کامیاب کرے گا۔‘‘
……٭٭٭……
طاہر کی باتیں اپنی جگہ سو فیصد درست ہیں۔ گلی محلوں میں کھلے عام فروخت ہوتی نشہ آور اشیاء کے خاتمے اور اپنی نوجوان نسل کو منشیات جیسی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں اینٹی نارکوٹکس فورس سمیت دیگر اداروں کو فعال بنانے کی ضرورت ہے، محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی، منشیات فروشی میں ملوث اور منشیات فروشوں کی سرپرستی کرنے والوں سے سختی سے نمٹنا ہوگا، سب سے بڑھ کر ایسے افراد پر نظر رکھنی ہوگی جو کسی بھی سیاسی جماعت کا سہارا لے کر منشیات فروشوں کی سرپرستی کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہیں اور پولیس ان کی اسی حیثیت کے باعث ان پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔
محکمہ پولیس کو بھی اپنی صفوں سے ایسے اہلکاروں کا صفایا کرنا ہوگا جن کی وجہ سے عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ پولیس کی جانب سے منشیات کے خلاف جتنی بھی کارروائیاں ہوتی ہیں ان میں منشیات کے عادی افراد کو منشیات فروش ظاہر کرکے، یا پھر چھوٹے پیمانے پر منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے۔جبکہ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام منشیات کے بدنام سوداگروں کے کوائف حاصل کرکے تمام تھانوں کے انچارجز کو انہیں فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کریں۔ ایسے ہی اقدامات سے منشیات جیسی لعنت سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے_

حصہ